میں جو یوں بے قرار رہتا ہوں

 پریم ناتھ بسملؔ

میں جو یوں بے قرار رہتا ہوں

ہر گھڑی تجھ کو یاد کرتا ہوں

…

بن تیرے دل کہیں نہیں لگتا

تنہا گھٹ گھٹ کے آہ بھرتا ہوں

…

کتنا مصروف ہو گیا انساں !

میں ہواؤں سے بات کرتا ہوں

…

کل ملا دوست اک پرانا تھا

میں نے سوچا کہ حال کہتا ہوں

…

کیا کہا اس نے کیا کہوں صاحب !

 شرم کی بات کہتے ڈرتا ہوں

…

اتنی فرصت نہیں مجھے بسملؔ

میں ہوں مصروف،یار چلتا ہوں

تبصرے بند ہیں۔