گوشہ خواتین

قرآن حفظ کرنے والی خواتین کو نصیحت

اسلام ہی ایک ایسا مذمب ہے جس کی مذہبی کتاب قرآن کے حافظ بے شمار تعداد میں ہرجگہ پائے جاتے ہیں اور کسی مذہب کے اندر مذہبی کتاب اس قدر حفظ کرنے کی مثال نہیں ملتی۔ کفاراسلام دشمنی میں قرآن جلاسکتے ہیں ، دوچار حفاظ کو شہید کرسکتے ہیں مگرلاکھوں کروڑوں  حفاظ کے سینوں سےاسے  نہیں نکال سکتے۔ یہ اللہ کا مسلمانوں پر خاص فضل وکرم ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اور حقوقِ خواتین

یہ ضروری ہے کہ بہن اور بھائی، ماں اور باپ ، بیٹی اوربیٹے کے مابین ترکہ کے حصوں میں جو عدم مساوات ہے اس حوالے سے اسلامی قانون وراثت کی وضاحت کردی جائے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قانون ساز حقیقی نے خواتین کے حقوق کا تعین مجموعی حوالے سے کیا ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ قوانین عام طور پر معمول کے حالات کے مطابق بنائے جاتے ہیں اور مستثنیات کو اس مرحلے پر پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔

مزید پڑھیں >>

عورت کا عروج سے زوال کا سفر

عورت ماں بھی ہے،بہن بھی ہے، بیوی اوربیٹی بھی اورسماج میں زندگی گزارنے والی پرائی بھی،عورت سے یہ مرد کے رشتے ہیں ۔ ان سارے رشتوں کو عصمت اورعظمت کے دھاگہ میں قدرت نے گوتھ رکھاہے۔ مردکی زندگی کی بھلائی اورمستقبل کی تابانی اسی میں ہے کہ وہ اس دھاگہ کی عزت اورقدر کرے،ان رشتوں کااحترام کرے۔

مزید پڑھیں >>

خواتین کے حقیقی مسائل اور ہماری ذمہ داری

عصرِ حاضر میں دین اسلام سے عوام کو بدظن کرنے کا سب معروف نسخہ خواتین کے حقوق ہے۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے تین طلاق جیسا  کوئی   شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہےتاکہ  معاشرے میں پنپنے والی  بے شمار خرابیوں کی پردہ پوشی ہوجائے۔ ذرائع ابلاغ ان جعلی مسائل کو بڑھا چڑھا   سب سے  بڑا قومی مسئلہ بنادیتا ہے۔ تین طلاق کے فیصلے کی اگلی صبح تو اخبارات میں گویا نہ کوئی خبر تھی اور کسی موضوع پر تبصرہ لیکن صرف  ایک دن  بعد یعنی جمعرات کوہمارے اپنے ممبئی شہر کی ایک ہوش اڑادینے والی خبر سے سارا نشہ ہرن ہوگیا اور خواتین کو  طاقتور کرنے اور مساوی حقوق مہیا کرنے والا دعویٰ کھوکھلا لگنے لگے۔ 23 اگست کو ٹھیک تین ماہ بعد ممبئی پولس نے  سدھانتھ   گنورے نامی  20 سالہ قاتل کے خلاف 172 صفحات پر مشتمل فردِ جرم داخل  کردی۔ سدھانتھ نہ گئورکشک ہے اور نہ تو اس نے گئوماتا کی خاطر کسی مسلمان کو موت گھاٹ اتارا ہے بلکہ  اس پر اپنی سگی  ماں دیپالی  کے  قتل کا الزام ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام میں عورت کا مقام ومر تبہ

عورت کی ناموس اور اس کی عصمت کاتحفظ صرف اسلامی سماج میں ہے، سماج کو بے حیائی، بد کرداری، فحاشی، جنس پرستی، اغوا، بد کار ی، اور زنا بالجبر جیسے واقعات جرائم سے پاک کرنے کی ضمانت صرف اسلام میں ہے، دنیا کی تمام تحریکات اور تمام نظریات فطرت سے بغاوت کی وجہ دم توڑ چکے ہیں، اسی لئے دنیا کو ایک بار اسلام کا تجربہ بھی کر نا چاہئے ۔

مزید پڑھیں >>

خواتین اپنی اہمیت سمجھیں اور مردوں کے لیے معاون و مددگار بنیں!

تین طلاق پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس سے وہ خواتین خوش ہیں جن کے یہاں مذہب کو ثانوی حیثیت حاصل ہے اور جو انگریزی تعلیم حاصل کر کے روشن خیال تو ہوگئی ہیں لیکن انہیں ہر وقت اپنا وجود خطرے میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے نہ تو سیرت نبویؐ کا مطالعہ کیا ہے اور نہ ان صالح خواتین کے کردار و عمل کو دیکھا ہے جنہوں نے مردوں کو قدم قدم پر سہارا دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذراسا موسم بدلتا ہے اور ان کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ احساس کمتری سے کیوں نہیں نکلتیں؟

مزید پڑھیں >>

انسانی تاریخ کے عروج و زوال میں بنت حوا کاکردار

اکیسویں صدی کی اس فرعونیت سے پہلے یہ کارنامہ اسی مصر میں جمال ناصر اور شام میں حافظ الوحشی کے ذریعےانجام دیا گیا۔ مشہورو معروف سماجی خدمت گار زینب الغزالی کو نو سال اور شام کے ایک کالج میں زیر تعلیم ایک مسلم دوشیزہ مریم دباغ کو پانچ سال تک سلاخوں کے پیچھے جس خوفناک اذیت اور تشدد سے گذارا گیا یہ پوری داستان انہیں کی زبانی ان کی تصنیف "زنداں کے شب وروز" اور "صرف پانچ منٹ" میں پڑھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حجاب کے خلاف فلم کا حقیقت پسندانہ جائزہ

آہ!بیچاروں کے اعصاب پہ‘‘عورت’’ہے سوار برقعہ وحجاب کے خلاف بنائی گئی فلم کا حقیقت پسندانہ جائزہ     ایک بار پھر انسانیت شرمسار ہوگئی،عفت وحیا کا جنازہ نکل گیا،مساوات کے نام پرصنف نازک کی عزت وعصمت سرعام نیلام  کی گئی اورمغرب …

مزید پڑھیں >>

حقوق نسواں کی مجموعی صورت حال

آزادی کے بے لگام تصور نے مغرب کی عورت کومزید ایسے مسائل سے دوچار کر دیا ہے جن سے ہزار خرابیوں کے باوجود مشرق کی عورت آج بھی نسبتاً محفوظ ہے۔  لیکن مشرق میں عورت کے اپنے مسائل ہیں جس کا سبب معاشرے میں ظلم کا سرایت کر جانا ہے۔  عورت کو مردوں کے مقابلے میں تیغ بے نیام اور بے حیا بنا دینا اس کا علاج نہیں ۔ عدل و انصاف کا عمومی قیام اس کا حل ہے۔  عورتوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی، در حقیقت سماجی عدم انصاف ہی کا ایک مسئلہ ہے۔  معاشرے میں عدل کا نفوذ ہو جائے تو صرف  خواتین ہی نہیں  سماج کے سبھی مظلوم طبقوں کے مسائل  حل ہو جائیں گے۔ 

مزید پڑھیں >>