آج کا کالم

کسان کیوں ہے پریشان؟

ان داتا کی خودکشی تشویشناک ہے۔ اس سے زیادہ پریشان کن وہ وجوہات ہیں جن کے چلتے کسان کو خودکشی کرنی پڑتی ہے۔ ساہو کاروں اور مہاجنوں پر الزام لگایاجاتاہے کہ وہ قرض وصولنے کیلئے دبائو بناتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود کشی کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ این سی آر بی کی رپورٹ کہتی ہے کہ 2015 میں جن 3000 کسانوں نے خود کشی کی ان میں سے 2474 نے بینکوں سے قرض لیا تھا نہ کہ ساہوکاروں سے۔ کسانوں کے ساتھ اگر کھیت مزدوروں کی خودکشی کو جوڑ دیا جائے تو تصویر کچھ اس طرح سامنے آتی ہے۔2015 میں کھیتی سے جڑے 12602لوگوں نے خودکشی کی جو 2014 کے مقابلے دوفیصد زیادہ ہے صرف مہاراشٹر میں ملک کے ایک تہائی 4291 کسانوں نے خودکشی کی۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر 41 منٹ میں دیش میں کہیں نہ کہیں ایک کسان خودکشی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کب تک؟

جب لاکھوں کروڑوں نوجوان پہلی بار ووٹر بننے کی عمر میں پہنچ رہے ہوتے ہیں تب ان کا سامنا دو تین قسم کے نظام سے ہوتا ہے. ایک لائسنس بناتے وقت، دوسرا دسویں اور بارہویں کے امتحان کے وقت. رشوت دے کر لائسنس بنانے یا امتحان میں پرچہ لیک ہونے، پیسے دے کر پاس ہونے کے تجربات کا ان پر کتنا برا اثر پڑتا ہوگا. جس نظام پر انھیں پہلے دن سے بھروسہ ہونا چاہئے، اس کے ساتھ ان نوجوانوں کے تعلقات کا آغاز ہی رشوت سے ہوتا ہے. یہی تجربہ جب اسے میڈیکل اور انجینئرنگ کے امتحان کے وقت ہوتا ہوگا تو اس کا یقین گہرا ہو جاتا ہو گا کہ اس ملک میں کچھ بننا ہے تو اس کا یہی طریقہ ہے. ہو سکتا ہے یہی مایوسی کی ایک وجہ بھی ہو. اس لئے ہمیں اس کی مانگ کرنی ہی چاہئے کہ ہندوستان میں امتحان کا نظام ایسا ہو جس میں کوئی عیب نہ لگا سکے.

مزید پڑھیں >>

ابن الوقتی اور ذات پات کی تفریق کا مجرب علاج

نتیش کمار نے مکھوٹا بدلنے کے بعد پہلی بارچونچ  کھول کربڑی حق گوئی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا 2019 کے انتخاب میں مودی کو کوئی چیلنج نہیں ہے۔ یہ نتیش کمار کی آتما کی آواز ہے جو من کی بات بن کر زبان پر آگئی۔ نتیش کمار جیسا خود پسند آدمی جب تک  حزب اختلاف میں تھااپنی ذاتِ والا صفات کو نریندر مودی کے خلاف سب سے بڑا چیلنج سمجھتا تھا  لیکن پھر اسے احساس ہوگیا کہ وہ ایک بہت ہی مختصر سی علاقائی جماعت کے رہنما ہے۔ نتیش کمار نے اپنی حالیہ ملاقات میں اس حقیقت کا بھی برملا اعتراف کرتے ہوئے  کہا 'میں  نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں ایک بہت  چھوٹی جماعت کی قیادت کرتا ہوں اس لیے  قومی  سطح پر کسی بڑے  عہدے  کا ارمان نہیں رکھتا'۔ یہ سچ ہے کہ فی الحال ان کی آرزو مندی پر اوس پڑ چکی ہے لیکن ایسا پہلے نہیں تھا۔ ایک زمانے تک وہ  وزیراعظم بننے کا خواب سجاتے  رہے لیکن پھر مرکزی حکومت کے خوف اور صوبائی اقتدار کے لالچ نے ان کے انجر پنجر ڈھیلے کردیے۔

مزید پڑھیں >>

حسین، دلکش اور قانونی بھرشٹا چار

کتنے شرم کی بات ہے کہ جس بھرشٹاچار کی وجہ سے کانگریس کو ہٹایا تھا اس سے بہت بڑے بھرشٹاچاری حکومت میں آکر بیٹھ گئے۔ کانگریس کے زمانہ میں کس نے کہا میں نے رشوت دی اور کس نے کہا میں نے رشوت لی؟ آج بھی نہ بقل نواب کہیں  گے کہ میں نے سوٹ کیس لیا یا وعدہ لیا کہ میرے ہر جرم کو دھو دیا جائے گا اور نہ دوسرے کونسل کے ممبر جو سوچ رہے ہیں کہ حکومت ان کے دشمنوں کی ہے وہ اپنے ہاتھوں کمائیں گے تو پکڑے جائیں گے اور اب مہاراجہ سے ہی رشوت میں منھ مانگی گولی سوٹ کیس لیں تو پانچ سال بعد الیکشن بھی لڑیں گے۔ رشوت یا بھرشٹاچار ایسی ہی چیز ہے جس سے دونوں کا بھلا ہوتا ہے اور اسے امت شاہ خوب جانتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان میں فتنہ تاتاری کا اعادہ اور مسلمان

