حضرت مخدومؒ  کے شیدائی خانوادۂ بلخی

ریاض فردوسی

تصوف یہ ہے کہ اللہ کیسا تھ ہوتے ہوئے تجھے کسی اور چیز کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔ (حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ)
تزکیہ نفس، شب بیداری، آہ بکا اور احسان کی راہ سے دینی بصیرت، معرفت اور طریقت کے حصول کی خاطر فن تصوف کا ایجاد ہوا۔ اس کے سالکین نے دعویٰ کیا کہ:

’’تصوف ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیاجا سکتا، لیکن جن حضرات کو اس کے صحیح حاملین اور اس راہ کے معتبر اور صحیح رہنماؤں کی صحبت وزیارت کی توفیق نہیں ہوسکی ان کیسامنے تصوف کی اصطلاح ایک معمہ اور چیستان بن کر رہ گئی۔‘‘

تصوف وسلوک ایک ایساہی نظام ہے۔

’’یہ وہ شعبہ ہے جس کا تعلق قال سے کم اور حال سے زیادہ ہے۔ ‘‘

یہ شنیدن سے زیادہ چشیدن ہے۔ اس گروہ کی افادیت اور اس کی خدمات سے انکار یا تو وہ شخص کرے گا جس کی تاریخ اسلام پہ نظر نہیں یا جس کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ (تعمیر ملت، مفکر اسلام نمبرص،۲۸؍۲۸؍۳۰مجریہ ۱۰؍جولائی تا ۲۵؍اگست ۲۰۰۰ء)

انہیں دیوانوں، پر وانوں اور راہ حق کے مستانوں کے لیے علامہ اقبال جیسے دور اندیش نے انہیں کی زبان کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا:

جلاسکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی 
الٰہی! کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں
نہ پوچھ ان فرقہ پوشوں کی، ارادت ہوتو دیکھ ان کو
ید بیضالئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

صوبہ بہار کی یہ خوش نصیبی کی اسی سرزمین پر شہاب الدین سہروردی پیر جگ جوت رحمۃ اللہ علیہ، امام تاج محمد فقیہ رحمۃ ا للہ اور ان کے قابل قدر فرزند مخدوم اسرائیل رحمۃ اللہ علیہ، مخدوم کمال الدین یحیٰ منیری رحمۃا للہ علیہ، جیسے طاہر روحوں کے قدم مبار ک یہاں پڑے۔، لیکن جس طرح آسمان دینا پر نجم تو کئی موجود ہوتے ہیں۔ لیکن شمس ایک ہی ہوتا ہے، جس کی تابناکی عالم کو منور ومجلیٰ کر دیتی ہے، اس سے بھی بڑھ کر صوبہ بہار کے ضلع پٹنہ کے قرب میں ایک گاؤں (جس کو قدرت نے ازل تک مشہور ومعروف کردیا ہے )منیر کے نام سے آج بھی موجود ہے وہاں ۱۰جولائی ۱۲۶۳ ؁ء /۲۹؍ شعبان المعظم ۶۶۱ھ ؁ میں مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ہوئی۔ (واللہ اعلم)

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اللہ نے حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کو علم وعمل کی دولت سے خوب نوازہ۔ قرآن وحدیث، فقہ وتصوف کی دولت سے مالامال فرمایا، تصوف کے تمام رموز ونکات آپ رحمۃ اللہ کے سامنے عیاں کردیئے۔ وقت حاضر کے بڑے عالم دین علی میاں صاحب ندوی رحمۃ اللہ نے ان کو ملک ہندوستان کا ’’رازی‘‘ و’’غزالی‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔

یوں تو ہر بزرگ نے محنت ومشقت اور نفس کشی سے فروغ اسلام کے لئے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا تن من اور دھن قربان کر دیا، لیکن جو علمی مقام ومرتبہ مخدوم شرف الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے۔ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ بعض بزرگوں کی ایک یا دو یا چار تصانیف بعض کی ۱۰؍ یا اس سے زائد، لیکن وہ بھی اتنی سخت کہ عوام الناس اس سے کم ہی استفادہ حاصل کرسکتے اور خواص بھی اس کے مفاہیم اور موضوعات سے کلی طور پر واقف نہ ہوسکتے، لیکن مخدوم شرف الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف عوام کے لئے بھی اور خواص کے لیے بھی ہے۔ خواص آپ کے مکتوب کا چلہ کھینچتے، ملک داؤد جو فروز شاہ تغلق کا داماد تھا جب مخدوم اشر ف جہانگیر صمدانی رحمۃ الہ علیہ سے ملاقات کے لئے آیا تو خادم سے آپ رحمۃ اللہ نے کہلوا بھیجا کہ مخدوم شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوب کے چلہ میں مشغول ہے۔ حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ’’سو سال کے کفر کو میرے دست پر رکھ دیا (یعنی میری نظروں کے سامنے رکھ دیا)حضرت مخدوم نے‘‘ نہ کبھی کرامت کو ترجیح دی نہ کبھی اس کی نمائش کو پسند فرمایا ’’ایک شخص نے کہا میں جنگل سے آرہا تھا تب میں نے ایک شیر کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا، میں نے اس سے کہا حضرت مخدوم کی دہائی ہے تو وہ جنگل میں لوٹ گیا، آپ رحمۃ اللہ نے ارشاد فرمایا، ضرور تمہارے ہاتھ میں لاٹھی ہوگی۔‘‘

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اولیاء اللہ کے لیے کرامت حیض کی طرح ہے، عورتیں جس طرح حیض چھپاتی ہیں اولیاء اللہ اسی طرح اپنی کرامتوں کو چھپاتے ہیں۔

آپ رحمۃ اللہ نے اپنی تبلیغ اور اشاعت دین کے لئے اللہ کے حکم سے پٹنہ سے متصل بہار شریف کو پسند فرمایا، جنوری ۱۳۸۱ ؁ھ۶؍شوال کو ۷۸۲ ؁ھ کو آپ رحمۃ اللہ نے اس دار فانی کو خیرآبادکہا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد تبلیغ واشاعت کی ذمے داری مرید خاص ’’تن مظفر جان شرف الدین جان مظفر تن شرف الدین‘‘ کے لقب سے سرفراز سید نا مظفر شمس بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے بخوبی انجام دی۔ خاندان بلخی کے تمام بزرگوں نے مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحت پر مکمل طور پر عمل کر کے دکھایا، مولانا مظفر بلخی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مخدوم جہاں کے وصال کے بعد چند ہی دن دنیا فانی میں رہے، آپ کا انتقال عدن میں ہوگیا۔ وہیں آپ دفن ہوئے۔ آپ نے تبلیغ کی ذمے داری اور سلسلۂ فردوسیہ کی سرپرستی اپنے لائق بھتیجے مخدوم سمندر نوشہ توحید بلخی رحمۃ اللہ کو دی۔ حضرت مخدوم سمندر نوشہ توحید بلخی رحمۃ اللہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ کے بھی مدیر خاص ہیں۔ اور حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دنیاوی حیات میں ہی ان کو اجازت وخلافت دے دی تھی۔ بقول آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ’’میں نے آگ جلائی، مظفر نے کھانا پکایا، توحید نے کھانا کھایا۔‘‘

