مولانا سلمان ندوی صاحب کا حالیہ موقف: کچھ قابل غور پہلو

اکرام الہی

قطع نظر اس سے کہ جب دونوں فریق عدالت کے فیصلہ پر رضامند اور مطمئن ہوکر فیصلہ کا انتظار کررہا تھا تب بھی مولانا نے اتنی جلدبازی کا مظاہرہ کیوں کیا۔ قطع نظر اس سے کہ انہوں نے پوری دنیا کے سامنے بورڈ کے ارکان کی تذلیل کی اور بورڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ چہ جائیکہ کہ وہ  اپنے علاوہ تمام علماء کو فسادی کہلوانے اور منوانے کا باعث بنے بورڈ کو شدت پسند اور ڈکٹیٹروں کا کھلونا بتایا بورڈ کی معتبریت پر سوال اٹھایا۔ درگزر کرتے ہوئے اس بات سے کہ انہوں نے اپنی رائے سے ایک نیے انتشار کو پیدا کرنے کا رول ادا کیا اور دنیا کے سامنے بورڈ اور مسلمانوں کے نمائندوں کی رسوائی کا باعث بنے۔ تسلیم کہ انہوں نے بورڈ اور مسلمانوں کی نیت پر سوال اٹھایا ہے بورڈ  اور جو لوگ بورڈ کے موقف کو مانتے ہیں جناب نے ان کی بے لوث قربانیوں اور پرخلوص جدوجہد کو مطلبی اور سیاسی قرار دیا آپ نے آج تک چائنل کے ڈبیٹ میں بابری مسجد کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی شان میں فرمایا:

"یہ سب بابری مسجد کو ایک سیاسی ایشو بنا رہے ہیں یہ روٹیاں سینک رہے ہیں یہ اپنے کھانے چلا رہے ہیں”

اس بیان پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ مولانا نے انتقام کی رو میں بہہ کر مسلمانوں کی نصف صدی کی پر خلوص جدوجہد جہد کا خون کردیا آپ کے بیان نے سید شہاب الدین اور ہاشم انصاری کی روح کو تڑپادیا ہوگا آپ نے مسلمانوں کی تمام تر جذبات کو سیاسی کہہ کر ایک گہرا زخم لگایا ہے جو جلد مندمل نہیں ہوگا۔

ہوسکتا ہے کہ آج وہ بورڈ سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس کو رسوا کرنا ان کا مقصد ہوچکا ہے۔

بہت لوگوں کو یہ کہنے کا جواز ہوگا کہ وہ عدم تقلید کے قائل ہوچکے ہیں کیونکہ جب عاصم وقار اور ایک دو اور لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ حنفی ہیں یا حنبلی تو وہ کوئی صاف جواب نہیں دے سکے جبکہ وہ کہہ سکتے تھے کہ میں حنفی ہوں یا کچھ اور مگر بوقت ضرورت دوسرے مسلک پر فتوی دیا جاسکتا ہے مگر وہ سوال گول کرگئے ان سے سوال یہ نہیں تھا کہ آپ مسلمان ہیں یا نہیں مگر وہ مسلمان ہونے کو ثابت کرنے پر تلے رہے۔

کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وحدت ادیان کے قائل ہوچکے ہیں جیسا کہ انہوں نے این ڈی ٹی وی کے ڈبیٹ میں فرمایا تھا:

"اس لیے اگر رام کے نام سے مندر بنتا ہے جہاں ان کی تعظیم ہوتی ہے اور اللہ کی ایشور کی عبادت ہوتی ہے تو یہ ایک اچھا عمل ہے”

ان کے اس قول میں وحدت ادیان کا اثر صاف دکھ رہا ہے۔

الگ بات ہے کہ مولانا آج دوسروں کے لب و لہجہ اور شدت پسندی کا بھرم پھیلا رہے ہیں جبکہ گزشتہ سالوں میں کچھ مخصوص مسئلوں پر سب سے سخت اور حکمت و مصلحت سے مجرد شدید موقف مولانا ہی کا تھا اور ان کی تقریر کن لب و لہجہ کی تھی اور اس میں کس قدر سخت  اشتعال انگیز برانگیختہ کن اور ناقابل ضبط جملوں اور فقروں کی بھرمار ہوتی تھی جب کہ آج وہ دوسروں کو شدت پسند کہہ رہے ہیں اور ان کی اشتعال انگیز تقریروں کا نمونہ دے رہے ہیں حالانکہ اگر انصاف پسند لوگ مولانا کی کی تقریر کا دوسروں سے موازنہ کریں تو اس فسانہ کی حقیقت کھل جائے گی۔

