گوشہ خواتین

ازواجِ مطہراتؓ کی زندگیاں

امریکہ یا یورپ میں جہاں مسلمان عورتوں کو بے حیائی اور عریانیت کا درس دیا جارہا ہے، پردہ کے خلاف قانون بنایا جارہا ہے۔ حجاب، نقاب اور پردہ قابل جرم ہے۔ وہاں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ آغوش اسلام میں آرہی ہیں ۔ اگر یورپ یا امریکہ میں پانچ افراد اسلام قبول کرتے ہیں تو ان میں سے تین خواتین ہوتی ہیں ۔ کیا یہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کا بین ثبوت نہیں ہے؟

مزید پڑھیں >>

 آزادیٔ نسواں اور اسلام

 اسلام کے عطاکردہ آزادی نے عورتوں کو عزت وشرافت کا بلند مقام عطاکیا،جب کہ مغرب کے فراہم کردہ آزادی نے عورتوں کواس قدرذلیل کیاکہ اب ایک خاتون  کوPlay with our bodiesکہنے میں ذرا بھی باک محسوس نہیں ہوتا،اسلام نے دئے ہوئے آزادی نے گھروں کو ایک مہکتاہواگلدستہ بنایا،جب کہ مغرب کی دی ہوئی آزادی نے خارہی خاربوئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

میاں بیوی کے اچھے اور برے تعلقات کے اثرات و نتائج (دوسری قسط)

 ’’عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت حاصل کرو کیونکہ وہ تمہارے ماتحت ہیں ۔ تم اس کے سوا کسی اور شے کے مالک نہیں مگر جب وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ترک تعلق کرو اور انھیں ہلکی مار دو۔ اگر وہ اطاعت کرلیں تو ان سے کچھ نہ کو‘‘۔

مزید پڑھیں >>

میاں بیوی کے اچھے اور برے تعلقات کے اثرات و نتائج

اسلام کے نزدیک اس خرابی کی تمام تر ذمہ داری اور انسانیت کی اس تذلیل کا تمام تر انحصار مرد و عورت کے تعلق کے غلط ہونے پر ہے، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے۔ وہ اسی طرح ممکن ہے کہ ان دونوں کو ان کے حقیقی مقام اور اپنے اپنے فرائض سے آگاہ کیا جائے، اس لئے وہ سب سے پہلے اس تعلق کو درست کرنے کیلئے مرد کے قوام ہونے کا اعلان کرتا ہے اور پھر اسی حوالے سے اس کے حقوق کا ذکر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سرسید شناسی میں خواتینِ علی گڑھ کا حصّہ بحوالہ تعلیم نسواں

سرسید کی مذہبی فکر کا جو پس منظر ہے اور ان کی پیش کردہ تعبیرات و توجیہات کے پیچھے جو مقاصد پنہاں ہیں، اُن پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ سرسید نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن مذہبی فکر کے حوالے سے اُن کی اِس خدمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اردو زبان میں مذہب کے مطالعے کے لیے انھوں نے ’’عقلیت پسندی‘‘ جدیدیت اور روشن خیالی کی جس روایت کی بنیاد ڈالی اُس سے دامن بچانا اب ممکن نہیں رہا۔ ہمارے انتہائی راسخ العقیدہ مذہبی عالم اور دانش ور بھی اِس سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں >>

خواتین کو باختیار بنانے کی ہو پہل

خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ہر سطح پر ان کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی بات زور شور سے اٹھتی رہی ہے۔ خاص طورپر قانون ساز اداروں میں۔ جن ممالک نے عورتوں کو نمائندگی دی ہے، وہاں ان کی حالت بہتر ہے۔ بھارت میں باوجود کئی سطح پر خواتین کو ریزرویشن دینے کے قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی کے راستہ میں کئی رکاوٹیں ہیں ۔ ہمارا مردوں کی بالادستی والا سماج ہے۔ اس کو سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اس ضروری مدعے کو پیچھے ڈھکیل دیتے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ابھی حال میں ہی خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں پاس کرانے کی اپیل کی ہے۔ اسی کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ بی جے پی اپنے چناوی منشور میں اور نریندر مودی نے اپنی ریلیوں میں اس بل کو پاس کرانے کا خواتین سے وعدہ کیا تھا۔ خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرنے والی پارٹیوں نے اس مانگ میں اپنا سر ملایا تو بی جے پی کو مجبوراً کہنا پڑا’’ ان کی سرکار اس بل کو پاس کرانے کو لے کر پابند عہد ہے۔‘‘ آنے والے سرمائی اجلاس میں وہ یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

مزید پڑھیں >>

عورت: اسلام کے زیر سایہ 

اسلام کے زیر سایہ عورت بہت سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے۔ البتہ چوں کہ بہت سے مسلمان اسلام کی ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتے اور اسلام کے عطا کردہ حقوق سے اسے محروم کرتے اور اس پر ظلم ڈھاتے ہیں ۔ اس بنا پر دوسروں کو اعتراضات کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم پوری خوش دلی کے ساتھ عورتوں کو وہ حقوق دیں، جن کی ادائیگی کی اسلام نے تاکید کی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کریں، جس کا اسلام نے پابند کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

قرآن حفظ کرنے والی خواتین کو نصیحت

اسلام ہی ایک ایسا مذمب ہے جس کی مذہبی کتاب قرآن کے حافظ بے شمار تعداد میں ہرجگہ پائے جاتے ہیں اور کسی مذہب کے اندر مذہبی کتاب اس قدر حفظ کرنے کی مثال نہیں ملتی۔ کفاراسلام دشمنی میں قرآن جلاسکتے ہیں ، دوچار حفاظ کو شہید کرسکتے ہیں مگرلاکھوں کروڑوں  حفاظ کے سینوں سےاسے  نہیں نکال سکتے۔ یہ اللہ کا مسلمانوں پر خاص فضل وکرم ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اور حقوقِ خواتین

یہ ضروری ہے کہ بہن اور بھائی، ماں اور باپ ، بیٹی اوربیٹے کے مابین ترکہ کے حصوں میں جو عدم مساوات ہے اس حوالے سے اسلامی قانون وراثت کی وضاحت کردی جائے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قانون ساز حقیقی نے خواتین کے حقوق کا تعین مجموعی حوالے سے کیا ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ قوانین عام طور پر معمول کے حالات کے مطابق بنائے جاتے ہیں اور مستثنیات کو اس مرحلے پر پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔

مزید پڑھیں >>

عورت کا عروج سے زوال کا سفر

عورت ماں بھی ہے،بہن بھی ہے، بیوی اوربیٹی بھی اورسماج میں زندگی گزارنے والی پرائی بھی،عورت سے یہ مرد کے رشتے ہیں ۔ ان سارے رشتوں کو عصمت اورعظمت کے دھاگہ میں قدرت نے گوتھ رکھاہے۔ مردکی زندگی کی بھلائی اورمستقبل کی تابانی اسی میں ہے کہ وہ اس دھاگہ کی عزت اورقدر کرے،ان رشتوں کااحترام کرے۔

مزید پڑھیں >>