ایک بار سمندر نوشہ توحید بلخی رحمۃ اللہ حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے درس والے مقام پر آرام سے بیٹھ گئے، یہ نظارہ جب دیوانے مخدوم مولانا مظفر شمس رحمۃ اللہ نے دیکھا تو کافی ناراض ہوئے، لیکن حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے فرمایا ’’مظفر! تو حید اپنا مقام جانتا ہے۔‘‘آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے تبلیغی مشن کو خوب فروغ دیا، تحریر وتقریر، پندونصیحت عملاً وفعلاً غرض آپ رحمۃ اللہ علیہ پوری زندگی بلا تفریق مذہب وملت عوام وخواص کی اصلاح میں گزری۔ حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ نے جو سبق اپنے مریدوں کو پڑھایا تھا۔ اس کو اپنی حیات دنیاوی کا مقصد بلخی بزرگوں نے اپنا لیا۔ مخدوم احمد دریا لنگر بلخی رحمۃ اللہ علیہ، مخدوم حسن جشن دائم بلخی رحمۃ اللہ علیہ، مخدوم ابراھیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ، مخدوم جیون بلخی رحمۃ اللہ علیہ، غرض کہ بلخی بزرگوں نے اپنی دنیاوی خوشیوں کو مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغ پر قربان کر دیا تھا، نہایت ہی خاموش کے ساتھ، صبر واستقلال کی منزل کو طئے کرتے ہوئے، تصنع سے کوسوں دور، دنیاوی تعریف سے بے پرواہ، صرف اور صرف تبلیغ اسلام، لوگوں کی اصلاح، لوگوں کو غم واندوہ سے نجات کا راستہ بنانا، گمراہوں کو راستے کی طرف بحسن و خوبی لانا، اخلاق و بردباری، لوگوں کی طعنہ زنی سے بے خوف ہوکر بلخی بزرگوں نے اپنے مال واملاک کے ساتھ خونِ جگر کی بھی قربانی بے دریغ پیش کی، ان بزرگوں کی اپنی کوئی خواہشات نہیں تھی، جو کچھ حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت، حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے محنت ومشقت سے بوئے گئے پودھے کو (جو تبلیغ اسلام کے لئے )اس کو پھل دار پیڑ بنانے میں بلخی خاندان نے اہم کردار اداکیا۔ لیکن چند دنیا پرست لوگوں کو یہ ماحول، یہ فضا کہاں پسند آتی، کیوں کہ بلخی بزرگ بناکسی لالج وطمع کے حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ قائم کئے گئے درس گاہ کو شریعت اسلامی کے اصولوں پر مبنی، جس درسگاہ میں قال اللہ قال رسول ﷺ کی صدا ہی گونجتی تھی۔اس کو بنا کسی دنیا وی فائدے کے بحسن خوبی انجام دے رہے تھے۔بلخی بذرگ خانقاہ کو دنیاوی بازار بنانے کے لیے منع فرماتے، ان کی وعظ و نصیحت سے دنیا پرست لوگ جنہوں نے چند دن کی دنیاوی زندگی کی خاطر اپنی آخرت کی ہمیشہ ہمیش باقی رہنے والی زندگی کابہت ہی سستا سودا کر لیا تھا،یہ ان کو ناگوار گزرا، ان دنیا پر ست لوگوں نے کہیں سے تلاش کر کے مخدوم بیگھ رحمۃ اللہ علیہ کو مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں لاکر حاضر کیا، اور یہ افواہ پھیلائی کہ آپ رحمۃ اللہ مخدوم زادے (اور یہ حق ہے)ہیں اور آپ رحمۃ اللہ اب اس خانقاہ کی پوری ذمہ داری سنبھالے گےء۔ جو مخدوم زادے نہیں ہیں۔ وہ اس خانقاہ سے الگ ہوجائیں۔ مخدوم حافظ بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے جب مخدوم زادے کو دیکھا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کی عزت وعظمت کا خیال کرتے ہوئے خود کو خاموشی کے ساتھ کنارے کرلیا، اور وہیں بناکسی شور کے کنارے پڑے رہے۔

کیونکہ جد امجد رحمۃ اللہ علیہ نے در مخدوم کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا تھا۔ کیسے وہ در چھوٹتا۔ ، لیکن دنیا پرستوں کو آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وہاں موجودگی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔ اسلئے کہ مخدوم حافظ بلخی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم کے خلاف لوگوں سے پیسے وصولنا، ان کو صاحب مزار کی طرف کلی طور پر پھیرنا، گویا وہاں اللہ کی مخلوق کو اللہ سے تعلق جوڑنے کے لئے نہیں بلکہ ان دنیا پرست لوگوں کے ذریعے اللہ کی طرف ان کی رسائی ہو، جو حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے تعلیم کے برعکس ہے، (یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضرت مخدوم رحمتہ اللہ تا عمر توحید پرستی کی دعوت دیتے رہے۔لیکن آپ کے وصال کے بعد؟) مخدوم حافظ بلخی مسلسل ان کو پیارومحبت سے سمجھاتے، انہوں نے مخدوم حافظ بلخی رحمۃ اللہ علیہ کو طرح طرح سے پریشان کرنا شروع کردیا، جب آپ رحمۃ اللہ علیہ غسل کرنے جاتے آپ کے تہبند میں گندگی ڈال دیتے، آپ کی عبادت میں مسلسل شور کر کے خلل پیدا کی جاتی، آپ کو مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے دربار کی حاضری سے روکا جاتا۔ آپ کو تنز ومزاق کا نشانہ بنایا جاتا، آپ کے خلاف اس قدر غلط افواہیں پھیلائی گئی کہ خانقاہ کا ماحول مکدرہوگیا، معلوم رہے کہ مخدوم بیکھ رحمۃ اللہ علیہ( بچارے) ان لوگوں کے اس ناپاک منصوبے سے بے خبر تھے۔ (آپ رحمۃ اللہ علیہ محترمہ بی بی بارکہ کے بطن سے پیداحضرت سیدنا مخدوم ذکی رحمتہ اللہ کی نسل میں سے ہیں نہایت ہی سیدھے۔ سادھے،نرم دل اور صاف گو تھے)

مخدوم حافظ بلخی رحمۃ اللہ نے جب دیکھا کہ بارگاہ مخدوم رحمتہ اللہ کی فضا ان لوگوں نے بگاڑ دی ہے تو اپنے کنبے کے ساتھ غم والم کے سمندر کو (اپنے دل میں )لے کر وہاں سے رخصت ہوئے۔ (تعجب ہو کہ جگہ کی منتقلی سے خلافت پر اثر ہوتا ہے۔خلافت نہ ہو کوئی عہدہ ہو جو چھین لیا گیا ہو) لیکن خاندان بلخی نے حضرت مخدوم رحمتہ اللہ کی تبلیغ کو جہاں جہاں بلخی بزرگوں کے قدم مبارک پڑے انہوں نے حضرت مخدوم رحمتہ اللہ کی اصلاح امت کی( کوشش میں گامزن رہنا ) روایت کو قائم رکھا، دانا پور ہو، پھلواری ہو، بیور ہو، غرض کہ یہ روحانی قافلہ (دیوانے مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ) فتوحہ پٹنہ میں مقیم ہوا۔ لیکن جدائی کسی کے عشق کی سوز کی تپش کم نہیں کرسکتی۔ اس کے برعکس جدائی سے عاشق صادق پر خمار عشق بڑھ چڑھ کر آتا ہے۔ بلخی بزرگوں نے اپنے اس فریضے کو فتوحہ پٹنہ میں رہ کر بھی خلوص ومحبت کے ساتھ بحسن وخوبی انجام دیا۔ یہ جانثاران مخدوم رحمتہ اللہ حضرت مخدوم رحمتہ اللہ کے بوئے ہوئے پودھے کی آبیاری کر رہے تھے۔، حضرت مخدوم رحمتہ اللہ کی خانقاہ کو شاہ علیم الدین بلخی فردوسی، شاہ تقی بلخی فردوسی، شاہ درگاہی بلخی فردوسی، شاہ سیف الدین بلخی فردوسی، شاہ تقی حسن بلخی فردوسی، اور دیگر خانوادئے بلخی رحمتہ اللہ علیھم اجمیعن نے سلسلہ فردوسیہ کی اشاعت میں اپنے کو ہمیشہ صف اول میں کھڑا کیا۔ ملک ہندوستا ن میں ’’فقہ ہندی ‘‘کے نام سے موسوم شاہ محمد تقی بلخی رحمۃ اللہ کی فقہ پر’ زبان اردو ‘ میں پہلی تصنیف ہے۔ اس سے قبل صرف فقہ عالمگیری (مشہور نام فتاویٰ عالمگیری) کے نام سے ہی فقہ پر کوئی کتاب ہے۔ (معلوم رہے کہ فقہ عالمگیری فارسی زبان میں ہے) اس پر خطراور پرآشوب دورمیں جہاں بزرگان سلاسل(الا ماشاء اللہ) اپنے متاع غرور کا سودا دنیاوی حاکم سے بے دریغ چند سکوں کی خاطر کر رہے ہیں۔ (الا ماشاء اللہ) وہیں بلخی خانوادے سے ایک بزرگ سید شاہ علیم الدین بلخی ندوی علام گنج پٹنہ اپنی خاندانی فرائض کو انجام دیتے ہوئے تبلیغ دین کی خاطر طرح طرح کی مصیبتوں کو برداشت کرتے ہوئے، حق کی منزل پر سکون واطمینان کے ساتھ قائم ہیں، جہاں لوگ اپنے مریدوں سے خوب تحفے لیتے ہیں، شاہ علیم الدین بلخی صاحب اس کے بر عکس مریدوں کو گاہے بگاہے ہر طرح کی مدد کرتے رہتے ہیں، نہایت ضعیفی کے عالم میں بھی انہوں نے لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمائی ہے، شہرعظیم آباد کو یہ شرف حاصل ہے کہ دیوانے مخدوم ر حمتہ اللہ میں سے ایک شخص مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے تبلیغ اسلام کے مشن کو خوب فروغ دے رہا ہے۔ بلخی خاندان صحیح معنوں میں دیوانے مخدوم رحمتہ اللہ کہلانے کے حق دار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جگہ سے ہجرت کر دینے سے خلافت ختم ہوجاتی ہے؟ کیا خلافت کوئی پوسٹ ہے جس کی بحالی ہو اور کہاں سے ہو، اور کون کرے گا؟ کیا حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے اشاعت دین وتبلیغ اسلام منصوبے سے الگ ہو کر بھی کو ئی کام کیا جاسکتا ہے؟ (خاندان بلخیہ کوسلسلہ منعمیہ، متن گھات پٹنہ کی بھی خلافت حاصل ہے، )

حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ حیات دنیاوی میں خود نمائی سے بچتے رہے اورمریدوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہے۔کیا ہم حضرت مخدوم کے بتائے ہوئے راستے کے خلاف کام نہیں کر رہے ہے؟ صاحب سیرۃ الشرف لکھتے ہیں:

’’ مخدوم کے مریدوں کی فہرست نہایت طویل ہے۔ مخدوم نوشہ توحید بلخی رحمتہ اللہ ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں۔ ‘‘

حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کے ممیز مستفیدوں میں یہ تھے، مولانا مظفر بلخی رحمۃ اللہ علیہ ملک زادہ فضل اللہ رحمۃ اللہ علیہ، مولانا نصیر الدین خونیوری، مولانا نظام الدین، شیخ عمر، قطب الدین، فخر الدین، شیخ سلمان، فوجگی،خواجہ احمد، امام تاج الدین، حسین معز بلخی الملقب بہ نوشہ توحید، مولاا قمر الدین، ابو القاسم، مولانا ابو الحسن قاضی شرف الدین، قاضی منہاج الدین، موانا تقی الدین اودھی، مولانا شہاب الدین نا گوری شیخ خلیل الدین مولانا رفیع الدین، مولانا آدم حافظ، زین بدر عربی، قاضی صدر الدین، شمس الدین خوارزمی، شیخ مفر الدین، مولانا کریم الدین، خواجہ حافظ جلال الدین، خواجہ حمید الدین سوداگر شیخ مبارک بازکر یا غریب، قاضی خاں، نجم الدین شاعر، قاضی بدر الدین، ظفر الدین، موالانا لطف الدین، احمد سفید باف، شیخ ذکی الدین، مولانا نظام الدین خال زادہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ، مولانا احمد آموں، مولانا زین الدین، شیخ شعیب، سید شہاب الدین، عماد حالفی، حاجی رکن الدین، مولانا اوحدالدین خواہر زادہ شیخ نجیب الدین فردوسی، سید جلال الدین خواہر زادہ شیخ نجیب الدین فردوسی، شیخ رستم وشیخ وجہ الدین، وشیخ وحید الدین، ہر سیہ یاران شیخ نظام الدین اولیاء) مولانا حسام الدین امام ہیئت خانی وغیرہ ہم۔ رحمتہ اللہ تعالی علیھم اجمعین۔۔(سیرۃ الشرف صفحہ ۱۱۵،۱۱۶)

تبصرے بند ہیں۔