ٹکرانے کی نہیں، بلکہ مفاہمت کا راستا اپنانے کی ضرورت ہے

کلیم الحفیظ

ٹکراناکسی بھی حال میں مفید نہیں ہوتا۔چاہے آپ کسی دیوار سے ٹکرائیں یا پہاڑ سے یا پھر کسی انسان سے۔ پہلی دو صورتوں میں تو آپ کا ہی سر پھوٹے گا۔ البتہ آخری صورت میں سامنے والے کا سر بھی پھوٹ سکتا ہے۔ لیکن آپ کو بھی کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہوگی۔ اس لیے اہل دانش کے نزدیک ٹکرانے کی ہر صورت اور جھگڑے کو ٹال دینا ہی عقل مندی ہے۔مگرجھگڑاخود ہی سر پرآن پڑے تو پھر ٹکردینے میں ہی فائدہ ہے۔ملک کے حالات کچھ اس رخ پر جارہے ہیں کہ ایک فریق چاہتا ہے کہ دوسرا فریق اس سے ٹکرائے اور لڑے۔اسی لیے وہ ہر دن نیا شگوفہ چھوڑدیتا ہے۔کبھی مسجد کی اذانیں، کبھی حجاب،کبھی حلال گوشت،کبھی طلاق اور حلالہ اور نہ جانے کتنے ایسے ایشوز جن کا تعلق نہ ملک کی ترقی سے ہے نہ ان کے اپنے دین دھرم سے۔ لیکن وہ ان ایشوز کو اٹھاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ آٹھ سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔کورونا جیسی مہاماری میں بھی یہ ننگا ناچ جاری رہا۔اب تازہ معاملہ مدھیہ پردیش اور گجرات کا ہے۔ جہاں رام نومی کے جلوس میں توہین آمیز اور اشتعال انگیز نعرے بازی کے ذریعے دوسرے فریق کو اکسایا گیاجس میں شاید کچھ کامیابی مل گئی اور جواباً دوسری طرف سے سنگ باری کردی گئی۔ اشتعال انگیز نعرے بازی کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔صرف چہرے اور زبان بدلتی ہیں مگر نعروں کی روح وہی رہتی ہے۔

مسلمان آزادی کے بعد سے ہی ستائے جاتے رہے ہیں۔ فسادات بھی ہمیشہ ہی ہوتے رہے ہیں۔ جن میں بیشتر نقصان بھی مسلمانوں کا ہی ہوااور آج تک ہورہا ہے۔مگر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مسلمانوں نے مجبوراً ہی اس لڑائی میں حصہ لیا۔ کسی بھی موقع پر اور کسی بھی مقام پر کسی مسلمان نے لڑائی کی ابتدا ء کبھی نہیں کی۔اس لیے کہ مسلمان جانتے ہیں کہ لڑائی میں زیادہ نقصان اپنا ہی ہونا ہے۔ اس لیے کہ تعداد کا بھی بڑا فرق ہے اور حکومت کی غیرجانبداری بھی مشکوک ہے۔میرا خیال ہے کہ مسلمانوں نے لڑائی جھگڑے سے گریز کرکے اچھا ہی کیا۔آئندہ بھی انھیں یہی رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ جہاں تک ممکن ہو برداشت کرنا چاہئے۔جس حد تک بھی ہو جھگڑے کو ٹالنا چاہئے۔اسی میں ان کی جیت ہے۔

مجھے سب سے زیادہ تعجب اپنی ان تنظیموں اور جماعتوں پر ہوتاہے جو مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے مقصد سے وجود میں آئیں تھیں۔ کہ وہ گزشتہ آٹھ سال میں کہاں کھوگئیں ہیں ؟مشاعرے اور ادبی سیمنار کرنے والی تنظیموں کی خبریں تو متواتر اخبارات کی زینت بنتی رہیں مگر ملی، سماجی ا ور مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں سے اس دوران ناواقفیت ہی رہی۔مسلمانوں کو جو مسائل درپیش ہیں اور بھارتی مسلمان جن تکلیف دہ حالات سے گزر رہے ہیں ان کے حل کے لیے وہ کیا کررہی ہیں ؟ان حالات سے مقابلہ کرنے کا ان کے پاس کیا طریقہ کار ہے؟عام مسلمانوں کے لیے وہ کیا ہدایات جاری کررہی ہیں ؟اس کا علم عوام کو ہونا چاہئے۔گزشتہ سال 8اگست کو دہلی میں ملی تنظیموں کا دوروزہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس میں حسب سابق بڑی بڑی باتیں ہوئی تھیں۔ اس کو بھی نو ماہ ہوچکے ہیں۔ لیکن کوئی خوش خبری سامنے نہیں آئی۔البتہ ملی جماعتوں کی رفاہی اور فلاحی سرگرمیوں کی خبریں اخبارات کے ذریعے پہنچتی رہتی ہیں۔ کہیں راشن دیا جارہا ہے،کہیں موسم سرما میں لحاف تقسیم ہورہے ہیں، کہیں ختم قرآن کی محفل ہے،کہیں پیرو مرشد کا عرس لگا یا جا رہا ہے۔کہیں تربیتی اجلاس ہورہے ہیں ؟کوئی تنظیم تنظیمی جائزہ اجلاس منعقد کررہی ہے۔کسی اشاعتی تنظیم نے کچھ نئی کتابیں شائع کی ہیں۔ مدارس میں ختم بخاری کی محفل سجائی جارہی ہے۔یہ سارے کام الحمد للہ جاری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں شرپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو ذہنی، جسمانی، جانی اور مالی جو نقصانات پہنچائے جا رہے ہیں ان پر کون بات کرے گا؟

