مناسکِ حج کی حکمتوں سے اپنے کردار کو سنواریں

ڈاکٹر سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی

احقاق الحق اور ازھاق الباطل میں انسانی کردار کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر انسان کا کردار اعلی اور مضبوط ہوگا تو باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو حق سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتا ہے اور اگر انسان کے کردار میں گراوٹ آجاتی ہے تو پھر باطل طاقتوں کو موقتی سہی لیکن حق سے ٹکرانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام دنیا کے سامنے ایسا نظام عبادت پیش کرتا ہے جس سے ایک طرف اللہ تعالی کی بندگی ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کے باطنی محاسن و خوبیوں کو اپنانے سے انسان کا کردار سنور جاتا ہے جو مستحکم خاندان اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ منجملہ ان کے عشق و محبت الٰہیہ کی آئینہ دار عبادت یعنی حج ہے جس کی فرضیت، فضیلت، اہمیت اور افادیت قرآن و احادیث سے ثابت ہے اسی لیے ہر مومن کے دل میں یہ آرزو ہوتی ہے کہ زندگی میں صرف ایک بار انتہائی کشش و جاذبیت کے حامل کعبۃ اللہ شریف کے دیدار سے مشرف ہو اور مناسک حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے حج کے تمام فرائض و واجبات، سنن و نوافل اور مستحبات کو احسن طریقہ سے ادا کرے اور یہ ہونا بھی چاہیے تاکہ بدنی و مالی عبادت کے مجموعہ یعنی حج کی ادائیگی میں عازمین حج کوتاہیوں و غلطیوں سے محفوظ رہیں اور مناسک حج کی کیفیات جذب و مستی سے اپنے آپ کو کما حقہ آشنا کرسکیں۔

حج انفرادی و اجتماعی، مادی و معنوی، سیاسی و اقتصادی اور اخلاقی و تعلیمی مفادات کا مجموعہ ہے لیکن بہت کم حجاج کرام ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر ان تمام فوائد پر ہوتی ہے۔ اکثر عازمین حج کی توجہات صرف ظاہری اعمال کی بجاآوری تک محدود رہتی ہے۔ جبکہ اللہ تعالی فلسفۂ حج کے مختلف منافع اور فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ترجمہ: ’’ (اے ابراہیم لوگوں میں حج کا اعلان کردو) تاکہ وہ حاضر ہوں اپنے دینی و دنیوی فائدوں کے لیے (سورۃ الحج آیت 28)۔ یعنی جو لوگ خلوص و للہیت کے ساتھ حج ادا کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں نہ صرف حج کے دینی و روحانی فیوض و برکات سے سرفراز فرماتا ہے بلکہ حج کی دنیاوی نعمتوں سے بھی مالامال فرماتا ہے۔ لیکن ہم مسلمانوں نے اس عظیم عبادت کی عالمی اہمیت کو تقریباً فراموش کرکے اسے محض فریضہ کی ادائیگی تک محدود کردیا ہے۔ کاش ہم حج کے موقع پر دنیا بھر سے جمع ہونے والے مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مذہبی و تعلیمی، سیاسی و معاشی اور دیگر مسائل پر غور و فکر کرنے اور ان کا  حل دریافت کرنے کے لیے اس عالمی اجتماع کو زریں موقع تصور کرتے تو امت مسلمہ آج بے شمار مسائل کا شکار نہ ہوتی اور نہ اسے ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ حج کے دینی و دنیوی فوائد کے حصول میں ہم اس لیے بھی ناکام ہیں چونکہ ہم صرف ظاہری طور پر مناسک حج ادا کرنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں اور ان کے باطنی پہلوئوں کی طرف ہماری نظر ہی نہیں جاتی۔ جبکہ قرآن و احادیث میں اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ جو لوگ اسلام کے نظام عبادت کو ظاہری طور پر بجالاتے ہیں اور اس کے باطنی محاسن سے اپنے کردار کو نہیں سنوارتے ان کی عبادات شرف قبولیت سے محروم ہوجاتی ہیں۔ جن لوگوں کو ہدایت ایزدی نصیب نہیں ہوتی وہ عذاب الٰہی کے مستحق بن جاتے ہیں اگرچہ وہ زندگی بھر ظاہری طور پر ارکان اسلام ادا کرتے رہیں۔ لہٰذا ہمیں حج کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس کے باطنی خوبیوں کو اپنانے اور اپنے من کی دنیا کو روشن کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہمارا والہانہ تعلق دنیا و ما فیھا سے زیادہ رب سے جڑ جائے۔

