سیاست

حافظ صبغۃ اللہ کی شہادت اور والد کا مثالی کردار

اشرف عباس قاسمی

دسویں کے طالب علم نہتے اوربے قصور حافظ صبغۃ اللہ مرحوم کے سفاکانہ قتل کی خبر سے یوں تو ملک کے ہر اس باشندے کو سخت تکلیف پہنچی جس کے اندر ذرا بھی انسانیت کی رمق ہے، تاہم دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ، طلبہ وجملہ کارکنان کے لیے اس معنی کر بھی یہ خبر انتہائی الم انگیز تھی کہ تعداد کے اعتبار سے طلبۂ دارالعلوم کی سب سے بڑی جماعت دورۂ حدیث شریف کے ترجمان مولوی عطاء اللہ کے حقیقی بھائی کی شہادت کی خبر تھی۔ چنانچہ دارالعلوم میں یہ خبر اسی اعتبار سے عام ہوئی، حضرت مہتمم صاحب سمیت جملہ اساتذہ نے عطاء اللہ کی تعزیت کی اور درس گاہوں میں اجتماعی دعاء کا اہتمام کیا، احقر بھی باضابطہ تعزیت کے لیے کل (۲/اپریل /۲۰۱۸)فجر بعد متصلا عزیز گرامی عطاء اللہ کی قیام گاہ رواق خالد کمرہ نمبر۳۹پہنچا اور وہاں موجود مرحوم صبغۃ اللہ کے دونوں حقیقی بھائیوں سے ملاقات کر کے تسلی دینے کی کوشش کی۔ مجھے محسوس ہوا کہ ظالموں نے صبغۃ اللہ کو شہید کرکے کتنے ننھے دلوں کا خون کر دیا ہے، صبغۃ اللہ کو امید ہے رحمت الہی اپنے جلو میں لیے ہوگی اور ہمیشہ کے لیے اس کو قرار آ گیا ہو گا ؛لیکن اس کے ماں ، باپ، بھائی بہن کے دلوں پر جو زخم لگا ہے نہ جانے اس کے مندمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟ اورجب تک ان دلوں سے نکلنے والی آہیں ممکن ہے ظالموں کے خرمن کو خاکستر کردیں۔

عطاء اللہ کی اس اطلاع پر مجھے اپنے آپ پر قابو رکھنا انتہائی مشکل ہو ررہا تھا کہ آج ہی کے دن اس کے سر پر دستار سجنی تھی اور حفظ قرآن کاتمغہ دیاجاناتھا کیونکہ انہی دنوں میں اس نے حفظ قرآن کی تکمیل کی سعادت حاصل کی ہے، میں نے تسلی دی کہ اب اسے نہ دسویں کے رزلٹ کی ضرورت ہے اور نہ مادی ہاتھوں سے سرپر دستار سجانے کی، اسے تو انشاء اللہ ہمارے اور تمہا رے تصورات سے بڑھ کر کامیابی اور دستار عظمت نصیب ہو چکی ہے، عطاء اللہ نے پہلے بھی بتا رکھا تھا کہ ہم لوگ اصلا بہار کے سمستی پور ضلع کے ایک خانوادہ سادات سے تعلق رکھتے ہیں ، خاندان سے متعلق دستاویز اور شجرے یا تو پاکستان میں خاندان کے بعض بزرگوں کے پاس ہیں یا  پٹنہ کی خدابخش لائبریری میں ہیں ۔ دادا کے بعد  والد محترم جناب مولاناامدا د اللہ صاحب گزشتہ تیس سالوں سے آسنسول میں امامت اور تعلیم وتربیت کے کاز سے وابستہ ہیں ۔ مولاناامداداللہ صاحب جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے فیض یافتہ ہیں ، مولانا کے آٹھ بیٹوں  میں  مرحوم چوتھے نمبرکے تھے۔

 اس کے بعدعطاء اللہ نے زیادہ تر وہ باتیں بتلائیں جو میڈیا میں آ چکی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دوپہر کے وقت ہنگامہ اور شور سن کر میرا بھائی صبغۃ اللہ کھانا چھوڑ کر باہر نکل گیا، اسی دوران بھیڑ پر پولیس کی طرف سے آنسو گیس چھوڑے جانے کے بعد نہ جانے کس طرح اسے چند شرپسندوں نے دبوچ لیا اور تلاش کے باوجود نہ مل سکا، فوری طورسے پولیس کو اطلاع کر دی گئی، مقامی ایم ایل اے کو بھی خبردار کر کے تعاون کی درخواست کی گئی لیکن ٹال مٹول اور جھوٹی تسلی کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکا۔

