درمیاں ابر کے ہیں آب سے نا واقف ہیں

افتخار راغبؔ

درمیاں ابر کے ہیں آب سے نا واقف ہیں

ہم کہ بے مہریِ احباب سے نا واقف ہیں

ایسے پودے ہیں کہ واقف نہیں شادابی سے

ایسی ندیاں ہیں کہ سیلاب سے نا واقف ہیں

ایسے بھی گُل ہیں جو واقف نہیں رنگ و بو سے

ایسی آنکھیں بھی ہیں جو خواب سے نا واقف ہیں

جسم کو اپنے سمجھتے ہیں حسیں تاج محل

اور وہ بارشِ تیزاب سے نا واقف ہیں

کم نہیں زعم اُنھیں اپنی سخن دانی کا

گفتگو کے بھی جو آداب سے نا واقف ہیں

جب سے دیکھا ہے تصوّر میں تمھارا چہرہ

ایسا لگتا ہے کہ مہتاب سے نا واقف ہیں

اُن کو اندازہ ہو کیسے مِری غرقابی کا

جو تِری آنکھوں کے گرداب سے نا واقف ہیں

چوٹ لگتی ہے تو اب درد کہاں ہوتا ہے

رنج ہوتا ہے کہ احباب سے نا واقف ہیں

اس کی آغوش میں پلتی ہے ہماری عقبیٰ

آپ جس عالمِ اسباب سے نا واقف ہیں

سادہ لوحی ہے کہ بے مہری کہاں کھُلتا ہے

دل میں رہ کر دلِ بے تاب سے نا واقف ہیں

کچھ تقاضا بھی ہے حالات کا ایسا اے دل

’’کچھ تو ہم رونے کے آداب سے نا واقف ہیں‘‘

اُن کا چہرہ ہے پُر اسرار صحیفہ راغبؔ

حفظ ہم کر کے بھی ہر باب سے نا واقف ہیں

تبصرے بند ہیں۔