آج مولانا امن و آشتی اور دعوت اسلام کی بات کرتے ہیں۔

اس بات سے چشم پوشی کرتے ہوئے کہ مشہور داعی مولانا کلیم صدیقی صاحب کے ساتھ انہوں نے کیا سلوک کیا اور ان کے خلاف ایک کتابچہ لکھا جس کی حقیقت تو وہ جانتے ہیں مگر کتاب کے تسمیہ میں جو بے ادبی کی گئی تھی کسی بھی طرح نامناسب تھی چنانچہ کتابچہ کا نام تھا

"کلیم پھلتی”

اس بات کو درکنار کرتے ہوئے کہ کل وہ داعیان اسلام اور دعوت دین کی تحریک چلانے والوں کی حوصلہ شکنی کررہے تھے اور آج دعوت اسلام کی بات کیوں کررہے ہیں ۔

ان تمام فکری لغزشوں سیاسی بھول چوک اور (میرے  ناقص فہم کے مطابق   ) انتقامی کارروائی کو تسلیم یا نظر انداز کرتے ہوئے ۔

ان سب کے باوجود اور ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے بھی ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا سلمان ندوی صاحب ہماری قوت تھے وہ امت کے لیے باعث تقویت  تھے انہوں نے اسلام و مسلمانوں کی تائید و نصرت کیلئے بڑی کوششیں کی ہیں انہوں نے ہزاروں افراد کی دینی و شرعی تربیت فرمائی ہے ان کے زیر سرپرستی تعلیم حاصل کرنے والے افراد مختلف مقامات پر مختلف طریقے سے دین کی خدمات انجام دے رہے ہیں وہ ایک عظیم مستند تاریخی اور معتبر ادارہ سے وابستہ مسلم شخصیت ہیں اور وہاں دینی کتابوں کی تدریس فرماتے ہیں وہ ایک مشہور اور عظیم عالم ہیں لوگوں کے دلوں میں ان کا ایک خاص مقام و مرتبہ ہیں ان کے چاہنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے وہ اس عظیم خانوادہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ملت کے لیے دی گئی قربانیوں کے تذکرہ و اعتراف کے  بغیر ملک کی تاریخ ادھوری اور نامکمل ہے ملک کی کوئی بھی تنظیم یا ادارہ ایسا نہیں ہے جو اس خانوادہ کی خدمات اور جدوجہد سے کنارہ کشی کا دعوٰی کرسکے اس خانوادہ نے نہ صرف ملک و قوم تنظیموں و اداروں ہی کی خدمات کی بلکہ اسلامی علوم و فنون کی بھی اپنے خون جگر سے آبیاری کی ہے اور دینی علوم کے ذخیرہ میں کئی عظیم اور وقیع کتابوں کا اضافہ کیا ہے نزہت الخواطر اسی خانوادہ کی دین ہے۔

اس لیے اگر آپ کو ان کی رائے سے اختلاف ہے تو ضرور کیجیے اور میں خود کرتا ہوں لیکن ایک خاص دائرہ اور حد تک ہی اپنے کو محدود رکھیں آپ ان کی رائے پر ضرور تبصرہ کریں شخصیت پر نہیں آپ ان کے نظریہ کی بال کی کھال نکالیں مگر ان کے کردار کو زد میں نہ لائے ان کی خدمات کا انکار نہ کریں خواہ آپ کے نزدیک وہ سب سے بڑے عالم نہ ہو ں مگر ملک کے بڑے عالم ضرور ہیں آپ اس کا لحاظ رکھیں ان کی نیتوں پر سوال نہ اٹھائیں ان کے نیک جذبات کی قدر کریں۔

ہاں یہ بات الگ ہے کہ وہ فی الوقت اپنے خانوادہ کے خلاف رائے رکھتے ہیں جبکہ وہ مولانا علی میاں صاحب کی رائے کا حوالہ دیتے ہیں حالانکہ مولانا علی میاں صاحب کی یہ رائے کبھی نہیں رہی۔

لیکن پھر بھی یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کل تک وہ ہمارے قائدین کے ساتھ مل کر شانہ بشانہ امت کی فلاح و بہبود اور نصرت و تقویت کے لیے آرام و سکون کو تج دیتے رہے قوم و معاشرہ کی اصلاح کے لیے رات دن اور مسافتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سینکڑوں اسفار کیے ہزاروں افراد کی دینی و اسلامی تربیت کی نو جوانوں کو عزم و حوصلہ اور اسلام کی سربلندی کی تعلیم دی۔

