سرگذشت سفرِ حرم

مفتی عبدالله خالد

نزیل: مکہ مکرمہ

تمام تعریفیں صرف اور صرف اس ذات وحدہ لاشریک کے لائق ہیں جس نےاپنے بندوں کومحض اپنے فضل وکرم سے بغیر استحقاق کے بےشمار انعامات سے  نوازا ۔   اور کڑوروں کڑور درودوسلام ہو اس ذات پاک پر جو اپنی امت کی فکر میں آخری وقت تک گھلتارہا۔

اللہ وحدہ لاشریک کے بے پایاں انعامات میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے محض اپنے فضل وکرم اور اپنے محبوب بندوں کے دعاؤں کی برکت سے متعدد بار اپنے اس شہر میں حاضری کی سعادت نصیب فرمایا جس کو خود قران کریم نے مبارکاً وھدی للعالمین کا تمغہ نصیب فرمایا اور  اس گھر کی زیارت سے مشرف فرمایا  جسکو اول بیت وضع للناس کاشرف حاصل ہے  اور ہرقسم کی گندگیوں، گناہوں، نافرمانیوں، معاصی اور سیاٰت کے باوجود اس ذات اقدس کے روضہ اطہر کی حاضری نصیب فرمایا جو بعدازخدابزرگ توئی قصہ مختصرکا حقیقی مصداق ہے۔

اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے محض اہنے فضل وکرم سے 1982 میں حج بیت اللہ کی اور  متعدد بار عمروں کی سعادت نصیب فرمایا۔

اس سال 2022 میں اچانک میرے صاحبزادہ حافظ قاری مولانا محمد اظہر ندوی سلمہ اللہ وحفظہ اللہ جو کئی سال سے مکہ مکرمہ ہی میں مقیم ہیں  نے مارچ میں میرا اور اہلیہ کاویزہ بھیج دیا اور اصرار کیا کہ آپ دونوں آجائیں میں تو دیارحرم کامتمنی تھاہی اور حاضری کےلیئے دعائیں کر ہی رہاتھا اس کو غیبی مدد سمجھ.کر تیار ہوگیا ۱۳ اپریل 2022 کاٹکٹ پٹنہ تا جدہ براہ دہلی  ملا۔  اور میں مع اہلیہ 13اپریل مطابق 11رمضان المبارک 1443ھج چہار شنبہ  کو30-03بجے پٹنہ سے روانہ ہوکر 14مئی 2022 مطابق 13 رمضان المبارک 1443 جمعرات کی صبح 2 بجے براہ دہلی جدہ پہونچا راستہ میں ہر جگہ اللہ نے عافیت کامعاملہ فرمایا ہر جگہ بورڈنگ اور کسٹم میں نہایت آسانی وسہولت وعافیت رہی جدہ ایر پورٹ پر ایک بڑی اور واضح تبدیلی یہ نظر آئی کہ یہاں کا پورا نظام ہی بدلہ ہوا تھا پہلے ہر جگہ مرد ملازمین کسٹم اور سیکوریٹی وایمیگریشن میں تھے جو آپس میں ہنسی مذاق بات چیت میں لگے رہتے تھے اور مسافر لائین میں کھڑے پریشان ہوتے تھے کام بہت سست ہوتا تھا چار سے چھ گھنٹے ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد باہر آنے میں لگ جاتے تھے اس دفعہ 2022 میں ہر جگہ خواتین ملازمین مامور تھیں جن کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں پوری توجہ اور دلجمعی کے ساتھ تیزی سے کام کر رہی تھیں  وہ مردوں کی طرح آپسی گفتگو اور ہنسی مذاق میں وقت ضائع نہیں کررہی تھیں چنانچہ ہم لوگ 15,20 منٹ مین ہی تمام مراحل سے گذر کر ایرپورٹ سے باہر آگئے۔  واضح رہے کہ ہم لوگ بچند وجوہ جدہ کی نیت سے حاضر ہوئے تھے چونکہ اندیشہ تھا کہ شاید پانچ دنوں تک جدہ میں  قرنطینہ.میں رکھا جائے  اسی لیئے احرام میں بھی نہیں تھے۔   الحمد للہ تمام چیک اپ وغیرہ کے مراحل سے بسہولت  گذرے اور آگے سفر کی اجازت مل گئی یہاں جدہ ایر پورٹ پر میرے صاحبزادہ موصوف گاڑی لے کر موجود تھے جدہ سے مکہ مکرمہ کے لیئے روانہ ہوئے راستہ ہی میں سحر کیا گیا اورہم لوگ نمازفجر کے وقت مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفاًوکرامۃ بخیروخوبی پہونچ گئے فلله الحمد والمنۃ

ہمارہ قیام تیسیر کے علاقہ حفائر میں حرم شریف سے تقریباً 2,3کیلومیٹر کے فاصلے پر تھا اس جگہ کا نطم ہماری آمد سے قبل میرے صاحبزادہ موصوف نے کر رکھا تھا۔

توکلنا ایپ پر عمرہ کی اجازت کے لیئے رجسٹریشن کرایا (.جوکہ اب لازمی ہے)  ہمیں 16 اپریل کی شب میں دوبجے تاچار بجے کاوقت ملا۔  ہم نے عمرہ کی پوری تیاری مکمل کرلی   قریبی بڑے میقات سے احرام کے لیئے طائف جانے اور احرام باندھ کر واپسی کے لیئے گاڑی بھی ریزرو کرلیا گیا۔   15 مئی 2022 کو جمعہ کا دن تھا میں پاپیادہ اور میرے صاحبزادہ حافظ قاری مولانا محمد اظہر سلمہ اپنی والدہ کو وھیل چیر پر لے کر جمعہ کے نماز کی ادائیگی کے لیئے تقریباً ساڑھے دس بجے صبح روانہ ہوگئے حرم شریف میں ہمیشہ ہی توسیع کاکام ہوتا رہتا ہے گذشتہ حاضری اور اس دفعہ کی حاضری میں بھی کافی اضافہ نظرآیا کچھ ہوٹل جو پہلے نظر آتے تھے اب غائب تھے پہلے جتنے دروازے تھے اب ان میں کافی اضافہ ہوچکا ہے غرضیکہ حرم مکی میں کافی توسیع ہوگئی ہے اور نمازیوں اور زائرین کےلیئے جگہوں کاکافی اضافہ ہو گیا ہے توسیع کے باوجود ازدھام اتنا زیادہ تھا کہ الامان والحفیظ اللہ کے گھر کے پروانوں کو دوسال کے بعد شمع پر نچھاور ہونے کاموقع ملاتھا تو ہر چہارسو سے لوگ امڈے پڑ رہےتھے( ایک شخص نے بتایا جو سعودی عربیہ ہی میں مقیم ہیں کہ گذشتہ سال رمضان المبارک کے موقع پر میری حاضری ہوئی تھی تو بالکل ماحول پر سناٹاطاری تھا ہو کاعالم تھا تمام عمارتیں اور ہوٹل خالی پڑے تھے بازارویران تھا مکہ مکرمہ بالکل جنگل کاسماں پیش کررہے تھے اس سال تو پرانی رونق واپس آگئی ہے ) نماز جمعہ سےگھنٹوں پہلے آنے پر بھی حرم شریف تقریباً  پر تھا بڑی مشکل اور جدوجہد کے بعد نئے حرم میں عورتو.ں کے لیئے مخصوص جگہ پر اہلیہ کو اور مردوں والی جگہ میں ہماری گنجائش نکلی وقت کافی تھا اس لیئے ہم لوگوں نے تلاوت اور نوافل میں اپنے کو مشغول رکھا  مقامی وقت کے مطابق 55-11 میں جمعہ کی اذان اول اور 18-12میں اذان ثانی ہوئی  ہم سب نے خطبہ جمعہ جو رمضان المبارک کے فضائل پر مشتمل تھا سنا پھر امام حرم کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کیا۔  سنن ونوافل سے فراغت کے بعد میں اپنے صاحبزادہ کے ہمراہ اہلیہ کے پاس واپس آیا۔  اور میں پیادہ اور میرے صاحبزادہ اپنی والدہ کو وھیل چیر پر لے کر واپسی کے لیئے روانہ ہوئے  اہلیہ کی رائے ہوئی کہ عصر کی نمازحرم شریف میں ادا کرکے ہی قیام گاہ پر جائینگے   میں نے عرض بھی کیا  کہ چونکہ رات میں عمرہ کرنا ہےجس میں پوری رات لگ جائیگی اس لیئے ابھی قیام گاہ پر چل کر آرام کرنا زیادہ مناسب ہے  مگر ہمیشہ کی طرح مجھے طوعاً وکرھاً انکی بات ماننا پڑی اور فیصلہ ہوا کہ عصر کی نماز پڑھ کر ہی قیام گاہ جانا ہے۔  اہلیہ کواستنجا کاتقاضہ تھا۔  اور یہاں مردوں اور عورتوں کاحمام الگ الگ ہوا کرتا ہے۔  چنانچہ عورتوں کے حمام کی سیڑھی کے پاس میرے صاحبزادہ نے اپنی والدہ کولیجاکر چھوڑ دیا وہ ایکسلیٹر زینہ سے نیچے گئیں حمام سے آکر وضوکیا اورواپسی کے لیئے ایکسلیٹر زینہ آئیں پانچ زینہ اوپر آنے کے بعد انکا پیر پھسل گیا اور وہ گرپڑیں اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرامنھا اناللہ واناالیہ راجعون زینہ کے آپریٹر نے فوری طورپر زینہ کوبندکیا ہم نے سنا کہ کوئی زینہ پر گرگیا ہے میرا لڑکااور میں بھی دوڑے اہلیہ گری پڑی تھیں بڑی مشکلوں سے انکو اٹھا کر وھیل چیر پر بٹھاکر حرم شریف کے مستشفی میں لے گئے  وہاں فوراً ایکسرے ہوا ابتدائی طورپر وہاں مرہم پٹی کرکے مستشفی ملک عبدالعزیز بذریعہ ایمبولینس بھیج دیا گیا حرم شریف کے احاطہ میں ایمبولینس نہیں آنے کی وجہ سے یہاں سے چھوٹی گاڑی میں سوار کرکے ایمبولینس تک  لایا گیا چھوٹی گاڑی میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سےاہلیہ کے ساتھ میرے صاحبزادہ ہی جاسکے میں وھیل چیر کے ساتھ رہ گیا وھیل چیر کو حرم شریف ہی میں ایک جگہ رکھ کے اپنی قیام گاہ واپس آکر دعاؤں میں مشغول یوگیا چار دنوں بعد جاکر میرے صاحبزادہ نے وھیل چیر کو واپس لایا۔  مستشفیٰ ملک عبدالعزیز مکہ مکرمہ میں فوراً ایکسرے ہوا اور ڈاکٹروں نے فیصلہ سنایا کہ داہنے ٹانگ کے گھٹنے کے متصل اوپر کی ہڈی چور ہوگئی ہے آپریشن کرکے پلیٹ لگانا ہوگا۔   اہلیہ شوگر، بلڈپریشر، تھائیروڈ، کلسٹرل اور قلب کی مریضہ پہلے سے ہی تھیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے فوری آپریشن سےانکار کیا اوردسویں دن یعنی 24 اپریل 2022 اتوار کے دن آپریشن ہوا تقریباً آٹھ گھنٹے آپریشن میں لگے اور الحمد للہ آپریشن کامیاب رہا۔  اس دوران حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادگان خاص طور پر مولانا قاری محمد مدنی، ان کے اہل خانہ اور قاری خبیب مدنی کی تشریف آوری ہوتی رہی خصوصاً مولاناقاری محمد مدنی کی اہلیہ محترمہ نےمریضہ کو بہت تسلی دی بڑی محبت شفقت ادب اور اپنائیت سے ملیں۔   جس سے مریضہ کو تسلی وتشفی بھی ہوئی اور حوصلے میں بھی اضافہ ہوا میرے قدیم رفیق مولانا محمد زکریا مرحوم کی اہلیہ اور ان کے صاحبزادہ حذیفہ بھی متعدد بار حاضری دیتے رہے  اللہ تعالی ان سب کو اور جن حضرات نے بھی مزاج پرسی کیا یا دعائیں کیں اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے شایان شان ہماری توقعات سے بڑھ کر دونوں جہان میں بہترین بدلہ عطا فرمائے اٰمین ۔  مسلمانوں کا بہترین ہتھیار دعائیں ہیں چنانچہ حادثہ کے بعد ہی مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور، خانقاہ خلیلیہ کچا گھر سہارنپور، خانقاہ خلیلیہ چشتیہ دھرم پور، دارالعلومندوۃ العلما لکھنؤ،خانقاہ محمدیہ اڈسار، جامع حسان احمد وخانقاہ حسانیہ عظیمہ.چوک، مدرسہ حنانیہ جوگدیا ضلع دکھن.24 پرگنہ بنگال کی مسجد کے معتکفین اورذاتی طورپر حضرت مولاناسید محمد عاقل.صاحب شیخ الحدیث جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور، مولانا ندرت حسین صاحب جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور، مولاناقاری محمد مدنی،مولانا قاری مصعب مدنی، قاری خبیب مدنی،قاری عبادہ مدنی، مولانا محمدآزاد  حضرت مولانا حسان احمد مظاہری قدس سرہ کےمجازین وخلفاء  مولانا رحمۃ اللہ، مولاناحیدر،حاجی محمد سلطان توپسیا، حاجی مقبول، حاجی شکیل، حاجی اسحاق منیاردامت برکاتہم وغیرہم سے بارباردعاؤں کی درخواست کی گئی اور ان تمام حضرات نے بارگاہ الہی میں ان کے صحت وعافیت کے لیئے دعائیں کیں اور الحمدللہ اللہ کے فضل وکرم اور دعاؤں کی برکت سے تمام مراحل نہایت ہی سہولت وآسانی اور خیروعافیت کے ساتھ طے پا گئے

