احمد فرازؔ کی شاعری میں احتجاج اور رومانیت کے عناصر

ابراہم افسر

  بلا شبہ، نثر کے مقابلے شاعری کا جادو ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بات صرف اُردو شاعری پر ہی صادق نہیں ہوتی بل کہ دنیائے ادب کی شاعری ہر دور میں قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی آئی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کوئی شاعر ناقدین ادب کی توجہ کا بھی مرکز بنا رہا ہو اور عام لوگوں نے اِسے دادِ تحسین بھی دی ہو۔ اُردو ادب کے دامن میں بھی ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کی شہرت کے چرچے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔

 بیسویں صدی میں اقبال، فیضؔ اور احمد ندیم ؔ قاسمی کے بعد اُردو شاعری میں ہر خاص و عام کو اپنے ہونے کا احساس کرانے میں جو شاعر کامیاب رہا وہ احمد فرازؔ ہے۔ اگر ہم یوں کہیں کہ فیضؔ کے بعد اگر کسی شاعر نے اس خلا کو پُر کرنے میں کامیابی حاصل کی، تو ہمارے سامنے اٖحمد فرازؔ کی شخصیت اُبھر کر سامنے آتی ہے۔ احمد فرازؔ اُردو شاعری کی ایک با اثر اور معتبر آواز ہے۔ احمد فرازؔ کی شاعری کو غور سے پڑھا گیااور آوازکو سنجیدگی سے سنا گیا۔ احمد فرازؔ نے جہاں ایک جانب احتجاجی، انقلابی، رومانی اور علامتی شاعری کی وہیں دوسری جانب انھوں نے ایسے اشعار بھی کہے جن کی بدولت اُردو ادب میں ان کے قد میں اور اضافہ ہوا۔ در اصل یہ اشعارہی ان کی شہرت اور مقبولیت کا سبب بھی بنے۔ انقلابی، احتجاجی او ر رومانی شاعری کے ذریعہ احمد فرازؔ نے اُردو ادب میں الگ مقام ومرتبہ بنایا۔ فیض احمد فیضؔ نے احمد فرازؔ کی شاعرانہ عظمت کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا۔ ’’خلوص، سچائی، اور گداز احمد فرازؔ کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ اسی لیے یہ حدیثِ دل کے علاوہ زندگی کی وسیع تر حقاّنیت کا بیان بھی ویسی ہی لگن اور خوبی سے کرتے ہیں۔ بیک وقت غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی وسیع دنیا سے آگہی اور اس کی موثّر تفسیر مشکل کام ہے۔ ‘‘احمد ندیمؔ قاسمی نے بھی احمد فرازؔ کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا’’فرازؔ اُردو شاعری کے مستقبل کے امین ہیں۔ اُنھوں نے اُردو شاعری کے صفِ اوّل کے شاعروں میں جگہ حاصل کر لی ہے۔ ‘‘اس طرح فرازؔ کی شاعری کے چرچے ہر خاص و عام کی زبان پر ہونے لگے۔ احمد فرازؔ کی شاعری کے تراجم دنیا کی بڑی زبانوں مثلاًفرانسیسی، ہالینڈ، یوگوسلاوی، روسی، پنجابی، جاپانی اور سویڈیش زبانوں کے علاوہ انگریزی میں ’ ’ون ان دی ولڈرنیس ‘‘ اور ہندی میں ’’ کویتا کوش ‘‘کے نام سے ان کی شاعری شائع ہو چکی ہیں۔  ان کی شاعری کے تراجم ان کی عالمی شہرت کاواضح ثبوت ہے۔ احمد فرازؔ کی شاعری اور شعری جہات پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر وہاب اشرفی یوں رقم طراز ہیں۔

 ’’احمد فرازؔ پاکستان کے نہایت مقبول ترین شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اب تک ان کے بارہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ‘‘(تاریخ ادب اُردو، حصہ سوم، صفحہ 166، ایجوکیشنل بک ہاؤس، نئی دہلی، 2003ء)

