عبادات

کیا عورتوں کو جہاد کے اجر سے محروم کیا گیا ہے؟

عورت خواہشات نفس سے، زبان وقلم سے اور دعوت دین کے لئے  حتی المقدور جہاد کرے گی۔ ان تمام برائیوں کے خلاف جہاد کرے گی جو اس کی عزت وآبرو کے لئے پرخطر ہو  مثلا زنا سے، اختلاط سے، رقص وسرود سے، اباحیت وانارکی سے اورعریانیت وفحاشیت سے جہاد کرے گی۔ آج مردوں کے مقابلے میں  زیادہ صبر آزما مرحلہ عورت کے لئے ہی ہے اس لئے انہیں اللہ کی اطاعت میں  جہاد بالنفس کولازم پکڑ لینا چاہئے جو انہیں ہرفتنے اور ہر شر سے بچا سکے۔

مزید پڑھیں >>

نماز کا مقصد اور فوائد (تیسری قسط)

مختلف انسانی گروہ یا قومیں جو اس وقت کرۂ زمین پر زندگی کی دوڑ میں مصروف ہیں ، ان کی حالت پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ غلبہ و اقتدار اور عروج و اقبال حاصل کرنے میں وہی قوم سب سے زیادہ کامیاب ہوگی جو ایسے افراد سے مرکب ہو جن کو محنت و کوشش اور کام کرنے سے الفت اور سستی و کاہلی سے نفرت ہے؛ یعنی جس قوم کے افراد میں فرض شناسی کا وصف عام ہے اور وہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں کسی قسم کا تساہل نہیں برتتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نماز کے بعد آیت الکرسی و دیگر اذکار کا بالجہر پڑھنا

اگر کوئی صاحب ذکر بالجہر کو اختیار کرنا ہی چاہیں توان کے لئے راقم کا مشورہ یہ ہے کہ وہ سلام کے بعد ایک بار یا تین بار (جیسا کہ صاحب مظاہر حق نے لکھا ہے) صرف تکبیر متوسط آواز سے کہہ لیں اور باقی اذکار کو آہستہ پڑھیں ، اس طرح ان کے اعتبار سے ذکر بالجہر کی سنت بھی ادا ہوجائے گی، دیگر مصلیان کو نماز و ذکر کی ادائیگی میں خلل بھی واقع نہ ہوگا

مزید پڑھیں >>

نماز کا مقصد اور فوائد

  فریضۂ نماز کا اصل اور بنیادی مقصد تو اللہ کا ذکر ہے۔ وہ انسان کو اللہ کا شکر گزار اور فرماں بردار بندہ بناتی اور اس میں وہ خدا ترسی پیدا کرکے اسے فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لیکن اس کے ساتھ نماز کے قیام دے متعدد اہم اور دور رس فوائد آپ سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

روئے زمین پر اللہ کی دو ضمانتیں

ایک ضمانت چلی مگر اللہ کی ایک ضمانت ابھی بھی روئے زمین پرباقی ہے وہ ہے مومنوں کا استغفار کرنا۔ جو بدعتی ہیں وہ بدعت سے توبہ کرلیں اور کثرت سے استغفار کریں، جو بد چلن ہیں وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں اور بکثرت اللہ سے استغفار کریں اور جو کفر ومعاصی میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ اپنے ایمان کی اصلاح کریں، عمل صالح انجام دیں اور استغفار کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالی استغفار کی بدولت ہم سے عذاب ٹال دے گا۔ آج کل پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں، ان حالات میں من مانی، نفسانی خواہشات اور بے دینی وخرافات چھوڑ کراللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ کی طرف رجوع کرنا، اپنے اعمال درست کرنا اور توبہ واستغفار کو لازم پکڑنا نہایت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

قربانی: سنت ابراہیمی کی ایک عظیم یاد گار

 در اصل قربانی اس عظیم الشان سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے اور اس یادگار لمحے کو ہمیشہ اپنے قلوب و اذہان کے اندر پیوست کرنے لیے کی جاتی ہے جسے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ اور اسماعیل ذبیح اللہ نے کی تھی۔ انبیائے کرام کی قربانی میں امت کے لیے یہ پیغام پنہا ں ہےکہ اے مسلمانو! تم ان حسین ایام میں اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرکےاپنے جد امجد کی سنت کو زندہ کرو،اور اگر تم اپنے رب کی رضا مندی چاہتے ہو تو اپنا مال ہی نہیں بلکہ وقت اور جان بھی اس کے راستے میں قربان کرنے کے لیے تیار رہو

مزید پڑھیں >>

کیا اللہ تعالی عرفہ کے دن آسمان دنیا پرنزول کرتا ہے؟

غیر حجاج کے لئے اس دن کا روزہ مشروع ہے جوکہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ مگرلوگوں میں جویہ بات مشہور ہے کہ اللہ تعالی عرفہ کے دن آسمان دنیاپر نزول کرتا ہے یہ ثابت نہیں ہے۔ اس تعلق سے مجمع الزوائد،  ابن حبان، الترغیب والترھیب اور ابن خزیمہ وغیرہ میں ایک روایت  موجود ہے کہ اللہ تعالی یوم عرفہ کو آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے مگر وہ روایت سندا ًضعیف ہے۔ روایت اس طرح سے ہے۔

مزید پڑھیں >>

قربانی کرنا ہر صاحبِ نصاب پر واجب و ضروری

 اسی لیے امام ابوحنیفہؒ کا مسلک یہ ہے کہ ہر صاحبِ نصاب کے ذمّے الگ الگ قربانی واجب ہے، ایک بکری سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوسکتی۔ حنفیہ کی دلیل یہ ہے کہ ’قربانی‘ ایک عبادت ہے اور عبادت ہر ایک انسان پر الگ الگ فرض ہوتی ہے، عبادت میں ایک آدمی دوسرے کی طرف سے قائم مقامی نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

دعوت توحید اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں

 قربانی کے تعلق سے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول  ﷺ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ان کو رسول عربی  ﷺ کی سیرت طیبہ ، آپ کی سنت ،آپ کے اسوہ حسنہ کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ آپ  ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا ۔ اس سارے عرصے میں آپ  ﷺ نے کبھی ایک مرتبہ بھی قربانی ترک نہیں فرمائی۔ حتٰی کہ دورانِ سفر بھی آپ نے قربانی کا اہتمام فرمایا ۔

مزید پڑھیں >>