  یوم الترویہ یعنی 8 ذی الحجہ کو تمام عازمین حج غسل یا وضو کرکے حج کی نیت کرتے ہوئے احرام باندھ لیتے ہیں اور یہیں سے مومن کے کردارسازی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ عازم حج جائز نفسانی خواہشات سے دست کش ہوکر اور زیب و زینت والا قیمتی لباس اتارکر صرف دو سادہ چادریں پہن لیتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ موت کے بعد یہی لباس پہننا ہے۔ موت کے وقت کا علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے،موت کہیں بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے لہٰذا احرام کے ذریعہ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہم ہمیشہ عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزاریں اور موت و آخرت کو کبھی فراموش نہ کریں۔ ایک لمحہ کے لیے سونچیں کہ ہم نے قیمتی لباس زیب تن کرلیا اور دوسرے ہی لمحہ ہماری روح تن سے جدا ہوجائے تو غسال اس قیمتی لباس کو اتاکر کفن پہنادے گا جس کے بعد قیمتی لباس کی ہمارے حق میں کوئی وقعت باقی نہیں رہ جاتی اگر ہم پرتعش زندگی گزارنے اور دولت کا بے جا استعمال کرنے کے بجائے مفلوک الحال لوگوں کی مالی امداد کریں تو اس کا اجر و ثواب ہمیں آخرت میں ضرور ملے گا اس طرح ہماری دنیا بھی سنوار جائے گی اور آخرت بھی۔ چند لمحات کی نفسانی خواہشات اور موقتی خوشیوں کو اگر ہم قربان کردیں گے تو کسی کی زندگی سے معاشی پریشانی دور ہوسکتی ہے۔

 مسلم معاشرے کی ایک تاریک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض خواتین مالی بحران کو حل کرنے کے لیے یا تو جسم فروشی میں ملوث ہورہی ہیں یا پھر غیر مسلموں سے شادیاں کررہی ہیں تو دوسری طرف دنیا کی فانی رغبتوں اور محبتوں کی اسیر بعض مسلم خواتین محض چند گھنٹوں کی نمائش کے لیے ہزاروں اور بلکہ لاکھوں روپیہ کے لباس زیب تن کرتی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم حج کی ادائیگی کے لیے بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ ضرور احرام باندھتے ہیں اور اس کے قیود و شرائط کی پاسداری بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باطنی پہلو اور حکمت کو اپنانے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہمیں اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے خلق نہیں کیاگیا بلکہ ہمیں مالی استعداد اور فکری صلاحیتوں سے بلا تفریق مذہب و ملت پوری انسانیت کو نفع پہنچانے کے باعث ہی اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ۔  جب عازم حج طواف قدوم اور طواف زیارت کے وقت کعبۃ اللہ شریف کے ارد گرد سات چکر لگاتا ہے تو اس کی جان سوختہ اور قلب پریشان کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے چونکہ خانہ کعبہ کو اللہ تعالی کے گھرہونے کی نسبت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کعبۃ اللہ شریف کا حد درجہ احترام کرتا ہے یہاں تک کہ کعبۃ اللہ شریف کی سمت پائوں کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ لیکن جس مومن کی حرمت کعبۃ اللہ شریف سے زیادہ ہے اور جسے خلیفۃ اللہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اس کی عزت کو  پامال کرنے میں ہم کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ جس طرح ہم کعبۃ اللہ شریف کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں اگر ہم اسی طرح بندہ مومن کی عزت و شرف کا بھی پاس و لحاظ رکھیں تو آپسی اختلافات از خود ختم ہوجائیں گے اور ہم دنیا کے سامنے تصور امت واحدہ کا عملی نمونہ پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔9 ذی الحجہ کو آفتاب چمکنے کے بعد میدان عرفات کی طرف روانہ ہونا اور غروب آفتاب تک وہاں ٹہرنا حج کا ایک اہم بلکہ رکن اعظم ہے۔

