طہارت و نظافت اسلام کا طرہ امتیاز 

مفتی محمدعبد اللہ قاسمی

(استادفقہ وادب دارالعلوم حیدرآباد) 

طہارت ونظافت ایک مہتم بالشان عمل ہے، آدمی کے لئے باعث زیب وزینت ہے، ایک سلیم الطبع انسان کے لئے سرمایہ عزو افتخار ہے، متمدن اورمہذب لوگوں کا شعارہے، ترقی یافتہ اورزندہ دل قوموں کی پہچان ہے، اسلام اورمسلمانوں کا طرۂ امتیاز ہے، نفاست وپاکیزگی دل کو آسودگی وفرحت عطاکرتی ہے، ذہن کو تازگی وبالیدگی بخشتی ہے، قلب ودماغ کو معطر کرتی ہے، صفائی وستھرائی کا اہتمام کرنے سے انسان کو انس وسرورحاصل ہوتاہے، دلجمعی ویکسوئی حاصل ہوتی ہے، ذہنی تشویش وپراگندگی دورہوتی ہے، حفظان صحت میں معاون ومددگار ثابت ہوتی ہے۔

اسلام کا آفتاب طلوع ہونے سے پہلے پوری دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، ہر سو اندھیرے کی حکمرانی تھی، طہارت ونظافت سے بے اعتنائی ولاپرواہی تھی، بدن اورکپڑے کی صفائی کو معیوب خیال کیا جاتا تھا، غسل کرنے کو جرم سمجھاجاتاتھا، بوسیدہ، بدبوداراورمیلے گندے کپڑوں میں رہنے کولازم اورضروری قراردیا جاتاتھا، بغل اورناف کے بالوں کو تراشنا گنا ہ سمجھاجاتاتھا، زمانہ جاہلیت میں بعض نصرانی راہب اپنے جسم پہ لباس زیب تن نہیں کرتے تھے، اورقابل ستر اعضاء کو جسم کے غیر معمولی طورپر بڑھے ہوئے بالوں کے ذریعہ چھپاتے تھے، اتھینس نامی راہب کابیان ہے کہ اس نے زندگی بھر اپنے پیر نہیں دھوئے، ابراہام نامی راہب کہتاہے کہ میں نے پچاس سال تک اپنے چہرے اور پیر کو پانی سے ترنہیں کیا، اسکندریہ کے ایک راہب نے جب عیسائیوں کو غسل کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھاتو کافی افسوس اوررنج وغم کا اظہارکیا، اورکہا کہ کچھ عرصہ پہلے ہم چہرے پر پانی ڈالنا حرام خیال کرتے تھے، افسوس! آ ج ہم لوگ پورے جسم پر پانی بہارہے ہیں۔ (ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین :۱/۱۵۱) مغرب کے لوگ گرچہ اپنے کو مہذب اورمتمدن بتاتے ہیں، متانت وسنجیدگی اورتہذیب وشائستگی کے بلند بانگ دعوی کرتے ہیں ؛لیکن کچھ صدیوں پہلے ان کا حال بھی اس سے مختلف نہیں تھا، پاپائے روم نے جرمنی کے بادشاہ فریڈرک پر جب کفر کا فتوی لگایا تو اس پر ایک بڑاالزام یہ تھاکہ وہ روزانہ غسل کرتا ہے، پاپائے روم روزانہ غسل کرنے والے عیسائیوں کو کافر قرار دیتاتھا، ایسے کافروں کو سز ادینے کے لئے پاپائے روم نے ۱۴۷۸ ؁ء میں ایک مذہبی عدالت قائم کی، اورروزانہ غسل کرنے کی پاداش میں پہلے ہی سال دوہزار افراد کو زندہ جلادیا گیا، اورستر ہزار کو قید وبند کی سزائیں جھیلنی پڑیں، میلے کچیلے لباس پہننے کی وجہ سے جوؤں کی یہ کثرت تھی کہ جب برطانیہ کا پادری باہر نکلتاتو اس کی قباء پر سینکڑوں جوئیں پھرتی نظر آتی تھیں۔ جب اندلس میں اسلامی سلطنت کا آفتاب غروب ہوا، اورعیسائیوں نے زمام اقتدار سنبھال لی، تو فلب دو م نے تمام حمام بند کرنے کا فرمان جاری کیا، اوراس نے ا شیلبہ کے گورنر کو محض اس لئے معزول کردیا کہ وہ روزانہ ہاتھ منھ دھوتاہے۔ یہی کچھ حال ہندو ازم کا بھی ہے، ہندو مذہب کے پیروکاروں کے یہاں طہارت وصفائی کا کوئی تصور نہیں ہے، ان کی مذہبی کتابوں میں نفاست وپاکیزگی کے طورطریقے بیان نہیں کیے گئے ہیں، ہندو دھرم کے اندر انسان اپنے مزاج ومذاق کے مطابق حیوانوں کی سی زندگی گزارسکتا ہے، چند سال قبل ہندوستان کے سابق وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کایہ بیان ملک کے مشہورومعروف جرائد اوربڑے بڑے اخبارات میں شائع ہواتھاکہ میں روزانہ صبح اپناپیشاب پیتاہوں۔ سکھوں کے یہاں سر، مونڈھے، زیر ناف کے بال تراشنے سے انسان مذہب سے خار ج ہوجاتاہے، ختنہ کرنا ان کے یہاں بڑاجرم سمجھاجاتاہے، غرض یہ کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہب طہارت وصفائی کی تعلیمات سے یکسر خالی ہیں ؛بلکہ ان مذاہب میں طہارت وصفائی کا اہتمام کرنے والاانسان قابل سزا سمجھا جاتاہے، یہ مذہب اسلام کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ اس نے نظافت وطہارت پر غیر معمولی توجہ دی ہے، گم گشتہ راہ انسانیت کو اس سلسلہ میں اعلی درس دیا ہے، بڑی شرح وبسط کے ساتھ اس کے آ داب اورطور طریقے بیان کیے ہیں، جن کو اختیار کرنے سے ایک سلیم الطبع انسا ن کو آسودگی اوراطمینان نصیب ہوتاہے، غیرمعمولی فرحت وشادمانی حاصل ہوتی ہے، چہرے پر تازگی اورنورانیت محسوس ہوتی ہے۔

