Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
سپاہی امن کا بے کل رہا ہے - مضامین ڈاٹ کام

سپاہی امن کا بے کل رہا ہے

جمال کاکوی

سپاہی امن کا بے کل رہا ہے

شہر جیسے کہ جنگل جل رہا ہے

…

وہ اچھا ہے وہی انسان اچھا

تشدد جس کہ من کو کھل رہا ہے

…

اُسی درپن کی بس چاہت ہے دل کو

کہ چتون جس میں بس اُجول رہا ہے

…

فقیروں کی پسند ادنی نہ اعلی

کہ پیوند ٹاٹ پہ مخمل رہا ہے

…

نیوالہ پاک اس کی، پاک روٹی

پسینہ جس کا گنگا جل رہا ہے

…

غریبوں کاجوحصہ دے برابر

ہمیشہ اس کا دھن ِنرمل رہا ہے

…

ہو ِپنجڑا بند یا آزاد پنچھی

جودل چنچل تھاوہ چنچل رہاہے

…

میں کھاؤں گا اُسے سسرال جاکر

میری خاطر جو مرغا پل رہا ہے

…

یہ رسی کیا کوئ ایٹھن نہ ہوگی

کسی کا بھی کوئ کس بل رہا ہے

…

جمال صبر میں چِنتا نہیں ہے

ہمارا من بڑا شِیتل رہا ہے

تبصرے بند ہیں۔