 مغرورانِِ قریش عام مسلمانوں کے ساتھ میدان عرفات میں قیام کرنے کو اپنے لیے معیوب اور ہتک عزت سمجھتے تھے ان کی یہ ادا رب کائنات کو پسند نہ آئی اور رب ذو الجلال نے انہیں حکم فرمایا کہ سب باطل امتیازات کو مٹاتے ہوئے میدان عرفات میں وقوف کریں اور مساوات انسانی کا عملی مظاہرہ کریں۔ میدان عرفان کے قیام کی اصل حکمت یہی ہے کہ انسان معاشرے سے رنگ و نسل، امیری و غریبی، شاہ و گدا کے باطل امتیازات کو مٹادے لیکن یہ کتنی معیوب بات ہے کہ مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد بھی تقوی شعاری کو چھوڑ کر جھوٹے تفاخر میں مبتلا ہوجائیں جس سے مومنانہ کردار مسخ ہوجاتا ہے۔ جمرہ اولی (چھوٹا شیطان)، جمرہ وسطی (منجھلا شیطان) اور جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو کنکریاں مارنا دراصل شیطان کو ذلیل کرنے، باطل کو سنگسار کرنے اور برائیوں سے نفرت کرنے کی علامت ہے۔ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بعض عازمین حج کنکریوں کے بجائے پتھر، چپل وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں جو شرعی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ اس لیے ہورہا ہے چونکہ ہم نے اپنے نفس کو سنگسار ہی نہیں کیا۔ جو شدید نفرت اور غصہ کا اظہار رمی جمار میں دکھاتے ہیں کاش ہم اسی شدت کے ساتھ برائیوں کا مقابلہ کریں (جو مومنانہ کردار کا وصف خاص ہے) تو دنیا جنت نشاں بن جائے گی۔حجاج کرام وادی منی میں جو جانور کی قربانی دیتے ہیں دراصل اس آمادگی کے اظہار کا ذریعہ ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو میں دین اسلام کے لیے تن، من، دھن سب کچھ بالخصوص نفسانی خواہشات کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ معمار کعبہ حضرت سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے لخت جگر نور نظر ذبح عظیم حضرت سیدنا اسماعیلؑ کی قربانی پیش کرتے ہوئے یہی اعلان فرمایا تھا کہ اللہ تعالی کے حکم پر ہم اپنی جان کا نذرانے بھی پیش بھی کردیں گے۔

 جو بندہ مومن رب کے حکم پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہو کیا وہ رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی کی جان لے سکتا ہے؟ کسی کے مال کو ہڑپ سکتا ہے؟ کسی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرسکتا ہے، کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے؟ کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاسکتا ہے؟ کسی کا مذہبی، روحانی، معاشی اور سیاسی استحصال کرسکتا ہے؟ اپنے عیش و عشرت کے لیے کسی کی زندگی اجیرن بناسکتا ہے؟ حلال ذرائع چھوڑ کر حرام کی کمائی کما سکتا ہے؟ اگر مسلم معاشرے میں مذکورہ بالا خرابیاں پائی جاتی ہیں تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہم نے قربانی کے فلسفہ و حکمت کو سمجھا ہی نہیں۔

حضرت ابراہیمؑ نے بحکم الٰہی حضرت بی بی ہاجرہؑ اور اپنے  شیرخوار صاحبزادہ یعنی حضرت سیدنا اسماعیلؑ کو ایک ایسی بے آب و گیا وادی، سنگلاخ ترین علاقے اور جلادینے والی زمین میں بسا دیا تھا جہاں پانی بھی بالکل نایاب تھا جو حیات انسانی کے لیے از حد ضروری ہے لیکن یہ بی بی ہاجرہؑ کا مضبوط ایمان و مستحکم ایقان ہی تھا کہ آپؑ نے انتہائی صبر و استقامت اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ تعالی کے اس حکم پر عمل کرنے کے لیے راضی ہوگئیں لیکن شدتِ تشنگی سے خشک ہوچکے اپنے ننھے بچے کے ہونٹوں کو تر کرنے کے لیے صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی فرمائی۔ سنت بی بی ہاجرہؑ یعنی سعی کرنے میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے لہٰذا ہمیں دنیاوی مصائب و پریشانیوں کے حل کے لیے اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسہ و یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ سعی و کوشش بھی کرنی ہے۔ قرآن مجید بالفاظ صریح فرماتا ہے جو لوگ جد و جہد کرتے ہیں اللہ تعالی ان کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

تبصرے بند ہیں۔