  احمد فرازؔ نے اپنی شاعری کا آغاز ترقی پسند تحریک کے زیرِ سایہ کیا۔ لیکن جلد ہی انھوں نے اس تحریک سے علاحدگی اختیار کر لی اور احتجاج و رومان کو اپنی شاعری میں داخل کیا۔ فرازؔ، فیضؔ کی شاعری کے دلدادہ توتھے ہی لیکن ساتھ میں غالبؔ، اقبالؔاور سردار جعفری ان کے پسندیدہ شاعروں میں شمار تھے۔ اکثر، ناقدین فرازؔکی شاعری کو فیضؔ کی شاعری کا چربہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے کوسوں دور ہے۔ سیّد امتیازالدین نے اپنے مضمون’’احمد فرازؔ کی یاد میں ‘‘فیضؔاور فرازؔ کی شاعرانہ فضیلت کے بارے میں لکھا ہے۔

 ’’احمد فرازؔ کو بجا طور پر فیض احمد فیضؔ کا جا نشیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ دونوں کی شاعری میں قدیم و جدید طرزِ سخن کا امتزاج ہے۔ دونوں کو ان کے ملک کے اربابِ اقتدار ہمیشہ شبہے کی نظروں سے دیکھتے رہے۔ دونوں نے اپنے طور پرجلا وطنی اختیار کی اور ملکوں ملکوں خاک چھانتے پھرے۔ دونوں کو قید و بند کی صعو بتیں جھیلنی پڑیں۔ فیضؔ اور فرازؔ دونوں ہی کوبے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ دونوں کے کلام میں کچھ ایسی غنائیت تھی کہ ان کے کلام کو برِّ صغیر کے تمام بڑے گلو کاروں نے سرو سے سجایا۔ احمد فرازؔکے کلام میں فیضؔکا رنگ جھلکتا تھا۔ بعض حاسد لوگ اس بات کو لے کر انھیں تنقید و تمسخر کا نشانہ بھی بناتے تھے۔ ایک مرتبہ فیضؔ کسی محفل میں کلام سنا رہے تھے۔ کسی صاحب نے طنزیہ انداز میں فرمائش کی ’’فیضؔ صاحب !فرازؔ کے رنگ میں کچھ سنائیے‘‘فیضؔ مسکراکر خاموش ہو گئے۔ احمد فرازؔ یقیناً فیضؔ سے متاثر تھے لیکن وہ فیض کی نقل نہیں کرتے تھے۔ جس طرح دو خوش رنگ پھولوں میں مشابہت ہو تو ان کی جاذبیت اور دل کشی میں فرق نہیں آتا اسی طرح احمد فرازؔ کی شاعری اپنے فطری حسن کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگا ہوں سے دیکھی جائے گی اور دلوں میں گھر کرتی رہے گی۔ ‘‘(اُردو دُنیا، صفحہ 31، قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نئی دہلی، اکتوبر، 2008ء)

  احمدفرازؔ نے ادبی فلک پر اپنی شناخت خود قائم کر، شہرت و دوام حاصل کی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ احمد فرازؔ اپنے ہم عصر شاعروں میں سب سے زیادہ مقبول، قابلِ قبول اور سب سے زیادہ پڑھنے اور چھپنے والے شاعر تھے۔ اس طرح فرازؔ دورِ حاضر میں ایک legendکی حیثیت رکھتے تھے۔ احمد فرازؔادبی اُفق پر تا عمر اپنے مدّاحوں کو اپنے کلام سے اثر انداز اور محظوظ کرتے رہے۔ ان کے مدّاحوں نے بھی احمد فرازؔ سے بے پناہ محبت کی۔ آخر کار احمد فرازؔ کو اپنے مداحوں سے بے ساختہ کہنا ہی پڑا۔

او ر  فراز  ؔچاہئیں  کتنی  محبتیں   تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

احمد فرازؔ غیر منقسم ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نو شہرہ میں 12؍جنوری 1931ء کو اس دنیا میں آئے۔ ابتدائی تعلیم کوہاٹ میں حاصل کی۔ ایڈورڈ کالج پیشاور سے B.Aکیااور پیشاور یونی ورسٹی سے اُردو اور فارسی میں M.Aکیا۔ گھر پر شاعری کا ماہول تھا۔ ان کے والد اپنے دور کے فارسی کے بڑے شاعر تھے۔ احمد فرازؔ کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ ایک مرتبہ عید کے موقع پر ان کے والد کپڑے لائے، تو وہ کپڑے ننھے فراز ؔ کو اچھے نہیں لگے۔ فرازؔ نے محسوس کیا کہ جو کپڑے ان کے بڑے بھائی کے لیے لائے گئے ہیں وہ ان کے کپڑوں سے بہتر ہیں۔ فرازؔ نے فی البدیہیہ ایک شعر پڑھا جس میں وزن نہ سہی لیکن ردیف اور قافیہ کا اہتمام ضرور تھا۔

