گوشہ خواتین

حفاظت نسواں کے دعوے کیا ہوئے؟

اس مسئلہ میں ہماری حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور عورتوں کی حفاظت کے پختہ انتظامات کرنے ہوں گے ،عام طور پر اس طرح کے واقعات نشہ کی حالت میں انجام دئے جاتے ہیں ،اس لئے شراب بندی کے تعلق سے بھی غور و فکر کرنا ہوگا تاکہ ریاست کو صاف و شفاف فضاء مہیا کی جاسکے ،اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں پولیس افسر کے ہاتھوں خاتون کی جنسی زیادتی کا معاملہ!

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان الزماات کی گہرائی سے غیرجانبدارانہ طور پر چھان بین کی جائے ، اگر یہ صحیح ثابت ہوتے ہیں ،جوکہ بادی النظر میں صدفیصد یقینی ہے، تو اس پولیس افسر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی قانون کا محافظ ایسا کرنے کی جرعت نہ کرے ۔ پولیس کے تئیں خواتین کے کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی کیلئے ایسا کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ظلم و زیادتیوں کی شکارہندوستانی عورت!

بلقیس بانو اور نربھیا دو ایسی متاثرہ ہیں جن کے ساتھ دو الگ الگ مقامات پر بدسلوکی کی گئی۔ان کی عفت و عصمت سے اجتماعی طور پر کھلواڑ کی گئی۔اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی نے پورے ملک کو شرمسار کیا ہے۔اس کے باوجود یہ دو واقعات پہلے نہیں ہیں اور نہ ہی آخری ہیں ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان واقعات نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔اور ہم سب جانتے ہیں کہ میڈیا بھی اپنا نظر کرم اسی وقت کسی واقعہ کی جانب کرتا ہے جبکہ اسے حد درجہ عوام کا اعتماد حاصل ہو۔

مزید پڑھیں >>

خواتین پر تشدد: اسباب اور حل 

جنسی اس بے راہ روی کے سیلاب پر بند لگانا ہے تو مسلم معاشرہ کوبھی آگے آنا ہوگا جونوجوان معاشی کمزوری کی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کی امدادواعانت کرنی ہوگی،زکاۃ اور دیگر اسلام کے مالی واجبات کے ذریعہ ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناہوگا، ان کوآمادۂ نکاح کرنا ہوگا،اسطرح معاشرہ عفیف اور پاکیزہ ہوگا،جس کے اچھے اثرات نہ صرف اس فردِواحد سے وابستہ ہونگے،بلکہ سارامعاشرہ ان اچھے اثرات سے مستفید ہوگا،خودمسلمانوں کی فلاحی اور رفاہی تنظیموں کوبھی اجتماعی شادیوں کے نظم کے ذریعے سماج اور معاشرہ کی ایک بڑی ضرورت کو پوراکرناہوگا۔

مزید پڑھیں >>

کیا ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟

مسلم لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بہت ہی خطرناک منصوبے کے تحت کام ہو رہا ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نوجوان لڑکوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انہیں خاص طور سے اردو زبان سکھائی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے اندر جلد متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لہذا جب وہ غیر مسلم لڑکوں کی زبان سے اردو زبان کے الفاظ اور اشعار سنتی ہیں تو فطری طور پر متاثر ہوتی ہیں اور یہیں سے ان کی بربادی کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

چھتیس گڑھ میں محفوظ زچگی مہم: ایک نیا تجربہ

ہر حاملہ عورت کی معیاری زچگی، ولادت سے قبل جانچ،پیچیدہ امراض کی وقت سے پہلے پہچان اور علاج کرنے کیلئے بھارت سرکار نے ’’محفوظ زچگی مہم‘‘ شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت ضلع اسپتال، کمیونٹی وپرائمری ہیلتھ سینٹروں میں ہرماہ کی 9تاریخ کو ہیلتھ افسران کے ذریعہ حاملہ خواتین کی بچہ پیداہونے سے پہلے مکمل مفت جانچ کی جاتی ہے۔ اس مہم کو خود وزیراعظم نریندرمودی نے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ محفوظ زچگی ہرحاملہ عورت کا بنیادی حق ہے۔ اس کا مقصد بچے کی ولادت کے وقت ہونے والی تکلیفوں سے عورتوں کو بچانا ہے۔

مزید پڑھیں >>

رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس معاشرے میں مبعوث ہوئے وہ مکمل طور پر ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ کا نمونہ پیش کرتا تھا۔ طاقت ور قبائل اپنے سے کمزور قبائل کو دبالیتے اور ان کے حقوق سے انھیں محروم کر دیتے۔ اسی طرح شخصیات کا معاملہ تھا۔ جو شخص جتنی قوت اپنے پاس رکھتا تھا، اتنا ہی معتبر، معزز اور قابل احترام شمار ہوتا تھا۔

مزید پڑھیں >>

 خاتون جنت:حضرت فاطمہ ؓ

اس نیلے آسمان کے نیچے اور زمین کے اس سینے پر محسن انسانیت ﷺکو سب سے عزیزترین اگر کوئی شخصیت تھی تو وہ آپﷺ کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنھاہی تھیں ۔آپ ﷺنے اپنی اس جگرگوشہ کوجنت میں عورتوں کی سردار قرار دیا۔ایک روایت کے مطابق آپﷺ حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالی عنھاکی خوشبو سونگھ کرفرماتے کہ ان میں سے مجھے بہشت کی خوشبوآتی ہے کیونکہ یہ اس میوہ جنت سے پیداہوئی ہیں جو شب معراج جبرائیل نے مجھے کھلایاتھا۔ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اﷲتعالی عنھاکے بطن سے آپﷺ کی کل چار شہزادیاں تھیں ،حضرت زینب،حضرت رقیہ ،حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالی عنھن،ان میں سے حضرت فاطمہ سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ لاڈلی تھیں ۔بڑی تینوں آپﷺ کی عمرعزیزمیں ہی انتقال فرماگئی تھیں ،صرف حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالی عنھاوصال مبارک کے وقت موجود تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

تعلیمِ نسواں

ہمارے یہاں جو تعلیمی نصاب رِواج میں ہے اس پر مغربیت غالب ہے جو عورت میں خود اعتمادی تو پیدا کرتی ہے مگر ساتھ ساتھ بے حیائی بھی سکھاتی ہے ۔ گمراہ بھی کرتی ہے ۔ اس کی تقلید سے بچتے ہوئے اپنی مشرقی اور مذہبی قدروں کو بنیاد بناتے ہوئے تعلیم کوحاصل کیا جائے تاکہ عورت اپنے صحیح مقام سے گرنے نہ پائے۔

مزید پڑھیں >>

اپنے حق کی جدوجہد کرتی آدھی آبادی!

آدم کی پسلی سے حوا کی ابتدا مانیں یابھارت کی ثقافت کے مطابق مرد کا آدھا حصہ، حوا کی یہی بیٹیاں ملک کی آدھی آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ انہیں کے دم سے کائنات میں رونق ہے۔ ان کی بدولت ہی انسان ماں ، بہن بیٹی، دادی، نانی، بوا، موسی اور بیوی کے رشتوں میں بندھا ہے۔ عورت کے سہارے ہی زندگی آگے بڑھتی ہے اور سماج تعمیر ہوتا ہے۔ لیکن عورت کو صدیوں سے اپنے وجود کیلئے جدوجہد کرنی پڑرہی ہے، زمانہ قدیم میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں >>