کشمیر: جنت بنی دوزخ شیطان ہوئے خدا 

راحت علی قاسمی
اس کائنات کی حسین وجمیل خوبصورت وادی بہتے دریا گرتے جھرنے لہلہاتی کھیتیاں سرسبز و شاداب باغات مناظر فطرت اور مظاھر قدرت سے پر نظارے آنکھوں کو خیرہ کرنے والا حسن قلوب کو فرحت وتازگی بخشنے والا موسم جنت نشان خوبصورتی کشمیر کی پہچان ہے اور علامہ اقبال نے کہا ..
گر بہشت در زمیں است
ہمیں است و ہمیں است
مگر آج یہ خوبرو زمین ساری جس کو دیکھ دل مست و مگن ہوجائے کائنات کا حسن سمٹ کر جسکی گود میں آگیا اسکا عالم انتہاء درد انگیز ہے اور قلب وجگر کو چاک کرنے والا ہے خون سے رنگین ہوتی سرزمین کشمیر کو آج سیاسی مفاد پرستی نے اتنا بھیانک کردیا کہ اس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے نوجوانوں کی خون میں لت پت لاشیں مرغ بسمل کی طرح بچے اپنی آبرو کی دھائی دیتی دوشیزائیں اور عالم یہ ہو چکا ۔
اپنی غزل کو خون کا سیلاب لے گیا
آنکھیں رہیں کھلی کی کھلی کوئی خواب لے گیا
کشمیریوں کے خواب ان کی ترقی انکی رفعت و بلندی کا تصور تو چھوڑئے عالم یہ ہیکہ جان کی حفاظت بھی نہیں ملک کے نام پر حفاظتی انتظامات کا بہانا بنا کر بے دریغ کشمیریوں کو قتل کیا جاتا ہے یہ سوال قلب میں تیر کی طرح پیوست ہے کہ ہندوستان مین بہت سی تحریکیں اٹھیں جنھوں نے شدت اختیار کی ملک بے شمار نقصان سے دوچار ہوا، آب و دانہ کے لئے لوگ ترسے زندگی معطل بیکار اورٹھپ ہوکر رہ گئی اورمعاملہ تشویشناک ہوا رنج وغم کے آثار قلوب پر ثبت ہوئے مگر بہت ہی کم یا نا کے برابر ایسے مواقع آئے جب عوام کے محافظوں نے انکے ساتھ خون کی ہولی کھیلی ہو انکی عزت و آبرو کو داغدار کیا ہو ماضی قریب کو دیکھ لیجئے ہاردک پٹیل کی تحریک گجرات اور پٹیل برادری نے وہ حال کیا کہ الامان والحفیظ سارا گجرات دہل گیا لوگ خوف زدہ ہراساں راستہ گاڑیاں سب کچھ تعطل کا شکار کروڑوں کا نقصان مگر کوئی فوجی ایسا پیش کریں جس کی بندوق کی گولی پٹیل برادری کے کسی فرد کے سینہ کو چھوکر گذری ہو یا کسی نے ہمت وجسارت کی کہ کسی دوشیزہ کی آبرو پر ہاتھ ڈال سکے یا نگاہ بھر کر دیکھ سے اور آگے بڑھیے جاٹوں کی تحریک نے کئی مرتبہ قانون کا مزاق اڑایا پولس اہلکاروں کا جینا دوبھر کردیا گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور ابھی ریزیرویشن تحریک نے تو ساری حدیں پار کیں چوریاں ڈاکہ زنی لوک مار اور آگے بڑھکر دیکھئے آبرو ریزی تک کے واقعات سامنے آئے اس تشدد کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیک دئے اور ہار مان لی تب جار کہیں زندگی کا پہیا گھومنا شروع ہوا اس اثناء میں کیا کسی جوان یا محافظ جمہوریت کی بندوق میں گولیاں نہیں تھیں حوصلہ نہیں تھا کہاں تھی انکی جواں