Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
اس دل کی باتوں میں آ کر افسوس یہ ہم کیا کر - مضامین ڈاٹ کام

اس دل کی باتوں میں آ کر افسوس یہ ہم کیا کر بیٹھے

اختر مسلمی

اس دل کی باتوں میں آ کر افسوس یہ ہم کیا کر بیٹھے

جو چیز نہ ملنے والی تھی ہم اس کی تمنا کر بیٹھے

…

معلوم تھا پہلے ہی سے ہمیں پھر بھی یہ تمنا کر بیٹھے

تھی جس سے نہ کچھ امیدِ وفا ہم اس پہ بھروسا کر بیٹھے

…

کہتے ہیں جسے جذبِ دل کی تاثیر اسی کا نام ہے کیا

نفرت تھی جنھیں اب مجھ سے وہ خود ملنے کی تمنا کر بیٹھے

…

وہ روٹھے ہوئے تھے جب ہم سے ہم روٹھ گئے تھے دنیا سے

پاتے ہی انھیں کیا جانیے کیوں پھر خواہشِ دنیا کر بیٹھے

…

ہے ذوقِ طلب دل میں جو ترے کچھ اس کو بلند اتنا کردے

تو جس کی تمنا کرتا ہے وہ تیری تمنا کر بیٹھے

…

کس طرح کی باتیں کرتے ہو، کیا تم بھی ہوئے ہو دیوانے

خود بات بگاڑی اور اخترؔ تقدیر کا شکوا کر بیٹھے

تبصرے بند ہیں۔