سوال پیدا ہوتا ہے کہ گائے کے نام پرقتل کرنے والوں نے تیرہویں صدی کے منگولوں کا طریقہ ستم کیوں ایجاد کیا ؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ تاتاریوں کا حملہ اسلام اور مسلمانوں پربڑا زبردست تھا۔ انھوں نے بخارا، سمر قند، ہمدان، زنجان، نیشاپور، خوارزم، حلب، دمشق اورسب سے بڑھ کردارالخلافہ بغداد کو پوری طرح تباہ و برباد کر دیا تھا۔روایات میں آتا ہے کہ تاتاریوں نے عباسی خلیفہ مستعصم بااللہ کو بغداد میں اس طرح ہلاک کیا کہ خلیفہ کا خون زمین پرنہیں گرا۔ کہا جا تا ہے کہ ہلا کو خان کو کسی نے بتا یا تھا کہ اگرخلیفہ کا خون زمین پرگرجائے تو زمین کانپ اٹھتی ہے اورکوئی سلامت نہیں بچتا۔ چنانچہ اس نے خلیفہ کے قتل کی یہ تدبیرنکالی کہ پہلے خلیفہ کو پکڑ کرروئی کے غالے میں لپیٹ دیا اورروئی کے غالہ پراپنے گھوڑوں کو دوڑا دیا۔ اس طرح خلیفہ  المستعسم با للہ کو قتل کردیا گیا کہ اس کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پرنہیں گرا۔

مزید پڑھیں >>

ہندی چینی بائی بائی

چین تو خیر ہندوستان کا پرانا دشمن ہے جو دوست بن کر اپنا مال بیچتا ہے اور پھر دشمن بن کر پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتا لیکن مودی جی  دیش بھکت سرکار کو چین سے زیادہ بے چین  کمپٹرولراینڈ آڈیٹرجنرل کی رپورٹ نے کردیا جو اتفاق سے اس تنازع کے دوران ہی ایوان پارلیمان میں پیش کی گئی۔ تحقیق و تفتیش کے بعد اس ذمہ دار سرکاری ادارے  نے اپنی  رپورٹ  میں  کہا گیا ہےکہ  مودی جی کے رام  راج میں فوجکےپاساسلحہکی قلت  ہے اورہتھیاربھی معیاری نہیں ہیں۔ یہ سنسنی خیز انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا  جبکہ بھوٹان کے اندر ہندوستان کی فوج چینی فوج کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ملک کے اعلیٰ ترین آڈیٹر کی رپورٹ لوک سبھا کے مانسون اجلاس میں پیش کی گئی  جس میں ہندوستان فوج کے اندرا سلحہ کی فراہمی کے باب میں  سنگین خامیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سی اے جی نے سرکاری آرڈیننس کارخانوں  کی فوج  کومطلوبہ مقدار میں  اسلحہ فراہم نہ کرنے اور2013  سے لے کر اب تک یعنی مودی جی  کی پوری مدت کار میں  غیر مناسب و غیر معیاری سازوسامان فراہم کرنے پر سخت سرزنش کی۔

مزید پڑھیں >>

تنقید یا تدارک !

ہمارے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ یہ وقت تنقید کا نہیں تدارک کا ہے ۔ جو مصیبت میں ہے پہلے  اس کو اس سے نجات دلائیے جب حالات معمول پر آجائیں تب اس سے بتاسکتے ہیں  کہ وہ مصیبت …

مزید پڑھیں >>

سرکاری محکموں کی پول کھولتی سی اے جی رپورٹ!

سی اے جی نے 2011-12 سے لے کر 2015-16 کے درمیان فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا ہے. جو نتائج سامنے آئے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ منصوبہ کسانوں کے لیے ہوتے ہوئے بھی ان کے لئے نہیں ہے. اگر ہوتا تو پھر سی اے جی کو کیوں کہنا پڑا کہ تین دہائی سے انشورنس اسکیمیں ہیں پھر بھی بہت کم کسان ان دائرے میں آئے ہیں . بہت ہی کم چھوٹے اور معمولی کسان فصل انشورنس کی کوریج میں آ سکے ہیں . ایس سی / ایس ٹی کسانوں کے انشورنس کے لیے بھی انتظام ہے مگر ان کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے. اسکیم انہی کسانوں کے لیے ہے، جو زراعت کے لیے قرض لیتے ہیں . کئی بار کسان کھیتی کے قرض کا بیمہ کراتے ہیں ، فصل کا نہیں . بینک کسانوں کو انشورنس دفعات کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں . کس کسان کا بیمہ ہوا ہے، اس کا ڈیٹا نہ مرکزی حکومت کے پاس ہے نہ ریاستی حکومت کے پاس. یہاں تک کہ انشورنس کمپنی اےآي سي بھی نہیں رکھتی ہے. گایڈلاین میں ڈیٹا رکھنے کی ذمہ داری کو کیوں نہیں جوڑا گیا ہے. آج کل ڈیجیٹل انڈیا اور ڈیٹا انڈیا کی ہی بات ہوتی ہے لیکن ہزاروں کروڑوں کی فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کے تحت کس کسان کا بیمہ ہوا ہے اس کا کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے. یہ رعایت کسانوں کے لیے ہے یا کسی اور کے لیے.

مزید پڑھیں >>

یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا.

مزید پڑھیں >>