جب کہ سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے

لائے ہیں میرے لیے قیدی کا  کمبل  جیل   سے

  احمد فرازؔ نے اپنی زندگی میں کئی ملازمتیں کیں۔ فرازؔ پہلے ریڈیو پاکسان پیشاور سے وابستہ ہوئے پھر وہیں کے اسلامیہ کالج میں لیکچرر ہو گئے۔ بعد میں کئی بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ احمد فرازؔ نے ’’پاکستان انٹرنیشنل سینٹر‘‘، ’’اُردو اکادمی ادبیات پاکستان‘‘اور ’’نیشنل بُک فاونڈیشن ‘‘ کی بھی سر براہی کی۔ لیکن ایک آزاد خیال شاعر کو ان عہدوں میں زیادہ دل چسپی زیادہ دنوں تک نہیں رہی۔ آخر کار احمد فرازؔ نے اپنا کارِ زار شاعری کو ہی بنایا۔

  احمد فرازؔ اپنے ملک کے سیاسی حالات اور اتھل پتھل سے بے چین رہتے تھے۔ ناگفتہ سیاسی حالات سے چشم پوشی کرنا ان کے لیے کسی خطرے سے کم نہ تھا۔ احتجاج، ان کی فطرت اور خمیر میں شامل تھا۔ احمد فرازؔ دبے، کچلے، مظلوموں، بے کس اور بے یار و مدد گر لوگوں کی آاوازاور نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ ’’بانو کے نام‘‘ان کی ایک ایسی ہی نظم ہے جس میں ایک مظلوم اور بے بس عورت کے دُکھ، درد کو قارئین کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ بانو، جو ایک کم سِن کنیز تھی اور جس کا قتل جونا گڑھ کی بیگم کے اشارے پر کیا گیا تھالیکن پاکستانی حکومت نے بیگم جونا گڑھ کو بانو کے قتل کے الزام سے با عزت بری کر دیا تھا۔ احمد فرازؔ نے اس واقعے کو بڑے دل دوز انداز میں پیش کیا ہے۔ اس نظم کا ایک بند ملاحظہ کیجیے:

یہی  سنا  ہے  بس  اتنا  قصو ر  تھا   تیرا

کہ تونے قصر کے کچھ تلخ  بھید  جانے  تھے

تری نظر نے وہ خلوت کدوں کے داغ گنے

جو خواجگی نے ز ر  و  سیم  میں چھپانے  تھے

تجھے علم  نہیں  تھا کہ  اس  خطا  کی  سزا

ہزاروں طوق و سلاسل تھے تازیا  نے   تھے

کبھی   چنی  گئی   دیوار   میں    انار کلی

کبھی  شکنتلا   پتھراؤ   کا   شکار    ہو ئی

          ان کے کلام کی تلخیوں اور سچائی سے عاجز آکرحکومتِ وقت نے انھیں ملک بدر کیا۔ کئی مرتبہ احمد فرازؔ کوفوجی آمریت (مارشل لاء )کے خلاف بولنے کے عوض میں اپنے ملک سے خود ساختہ جلا وطنی بھی اختیار کرنا پڑی۔ اس جلا وطنی کا درد و کسک ان کی شاعری میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔

 یہ بھی کیا کم ہے غریب الوطنی میں کہ فرازؔ

ہم کو  مرئی  ارباب  وطن  یاد  نہیں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ٹوٹاتو ہوں مگر ابھی بکھر ا  نہیں  فرازؔ

