آج کا کالم

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، گر توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اس دنیا میں مسلمان صرف ایک مسابق قوم نہیں بلکہ داعی امت بھی ہے اس لیے صرف الزام تراشی سے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ عام طور پر ہم اپنے اوپر لگنے والے الزام کے جواب میں حریف کے عیوب و نقائص گنانے لگتے ہیں ۔ اس سے وہ خاموش تو ہوجاتا ہے مطمئن نہیں ہوتا اور اسلام کے متعلق مزید نقائص کی کھوج بین میں جٹ جاتا ہے تاکہ اپنی رسوائی کا انتقام لے سکے۔ ناظرین سوچتے ہیں دونوں میں خرابیاں ہیں ایک میں کم دوسرے میں زیادہ۔ اس کے برعکس اگر ہم جوابی الزام کے بجائے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ اسلام کامذکورہ پہلو زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے۔ دین کے محاسن اگرناظرین پر ظاہر ہوجائیں تو ان کے اور اسلام کے درمیان کی دوری کم ہوسکتی ہے اوروہ اسلام سے قریب آسکتے ہیں ۔ اس لیے ضرورت راہِ فرار اختیار کے بجائے ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کرنے کی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

نعروں سے قربانی کا حساب نہیں ہوتا!

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے کہا ہے کہ سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے. وقت آ گیا ہے کہ ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا جائے. کیا ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت 25 جوانوں کی موت اور 7 کے زخمی ہونے کے بعد ہی آیا ہے، اگر سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے تو اس کا وقت کیا 25 اپریل کو آیا ہے. اس طرح کی باتوں کا کیا یہ مطلب ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جنگ ہم بغیر حکمت عملی کے خلاف لڑ رہے ہیں .کہنا آسان ہے، جن کے گھر میں قربانی کی خبر پہنچتی ہے ان پر جو گزرتی ہے اسے ہم لچھے دار الفاظ سے کیا بیان کریں . ہم چاہتے ہیں کہ آپ آواز سنیں ، محسوس کریں کہ جنہیں ہم صرف شہادت کے فریم میں دیکھتے ہیں ، ان کے گھر میں شوہر، بھائی، والد، بھتیجا نہ جانے کس کس فریم میں دیکھا جاتا ہوگا.

مزید پڑھیں >>

کیا دہلی کے دماغ میں کشمیر ہے؟

وهاٹس اپ نے کشمیر پر جتنے پروفیسر کشمیر کے اندر پیدا کر دیئے ہیں، اس سے زیادہ کشمیر کے باہر پیدا کر دیے ہیں. وهاٹس اپ کے ذریعہ کشمیر کے ذریعہ جس طرح کے حقائق کو گڑھا جا رہا ہے، اس سے حالات بگڑ ہی رہے ہیں . وہی حال باقی بھارت میں بھی ہے. وهاٹس اپ یونیورسٹی کی وجہ سے ہر دوسرا آدمی کشمیر پر رائے رکھتا ہے. میں کشمیر نہیں جانتا. مجھے یہ کیمسٹری سے بھی ٹف لگتا ہے. لیکن باقی ایسا نہیں کہتے کیونکہ سب نے ٹرکوں پر لکھا وہ پیغام پڑھ لیا ہے- دودھ ماگوگے تو کھیر دیں گے، کشمیر ماگوگے تو چیر دیں گے. کھیر دیں گے اور چیر دیں گے اصول سے مسئلہ کشمیر کا کتنا حل ہوا، یہ تو ٹی وی چینلز کے مستقل ایکسپرٹ ہی بتا سکتے ہیں . بیچ بیچ میں جب ٹرک فارمولا فیل ہوتا ہے تو لوگوں کو واجپئی فارمولا یاد آتا ہے.

مزید پڑھیں >>

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا!