جب ملک میں وندے ماترم کے تعلق سے آوازیں اٹھیں آپ نے جگہ جگہ ایمان افروز تقریر کرکے اسلام کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیا گذشتہ سالوں میں جب شریعت میں ترمیم کرنے کی کوششیں کی گئیں اس وقت بھی آپ نے لوگوں کو رسوخ اور اسلامی سربلندی کا درس دیا لوگوں کی بے چینی دور کی لوگوں کو اسلام کی حقانیت اور اس کی افادیت سے روشناس کرایا ۔

اور آج بھی آپ نے دعوت الی اللہ اور توحید کا پیغام پہنچانے کی مستحسن اور لائق تقلید کوشش کی ہے ٹی وی چائنل جو کل تک  اسلام کو بدنام کرنے اسلام کی خوبیوں پر پردہ  ڈالنے کا کام انجام دے رہا تھا جب اس کا مقصد اسلام کو دبانا اور توحید کے پیغام کو پھیلنے سے روکنا تھا آپ نے بخوبی اسی اسٹیج سے توحید کا غلغلہ بلند کیا وحدت کا پیغام عام کیا لوگوں کو اسلام کی جامعیت عمومیت  اور یونیورسلیٹی سے واقف کرایا جس میڈیا میں اسلام کی شدت پسندی کے چرچے تھے اسی میڈیا کے ذریعے سے آپ نے ملک کو اسلام کی امن و امان اور صلح پسندانہ فطرت کا رخ پیش کیا پہلی بار کسی نے براہ راست خطاب کرکے یہ دعوت دی ہو کہ اسلام تمام لوگوں کا مذہب ہے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم صرف مسلمان نہیں بلکہ تمام انسانیت کے نبی ہیں ممکن ہے اس سے پہلے میڈیا میں ایسا ضرور ہوا ہوگا مگر اتنی بے ٹک براراست بلاواسطہ برادران وطن کو اسلام کی طرف مدعو کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے پہلی بار ہوا ہے کہ کسی عالم دین نے لوگوں سے اسلام کے متعلق جاننے کی درخواست کی آپ ڈبیٹ دیکھیے جواب دیتے دیتے مولانا کس طرح دعوت کا موقع نکال لیتے تھے اور صاف صاف بے جھجک بے لاگ لپیٹ کے توحید کا پیغام پہنچادیا پہلی بار ایسا ہوا ہوگا برادران وطن کی اتنی بڑی تعداد کو دعوت اسلام ملی مولانا جس بھی چائنل میں گئے انہوں نے بحث کے بیچ سے دعوت کا موقع ضرور نکال لیا اور ملک کے ایک بڑے طبقہ کو بغیر کسی جھجک کے اسلام کی الی الناس  جمیعا کی حقیقت ضرور بتادی مولانا کی یہ کوشش جرات طرز فکر دردمندی کی ہم قدر کرتے ہیں اور اسے قابلِ تقلید سمجھتے ہیں امید ہے ڈبیٹ میں شریک ہونے والے حضرات دعوت کے فریضہ کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انجام دیں گے جیسا کہ مولانا نے ان کے لیے ایک نمونہ چھوڑا ہے میں نے جوبھی ڈبیٹ دیکھا میرا احساس یہی رہا کہ میں نے اس خوبی اور جرات کے ساتھ ٹی وی پر دعوت اسلام دیتے ہوئے میں نے تو کسی کو آج تک نہیں سنا ممکن ہے دوسروں نے سنا ہو ۔

فی الوقت مولانا نےجو موقف اختیار کیا ہے وہ واقعتاً  جمہور علماء کے خلاف ہے اور خود ان کے مرشد و مقتدا مولانا علی میاں صاحب کے بھی خلاف ہے انہوں نے یہ موقف کیوں اختیار کیا اس سلسلہ میں کوئی رائے پیش کردینے سے قبل ضروری ہے کہ ہم روی شنکر کے ساتھ میٹنگ میں مولانا نے جو بیان دیا اسے پیش نظر رکھیں پھر کوئی فیصلہ کریں مولانا کے بیانات کے چند منتخب حصے ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔

"اس وقت (آزادی کے بعد سے) سے لیکر آج تک 25 سے 30 ہزار فسادات ہوچکے ہیں اتنے فسادات انگریزوں کے دور میں بھی نہیں ہوئے تھے معلوم نہیں کون سے بھوت جنگل کے کون سے درندے مسلط ہوگئے جن کو اسی میں مزا آتا رہا کہ انسانوں کو کاٹے ان کا خون پیے ان کی گردنوں کو اور ان کے جسم کے حصوں کو کھیتوں اور باغوں میں پھینک دے یہ ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ دن بھی آیا کہ پوری بھیڑ نے درندوں کی بھیڑ نے بابری مسجد کو توڑا جو ایک مجرمانہ بہت ہی بڑے پاپ کا کام ہے جس سے برا کام ہو نہیں سکتا۔ نگاہوں کے سامنے ہیں وہ مجرم سب کو ان کے نام معلوم ہیں ان کے چہرے ریکارڈ ہیں ان کے چہرے سب کیمرے میں موجود ہیں اور پچیس سال لگ گئے سپریم کورٹ کو اس مسئلہ کا حل پیش کرنے میں یہ عدالتی ادارہ ہے جہاں لاشیں تڑپ رہی ہوں مسجد ڈھائی گئی ہوں ظلم ہوا ہو وہاں سپریم کورٹ کے جج جو ہیں کیا اندھے بہرے ہیں ان کو انصاف سمجھ میں نہیں آتا وہ مسئلہ کا فیصلہ نہیں کرسکتے اور پچیس سال کے بعد بھی جوں کا توں ہے مسئلہ "۔

جو لوگ بہت شدت پسند ہیں اور گندی باتیں کرتے ہیں اور زہر اگلتے ہیں ان سے کہنا چاہیے کہ جنگل میں جاؤ تم جنگل میں جاؤ تم دوسروں سے کہتے ہو پاکستان جاؤ لیکن تم جنگل میں جاؤ بھٹوں میں جاؤ بلوں میں جاؤ تم ناگ ہو ازدہے ہو بھیڑیے ہو”

بس اتنا عرض ہے کہ بی جے پی کے اشارہ پر کام کرنے والا کبھی فرقہ پرستوں کے خلاف اتنا سخت نہیں ہوسکتا پاکستان بھیجنے والوں کے خلاف اتنا سخت لب ےلہجہ آج تک کسی نے استعمال نہیں کیا ہوگا ۔

نیز آپ نے فرمایا :

” ہم کو یہ اعلان کرنا ہے کہ کوئی اگر اب جنگل کا راج اختیار کرتا ہے تو اس کو یا تو جنگل میں رہنا ہے یا جیل میں”

صاف واضح ہے کہ مولانا یہ سب فرقہ پرستوں کے ہتھکنڈوں کو بے کار کرنے کے لیے کررہے تھے چنانچہ مولانا کہتے ہیں:

"تاکہ وہ لوگ سائڈ ہو جائیں جو تشدد پر یقین رکھتے ہیں جو غلط بول بولتے ہیں جن کے منہ سے زہر نکلتا ہے ایسے لوگ آج میڈیا میں بھی ہیں ایسے لوگوں کو بڑا موقع دیا جا رہا ہے ٹی وی چائنلس پر اور ایسے لوگوں بہت اچھالے جارہے ہیں لیکن وہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور ان کو کنارہ ہونا ہے اور آج نہیں تو کل۔ "

یہ ثابت کرتا ہے کہ مولانا فرقہ پرستی سے کس قدر بیزار ہیں ۔

گورکشک کی غنڈہ گردی پر مولانا فرماتے ہیں:

” اس کے بعد ان کو مار دیا جاتا ہے گائے مری کہ نہیں یہ تو پتہ نہیں لیکن یہ ہوجاتا ہے ایسے لوگوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تمہارے پاس ہمت ہے تو سعودی عربیہ اور قطر اور امارات اور دبئی اور ابوظہبی اور اس کے بعد جتنے بھی مسلم اسٹیٹس ہیں ان سب کا بائیکاٹ کرو سفارت خانے بند کرادو سب جگہ گائے کھائی جاتی ہے یورپ اور امریکہ ا… آپ تعلقات ختم کیجیے کہ بھائی تم لوگ ہماری گائے کو کاٹتے ہو ہماری ماں کو کاٹتے ہو ہمارا تم سے رشتہ ختم ہو برطانیہ والوں فرانس والوں سعودیہ والوں ہم تمہارے سفارت خانے بند کرتے ہیں یہ ہمت ہے؟ کمزوروں پر ہاتھ ڈالنے والے یہ درندے ہیں انسان نہیں "۔

