اے دل یہ روز روز کی آہ و فغاں سے ہم

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

اے دل یہ روز روز کی آہ و فغاں سے ہم
بیزار ہو چکے ہیں تری داستاں سے ہم

پل میں غبار راہ کی صورت بکھر گئے
پیچھے جو رہ گئے تھے ذرا کارواں سے ہم

دنیا سمجھ رہی ہے گنہگار جب ہمیں
لائیں کوئی گواہ تو آخر کہاں سے ہم

دل پر بھی کیا ستم ہوئے اب کے بہار میں
اب کیا بتائیں آپ کو اپنی زباں سے ہم

واعظ تو آج درس عقیدت نہ دے ہمیں
آئے ہیں لوٹ کر ابھی کوئے بتاں سے ہم

ہم کو یقین ہے ترے انکار پر مگر
سننا یہ چاہتے ہیں تیری زباں سے ہم

اپنے لہو سے ہم نے لکھی تھی جو داستاں
محذوف ہو گئے ہیں اسی داستاں سے ہم

اچھے دنوں کی چاہ میں ہر روز ہر گھڑی
گذرے تمام عمر نئے امتحاں سے ہم

درباریوں کی بھیڑ تھی فیاض اس لئے
چپ آپ لوٹ آئے ترے آستاں سے ہم

تبصرے بند ہیں۔