تعلیم و تربیتخصوصی

انتخاب منزل میں طلباء کی رہبری: ناگزیر ضرورت

ہمارے ملک میں حصول علم سے جس درجہ بے اعتنائی برتی جارہی ہے وہ نہایت ہی قابل رنج و افسوس ہے۔

مفتی عبداللہ غزالی

اگر چہ علم کی اہمیت اور افادیت کو تمام ادیان ومذاہب نے تسلیم کیا ہے لیکن اسلام نے علم اور اہل علم کو جو مقام عطا کیا اس کی نظیر دوسرے ادیان میں شاید ہی ملتی ہو، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مسلمان علم کے میدان میں تمام اقوام عالم سے بہت ہی پیچھے ہیں، خصوصًا ہمارے ملک میں حصول علم سے جس درجہ بے اعتنائی برتی جارہی ہے وہ نہایت ہی قابل رنج و افسوس ہے۔

علم نور ہے، جہالت تاریکی ۔ علم ترقی ہے، جہالت تنزلی۔علم عروج ہے، جہالت انحطاط وغیرہ جیسے جملے ہم اکثر پڑھتے،سنتے،اور بولتے رہتے ہیں۔ یعنی تعلیم کی ضرورت کا تعارف کرانے کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ تقریباً ہر شخص اس کی اہمیت کا معترف ہے۔نہ جانے علم کی اہمیت سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کتنے اوراق سیاہ کیے گئے، کتنی تقریریں ہوئیں، کتنے مقالے لکھے گئے۔

گاؤں، گاؤں، شہر ،شہر مکاتب سے لیکر مدرسوں اور جامعات تک، نرسریوں سے لیکر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں تک ہر طرح کے قابل قدر وسائل اور انتظامات موجود ہیں۔

لیکن جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اس کی طرف یا تو بالکلیہ توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ یا اگر کہیں  کچھ رجحان ہے تو وہ بالکل ناکافی ہے۔ بات ہے حصول تعلیم میں رہبری اور گائڈینس کی۔ راہنمائی اور ہدایت کی۔ اور یہ ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے فقدان کی بنا پر ہم اپنی قوم کے بھترین ذہنوں کو بے مقصد چیزوں میں برباد اور غیر معیاری کاموں میں تباہ ہوتے کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں۔

سنہ دو ہزار سترہ کی سرکاری مردم شماری میں ہماری تعداد اٹھارہ کروڑ نوے لاکھ درج ہے جو ملک کی کل آبادی کے چودہ فیصد سے کچھ زائد ہے لیکن افسوس ہوتا ہے جب ہم اپنی خواندگی کا تناسب دیکھتے ہیں۔ برادران وطن؛ ملک میں انیاسی فیصد سے زائد ہونے کے باوجود حصول علوم میں ہم سے بارہ فیصد پیش ہیں۔

تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے چاہے وہ مکاتب،مدارس یا جامعات کی سطح کے ہوں یا اسکول،کالج اور یونیورسٹی کی سطح کے؛ کہیں بھی طلباء کی صلاحیت کا مکمل جائزہ لینے کے بعد، ان کی اہلیت کے اعتبار سے ان کی خاطر خواہ اور ضروری رہبری نہیں کی جاتی۔

یقین مانئے! یہ بات آپ کے مشاہدے میں بھی ہوگی کہ اچھی صلاحیتوں کے مالک بچے ہائی اسکول یا انٹر میڈیٹ کا امتحان دینے کے بعد اپنی تعلیم سے اس لیے رخ موڑ لیتے ہیں کہ اُنھیں اس سے آگے کی دنیا کا علم نہیں ہوتا۔ ان کے والدین اور سرپرستوں کو بھی آگے کی تعلیم اور اس پر مرتب ہونے والی ترقی کا اندازہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ خود اس سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انھیں یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ اب اس کی تعلیم اس کی ذاتی زندگی کی ضرورتوں کے لیے کافی ہے؛ اب اسے مزید تعلیم کی ضرورت نہیں اور اسے کسی معمولی تجارت یا نوکری میں مشغول کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں۔

کچھ کالجوں اور اسکولوں کو مستثنیٰ کرنے کی گنجائش اس لئے ہے کہ وہاں امتحان کا نظام بھت سخت ہوتا ہے، ایڈمیشن میں صرف پیسے نہیں بلکہ معیار انتخاب پر کھرا اترنا لازمی شمار کیا جاتا ہے ،اساتذہ کی تقرری میں تنخواہوں کی کثرت کوئی مسئلہ نہیں ہوتی۔  قابلیت واہلیت کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ نتیجتاً وہاں کے بچے جب یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں تو ایسے اداروں کے طلباء کی کامیابی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔

لیکن اکثر اسکولس اور کالجز کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں ضروری صرف ایک چیز گردانی جاتی ہے اور وہ ہے فیس کارڈ۔ بڑی تندہی سے اس پر نگرانی کی جاتی ہے اور سب سے شاطر اور ماہر کارندے کو یہ اہم ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔اس کے علاوہ جتنی ضروری چیزیں ہیں وہ سب بالائے طاق ہوتی ہیں، تعلیم کے نام پر کوئی گائڈینس نہیں، کس بچے میں کیا صلاحیت ہے، کس سبجیکٹ میں اس کی دلچسپی ہے،  آگے چل کر کس جھت میں اسے جانا بھتر ہوگا یہ باتیں تو ان کی ذمہ داری سے باہر ہوتی ہیں ۔بس  تعلیم کے نام پر ایک تجارت ہے جو طلباء کی نا معلوم منزل کی طرح رواں دواں ہے ۔

یہی حال ہمارے مدارسِ دینیہ کا بھی ہے وہاں بھی رہنمائی نام کی کسی چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔ عالميت يا فضيلت محض ایک نسبتی نام کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔ کچھ معیاری ادارے ہیں جن میں داخلے اور التحاق کے لیے معیاری امتحانات ہوتے ہیں، امانت داری کے ساتھ قابل طلباء کا انتخاب عمل میں آتا ہے اور یہی طلباء آگے چل کر کسی قابل قدر منزل تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔ورنہ اکثریت ان اداروں کی ہے جن میں صرف طلباء کی تعداد کا پورا کرنا مقصود ہوتا ہے ،نہ تعلیم کا کوئی معیار ہوتا ہے نہ ہی صحیح اساتذہ۔ بس ایک رسمی نظام ہے جو جاری وساری ہے ۔

اس بات کا اعتراف ہر وہ شخص کرے گا جس نے تعلیمی رہبری نہ ہونے کی وجہ سے خرد مند اور ہونھار بچوں کو منزل سے پھلے تھک جاتے یا بھٹک جاتے بھت قریب سے دیکھا ہے ۔ بھت سچی بات ہے اور تجربہ بھی ہے کہ مدارس دینیہ سے فارغ التحصیل طلباء ایسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی اور فراغت کے بعد ان کے لیے بھت سے وہ دروازے کھلے ہوتے ہیں جھاں پھنچ کر وہ اپنی صلاحیتوں کے استعمال سے خود کو ایک باعزت منزل تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ جتنی تعلیم کا انتظام مدارس،اسکولز، اور کالجوں میں ہے وہ صرف ایک بنیاد ہے آگے کی منزلوں کے دروازے کھولنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے۔ اصل تعلیم کے ذریعے کچھ کر گذرنے کی صلاحیت تو اس کے بعد پیدا ہوتی ہے ۔  آپ کی تعلیم کا بظاہر جو آخری سال ہے وہ در حقیقت آپ کی زندگی میں کچھ کر گذرنے کے جذبے کی بیداری کی پہلی منزل ہے ۔ لیکن ہم اسی فراغت یا حصول اسناد و سرٹیفکیٹس کو منزل مقصود سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور وہیں سے ہماری زندگی جامد ہوکر رہ جاتی ہے نتیجتاً نوکری کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔

تعلیم کے ذریعے جو خود اعتمادی مقصود ہے وہ حصول سند سے بالکل عبارت نہیں بلکہ یہ ہے کہ جس علم وفن کے آپ طالب رہے ہیں اس پر عبور حاصل ہونا چاہیے اس کے بنیادی اصولوں کی معرفت کے ساتھ ساتھ ان کی فروعات کا بھی معیاری علم ازبر ہونا چاہیے۔

اس بات کا پوری دنیا کے دانشوروں کو بخوبی اعتراف ہے کہ ہر شخص؛ ہر علم میں یکساں مہارت حاصل نہیں کر سکتا ۔ اس لیے کہ مزاج مختلف ہوتے ہیں سوچنے کے نظریات جداگانہ ہوا کرتے ہیں اور ہمارے ہندوستان کا جو بھی تعلیمی نظام ہے "چاہے وہ مدارسِ دینیہ کا ہو یا عصری علوم کی درس گاہوں کا؛ وہ عالمیت اور فضیلت یا بیچلر ڈگری تک سارے علوم وفنون کے بنیادی اصولوں کا مجموعہ ہے ۔ زمانہ طالب علمی میں یقینی طور پر سارے علوم و فنون میں ہماری دلچسپی یکساں نہیں ہوسکتی ۔ ایسے ہی موقع پر رہبری اور گائڈینس کی شدید ضرورت پڑتی ہے کہ آیا جس علم یا فن سے ہمیں دلچسپی ہے اس کے لیے آگے کے مراحل کیا کیا ہیں اور ان تک رسائی کا بھترین اور آسان طریقہ کار کیا ہے۔

