تعدد ازدواج معاملہ: ملک وملت اسلامیہ کو الجھائے رکھنے کی ایک اور کوشش

عمیر کوٹی ندوی

بی جے پی کےدہلی پردیش کے ترجمان اورسپریم کورٹ کے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی طرف سےکثرت ازدواج اور نکاح حلالہ پر پوری طرح سےپابندی عائد کرنے کےلئے  داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی سمیت اس تعلق سے داخل کردہ چار درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت ، وزارت قانون و انصاف،  خواتین و بچوں کی فلاح وبہبود کی وزارت اور تمام فریقوں  سے جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نکاح متعہ اور نکاح مسيار (مخصوص مدت کے لئے شادی کا معاہدہ) پر بھی مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل سے اس معاملے میں عدالت کا تعاون کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔

 زیر بحث معاملہ میں جن لوگوں نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے ان میں بی جے پی کےدہلی پردیش کے ترجمان اشونی کمار اپادھیائے کے علاوہ ثمینہ،نفیسہ خان، معلم محسن بن حسین کے نام شامل ہیں ۔ مفاد عامہ کی درخواست میں تعدد ازدواج، نکاح حلالہ، نکاح متعہ اور نکاح مسيار کو غیر آئینی قرار دئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لاء (شریعت) درخواست ایکٹ، 1937 کی دفعہ 2 کے لیے آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21 اور 25 کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا جائے۔ تعزیرات ہندکے 1860 کے التزام تمام ہندوستانی شہریوں پر یکساں طور سے لاگو ہوں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلاق ثلاثہ تعزیرات ہند کی دفعہ 498  اے کے تحت ایک ظلم ہے۔ نکاح حلالہ تعزیرات ہند کی دفعہ 375 کے تحت عصمت دری اور تعدد ازدواج تعزیرات ہند کی دفعہ 494 کے تحت ایک جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے تعدد ازدواج اور حلالہ کے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے اس معاملے کو وسیع تر آئینی بنچ کو بھیج دیا ہے جو معاملے کی تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا تعدد ازدواج اور حلالہ بھی طلاق ثلاثہ (طلاق بدعت) کی طرح غیر قانونی ہیں ۔ اس موقع پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اس سے قبل گزشتہ برس طلاق ثلاثہ کے معاملہ کی سماعت بھی  سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے کی تھی۔ پانچ رکنی اس آئینی بنچ  کی صدارت  اس وقت کے چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر  نےکی تھی۔ اس میں چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر   کے علاوہ جسٹس کورین جوزف، جسٹس روهگٹن ایف نریمن، جسٹس ادے امیش للت اورجسٹس عبدالنذیر شامل تھے۔ طلاق ثلاثہ کے معاملہ کی سماعت کے آغاز میں ہی  چیف جسٹس نے کہہ دیا تھا کہ عدالت اس معاملے پر سماعت کرے گی کہ طلاق بدعت اسلام کا اصل حصہ ہے یا نہیں ؟

 اسی طرح آئینی بنچ نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ  وہ طلاق بدعت کی آئینی موزونیت پر ہی سماعت کرے گی،تعدد ازدواج پرفی الوقت غور نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملہ کی سماعت کے بعد آئینی بنچ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت نے قانون سازی کی طرف قدم بڑھایا اور مسلم خواتین (شادی کےحقوق کا تحفظ) بل 2017 "The Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Bill, 2017” کے عنوان سے  ایک ایسا بل تیار کیا گیا جس سے ماہرین قانون بھی اتفاق نہیں کرتے۔

اس بل کے تعلق سے واضح الفاظ میں کہا گیا کہ یہ بل نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ملک کے دستور اور سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کے بھی خلاف ہے۔سردست یہ بل لوک سبھا سے پاس ہوکر راجیہ سبھا میں ہے۔ مسئلہ ملک گیر سطح پر زیر بحث ہے اور مسلمانان ہند اپنی تشویش اور عدم اتفاق کا اظہار کررہے ہیں ، وہ اسے راست طور پر شریعت اسلامیہ میں مداخلت تصور کررہے ہیں۔