مولانا کی بیس منٹ کی تقریر اسلام کی حقیقت اس کی جامعیت  اس کی رواداری (اس موقع سے مولانا نے یہ حدیث بھی بیان کی”  الخلق عیال اللہ ") اور فرقہ پرستی اور اس سے جنگ پر مشتمل تھی سارا زور فرقہ پرستی کے خلاف تھا اور فارمولہ کا بیان تھا فارمولہ کی وکالت میں مولانا نے زیادہ وقت صرف نہیں کیا  پوری تقریر سلجھی اور سنجیدہ لب و لہجہ میں تھی اس تقریر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کا مقصد فرقہ پرستی کی کمر توڑنا ہے کوئی ذاتی یا مادی فائدہ نہیں۔

مولانا کی اس میٹنگ میں دو چیزیں کھٹکتی ہیں ایک ظفر سریش والا کی شرکت دوم روی شنکر کا یہ کہنا کہ ہمارے پاس وقت بالکل نہیں کیا پتہ کورٹ کب فیصلہ دے دے اور کیا فیصلہ دے دے کہا نہیں جاسکتا ۔

سوال یہ ہے کہ روی شنکر عدالتی فیصلے سے فرار کیوں چاہتے ہیں؟  انہیں عدالتی فیصلے سے کس بات کا خوف ہے؟ وہ عدالتی فیصلے سے پہلے اس مسئلے کو کیوں حل کرنے پر مصر  ہیں؟

ہمیں مولانا کے اس موقف سے خود اختلاف ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی نیت پر سوال اٹھایا جائے ان کے خلوص پر شک کیا جائے یا ان کی کردار کشی کی جائے یا ان کو بی جے پی کا وفادار یا دلال وغیرہ کہا جائے ۔

ہمارا خیال ہے کہ آرایس ایس کے قریبی مانے جانے والے لوگوں ظفر سریش والا اور وحید الدین خان کے نظریہ نے انہیں اپیل کیا ہے۔

کسی شاطر دماغ نے  اپنے اعتماد میں لیکر انہیں فکری فریب دینے کی کوشش کی ہے کسی نے امن و امان کا سبز باغ دکھاکر انہیں اپنا ہم نوا بنا لیا خوابوں کے سوداگروں نے جس طرح 2014 کے الیکشن میں وعدوں اور سنہرے خوابوں سے لوگوں کو ٹھگا تھا اسی طرح کسی سازشی اور شاطر دماغ نے صلح و آشتی کا وہ نقشہ پیش کیا کہ  مقابل نقشے میں الجھ کر سامنے والے کے ارادوں اور منصوبوں کی طرف سے مطمئن ہوگیا سب کا ساتھ سب کا وکاس کی وہ راگنی بجائی کہ وہ باریک بیں نگاہیں جو شرق اوسط کی سازشوں کا ادراک کرلیا کرتی تھیں ان نگاہوں نے جن میں نگاہ مرد مومن کی قوت تھی سامنے والوں پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرلیا پھر دیکھنے کا سوال کہاں تھا الگ بات ہے کہ وعدہ کرنا اور اسے توڑ دینا ان کی تاریخ رہی کشمیر کی دفعہ 370 آئینی روح رکھتی ہے پھر بھی اسے بدلنے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے۔

کسی نے مولانا کی حساس اور عالم اسلامی کے تئیں جو بے باک اور اندروں بیں نگاہیں تھیں اس کا رخ مخالف کی تاریخ اس کا ریکارڈ اس کے ارادے اس کے منصوبے سب سے پھیر کر  صرف اور صرف امن و صلح پر محدود و مرتکز کردیا مولانا نے مخاطب کا سلوک اور شیریں گفتاری تو دیکھی مگر ان کی تاریخ ان کے ارادے ان کے منصوبے میں شک کرنا بے اعتمادی سمجھی۔

ہم دعاء کرتے ہیں کہ خدائے پاک جناب کو ازسر نو غور کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رجوع کے تعلق سے جناب کو شرح صدر نصیب فرمائے اور جناب والا اپنی ایمانی جرات دینی بصیرت اور مومنانہ فراست کا ثبوت دیتے ہوئے بہت جلد رجوع کا اعلان فرمائیں گے اور ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیں گے جو جناب کی نیت و خلوص پر سوال اٹھارہے ہیں۔

جن احباب کو جناب سے اختلاف ہے وہ تنقید ضرور کریں مگر تنقیص کیلئے نہیں بلکہ اصلاح و رجوع کیلئے ہماری کوشش کسی کی ذات کو مجروح کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصلاح اور رجوع و ازالہ ہونی چاہیے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