ٹرینڈنگ
- طلاق زندگی ہے : سونم اور راجا رگھوانشی کیس کے تناظر میں
- پہلگام حملہ : ایسے حملوں سے پہلے چوکسی کیوں نہیں برتی جاتی؟
- فلسطین اور عرب حکمراں: اسے دوستی کا نام دیں گے یا دغا کا؟
- نفقۂ مطلّقہ کے بارے میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ
- ملک کے موجودہ حالات اور ہمارا سیاسی وژن
- الیکشن، نت نئے ایشوز اور ہمارا رول
- نیامشن نیا ویژن
- بھڑوا، کٹوا، ملا آتنک وادی …
- مملکت سعودی عرب: تاریخ، معاشی چیلنجز اور حکمت عملی
- بچوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، اجرت کی نہیں
عالِم کی موت عالَم کی موت ہے!
اسلام کا معاشرتی نظام ان کی دلچسپی کا خاص موضوع رہا ہے۔ عورت اسلامی معاشرے میں، مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ، عورت اوراسلام، مسلمان خواتین…
شہر خموشاں کے مکیں
مولانا مرحوم بهت ہی خردنواز ، فراخدل ، سادہ لوح ، پاک طینت اور شریف الطبع انسان تھے ، آپ کا شمار عصر حاضر کے بڑے عالم دین میں ہوتا تھا ، آپ ایک بلند پایہ…
تپتے صحرا میں ایک گھنا درخت رخصت ہوا
قحط الرجال کے اس زمانہ میں مولانا کی مثال نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک گھنے سائے کی طرح تھی جس کے سائے سے راہ حق کے بے شمار مسافر مستفید…
مولانا سید جلال الدین عمری کی وفات علمی دنیا کا بڑا خسارہ
مولانا سید جلال الدین عمری (ولادت 1935) کا ابھی 26 اگست 2022 ، ساڑھے آٹھ بجے شب انتقال ہوگیا_ وہ 87 برس کے تھے_
اک عاشق دین اور متکلم اسلام خالق حقیقی کے حضور میں
دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوئوں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔
علم وتحقیق کے سالار تھے مولانا سید جلال الدین عمریؒ
مولانا سید جلال الدین عمری ؒ عالم اسلام کے مقبول عام عالم تھے۔وہ جماعت اسلامی ہند کے امیر ہونے کے باوجود تمام مکتبہ ہائے فکر میں قابل احترام تھے۔مسلم پرسنل…
مولانا جلال الدین عمری : کڑے سفر کا بڑا مسافر
مولانا جلال الدین عمری کو اس دنیا میں بہت ساری نعمتوں سے نوازہ۔ انہوں نے خدمت دین کے لیے ان کا بھر پور استعمال کیا۔ ان کی دینی اور تحریکی خدمات پر بہت کچھ…
قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال
مقالات و کتب کا جو عظیم الشان ذخیرہ انھوں نے چھوڑا ہے وہ صرف ان کے تصنیفی ملکہ کا نہیں بلکہ ان کی بے پایاں قربانیوں اور عمر بھر کی جدوجہد کا آئینہ دار ہے۔ اس…
مولانا سيد جلال الدين عمرى رحمة الله عليه
مولانا سے ملكر يا ان كى تحريريں پڑهكر كبهى اس كا واہمه بهى نه گزرتا كه مولانا كسى جماعت كى ترقى يا تحريك كے غم ميں تڑپ رہے ہيں، بلكه آپ كے حركات وسكنات…
