عبادات

شوال کے چھ روزے

ان روزوں کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایک مہینہ مسلسل روزہ رکھنے کی وجہ سے معدہ بھوک سہنے کا عادی ہوگیاہے، اچانک کھانے پینے کے نتیجہ میں اسے نقصان ہوسکتاہے؛ اس لئے ان چھ روزوں کے ذریعہ معدہ کے بھوک سہنے کی عادت کوختم کیاجاتاہے؛ تاکہ نقصان سے بچاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>

شوال کے چھ روزے: فضائل ومسائل

اللہ عزوجل یہ چاہتے ہیں کہ بندہ ہر دم میری طرف متوجہ رہے ، میری احکام پر ہر دم عمل پیرا ہو ، ابھی رمضان کا سماں قائم تھا، رحمتوں ، برکتوں اور مغفرتوں سے مسلمانوں نے اپنے دامن مراد کو بھر لیا تھا، مختلف عبادتوں روزہ ، ترایح، قیام لیل، اعتکاف ، افطار ، سحر ، شب قدر کی تلاش وجستجو کے ذریعے مسلمانوں کو ایک مہینہ روحانیت کے دور سے گذارا گیا.

مزید پڑھیں >>

شب ِعید اور ہماری غفلت

شب عیدوہ رات ہے جس میں رمضان بھر کے اعمال کی مزدوری دی جاتی ہے ، اجر و ثواب کے خزانے اور مغفرت و رحمت کی بیش بہا دولت بکھیری جاتی ہے۔کس قدر محرومی اور خسارے کی بات ہے کہ پورے مہینے روزے رکھ کر جب اَجر ملنے کا وقت آئے تو اِنسان اُس سے اِعراض کرنے لگ جائے ، یہ تو ایسا ہی ہوگیا جیسے کوئی دن بھر کام کرنے کے بعد شام کو جب مالک کی جانب سے اجرت ملنے کا وقت ہو تو مزدوری لینے سے اِنکار کردے۔

مزید پڑھیں >>

شب ِ قدر: رب کو منانے کی رات ہے!

شب ِ قدر چوں کہ اللہ تعالی کی خصوصی عطا کی رات ہے اس امت کے لئے ،جس کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو نوازنا اور معاف کرنا چاہتے ہیں اور قصوروارں کو بخشنا اور عفو ودرگزرکامعاملہ فرماناچاہتے ہیں اس کے لئے یہ رات بھی ایک بہانہ ہے ۔اور اس رات میں جو دعا مانگنے کی تلقین کی گئی ہے وہ بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے ۔چناں چہ حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تھا کہ اگر شب ِ قدر نصیب ہوجائے تو کونسی دعا مانگنا چاہئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی کے ذریعہ دعا مانگو۔

مزید پڑھیں >>

شب قدر: انسانیت کے لیے شب نجات !

شبِ قدر عطا کئے جانے جانے کے بارے میں کئی ایک روایتیں ملتی ہیں ، ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی سرائیل میں ایک شمسون نامی عابد تھا جس نے ہزار ماہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اس پر صحابۂ کرام کو تعجب ہوا کہ ہمارے اعمال کی کیا حیثیت؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک رات عطا فرمائی جو اس غازی کی مدتِ عبادت سے بہتر ہے ۔

مزید پڑھیں >>

شبِ قدر: ایک عظیم رات!

اللہ عزوجل نے امت محمدیہ پر جو خصوصی نوازشات اور انعامات فرمائے ہیں ، ان میں سے ایک شب قدر بھی ہے، یہ بابرکت اور بے شمار خیر وخوبیوں سے معمور رات صرف امت ِ محمدیہ ہی کو عطا ہوئی ہے ، اس رات کی اہمیت اور قدر کو بتلانے کے لئے یہ بتلادینا کافی ہے کہ اللہ عزوجل اس رات کے فضائل وبرکات اور انوارات کو بیان کر نے کے لئے ایک مستقل سورۃ ’’سورۃ القدر ‘‘ کے نام سے اپنی کتاب خالد میں نازل کی ہے ، جس میں اللہ عزوجل نے اس رات کے خصائص کا خود تذکرہ فرمایا ہے

مزید پڑھیں >>

آخری عشرہ: جہنم سے آزادی کا ذریعہ!

اب جب کہ رمضان المبارک کا مہینہ بہت جلد ہم سے رخصت ہونے والا ہے اور اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ واپس ہونے والا ہے،ایسے میں ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے اس ماہ کے باقی چند دنوں میں ہم جہاں دوسری بہت ساری چیزوں کی دعاؤں کی فکرکریں وہیں کثرت سے جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے حفاظت کے لئے پروردگارِ عالم سے دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں ۔

مزید پڑھیں >>

آخری عشرے سے متعلق چندامور پر انتباہ!

اگر مسجد میں موجود لوگوں کو تعلیم کی ضرورت ہو اور معتکف (اعتکاف کرنے والا)ان کی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل ہے تو انہیں درس دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہاں پابندی کے ساتھ اعتکاف کے اپنے قیمتی اوقات کو درس پر ہی صرف نہ کرے ، اعتکاف دراصل عبادت کے لئے فراغت کا نام ہے لہذا اس مقصد کی تکمیل میں کوشاں رہے ۔

مزید پڑھیں >>

فرائض اور واجبات خوش دلی سے ادا کریں !

مسلما نوں کو چا ہیئے اللہ کا بندہ بن کر رہیں یعنی اطاعت وبندگی کرتے ر ہیں ا ور اطا عت پر گامزن رہیں فرائض واجبات خاص کر نماز جو کسی حال میں معا ف نہیں وقت پر ادا کرتے رہیں اور سنتوں ونوا فل کا بھی اہتمام کریں خواہ نورانی راتیں ہوں یا کبھی بھی خوش فہمی میں نہ رہیں فرا ئض کی ادا ئے گی میں کو تاہی نہ کریں ۔

مزید پڑھیں >>