وطن عزیز میں طلاق شدہ خواتین سے زیادہ سنگین مسئلہ بغیر طلاق کے بے یارومددگارمعلق چھوڑ دی جانے والی عورتوں کا ہے کہ وہ دوسری شادی کے حق محروم انہیں جسودھا بین کی ماننداپنے شوہر نامدار سے ملنے کیلئے 43 سالوں سے ایک فون کی منتظر رہنا پڑتا ہے ۔ مردم شماری کے مطابق ملک میں ایسی خواتین کی تعداد 23 لاکھ یعنی طلاق شدہ خواتین سے دوگنا ہے۔ ان میں سے 20 لاکھ کا تعلق ہندو سماج سے ہےجبکہ 8ء2 لاکھ مسلمان اور 90 ہزار عیسائی ہیں ۔ ہندو معاشرے میں چونکہ شادی کے وقت خواتین کو پرایا دھن سمجھ کررخصت کردیا جاتا ہے اس لیے وہ نہایت کسمپرسی کی زندگی گذارتی ہیں ۔ ان کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جسودھا بین نے جب پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تو اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ان کے پاس شادی کا حلف نامہ نہیں ہے۔ اس طرح اپنی اہلیہ کو پاسپورٹ سے محروم رکھنے کاجرم خود وزیراعظم سے سرزد ہوگیا۔دیکھنا یہ ہے کیا یوگی جی اپنے رہنما کے خلاف لب کشائی کی ہمت جٹائیں گے یا اپنے پروچن کو بھول کرگرودروناچاریہ کی پرمپرا نبھائیں گے؟

مزید پڑھیں >>

خیرجلیس فی الزمان کتاب

‘‘خیر جلیس فی الزمان کتاب’’یعنی "کتاب"دنیا کی بہترین رفیق ہے، یہ عربی کاایک مشہور مقولہ ہے؛جس کی صداقت سے مجال انکار نہیں اور یہ بھی امرواقعہ ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی انسان کوسب سے پہلے کتابوں سے سابقہ پڑتا ہے اور یہی کتابیں اسے زندگی کے نشیب و فراز، طرزوانداز، بودوباش، رہن سہن غرض ہر قسم کے آداب سکھاتی ہیں ،کوئی انسان کتاب کے بغیر صحیح معنی میں اچھا انسان اور مہذب فرد نہیں بن سکتا،ان ہی کتابوں کا احسان عظیم ہےکہ بلند پایہ مصنفین کےمختلف افکار وخیالات اور حکیمانہ اقوال ونکات ہم تک پہونچ سکے؛حتی کہ خدائے ذوالجلال نے انسانیت کی رشدوہدایت کےلئے جو سلسلہ قائم فرمایا اس میں بھی رجال کے ساتھ ساتھ کتاب کو خاصی اہمیت دی اورمختلف کتب وصحف کو نازل فرمایا ‘‘قرآ ن مجید’’اسی زریں سلسلہ کا حسین خاتمہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

زمین: ایک امانت

ﷲ تعالی نے انبیاء علیھم السلام کو بھیجا تاکہ انسانوں کو انسانوں کی خدائی سے نجات دلا کر تو ایک اور سچے معبود کے تابع کر دیا جائے۔ زمین کے فراعین نے انبیاء علیھم السلام اور انکے ماننے والوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیااور ایک معرکہ کارزار آج تک جاری ہے۔ اس زمین کے اصل وارث وہی لوگ ہیں جو اس زمین کے مالک کے بھیجے ہوئے سامان ہدایت کے حامل ہیں، لیکن یہ عجائبات عالم میں سے ہے کہ غاصبین نے اس زمین کو اپنی تصرف گاہ بنارکھاہے اور اس کے خزانوں کو اپنی ملکیت سمجھنے لگے ہیں ۔ماضی کی یہ جہالت آج سیکولرازم کے نام سے انسانیت کی گردنوں پر مسلط ہے اورتہذیب اورسود کی بیڑیوں سے اس سیکولرازم نے کل انسانیت کو غلامی کی زنجیریں پہنا کر اﷲ تعالی کی اس زمین کو ظلم و ستم سے بھر دیاہے لیکن بہت جلد یہ زمین اپنے حقیقی وارثوں کی طرف پلٹنے والی ہے جب یہاں کا نظم و نسق انبیاء علیھم السلام کی پیروکاروں کے پاس پلٹ آئے گا،انشاء اﷲ تعالی۔