میری رائے ہے کہ حکومت سے ڈائلاگ کی ذمہ داری ہماری ملی تنظمیوں اور جماعتوں کی ہی ہے۔حکومت کسی کی بھی ہو۔بھارتی آئین کے مطابق وہ سب کی حکومت ہے۔اس سے مکمل طور پر کنارہ کشی کرنا مزید نقصان کا پیش خیمہ ہے۔کسی شرپسند سے بات چیت کا دروازہ بند کرکے مسائل کو نہیں روکا جاسکتا۔ اس لیے کہ ڈیجٹل انڈیا میں مسائل کو آنے کے لیے دروازوں کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اس سے گفتگو کرکے ہی کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔مسلمانوں کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے مخالفین سے بات چیت ہی نہ کریں۔ بلکہ مخالفین سے ڈائلاگ کرنے کی تعلیم دی گئی۔ صلح حدیبیہ اس کی بہترین مثال ہے۔یہ صلح اس لیے نہیں کی گئی تھی کہ مسلمان کمزور تھے یا جنگ سے گھبراتے تھے۔ بلکہ اس وقت مسلمان جس تعداد و تیاری سے آئے تھے ان کے لیے فتح یقینی تھی۔اس کے باوجود مکہ کی موجودہ حکومت سے گفتگو کے نتیجے میں ٹکرانے کے بجائے صلح کا راستا اختیار کیا گیا۔جس کے نتائج بہتر نکلے۔کیا آج کی حکومت سے گفتگو کرکے بقائے باہم کی کوئی ترکیب نہیں نکالی جاسکتی؟کیا اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ موجودہ تشویشناک صورت حال کو بدلنے میں فعال کردار ادا کریں۔ کیا مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہمارا فریضہ نہیں کہ مقابل فریق سے ملاقات کرکے مسائل کو حل کرنے کی جانب پیش رفت کریں ؟ مسلم پرسنل لاء بورڈ جس نے اپنے حالیہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں حجاب معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کی میں تائید کرتا ہوں۔ کیا وہ دانشوروں کی ایک ایسی کمیٹی تشکیل نہیں دے سکتا جو حکومت سے بات چیت کرکے ملک و ملت کے ایشوز پر بات کرے؟آخر اس میں کیا چیز مانع ہے؟یا تمام مسلم تنظیموں نے یہاں کے مسلمانوں کو حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟میری رائے ہے کہ اگر آج بھی صلح حدیبیہ ہو اور صلح کے تقاضے پورے کیے جائیں تو آئندہ چند سال میں بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

میرے محسنو!ابھی ملک میں آئین موجود ہے۔ابھی حکومت نے اپنے دروازے بند نہیں کیے ہیں۔ ابھی اہل حکومت کے دل اور کانوں پر مہر نہیں لگی ہے۔ابھی راستے کھلے ہیں۔ میری رائے ہے کہ مسلم مجلس مشاورت، مسلم پرسنل لاء بورڈاور مسلم سیاسی جماعتیں بابصیرت افراد پر مشتمل کوئی کمیٹی بنائیں۔ جس کا کام صرف حکومت اورمسلم مخالف تنظیموں سے ڈائلاگ ہو۔بات ہوگی تو راستے کھلیں گے۔ورنہ ملک جس تباہی کی طرف تیزی سے جارہا ہے اس تباہی کا شکار تو ہم ہوں گے ہی اس کے ذمہ دار بھی ہم ہوں گے۔کیوں کہ اس زمین پر خدا کے آخری پیغام کے امین بھی ہم ہی ہیں۔ خیر امت ہونے کے ناطے دنیا کو تباہی سے بچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی ہے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بات چیت سے مسائل حل نہ ہوں۔ لیکن اپنی بات رکھ دینے سے ملک کی عوام کے سامنے حکومت کی ہٹ دھرمی والا رویہ کھل جائے گا اور پھر کسان آندولن کی طرح مسلمانوں کو بھی آندولن کے جمہوری حق کو استعمال کرنے کا راستا کھل جائے گا۔

راجستھان،مدھیہ پردیش اور گجرات میں مسلمانوں کے ردعمل نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب صبر اور برداشت کی حد ختم ہوگئی ہے۔عمل اور رد عمل کا یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری ہوگیا تو سارا ملک خاک ہوجائیگا۔میری انصاف پسند شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ حکومت کی شر انگیزی کو سمجھیں اور ان مسائل سے خود کو لگ رکھیں جن سے ان کابراہ راست کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ اپنی حکومت پر دبائو ڈالیں کہ وہ خواہ مخواہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو تباہ نہ کرے۔مسلمان لڑکی اپنا سرڈھانکے یا کھولے،اس سے ملک کی معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کسی کے روزگار پر اثر نہیں پڑتا،مسلمان حلال گوشت کھائیں یا نہ کھائیں اس سے ملک کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔البتہ لڑائی، جھگڑے اور فسادات سے یہاں کی ہزاروں سال پرانی گنگا جمنی تہذیب اور بھائی چارے پر فرق پڑتا ہے اور ملک کی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔اہل ملک کااصل مسئلہ اذان،نماز اور پوجا نہیں بلکہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔حکومت کے ساتھ ڈائلاگ بھی ہوں، اہل ملک کے سامنے ملک کی صحیح صورت حال بھی پیش کی جائے اور انصاف پسند ضمیروں کو جھنجھوڑا بھی جائے تو ٹکرانے کی نوبت نہیں آئے گی۔

ہم نے مانا کہ وہ نہ مانیں گے

بات کرنے میں کیا برائی ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