آپریشن کے بعد عافیت ہی عافیت رہا تین یونیٹ خون کی ضرورت پڑی جس کانظم اللہ نے محض اپنے فضل وکرم سے ایسی طرح کرادیا جس کا کوئی شان وگمان بھی نہیں تھا۔ ۔ گوناں گون امراض اور ڈاکٹروں کے اندیشہ کے باوجود الللہ نے وقت پر ہوش وحواس میں واپس لادیا اور تکلیف بھی صرف علامتی طور پر ہی محسوس ہورہی تھی۔  یہاں خدمت کے لیئے ایک خاتون کی ضرورت تھی چنانچہ اس کے لیئے بڑی بہو کوبلالیاگیا اور عمان سے بڑی بچی داماد اور دونواسیاں بھی اواخررمضان المبارک میں پہونچ گئیں اللہ نے دعاؤں کی برکت سے ان کاویزہ آسان فرمادیا جبکہ سعودی کاویزہ لگنا بند ہوگیا تھا فلله الحمد

آپریشن کے دو دنوں بعد یعنی24 مئی 2022 منگل سے اہلیہ کو پیٹ میں درد، قبض اور قئی شروع ہوگیا جبکہ پیر میں درد کا ذرا بھی احساس نہیں تھا۔  اسپتال والوں نے پیٹ کے ماہر ڈاکٹر کو بلاکر.معائنہ کرایا پیٹ کے ڈاکٹر نے ایکسرے وغیرہ کے بعد فیصلہ کیا کہ پیٹ بالکل ٹھیک ہے البتہ گیس بہت ہے چنانچہ بذریعہ ناک وحلق پیٹ میں گیس نکلنے کے لیئے پائیپ.لگادیا گیا جس سے بہت جلد کافی افاقہ ہوا ۔  مستشفیٰ ملک عبدالعزیز مکہ کا بہت بڑا اورتمام سہولیات اور ہرقسم کے معالجتی مشینوں سے لیس اسپتال ہے۔  یہاں ہندوستان کے برخلاف سرکاری اسپتالوں میں سہولیات وانتظامات پرائیویٹ اسپتالوں کی بہ نسبت بہت اعلیٰ اور معیاری ہے اور پرائیویٹ اسپتالوں کی بہ نسبت اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔  ڈاکٹر، نرس اور پورا عملہ مریض کی خدمت وتیمارداری میں بہ دل وجان مشغول تھے مریض کا پرہیزی کھانا ڈاکٹر کے لکھنے کے مطابق اور ایک تیماردار کے افطار کھاناوسحرکا بہترین نظم اسپتال کی جانب سے تھا۔  فالحمد لله علیٰ ذالک۔

یکم مئی 2022 مطابق 30 رمضان المبارک 1443 کو اہلیہ کو اسپتال سے فرصت ملی اور چاند رات کو وہ اپنے کمرے پر پیونچ گئیں۔

الحمد لللہ میں نے پہلاعمرہ طائف سے احرام باندھ کر 22اپریل2022 جمعہ کواور دوبارہ شب 27 رمضان المبارک کواداکیا فللہ الحمد