میرے بدن پہ جیسے سکستوں کا جال ہو

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر

جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے

      احمد فرازؔ کو صرف طویل غزلوں اور نظموں کے باعث ہی عالمی شہرت یافتہ شاعر کا درجہ حاصل نہیں ہے بل کہ وہ اُن نوجوانوں کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو عنفوانِ شباب میں الہڑ پن، رند و مستی کے شکار ہیں اور کچّی عمر میں عشق و محبت کے لیے جینے مرنے کی قسمیں کھاتیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خود فرازؔ کم سِنی میں ایک غزال سے عشق کربیٹھے تھے۔ اپنے جذباتوں کو انھوں نے خوب صورت لفظوں میں ڈھال کراسے شاعری کاجامہ پہنایا۔ ویسے اٖحمد فرازؔ اپنے ہم عصروں میں اتنے ہی مقبول ہیں جتنا کہ Teenagersمیں۔ آج کل مشاعروں میں بھی ایسے اشعار کی زیادہ demandرہتی ہے جن میں الہڑپن جھلکتا ہو، مستی کی بو آتی ہو، ساون، بادلوں اور برساتوں کا ذکر ہو، کالی، گھنی لہراتی زلفوں اور نشیلی آنکھوں کی خوب باتیں ہوں۔ احمد فراز ؔ نے بھی اپنے اشعار میں متذکرہ باتوں کا خوب استعمال کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کی شاعری نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے۔

ایک  شہزادی مگر  دل  کی  فقیر

اس کو میری  جھونپڑی  اچھی  لگی

آنکھ بھی برسی بہت بادل کے ساتھ

اب کے ساون کی جھڑی اچھی  لگی

 احمد فرازؔ ہند و پاک کے دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے بہت آرزو مند تھے۔ اپنی وفات سے قبل وہ کئی مرتبہ ہندوستان آئے۔ ہندوستانی میڈیا نے انھیں ’’امن کا سفیر‘‘ کے خطاب سے بھی نوازا۔ 2004ء میں جب احمد فرازؔ حیدرآباد(ہندوستان)آئے تو وہاں کے مشاعرے میں لوگوں کی زبردست مانگ پر اپنی طویل اور مشہور غزل پڑھی۔

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے  دیکھتے   ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب  حالوں  سے

سو اپنے آپ کو برباد  کر کے  دیکھتے  ہیں

سنا ہے رات اُسے  چاند  تکتا  رہتا  ہے

ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے  ہیں

سنا ہے دن کو  اُسے  تتلیاں  ستاتی  ہیں

سنا ہے رات کو جگنو  ٹھہر  کے  دیکھتے  ہیں

سنا ہے اُس کے بدن کی  تراش  ایسی  ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر  کے  د یکھتے  ہیں

اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز  ؔ آؤ  ستارے  سفر  کے  دیکھتے  ہیں

ہند و پاک کے سیاسی تناظر اور اکیسویں صدی کے سیاق میں فرازؔ نے کئی نظمیں کہی ہیں۔ ان کی شاعری در اصل لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو ملانے کا کام کرتی ہے۔ اسی تناظر میں ان کی نظم’’سرحدیں ‘‘کی عصری معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔ اس نظم کے ذریعے فرازؔ نے سیاسی سرحدوں کو درکنار کرتے ہوئے ایک ایسی سرحد کی پیروکاری کی ہے جس میں تمام انسان بلا روک ٹوک کے ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آ سکیں۔ فرازؔ نے اس نظم میں اپنے جذباتوں کو قاری کے سامنے رکھا ہے۔

کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرح

ایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی  دل

کس پہ شک کرتے ہو جتنے بھی مسافر ہیں  یہاں

ایک  ہی  سب  کا  قبیلہ  وہی  پیکر  وہی  گِل

……

کس نے دُنیا کو بھی دولت کی  طرح  بانٹا  ہے

کس نے تقسیم  کیے  ہیں  یہ  اثاثے  سارے

کس  نے  د یوار  تفاوت  کی  اُٹھائی   لوگو

کیوں سمندر کے کنارے  پہ  پیاسے  سارے

فرازؔ کی نظموں میں ’’نئی مسافات کا عہد نامہ‘‘، ’’ہم اپنے خوان کیوں بیچیں ‘‘، ’’اے میرے سارے لوگوں ‘‘، ’’محاصرہ‘‘، ’’مت قتل کرو آوازوں کو‘‘، ’’ابو جہاد‘‘، ’’اے شہر میں تیرا نغمہ گر ہوں ‘‘، ’’ندیم آنکھیں ندیم چہرہ‘‘، ’’چلو اس کا ماتم کریں ‘‘، ’’حرف کی شہادت‘‘، ’’قلم سرخ رو ہے‘‘، ’’اگر یہ سب کچھ نہیں ‘‘، ’’سرحدیں ‘‘، ’’کالی دیوار‘‘، ’’میں زندہ ہوں ‘‘، ’’جلا وطنی میں ‘‘، ’’بن باس‘‘، ’’فیضؔ کے فراق میں ‘‘، ’’دشمن کا قصیدہ‘‘، ’’شہر نامہ‘‘، ’’مسند پیرِ مغاں ‘‘، ’’بنگلہ دیش‘‘، ’’فنکاروں کے نام‘‘، ’’خود کلامی‘‘، ’’سوال‘‘، ’’خود غرض‘‘، ’’نیند‘‘، ’’خوشبو کا سفر‘‘، ’’شاعر‘‘او’’خریدار‘‘وغیرہ خصوصی توجہ کی حامل ہیں۔ ان نظموں میں فرازؔکی انسان دوستی، جمہوریت پسندی، وسیع النظری، اخوت، بھائی چارگی، عورتوں کے حقوق کے تیئں فکر مندی، اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انقلابی آرزو مندی نے اکیسویں صدی کا ’’عہد نامۂ وفا ‘‘رقم کیا ہے اور یہی خصوصیت ان کی غزلوں کو بھی استحکام بخشتی ہے۔

اے خدا اسے آج سب کا مقدر کر دے

وہ محبت کے جو انساں کو پیمبر کر  دے

……

منزلیں ایک سی، آوارگیاں  ایک  سی  ہیں

مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں

  احمد فرازؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل ایک ایسی وسیع القلب اور مہربان صنفِ سخن ہے کہ ہر اچھے شاعر کو بہترین شعر نکال لینے کا موقع عطا کرتی ہے۔ بعض اوقات لوگ شاعر کو تو بھول جاتے ہیں لیکن اس کے اشعار زندہ رہتے ہیں۔ احمد فرازؔ نے بھی ایسی بہت سی غزلیں کہیں ہیں جن کے سبب وہ اُردو ادب میں محترم ہو گئے۔ احمد فرازؔ نے دورِ حاضر میں نفرت، عداوت، قتل و غارت گری کا جو ایک چلن چلا آ رہا ہے ان سب کو مٹانے کے لیے کبھی نہ بھلائے جانے والے اشعار کہے۔ احمد فرازؔ کی دل آفریں غزلوں کی مقبولیت اور شہرت میں اُن غزل سراؤں کا بھی ہاتھ ہے جو اِن کو اپنی مخملی اور سریلی آواز میں گاتے ہیں۔ احمد فرازؔ نے بھی بہترین، سادہ، سلیس اور دل کو چھو لینے والے الفاظ کا انتخاب اپنی غزلوں کے لیے کیا۔ نورجہاں، امانت علی خان، مہناز، فریدہ خانم، طاہرہ سیّد، سلمی ٰ آغا، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت سنگھ، پنکج اُدھاس، پیناج مسانی، طلعت عزیز، راحت فتح علی خان جیسے شہرت یافتہ گلو کاروں نے فرازؔ کی شاعری کو اپنی آواز دی۔ احمد فرازؔ کو اُردو ادب میں منفرد مقام و مرتبہ دینے والی ان کی مشہور غزل ’’رنجش ہی سہی‘‘کا شمار اُردو کی بہترین غزلوں میں ہوتا ہے۔ مشیر الحسن نے فرازؔ کی شاعری کی مقبولیت کے اسباب پر نگاہ ڈالتے ہوئے لکھا ہے۔

  ’’موجودہ دور میں فیض احمد فیضؔ کے بعد احمد فرازؔ کی شاعرانہ مقبولیت بے مثال تھی۔ اس شہرت اور مقبولیت میں کچھ حصہ ان غزل سراؤں کا بھی تھا جنھوں نے ان کی غزلیں اپنی دلکش آواز و ساز اور سنگیت کے ساتھ پیش کیں لیکن اصل وجہ ان کے کلام کی خوبی ہی تھی۔ ‘‘(اُردو دُنیا، صفحہ33، قومی کونسل برائے فروغ اُردو، اکتوبر 2008ء، نئی دہلی)

