گوشہ خواتین

کیا عورتوں کو جہاد کے اجر سے محروم کیا گیا ہے؟

عورت خواہشات نفس سے، زبان وقلم سے اور دعوت دین کے لئے  حتی المقدور جہاد کرے گی۔ ان تمام برائیوں کے خلاف جہاد کرے گی جو اس کی عزت وآبرو کے لئے پرخطر ہو  مثلا زنا سے، اختلاط سے، رقص وسرود سے، اباحیت وانارکی سے اورعریانیت وفحاشیت سے جہاد کرے گی۔ آج مردوں کے مقابلے میں  زیادہ صبر آزما مرحلہ عورت کے لئے ہی ہے اس لئے انہیں اللہ کی اطاعت میں  جہاد بالنفس کولازم پکڑ لینا چاہئے جو انہیں ہرفتنے اور ہر شر سے بچا سکے۔

مزید پڑھیں >>

 خواتین، قر با نی اور جنگ آزادی

بی اماں (اصل نام آبادی بانو) کی قربانی تاریخ ہندمیں سنہرے حرفوں سے لکھی جاتی ہے۔ بی اماں تحریک آزادی میں ناقابل فراموش، لائق تعظیم کام انجام دیا ہے۔ ان کا ہر طرز عمل ہندوستانی خواتین کے لیے سبق آموز ہے جس پر چل کر ہی ہندوستان کا فروغ ممکن ہے انہوں نے صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ عزم مستحکم کر لیا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جتنی بھی مصیبتیں کیوں نہ اٹھانی پڑیں اس سر زمین کو انگریزوں سے آزاد کراکر ہی دم لیں گی۔اس کے لیے انہوں نے بچپن سے لے کر ضعیفی تک بے بہا اور گراں قدر کارکردگی انجام دی چاہے وہ جوشیلی تقریریں ہوں یا گھر گھر جا کر آزادی کے لیے چندہ یکجا کر نا ہوان سب کا مقصد ہندوستان کو آزاد کرانا۔

مزید پڑھیں >>

لٹتی عزتوں کا محافظ ‘اسلام’

اگر آج ہر ملک زنا کے خاتمے کے لیے مجرموں کو اسلامی شریعت کے تحت سزا دینے کا رواج عام کردے اور امن و ترقی کا سرچشمہ"مذہبِ اسلام" کے ذریعے مقرر سزائیں لاگو ہوجائے تو ہر زینب کا لٹتا بچپن محفوظ ہوگا اور عورتوں کی عزتیں نیلام نہ ہوگی۔ لوگوں کے مجمع میں شادی شدہ زنا کے مجرمین کو سنگسار (رجم) یا پھانسی کی سزا ہو اور غیر شادی شدہ زنا کے مرتکبین کو 100 کوڑے لگائے جائے تو دوبارہ کوئی انسانی بھیڑیا اس زیادتی کی ہمت نہ کرسکیں اور نہ ہی کوئی معصوم جان ہلاک ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

شایاں ہے مجھے غمِ جدائی

امّی جان کی سیرت وشخصیت کا ایک کمال یہ تھا کہ کسی حالت میں اپنی حدود سے متجاوز نہ ہوتی تھیں۔ اوپر والے نے ایسا متوازن دل ودماغ دیا تھا اور شخصیت اتنی دل آویز تھی کہ ان کو اپنے مقام ومرتبے کی آڑ پکڑنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور نہ انہوں نے کسی کے سامنے اپنے طور طریقوں سے کبھی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ اتنے بڑے مدرسے کے مہتممِ تعلیم وتربیت یا عالمِ دین کی بیوی ہیں، حالانکہ اس قسم کے اکثر مواقع پیش آتے رہتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام میں عورت کا حق ملکیت

بہت سے مسلم معاشروں میں عورتیں اپنے اس حق ملکیت سے محروم ہیں ۔ انھیں نہ وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے، نہ وہ مہر کی رقم پاتی ہیں ، نہ انھیں وقت ضرورت کسبِ معاش کی اجازت دی جاتی ہے اور اگر انھیں کہیں سے کچھ مال حاصل ہو جائے تو اس پر تصرف کا انھیں اختیار نہیں ہوتا، بلکہ شوہر نامدار اس پر قبضہ جما لیتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کے عائلی قوانین سے واقف کرایا جائے اور انھیں پابند کیا جائے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق سے نوازا ہے، انھیں خوش دل سے دیں ۔ اس طرح اسلام کا صحیح تعارف ہوگا اور اللہ کے بندوں کے دل اس کی طرف مائل ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

عصر حاضر میں بنت حوا کا  تار تار آنچل

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ رپورٹ کے مطابق  بھارت میں جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرانا خاصہ پیچیدہ عمل ہے۔ شکایت کنندگان کی اسپتالوں اور تھانوں میں تذلیل کی جاتی  ہے اور بعض پولیس اہلکار شکایات درج کرنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق عدالتوں میں بھی متاثرہ کو ’نازیبا تہمتوں ‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک بھارتی صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن انجی پینو نےایسے۶۰ہندوستانی  پروفیسروں کے نام کی فہرست جاری کی ہےجو مبینہ طور پر جنسی  حملوں میں ملوث ہونے کے سبب بیرون ملک مقیم ہیں ۔بنارس ہندو یونیورسٹی کی  طالبات پر بربریت سے خواتین پر مظالم کا معاملہ ذرائع ابلاغ میں آیامگر بہت جلد کافور ہوگیا۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟(تیسری قسط)

صنفی میلان کو انارکی اوربے اعتدالی سے روک کر اس کے فطری مطالبات کی تشفی و تسکین کیلئے جو راستہ خود فطرت چاہتی ہے کہ کھولا جائے وہ صرف یہی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کی صورت میں مستقل وابستگی ہو اور اس وابستگی سے خاندانی نظام کی بنا پڑے۔ تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کیلئے جن پرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اسی چھوٹی کارگاہ میں تیار کئے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟ (دوسری قسط)

 یہ تو معلوم ہے کہ تمام انواع حیوانی کی طرح انسان کی بھی زوجین یعنی دو صنفوں کی صورت میں پیدا کرنے اور ان کے درمیان صنفی کشش کی تخلیق کرنے سے فطرت کا اولین مقصد بقائے نوع ہے، لیکن انسان سے فطرت کا مطالبہ صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر کچھ دوسرے مطالبات بھی کرتی ہے اور ادنیٰ ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ مطالبات کیا ہیں اور کس نوعیت کے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن

 آج اگر مغرب اور مغرب پرست اسلام پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اسلام کو حقوق نسواں کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں، تو یہ صرف حقائق سے چشم پوشی کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے، ؛ کیوں کہ آج بھی بہت سے غیرمسلم مفکرین اور دانایانِ فرنگ اعتراف ِحقیقت کرتے ہوئے اسلام ہی کو صنفِ نازک کا نجات دہندہ اور حقوق نسواں کا پاسدار سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تہذیب و تمدن میں عورتوں کا کردار

  عورت کی اس آزادی کے خلاف اگر چہ ہمیشہ سے ایک دبی دبی آوازاٹھتی رہی ہے لیکن اب تو عورتوں ہی کی کتنی نجی تنظیمیں خود یورپ کے اندر قائم ہو چکیں ہیں جن کے مطالبات میں سے سرفہرست یہی ہے انہیں انکی فطری ذمہ داریاں لوٹا دی جائیں اور دنیا کے کاروبارمعیشیت وسیاست وغیرہ سے انہیں سبکدوش کر دیا جائے، حال ہی میں جاپان میں عالمی مقابلہ حسن کے موقع پر جن خواتین نے اپنے فطری حقوق کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا اسکی قیادت کرنے والی ہالی وڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ فلمی ادارے کی سابق ہیروئن تھی۔

مزید پڑھیں >>