ہر ذی شعور اس بات کا معترف ہے کہ جس چیز میں ذاتی شوق اور دلچسپی شامل حال ہوتی ہے وہ اپنی تمام تر صعوبتوں کے باوجود بالکل سہل اور آسان ہوجاتا ہے جبکہ عدم رغبت کی وجہ سے آسان سے آسان راہ بہت ہی مشکل اور نشیب و فراز کی ایک وحشت ناک وادی معلوم ہوتی ہے۔

ہمارے طلباء کی ایک بڑی تعداد آگے کی دنیا سے بالکل بے خبر ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے اساتذہ ان کی صلاحیت کی یا تو پرکھ نہیں کر پاتے یا انھیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ یہاں سے آگے کی دنیا بھت زیادہ  خوبصورت اور  پوری قوم وملت کی سرخروئی کی حتمی ضمانت ہیں اس لیے کہ وہ خود اسی نھج پر چل کر آئے ہوتے ہیں۔ شہری علاقوں میں کسی حد تک ایک دوسرے کو دیکھ کر یا سن کر طلباء کو آگے پڑھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اس چیز کا فقدان ہے۔ اسی لیے ایسے علاقوں کے اکثر طلباء اہلیت ہونے کے باوجود گائیڈینس نہ ملنے کی وجہ سے مدرسے اور کالج سے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں اور روزگار کی تلاش میں لگ جاتے ہیں ۔ نتیجتاً ان کی زندگی جو قوم وملت کی ترقی میں ایک معیاری حیثیت بن سکتی تھی ایک گھر اور چند افراد خانہ کی پرورش کے انتظام میں منتشر نظر آتی ہے۔

در اصل ہماری نوجوان نسلیں ہی ہمارے مستقبل کی تابناکی یا تباہی کی بنیاد ہوتی ہیں اگر ان کی صحیح رہبری نہ کی گئی تو ہماری حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جائے گی ۔ اس لیے اس موضوع پر غور وخوض کرکے ایک صحیح نظام کی شدید ضرورت ہے۔

عمومی طور پر یہ کسی بھی ملک کی وزارت تعلیم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام درسگاہوں اور تعلیمی اداروں کی اچھی طرح نگرانی کرتی رہے اور ابتدائی تعلیم سے لے کر آخر تک ہر ہر طالب علم کے لیے اسی کی صلاحیت کے اعتبار سے گائڈینس کا انتظام کرے تاکہ انہیں اپنی منزل مقصود کے انتخاب میں آسانی ہو اور خاطر خواہ ترقی حاصل کر سکیں۔

مگر ہمارے ملک کی صورت حال دیگر ہے یہاں عمومی طور پر گائڈینس تو دور کی بات ہے بنیادی تعلیم،صحیح درسگاہوں اور قابل علماء واساتذہ کا ہی فقدان ہے۔

اس لیے ہماری قوم کے لیے ہمیں خود آگے بڑھ کر کچھ پختہ لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔

ایک مکمل،مرتب اور مضبوط سسٹم بنانے کی اشد ضرورت ہے جس کے تحت ہر علم و فن کے  قابل وکامیاب رہبران کی خدمات حاصل کی جائیں اور دیہی اور شہری سارے علاقوں کے مدارس دینیہ اور عصری علوم وفنون کی درسگاہوں کی مستقل نگرانی کی جائے،ان اہلیت وقابلیت اور رغبت ودلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی قدم بر قدم رہنمائی کی جائے۔ پھر دیکھئے اگر ہماری قوم کی تعلیمی پسماندگی اور اس پر مرتب ہونے والے مھلک نتائج، عروج وارتقاء میں کل نہ بدل جائیں تو کہنا۔

اٹھارہ کروڑ نوے لاکھ آبادی والی قوم اگر اس بد نظمی کے ساتھ زندگی گزارتے رہ گئی،اس کی تعلیمی اور تدریسی ہدایتوں کا نظم نہیں کیا گیا تو ہمارا نام یقیناً تاریخ میں درج ہوگا لیکن تباہی و بربادی کی ایک لمبی داستان بن کر ،جس کا خمیازہ نہ جانے آنے والی کتنی نسلیں بھگتیں گی ۔

مزید دکھائیں

مفتی عبداللہ غزالی

مینیجنگ ڈائریکٹر گلوبلینگ سروسیس موبائل نمبر : 9029056667 Email : a.ghazalikhan@gmail.com

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close