    احمد فرازؔ کی مشہورغزل’’رنجش ہی سہی‘‘ ملاحظہ کیجیے۔

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے  لیے  آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے  آ

کچھ تو میرے  پندارِ محبت  کا  بھرم   رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو  منانے کے  لیے  آ

پہلے سے  مراسم نہ سہی  پھر بھی  کبھی  تو

رسم و  رہِ  دنیا  نبھانے  کے  لیے   آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے  لیے  آ

اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم

اے راحتِ جاں مجھ کو رُلانے کے لیے  آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں آمیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے  کے  لیے  آ

 احمد فرازؔ کی اسی طرز کی ایک اور غزل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں۔

اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں  میں  ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈاُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے  موتی

یہ خزانے تجھے  ممکن  ہے  خوابوں  میں  ملیں

 احمد فرازؔ حساس قسم کے انسان تھے۔ دنیا میں جو واقعات رو نما ہوتے تھے ان پر وہ فوراً اپنی رائے کا اظہار غزل یا نظم کی صورت میں ظاہر کرتے تھے۔ ان کی رائے مدلل اور منصفانہ ہوتی تھی۔ دنیا بھر میں امریکی تسلظ کے خلاف انھوں نے اپنی رائے کا اظہار نظم’’کالی دیوار‘‘کے ذریعے کیا۔ اس نظم کی معنویت آج بھی اُتنی ہی ہے جتنی کل تھی۔ آج جس طرح سے امریکی داداگری دنیا میں چل رہی ہے اور اس کے ظلم و ستم اور سیاسی چالوں سے تمام انسانیت کراہ رہی ہے، اس پراگندہ ماہول میں فرازؔ کی نظم کالی دیوار کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

ایک سفید حویلی جس میں  بہت  بڑی  سرکار

یہیں کریں سوداگر  چھوٹی قوموں  کا  بیوپار

یہیں یہ جادوگر بیٹھا جب کہیں کی  ڈور  ہلائے

ہر  بستی  ناگا ساکی،   ہیروشیما  بن   جائے

مکھ موتی دے کر حاصل  کی  یہ  کالی   دیوار

یہ کالی دیوار  جو  بس  ہے  اک  خالی  دیوار

یہ  کالی  دیوا ر  جو  ہے  ناموں  کا  قبرستان

واشنگٹن کے شہر میں دفن ہیں کس کس کے ارمان

 ان تمام باتوں کے سبب ہی احمد فرازؔ اپنے ہم عصروں میں بے حد مقبول تھے۔ ان کے قلم کا لوہا ناقدین نے بھی مانا ہے۔ دنیا کی کئی حکومتوں نے احمد فرازؔ کی ادبی خدمات کے مدّنظر انھیں کئی اعزازات سے نوازا۔ فراق انٹرنیشنل ایوارڈ(ہندوستان)1982ء، اکادمی آف اُردو لٹریچر ایوارڈ(کناڈا)1991ء، جے این ٹاٹا ایوارڈ(ہندوستان)1992ء، ایوارڈ برائے امن اور انسانی حقوق(ہندوستان)1992ء 2000 ملینیم میڈل آف آنرز ایوارڈ(یو ایس اے)1999ء، فرسٹ کیفی اعظمی ایوارڈ(یو اے ای)2002ء، ای ٹی وی کمالِ فن ایوارڈ(ہندوستان)2004ء، قومی ایوارڈ؛آدم جی ادبی ایوارڈ(پاکستان)1966ء، اباسین ایوارڈبرائے ادب(پاکستان)1970ء، دھنک ایوارڈ(پاکستان)1971ء، ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ(پاکستان)1990ء، نقوش ایوارڈ برائے ادب(پاکستان)1992-93ء، ستارۂ امتیاز ایوارڈ(پاکستان)2000ء، ہلال ِ امتیاز ایوارڈ(پاکستان)2004ء وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔ احمد فرازؔ کے کل 13شعری مجموعے منظرِ عام پر آکر دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ ’’شہر سخن آراستہ ہے ‘‘کے نام سے ان کا کلیات2004ء میں شائع ہوا۔ ہندوستان میں ’’کلیاتِ احمد فرازؔ ‘‘کے نام ان کے کلام کو فاروق ارگلی نے 2005ء میں شائع کیا۔

