Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
تری زلفوں کا پیچ و خم بہت ہے - مضامین ڈاٹ کام

تری زلفوں کا پیچ و خم بہت ہے

جمالؔ کاکوی

تری زلفوں کا پیچ و خم بہت ہے

دلِ مشتاق میں دم خم بہت ہے

…

سمندر میں بھی رہ کر کوئی تشنہ

گلوں کے واسطے شبنم بہت ہے

…

کسی کی یاد کے جگنوں چراغاں

کسی کے وصل میں ماتم بہت ہے

…

تمہاری عید میری عید ہوگی

جو تم خوش ہو میرے جانم بہت ہے

…

انہیں بھی وقت نے رسوا کیا ہے

بلند جن کا ہوا پرچم بہت ہے

…

وطن کو سرخرو رکھنے کی خاطر

وہی اک اکبرِ اعظم بہت ہے

…

اسی کی دھن پہ رقصاں زندگانی

بندھے گھنگرو میں جو چھم چھم بہت ہے

…

بنانے کو خدا کا نیک بندہ

میرا حاکم میری بیگم بہت ہے

…

اے جمالؔ ملن ندیوں کا دلکش

مری اردو میں بھی سنگم بہت ہے

تبصرے بند ہیں۔