 مسلم خواتین جن کے بارے میں حکمراں طبقہ نے یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اس بل کے ساتھ ہیں اور حکمراں طبقہ ان کا مسیحا ہے وہ بھی کھل کر کے اس کی مخالفت کررہی ہیں اور بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ وہ اسلام کے ساتھ ہیں اور اسلام کے دائرہ میں رہ کر مطمئن ومحفوظ ہیں۔ یہی نہیں ، ملک کے سنجیدہ اور ہوش مند شہری بھی اس پر اپنی ناپسندیدگی اور عدم اتفاق کا اظہار کررہے ہیں ۔ اس کی خامیوں اور خلاف آئین ہونے  کی بات کررہے ہیں اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ان سب سے ماوراء حکمراں طبقہ اپنی بات پر اڑا ہوا ہے  اور  اپنی راہ پر گامزن ہے۔ اس وقت اس کی گہری دلچسپی ملک  اور ملک کے شہریوں کے مسائل کو حل کرنے اور ان وعدوں کو پورا کرنے  میں نہیں ہے جن کے ذریعہ اسں نے ملک کے عوام کا ووٹ حاصل کیا تھا بلکہ اس کی اصل دلچسپی تو اسلام کو نشانہ بنانے اور مسلمانوں کے شیرازے کو منتشر کرنے میں ہے۔

حکمراں طبقہ  کےسبرامنیم سوامی جیسے  لیڈروں نے تو بہت پہلے کہہ دیاتھا کہ وہ فقہی اختلافا ت کی بنیاد پر مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اُس وقت سے اِس وقت تک یہی ہو رہا ہے۔ طلاق ثلاثہ میں بھی مفادعامہ کاسہارا لیا گیا اور اس معاملہ میں بھی اس کا سہارا لیاگیا۔ حالانکہ دستور میں یہ گنجائش اس لئے تو نہیں تھی۔ بی جے پی کےدہلی پردیش کے ترجمان اورسپریم کورٹ کے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی ہی اگر بات کی جائے جنہوں نے اس بار مفادعامہ کی عرضی داخل کی ہے اور ان کی عرضی کی وجہ سے  اس وقت مذکورہ معاملہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت آیا ہے۔ اس سے پہلےخود سپریم کورٹ  نے مفاد عامہ کے معاملہ میں ان کی سرزنش کی تھی۔

16؍دسمبر 2016کی خبر ہے کہ  اشونی کمار اپادھیائے کے ذریعہ مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کرنے پر  سپریم کورٹ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ مفاد عامہ کی بار بار عرضی داخل کرنے پر سپریم کورٹ نے کہاتھا کہ عدالت کوئی سیاسی میدان نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے ان سے کہا تھا کہ "کیا آپ سپریم کورٹ میں بی جے پی کے لئے مہم چل رہے ہیں ؟۔ کیا آپ کی پارٹی نے آپ کو سپریم کورٹ میں درخواست دینے کا ہی کام سنوپ رکھا ہے؟”۔خبر کے مطابق  عدالت نے یہ بھی  کہا تھا کہ ” کیا کسی نہ کسی  مسئلہ  پر بار بار مفادعامہ کی عرضی داخل کرنے کے لئے آپ کی پارٹی آپ کو فنڈز فراہم کرتی ہے؟ آپ بی جے پی کے ترجمان ہیں تو عدالت میں کیا کر رہے ہیں ؟”۔ اشونی کمار اپادھیائے کی زیر سماعت اور زیر بحث مفاد عامہ کی عرضی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ  ماضی میں سپریم کورٹ کی ان پر ناراضگی بلاوجہ اور بے بنیاد نہیں تھی۔ زیر بحث معاملہ میں سماعت کے درمیان اس پہلو پر ایک بار پھر غور کرنا  چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