 شر پسندوں نے انسانیت کی ساری حدیں پار کر دیں اور انتہائی بے دردی کے ساتھ اس کی جان لے لی،پولیس بہ مشکل تمام لاش دینے پر آمادہ ہوئی، مسلمانوں میں اس ظالمانہ واقعے کے بعد اشتعال فطری تھا، ویسے بھی جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا وہاں ہندو بہت کم ہیں اور بڑی تعداد میں مسلمان ہیں اس لیے مسلم نوجوانوں نے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور نماز جنازہ کے بعداس ہندو آبادی پر یلغار کے بارے میں سوچنے لگے جہاں مرحوم کی جان لی گئی تھی۔ صورت حال انتہائی نازک تھی، ایسالگ رہا تھا کہ اب فسادات، قتل در قتل اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، ایسے خطرناک حالات میں مرحوم کے والد مولانا امداداللہ رشیدی نے وہ کر دکھایا جس کا حوصلہ امن کے بڑے بڑے ٹھیکیدار اور دیش دوستی کی راگ الاپنے والے کو بھی نہیں ہوپاتا، مولانا نے سب سے پہلے ان ہندئوں کو چھڑانے کی فکر کی جو ہنگامے کی وجہ سے اب تک مسلم علاقوں میں محبوس ہراساں و ترساں تھے، اس کے بعد مولانا نے جذباتی انداز میں امن کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں سے کہہ دیا کہ اگر انہوں نے  کوئی انتقامی کارروائی کی تو شہر چھوڑ کر چلے جائیں گے، مولانا کا چونکہ علاقے کے مسلمانوں پر خاصا اثر ہے اس لیے مسلمانوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی مولانا کی ہدایت کے سبب سپر ڈال دئے اور اس طرح درجنوں جانوں کا اتلاف رک گیا۔

 یہ درحقیقت مولانا کی لازوال قربانی، مومنانہ بصیرت و انسان دوستی ہے جس نے فرقہ پرستی کی بھٹی  میں تپ رہے عزیز وطن کو نئی راہ دکھائی جس کی پورے ملک میں سراہنا ہو رہی ہے، ہمارے خیال میں حکومت کے طرف سے بھی مولانا کے جذبے کا احترام کرتے ہوئے امن کا ایوارڈ تفویض کیا جانا چاہئے، مولانا نے ان لوگوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا جو انسانوں کی جلی ہوئی لاشوں پر اپنی سیاسی روٹی سیکنا چاہتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مولانا نے جو کچھ کیاہے وہ صرف اپنے خدا کو راضی کرنے اور پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی اتباع میں کیا ہے، ان انسانوں کی محبت میں کیا ہے جنہیں خدا کا کنبہ قرار دیا گیا ہے، ان کے حساس دل نے گوارہ نہ کیا کہ کسی اور باپ کو اپنے لخت جگر کے کھونے کا صدمہ برداشت کرناپڑے، مولانا کی اس قربانی کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اس لیے انہوں نے خالص سیاسی لوگوں سے دوری بنائے رکھی۔

  واقعہ یہ ہے کہ مولانا کا یہ جذبہ انتہائی قابل قدر ہے، آسنسول کے جس فساد زدہ ماحول کو کنٹرول کرنے میں ممتا کی پولیس اور مرکز کے دستوں کے ہاتھ پائوں پھول جاتے اور حکومتی مشنریوں کے لیے جو کام آسان نہ تھا مولانا  کے چند جملوں نے وہ کام کردکھایا، آسنسول پر سکون ہو گیا، البتہ مولانا کے جذبے کی وسعت اور کمال اخلاص کا تقاضہ تھا کہ پورے ملک میں یہ آواز سنی جاتی اورہر جگہ فرقہ پرستی کی چنگاری بجھ جاتی، تاہم اب تک ایسا نہیں ہو سکا ہے، اقتدار کے پجاری اور انسانیت کے دشمن ہرممکن کوشش کررہے ہیں کہ اس طرح کی آوازیں دب جائیں ، کیوں کہ انہیں یہ احساس ہے کہ ہم ملک کے عوام کے لیے تعمیری قسم کا کام نہیں کر سکے ہیں اس لیے فرقہ پرستی کی رتھ پر سوار ہو کرہی ۲۰۱۹ کا معرکہ سر کیا جاسکتا ہے۔

 اس لیے آنے والے کچھ دنوں میں وہ دوسرے مقامات پر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کھائی اور گہری کرنے کے لیے  اس طرح کی مزید مذموم حرکت کی کوشش کریں گے، تاہم مولانا امداد جیسے لوگ ان کے منصوبوں کی تکمیل میں حائل ہوتے رہیں گے جو نفرت کے اس ماحول میں بھی محبت کے پھوار برساتے رہے ہیں۔

 ان کا جو کام ہے، وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے پہنچے جہاں تک پہنچے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close