اسلام نے طہارت وصفائی کی بڑی تاکید کی ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر جب دوسری مرتبہ وحی نازل ہوئی تو نبوت کی بھار ی ذمہ داریا ں پورے کرنے کے لئے جہاں دیگر ہدایتیں دی گئیں وہیں ایک ہدایت یہ بھی دی گئی کہ آپ اپنے کپڑے کو پاک وصاف رکھیے۔ (القرآن، المدثر:۴)طہارت وپاکیزگی اللہ عزوجل کی محبوب اورپسندیدہ چیزوں میں سے ہے۔ (القرآن، البقرۃ :۲۲۲) بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین استنجاء کے بعد ڈھیلا اورپانی دونوں استعمال کرتے تھے، اللہ تبار ک وتعالی نے ان کی مدح فرمائی، اورقرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: فیہ رجال یحبون ان یتطہروا واللہ یحب المطہرین (القران، التوبہ:۱۰۸)اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو دوست رکھتے ہیں، اوراللہ پاک رہنے والوں کو دوست رکھتاہے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے پاکی کو آدھاایمان قرار دیاہے، ایک حدیث میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ تبارک وتعالی صاف ستھرے ہیں، اورصفائی ستھرائی کوپسند فرماتے ہیں، ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تنظفوا بکل مااستطعتم، فإن اللہ تعالی بنی الإسلام علی النظافۃ، ولن یدخل الجنۃ إلاکل نظیف۔ اپنی وسعت وحیثیت کے بقدر پاک وصاف رہنے کا اہتمام کرو؛کیوں کہ اللہ تبارک وتعالی نے اسلام کی بنیاد ہی نظافت پر رکھی ہے، اورجنت میں داخل ہی وہ شخص ہوگا جو پاک وصاف رہنے کا اہتمام کرتاہو، نماز اسلام کا دوسرااہم رکن ہے، اس کی ادائیگی کے لئے بھی جسم، کپڑے اورجگہ کی طہارت کو شرط قراردیا گیا ہے، پھر وضو پروضو کی ترغیب، ریح خارج ہوتو وضو کا حکم، جسم کے کسی حصہ سے خون نکلے تو وضو کا حکم، ہر عضو کو تین مرتبہ دھونے کا حکم، وضو کے وقت مسواک کی ترغیب، کلی کرتے وقت غرغرہ کی ترغیب، ناک کی آلائش کو صاف کرنے کا حکم، جنابت لاحق ہونے کے بعد غسل کرنے کی تاکید، غسل میں ممکنہ حد تک پورے جسم پرپانی بہانے کا حکم، زائد مونچھوں کو تراشنے کا حکم، مونڈھے کے بالوں کو اکھاڑنے کا حکم، زیرناف بالوں کی صفائی کا حکم، ہرہفتہ ناخن کاٹنے کا حکم، استنجاء میں ڈھیلے اورپانی دونوں کو جمع کرنے کی ترغیب، بیت الخلاء میں جوتے پہن کر داخل ہونے کا حکم، پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لئے بیٹھ کر پیشاب کرنے کا حکم، قضائے حاجت کے بعد ہاتھ کو مٹی سے رگڑکردھونے کا حکم، نیند سے بیدار ہونے کے بعد پانی استعمال کرنے سے پہلے ہاتھ دھونے کاحکم، پانی اگر موجود نہ ہویا پانی کے استعمال سے ضرر شدید لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتوتیمم کا حکم دیا گیا ہے، جس میں گرچہ چہرہ اورہاتھ گرد وغبارسے کچھ نہ کچھ آلودہ ہوجاتے ہیں، تاہم نفسیاتی طورپرصفائی وستھرائی کا احساس باقی رہتاہے، اورذہنی طورپرانسان اپنے کو پاک وصاف سمجھتاہے، یہ تمام باتیں ایک انسان کو طہارت وصفائی کے حوالہ سے حساس بناتے ہیں، اورانسان کونفاست پسند، پاک باز، خوش منظراورخوش جمال بناتے ہیں، احادیث شریفہ میں طہارت وصفائی کے بڑے فوائد بیان کیے گئے ہیں، ایک روایت میں ہے کہ جو شخص پاکی کی حالت میں سوتا ہے فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر:۱۱۴۴)ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے گھر آنگن اوراستعمال کی چیزوں کی صفائی ستھرائی کا اہتمام کر تا ہے تو اس سے فقر وتنگدستی دورہوتی ہے، اورغناومالداری نصیب ہوتی ہے۔ (کنز العمال، حدیث نمبر :۲۵۹۹۹)