مردی یہ طرز اور رویہ کیوں جب کے نقصان بے پناہ وبیشمارہے میرا منشاء یہ نہیں کہ ان پر گولیاں برسائی جاتیں مگر اب کشمیر کا حال دیکھئے لاکھوں افراد وطن پرستوں اور محافظوں کی گولیوں کا شکار ہوگئے اور جنت کو مثل جہنم کردیا گیا نا کوئی ضابطہ نا قانون نا شنوائی نا ہمدردی بس ہے تو ایک راگ کشمیر ہمارا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ اپنوں کے خون کی ندیاں بہانا کیوں پسند کرتے ہو لاشوں کا ڈھیر لگانا کیوں رواگردانتے ہو کوئی بھلا اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے کیا یہی اپنے پن کی نشانیاں ہیں ہر گز نہیں کہ ایک بچی پر جوان کی گندی نگاہ پڑتی ہے اس پرایسی قبیح حرکت کرتا ہے کہ کوئی شخص جذباتی ہوجائے کوئی بھی شخص آگ بگولہ ہوجائے اور اسے کیفر کردار تک پہونچائے اور کائنات کا کون ایسا مرد ہوگا جو ایسے نازک موقع عورت کی حفاظت نا کرے اسی طرح کا ایک واقعہ کشمیر کے ہندوارہ میں 12اپریل کو پیش آیا ایک دوشیزہ اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کہ لئے گئی اس پر ایک فوجی نے دست درازی کی کشمیریوں نے وہی کیا جو ہر انسان کریگا اس کو بچانے کی کوشش مظاھرہ کیا جسکا ثمرہ اور نتیجہ یہ 4نوجوانوں کے جنازہ اٹھ چکے زندگی پوری طرح ٹھپ ہوگئی اور اب تک مجرم کو کوئی سزا نہیں کیوں کہ وہ تو وادی کے خدا ہیں خصوصی طاقتیں انہیں حاصل ہیں ان سے کون پوچھنے کی جسارت اور جرأت کرسکتا ہے اگر کریگا تو اسکا بھی یہی حال ہوگا جو ہوتا رہا ہے۔ نا انہیں قانون پکڑتا اور نہتے بے بس کشمیریوں کی طاقت کہاں کہ وہ کچھ کریں اور انکا احتجاج تک برداشت نہیں پھر کیا کرسکتے ہیں اور جمہوریت کو بھی داغدار نہیں کرسکتے سمجھ سے پرے ہے آخر خون کی یہ ہولی کب تک آخر حکومت کی بے توجہی اور لا پرواہی کب تک کیا صرف اپنا کہدینے سے فریضہ ادا ہوجاتا ہے اسکے کچھ حقوق نہیں ہوتے ذمہ داریاں نہیں ہوتیں ۔محبوبہ کی تاج سے محبت نے ایک فرقہ پرست جماعت سے انہیں ہاتھ ملانے پر مجبور توکردیا مگر کیا انہیں وہ کرب اور تکلیف نظر نہیں آتی جس کو کشمیری برسوں سے جھیل رہے ہیں اور قتل غارت گری کا لامتناہی سلسلہ انکی علمی عملی ترقی پر قدغن لگارہا ہے اور ایک زرخیز زمین بنجر ہوگئی ہے۔ یہ سب آخر کب تک خیال کیجئے اگر کشمیر خوشحال ہوگا ملک کتنی ترقی کریگا کتنے سیاح آئیں گے ہندوستان کا شہرہ ہوگا عزت ہوگی نیک نامی ہوگی مفاد پرستوں انسانیت کی خاطر ناسہی اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ہی خون کے بہتے دریاؤں کو پاٹ دو اور عشق و محبت کی فضا ہموار کردوپیار و محبت کے دریا بہاؤ . خدا کرے بر آئے امید میری۔

(بشکریہ یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