مزید پڑھیں >>

نیٹو: عالمی محاصراتی تنظیم

ایک زمانے میں بادشاہوں کی افواج دشمن کے قلعوں کا محاصرہ کرلیاکرتی تھیں ،دشمن قلعے کے اندر سے اپنا دفاع کرتا تھا۔بادشاہ کی افواج قلعے کے باسیوں کا معاشی ناطقہ بند کر دیتیں ،بعض اوقات پانی بھی بند کردیاجاتااور آمدورفت تو ویسے ہی قلعے سے باہر موجود فوجوں کے باعث معطل ہوچکی ہوتی تھی۔یہ بلیک میلنگ کا ایک طریقہ ہوتا تھا اس طرح بادشاہ کی افواج شہر والوں سے اپنی مرضی کے معاہدے کرواتی تھی،ان سے بھاری بھرکم خراج وصول کرتی،جرمانے اور لگان الگ سے وصول کیے جاتے،وہاں اپنے مرضی کے خلاف کام کرنے والوں کو طرح طرح کے الزمات لگا کر ان کو قتل یا پابند سلاسل کرتے اور ممکن ہوتا تو اس قلعے کو مستقل طور پر اپنی سلطنت میں بھی شامل کر لیتے تھے۔کہنے کو اگرچہ ہم آج ’’جدیددور‘‘میں زندہ ہیں لیکن اس’’ جدیددور‘‘میں بھی سیاسی وسعت پسندی اور عالمی معاشی بدمعاشی اسی طرح بلکہ اس سے بھی بدتر صورت میں موجود ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس توسیع پسندانہ غنڈہ گردی پر ’’امن عالم‘‘کے عالمی ادارے اپنی قانون سازی کی مہر ثبت کر دیتے ہیں ۔نیٹوانہیں مقاصد کی حامل ایک عسکری تنظیم ہے،جس کی دھمکی اور طوق دنیاکے ہر دشمن ملک کی گردن میں ڈال دیاجاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

ونے کٹیار نے کہا تھا آپ بچ گئی ہو نہ؟

دہلی واپسی پر سی بی آئی کے لوگ پوچھ گچھ کے لئے اکثر آفس آتے تھے ... کچھ بچے ہوئے ٹیپ لے لئے تھے ... روی کو تو بار بار سی بی آئی کے دفتر بھی جانا پڑتا تھا. دہلی میں صدر شنکر دیال شرما نے تمام صحافیوں کو ملنے کے لئے بلایا تھا. اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے ایک میمو بھی سونپا تھا. لیکن اس وقت بھی یہ بحث تھی اور اب بھی رہتی ہے کہ بہت سے کیمروں کے باوجود وہ تصويریں کہاں گئی؟ ایک دو اب بھی تصاویر کے علاوہ ویڈیو کہاں گئے ؟

مزید پڑھیں >>

کیا کپڑے اتارنے سے ہی ‘بولڈ اور بیوٹی فل’ ہوں گی لڑکیاں؟

ویڈیو میں نیہا نے لڑکیوں کو بولڈ، بیوٹی، سٹرنگ اور فيرلیس بننے کی صلاح دی ہے، جو کہ درست ہے. ہر لڑکی میں یہ خصوصیات ہونے ضروری ہیں، اور لڑکوں میں بھی.نیہا نے ویڈیو میں شادی کا دباؤ جھیل رہی، سیكسلٹي چھپانے والی اور بچے نہ ہونے کا گلٹ رکھنے والی لڑکیوں کو ان سب دباؤ سے آزاد رہنے کے لئے کہا ہے. اس میں جتنے بھی مشورے نیہا نے دیے ہیں ، واقعی سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آخر کیوں لڑکیاں زندگی میں اتنا بوجھ لے کر زندگی گزاریں ...؟ کیوں ہر بار اميد کا تھیلا انہی کے کندھے پر ٹانگا جائے ؟

مزید پڑھیں >>

طیب اردگان کی کامیابی: خدا جانے کتنی دعاؤں کا اثر ہے!

اگر آج صدر رجب طیب اردگان نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے تو جہاں اس میں ان کے خلوص ،درد وتڑپ ،ملنساری و معتدل مزاجی اورعوامی خدمات ومقبولیت کا دخل ہے ،وہیں اردگان کے لئے خدا جانے کتنی مائوں ،کتنے بچوں ،کتنے بوڑھوں ،کتنے جوانوں، کتنی عورتوں کی صبح وشام کی دعاؤں کا اثر ہوگا،جن کے دلوں کو اردگان نے جیت لیا اور جنہیں ظلم وستم سے نجات دلاکر امن واطمینان کی زندگی گزارنے کے لئے اپنی سرزمین پر رہائش فراہم کی اور ظالموں کے چنگل سے نکالنے کے لئے ہرممکن تگ ودو کی۔

مزید پڑھیں >>