اس سال ایک محتاط اندازے کے مطابق کم ازکم 60 لاکھ افراد نے عمرہ کیا ہے یہ تعداد اس وقت ہے جب کہ سعودی وزارت حج وعمرہ نے آخری عشرہ میں اقامہ والوں اور  ان لوگوں کو عمرہ کی اجازت نہیں دی جو پہلے یادوسرے عشرے میں عمرہ کرچکے ہوں

البتہ اس دفعہ حرمین شریفین میں بیس کے بجائے دس رکعت ہی تراویح پر اکتفا کیا گیا حرم مکی میں شیخ بلیلہ،شیخ عبداللہ الجہنی،اوریاسرالدوسی جیسے پایہ کے قرا حضرات کی تلاوت سن کر قران سننے کالطف دوبالاہوجاتا ہے ایک خاص بات یہ ہے کہ دونوں حرم میں متعدد اماموں اور سامعین کے رات بھرکھڑے رہنے کے جذبہ کے باوجود ایک ایک قران پاک ہی مکمل کیاجاتا ہے اگر وہ چاہتے تو متعدد قران پاک مکمل کر سکتے تھے مگر وہ جس ترتیل،خشوع وخضوع،صحت لفظی اور مخارج کی رعایت کرتے ہوئے سکون واطمینان کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں دراصل وہی اللہ کو مطلوب ومحبوب ہے خشوع وخضوع کا یہ حال ہے کہ عموماً جہنم اور جہنمیوں اور عذاب الہی کے تذکرے جن آیات میں ہیں ان آیات کی تلاوت پر ان پر رقت طاری ہوجاتی ہے بلکہ بسااوقات دھاڑیں مارکر ایسا روتے ہیں کہ تمام مصلیان پررقت طاری ہوجاتی ہے اور آگے تلاوت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔  اس سے ہندوستان میں جولوگ تین اور پانچ ایام میں قران پاک پورا کرکے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے

حرم شریف میں اتنے ازدھام اور زائریں کے کثرت کے باوجود بھیڑ کوقابوکرنا اور بہترین نظم ونسق اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا اللہ کی واضح مدد اور اس کا فضل وکرم ہی کہا جا سکتا ہے

ہندوستان میں مہینوں سے یہ شور سن رہے تھے کہ حرم شریف میں خواتین پولیس چست لباسوں میں چہرہ عیاں کیئے ہوئے ڈیوٹی کر رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں اور اس ہر قسم قسم کے تبصرے نظر سے گذر رہے تھے اس لیئے اس پر خاص نظر تھی اور اس قسم کی خواتین پولیس کی تلاش تھی تاکہ حقیقت حال کاپتہ چلے لیکن مجھے کہیں پر بھی کواتین پولیس حتی کہ خواتین کے حصے میں بھی متعدد دفعہ کافی جستجو وتلاش کے باوجود ایک بھی  نظر نہیں آئیں

ہاں البتہ اس جستجو میں ضمناً ایک بات نظرآئی جس کاتذکرہ فائدہ سے خالی نہیں ہے وہ یہ کہ مطاف میں بھی خانہ کعبہ کے پاس بھی صفاومروہ پربھی بلکہ پورے حرم پاک میں ہر جگہ زائرین فوٹو کھینچتے ہوئے،سیلفی لیتے ہوئے اورویڈیو بناتے ہوئےبکثرت نظر آئے جن میں خواتین بھی مردوں سے پیچھے نہیں تھیں جواز وعدم جواز کی بحث سے قطع نظر خود بھی ارکان کو خشوع وخضوع کے ساتھ اچھی طرح ادا نہیں کرپاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی ارکان کی ادائیگی میں خاصہ زحمت کاسامنہ.کرنا پڑتا ہے

میں نے اپنے مخلصین، رشتہ داروں،احباب، دعاؤں کے لیئے کہنے والوں،ہندوستانی مسلمانوں، پوری امت کے خیروعافیت صلاح وفلاح اور دارین میں ترقیات کے لیئے پوری امت میں اتحادواتفاق اپنے ملک میں امن وامان ظالموں کے ہدایت، مظلوموں کی دادرسی کے لیئے دعائیں کی ہیں اور ان شاءاللہ کرتا رہونگا۔  تمام قارئین سے بھی دعاؤں کی درخواست ہے

( مضمون طویل ہوتا جارہا ہے اس لیئے حرم مدنی کا تذکرہ اگلی تحریر میں ان شاءاللہ جلد ہی کرونگا)

تبصرے بند ہیں۔