ایک روایت میں آتاہے کہ جوشخص اچھی طرح وضو کرکے مسجد میں جانے کا اہتمام کرے تووہ نماز کی حالت میں شما رکیا جاتاہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے، ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن وضو کی وجہ سے امت محمدیہ کے اعضاء خوب چمکدار اورروشن ہوں گے، اوراسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو پہچانیں گے۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر:۱۳۶)طہارت ونظافت کا اہتمام نہ کرنے پر احادیث شریفہ میں بڑی وعیدیں آئی ہیں، ایک حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عام طورپر عذاب قبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتاہے۔ (ابن ماجہ، حدیث نمبر :۳۴۸)ایک روایت میں آتاہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام دوقبروں کے پاس سے گزرے، اورفرمایا کہ ان دونوں قبروالوں کو عذاب ہورہاہے؛کیوں کہ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا، اوردوسراچغلی کرتاتھا، (بخاری، حدیث نمبر :۲۱۶)ایک روایت میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جس گھر میں جنبی ناپاک شخص ہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، (ابوداود، حدیث نمبر :۲۲۷)اس کے علاوہ طہارت ونظافت کا اہتمام کرنے سے انسان کو طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، صفائی ستھرائی حفظان صحت میں معین ومددگار ثابت ہوتی ہے، نفاست وپاکیزگی کا اگر کوئی انسان التزام کرلے تو بہت سی بیماریوں سے حفاظت ہوسکتی ہے، شرعی اورطبی نقطہ نظر سے جہاں ایک انسان کے لئے نفاست وپاکیزگی کا اہتمام ضروری اورناگزیرہے، وہیں عقل انسانی بھی نفاست وپاکیزگی کی متقاضی ہے، جو انسان طہارت وصفائی کا اہتمام کرتاہے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، خوش اخلاقی اورملنساری سے پیش آتے ہیں، مجلس میں آگے جگہ ملتی ہے، اس کے برعکس جو انسان گندہ رہتا ہے، میلے کچیلے لباس پہنتاہے، اپنی وضع اورہیئت کو خوش منظر نہیں بناتا ہے تو لو گ اس سے نفرت کرتے ہیں، اس کو دیکھ کر لوگوں کو انقباض اورتکدر ہوتاہے، مجلس میں پیچھے جگہ ملتی ہے، معاشرہ کے اندر ایسے انسان کو عزت اورعظمت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا۔

موجودہ دورمیں مسلمانوں میں دین بیزاری اوراحکام شریعت سے غفلت ولاپرواہی عام ہے، اسلام کی ساری تعلیمات وہدایات کو وہ فراموش کربیٹھے ہیں، اسلامی معاشرہ میں انگریزی تہذیب وکلچر کی جڑیں گہری ہوچکی ہیں، مسلم معاشرہ سے اسلامی اطواروعادات ناپید اورعنقاء ہوگئے ہیں، طہارت ونظافت جو کبھی مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا، سرمایہ عزو افتخار تھا، افسوس آج مسلمان اس سے بیگانہ ہوگئے ہیں، ہمارے بہت سے مسلمان بھائی طہارت ونظافت کے احکام سے ناآشنا اورنابلد ہیں، وضو اورغسل کے فرائض تک کا ان کوپتہ نہیں، نجاست وناپاکی کے ازالہ کا طریقہ کیا ہے، کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتاہے، استنجاء کے آداب کیاہیں، جنابت کے احکام کیا ہیں، حیض ونفاس کے احکام کیا ہیں، اس جیسے روز مرہ پیش آنے والے عام مسائل کی نئی نسل کو خبر نہیں، یہ صورت حال کافی افسوسناک اورغم انگیز ہے، موجودہ زمانہ میں ضرورت ہے اس بات کی کہ نئی نسل کے سامنے طہارت وصفائی کی اہمیت اورعظمت کو اجاگرکیا جائے، طہارت کے بنیادی احکام سے انہیں روشناس کرایا جائے، اسلامی تہذیب وثقافت سے محبت کا نقش ان کے دلوں میں بٹھایا جائے، اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ امت مسلمہ کو حق بات سمجھنے اوراس پر عمل پیراہونے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔

تبصرے بند ہیں۔