   احمد فرازؔ کے آخری ایام بیماری میں گزرے۔ آخر کار اُرو د شاعری کو نعرہ ٔاحتجاج دینے والا یہ شاعر کڈنی فیل ہو جانے کے سبب اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں 25؍اگست2008ء کی شام کو اجل سے احتجاج نہ کر سکا۔ اُردو شاعری کا یہ چمکتا ہوا ماہتاب 77سال کی عمر میں اپنے حقیقی رب کے پاس چلا گیا۔ احمد فرازؔ کو اسلام آباد کے h-8قبرستان میں دفنایا گیا۔ احمد فرازؔ کی موت کا سوگ پوری دنیا میں منایا گیا۔ ان کے چاہنے والوں میں بچوں سے لے کر سن رسیدہ بزرگ تک شامل تھے، احمد فرازؔ جس مشاعرے میں جاتے جوگوں کا ہجوم ان کو گھیر لیتااور اس طرح شاعری کا ایک نیا دور پھرشروع ہو جاتا۔ فرازؔ نے کبھی اپنے مدّاحوں کو مایوس نہیں کیا۔ ان کی عالمی شہرت اور مقبولیت کا یہ حال تھا کہ ان کے مداحوں نے ان کے نام پر اپنے بچوں کے نام تک رکھ لیے تھے۔ ایسی ہی یک خاتون سے ان کی ملاقات امریکہ میں ہوئی جس نے اپنی لڑکی کا نام ’’احمد فراز‘‘رکھا ہوا تھا۔

 احمد فرازؔ نے اپنی زندگی کا آخری مشاعرہ 20-21جون2008کی رات لیاقت باغ، راول پنڈی (پاکستان) میں پڑھا۔ یہ مشاعرہ در اصل صدر پرویز مشرف (فوجی آمر)کی حکومت اور پالیسیوں کے خلاف ایک ’بغاوتی مشاعرہ‘ تھا۔ اس کی صدارت بھی فرازؔ کے ذمّے تھی۔ فرازؔ کی محنت رنگ لائی اور پرویز مشرف نے18؍اگست2008ء میں استعفیٰ دے دیا۔ آج فرازؔ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی شاعری اور کلام سے اُردو قارئین مستفیض ہو رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ احمد فرازؔ کی شاعری کو لوگ پڑھتے ہیں۔ نوجوان اپنے دوستوں کو پیغام بھیجنے میں جن اشعار کا استعمال کرتے ہیں ان میں زیادہ تر فرازؔ کے اشعار ہوتے ہیں۔ احمد فرازؔ کتنے بڑے شاعر تھے اور اُردو ادب میں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہوگا یہ فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن اس میں اختلافِ رائے نہیں کہ احمدفرازؔ اپنے دور کے مقبول ترین اورشہرت یافتہ شاعروں میں سے تھے۔ دورِ حاضری عالمی سیاسی ردو بدل کے بعد ان کی شاعری کی اہمیت اور افادیت بڑھ گئی ہے۔ میں احمد فرازؔ کو خراجِ عقیدت اُن ہی کے اشعار سے دینا چاہتا ہوں۔

میں خوش ہوں راند کا افلاک ہو کر

میرا قد بڑھ گیا ہے  خاک  ہوکر



⋆ ابراہیم افسر

ابراہیم افسر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

اردو غزل کا منٹو: شادؔ عارفی

  دبستان دہلی، دبستان لکھنؤ، دبستان عظیم آباد کی طرح دبستان رام پور بھی اردو ادب میں اپنی علاحدہ پہچان، منفرد مقام ومرتبہ لیے ہوئے ہے۔ جغرافیہ کے اعتبارسے یہ ریاست چھوٹی تھی لیکن اس کے فرماں روا بلند حوصلوں کے مالک تھے۔ 1857کے ناکام انقلاب کے بعد جب اردو کے دونوں دبستانوں (دہلی اور لکھنوء) میں افراتفری کا ماحول پید اہوا اور ادبا وشعرا میں اضطراب پنپنے لگا تھا۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں والئی رام پور نوّاب یوسف علی خاں ادباوشعراکے لیے امید کی کرن بنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے