شب معراج: چند دقائق و اسرار

حکیم محمد شیراز

قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشادِ خداوندی ہے کہ  وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

آیت میں سبحان سے  واقعہ اسرا ء کا آغاز کیا گیا ہے۔ سبحان کے معنیٰ ہیں کہ وہ ذات جو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ تاہم یہاں ایک چیز قابل غور نیز لائق تفریق ہے۔ وہ یہ کے معراج اور اسرا میں کیا فرق ہے؟سراء ایک نورانی سفر ہے جو آپ کو مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک کرایا گیا۔ اس کا ذکر سورہ بنی اسرائیل میں ہے اورمعراج اس نورانی  سفر کا نام ہے جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی اس کا ذکر سورہ النجم میں ہے۔ تاہم آج عرف عام میں اس پورے سفر کو معراج ہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

عبد اللہ ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں دی گئیں۔ ۱)پنجوقتہ نماز، ۲) سورۃ بقرہ کی آخری آیات، ۳)امت میں سے جس نے شرک نہ کیا ہو اس کی بخشش اور مغفرت۔ مسجد اقصیٰ میں حضور ﷺ نے تمام انبیا اور رسل کی امامت فرمائی نیز آپ کو بہت سی نشانیاں دکھائی گئیں۔ تمام انبیا اللہ کے کامل بندے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ اللہ کے کامل ترین اور محبوب ترین بندے ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں رسول کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ یوں کیوں نہیں کہا گیا کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے رسول کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی جانب لے گیا اس کا جواب یہ ہے کہ رسول وہ ہے جو اللہ کی طرف سے بندوں کی طرف بھیجا جائے اور عبد وہ ہے جو بندوں کے پاس سے اللہ کی جانب جائے یا اللہ کی طرف رجوع کرے۔ یہ اللہ کے پاس سے آنے کا نہیں بلکہ اللہ کی طرف جانے کا موقع تھا۔ اس لیے یہاں رسول کی بجائے عبد کا ذکر مناسب تھا۔

معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ یہ وہ عظیم خارقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداء کی۔ اِنسان نے آگے چل کر تحقیق و جستجو کے بند کواڑوں پر دستک دی اور خلاء میں پیچیدہ راستوں کی تلاش کا فریضہ سر انجام دیا۔ رات کے مختصر سے وقفے میں جب اللہ ربّ العزّت حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجدِ حرام سے نہ صرف مسجد اقصیٰ تک بلکہ جملہ سماوِی کائنات کی بے اَنت وُسعتوں کے اُس پار ’’قَابَ قَوْسَینِ‘‘ اور ’’أَوْ أَدْنَ0‘‘ کے مقاماتِ بلند تک لے گیا اور آپ مدّتوں وہاں قیام کے بعد اُسی قلیل مدّتی زمینی ساعت میں اِس زمین پر دوبارہ جلوہ اَفروز بھی ہو گئے۔

رجب کی ستائیسویں شب کو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا۔ اگرچہ اس واقعہ کے زمان کے بارے میں کئی روایات موجود ہیں لیکن محققین کی تحقیق کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تین سال قبل پیش آیا، یعنی دسویں سالِ بعثت کو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ علما کا اتفاق ہے کہ نماز، جناب ابو طالب کی وفات کے بعد یعنی بعثت کے دسویں سال کو واجب ہوگئی تو پانچ وقت کی نماز اسی معراج کی رات سے امت پہ واجب ہو گئی تھی۔

منقول ہے کہ اس دن کفار نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں آرام فرمانے لگے۔ ادھر اللہ کے حکم سے حضرت جبریل پچاس ہزار فرشتوں کی برات اور براق لے کر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

اے اللہ کے رسول، آپ کا رب آپ سے ملاقات چاہتا ہے۔

معراج جسمانی اور روحانی ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے مگر احادیثِ صحیحہ اور تفاسیر ِ معتبرہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ معراج جسمانی تھی اور خدا کے رسول نے فرش سے عرش تک بلکہ قاب قوسین او ادنیٰ تک کی منزل اپنے اسی جسم کے ساتھ طے کی تھیں مادہ اور مجرد میں ارتباط کیسے ہوا یہ ایک فلسفی بحث ہے جس کو فلسفہ میں حل ہونا چاہیے۔

کفار کا رد عمل اور ابو بکرؓ کا جواب:

معراج کا واقعہ جس رات پیش آیا اس رات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے گھر مقیم تھے۔ آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو سب نے اسے ہلکا لیا اور مشرکین نے تردید کی پر جب لوگوں نے حضرت ابوبکر ؓکو اس واقعے کے متعلق آگاہ کیا گیاتو ابوبکر ؓنے فورا ًتصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بات رسول اللہ ﷺنے بتائی ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں بالکل۔ ابوبکر ؓنے کہا رسول اللہﷺ نے بتائی ہے پھر تو سچ ہے۔ حضرت ابوبکر کی اس بات نے رسول اللہﷺ کو بہت متاثر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا۔

مکہ کا ایک شخص جو شام اور فلسطین زیادہ سفر کیا کرتا تھا آیا اور بولا اگر آپ واقعی راتوں رات مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں میں گئے ہیں تو مجھے مسجد اقصیٰ کا پتہ ہے میں آپ سے سوالات پوچھتا ہوں آپ جواب دیں۔ پھر اس شخص نے رسول اللہ سے مسجد اقصیٰ اور اس کے خد و خال کے متعلق بے شمار سوالات کیے اور رسول اللہ نے سب کے ٹھیک ٹھیک جوابات دئے۔ اس شخص نے رسول اللہ کے تمام جوابات کو درست قرار دیا۔

رجب اور غیر شرعی رسومات:

27؍ رجب کا شب معراج ہونا ہی محدثین اور مورخین کے درمیان مختلف فیہ ہے، نیز اس رات میں خصوصیت کے ساتھ عبادت کرنے کی صراحت کتب حدیث میں نہیں ملتی اور جو بھی رویت خاص اس شب میں عبادت کرنے کی ملتی ہے وہ لائق استدلال نہیں، البتہ اگر کوئی عام راتوں کی طرح اس شب میں بھی عبادت کرے تو مضائقہ نہیں، اسی طرح اس رات کے اگلے دن روزہ رکھنے کے سلسلے میں بھی کوئی صحیح روایت نہیں ملتی اور عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ اس دن کا روزہ  ہزار روزوں کے برابر، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔

خلاصہ:

اس رات میں اُن بے شمار بدعات( جو کہ آج کل رائج ہیں ) میں مشغول ہونے کی بجائے توبہ و استغفار میں مصروف ہونا چاہیے نیز نوافل کی بجائے قضائے عمری کی نمازیں پڑھنے میں وقت گذارنا چاہیئے۔ تاکہ کم از کم فرض نمازیں جو ہمارے ذمہ ہیں وہ ادا ہو جائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

تبصرے بند ہیں۔