قرآن کی اجمالی تصویر

ابوفہد ندوی

قرآن میں عام طور پر اہل ایمان  کی اور بطور خاص انبیاء کرام کی علمی ،دینی ،دعوتی، اخلاقی اور انسانی خوبیاں اور صفات بیان ہوئی ہیں ، ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا بیان قرآن میں نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو بہت کم ہے۔ قرآن میں بے شک سلیمان علیہ السلام کا  اور ان کی قوت وشوکت کا بیان بھی ہے اورذوالقرنین کا ذکر بھی ہے،لیکن اگر ان سے متعلق قرآن کے بیانات کو پورے سیاق وسباق میں دیکھا جائے اور جن علتوں ، حکمتوں  اور استدلال  کی جن نوعیتوں کے تحت ان کا تذکرہ آیا ہے ان کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی بھی وہی صفات اوروہی علمی وروحانی خصوصیات قرآن میں  بیان ہوئی ہیں جوان کے ایک عظیم انسان ہونے کو بتاتی ہیں، اللہ کا مطیع وفرماں بردار بندہ ہونے کو بتاتی ہیں اور اللہ  کے بندوں کے حق میں سراپا رحمت وشفقت کا پیکر ہونے کو بتاتی ہیں ۔یہ آیات محض  ان کے بادشاہ ہونے کو نہیں بتاتیں اورنہ ہی ان کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ اور رعب وجلال کوبتاتی ہیں۔ ان کی بادشاہت اوران کے شاہانہ کرّوفر کی بات محض برسبیل تذکرہ آئی ہے اور اس لیے آئی ہے کہ ایسا فی الواقع تھا، ورنہ اس کا ذکر مقصود بالذات نہیں ہے۔ اور اس انتہائی معنویت کے ساتھ آئی ہیں کہ اللہ کے یہ برگزیدہ بندے دنیا کے ساز وسامان سے متاثر نہیں ہوئے اور علم ودولت  اور شان وشوکت کی فراوانی نے انہیں دین سے منحرف ، اللہ کی ذات سے برگشتہ اور اللہ کے بندوں اوران کے حقوق سے بے پرواہ نہیں بنایا۔حضرت ذوالقرنین کا مقصود بالذات ذکر وہی ہے، جس میں انہیں ایک قوم کو دوسری قوم کے ظلم وزیادتیوں اور تاخت وتاراج سے ہمیشہ کے لیے محفوظ  کرنے کے لیے سعی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ، جس میں دکھایا گیا ہے کہ  وہ اپنے علم ودانش، مال ودولت  اور اپنے خدام کی مدد سے  دو پہاڑوں کے درمیان لوہے اورتابنے کی دیوار کھڑی کردیتے ہیں۔ اور ان کا وہ ذکر مقصود باالذات ہے جس میں  وہ فرماتے ہیں: هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي۔ جب وہ اپنی زندگی اور زندگی کے کل  سرمائے کو اللہ کا فضل اور رحمت قرار دیتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعلق سے مقصود بالذات ذکر وہی ہے جس میں  انہوں نے کہا  ہے : ’’ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ‘‘ کہ مجھے جو کچھ بھی عطا ہوا ہے وہ میرے رب کے فضل سے عطا ہوا ہے۔  یہ لائن  سلیمانؑ کی کہانی کی گویا پنچ لائن ہے،یعنی وہ لائن جس کے بیان کے لیے پوری کہانی اور افسانے کا تانا بانا بناجاتا ہے۔ قرآن میں حکمت لقمانؑ کا بیان ہے اور خضر ؑکے فضل وکمال کا تذکرہ ہے، حضرت داؤود علیہ السلام کے تعلق سے عرض ہے کہ انہیں علم وحکمت کے خزانے عطا کیے گئے تھے۔قرآن  کے مطابق بیشتر انبیاء کرام نے اپنی اپنی قوم کے سامنے صاف صاف یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ دعوت دین کے عوض اپنی قوم سے مال ودولت اور جاہ ومنصب کے متمنی نہیں ہیں۔ انبیاء کرام کے بارے میں درج ذیل آیات کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ان میں ان کی کس طرح کی خوبیوں اور صفات کا بیان ہے:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ‎﴿مريم: ٤١﴾‏

’’ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَىٰ إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا ‎﴿مريم: ٥١﴾‏

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا ‎﴿مريم: ٥٤﴾‏

وَاذْكُرْعَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ  (ص: ۱۷)

وَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ  (ص: ۳۰)

اسی طرح قرآن میں صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین کی  اور اہل ایمان کی بھی ایسی ہی صفات بیان ہوئی ہیں۔ ان سے متعلق بھی درج ذیل آیات کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ اللہ کے نزدیک اس کے محبوب بندوں کی کس طرح کی صفات ، عادات واطوار، صلاحیت ولیاقت اور کس طرح کے فضل وکمال کی اہمیت ہے :

الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ‎(آل عمران: 134)‏

’’جو صاحب تقویٰ ہیں ان کی  صفت یہ ہے کہ فراخی اور تنگی دونوں حالتوں میں اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، غصے کو  پی جاتے ہیں اور لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں، ایسے ہی نیک لوگ اللہ کو پسند  ہیں۔‘‘

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ  (الحشر: ۹)

’’وہ اپنی ذات پر  دوسروں  کوترجیح دیتے ہیں، بھلے ہی وہ خود ضرورت مند ہوں‘‘

 تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ (الفتح: ۴۹)

 وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا (الفرقان: ۶۳)

جبکہ  دولت اور جسمانی قوت  کے حوالے سے  قرآن  میں جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ زیادہ تر ان لوگوں کی بیان ہوئی ہیں جواللہ کے نافرمان ہوئے ہیں اور اپنے وقت کے ظالم وجابر بادشاہ، امراء اور رؤساء رہے ہیں۔  لہذا فرعون کے لیے،یوسف کے بھائیوں کے لیے اور ملکۂ سبا کے سپاہیوں اوراس کے  درباریوں کے لیے جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ زیادہ تر نفری ،مالی اورجسمانی قوتوں اور صلاحیتوں سے متعلق ہیں۔ فرعون کے بارے میں ہے: وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ، یوسف کے بھائیوں کی بھی جسمانی خوبی بیان ہوئی ہے:وَنَحْنُ عُصْبَةٌ، اسی طرح سے ملکہ سبا کے درباریوں اور حواریوں کے بارے میں بھی آتا ہے: نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ، عاد وثمود کےعاد کے بارے میں ہے: ‏ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ،‏ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ،‏ وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۔

اس سے صاف واضح ہے کہ اللہ کے نزدیک کس طرح کے فضل وکمال کی اہمیت ہے اور اللہ اپنے بندوں میں کس طرح کے بندوں کو پسند فرماتا ہے۔

انبیاء کرام کو اللہ نے ہر طرح کے حالات میں رکھا، بعض کی زندگی تنگدستی اور فقر وفاقہ والی رہی جبکہ بعض دوسروں کی شاہانہ ٹھاٹ باٹ والی، مگر انابت الی اللہ اور رجوع الی اللہ میں سب برابر تھے،دین کے لیے سعی کرنے میں اور اللہ کے بندوں سے پیار کرنے میں سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ نہ ان کی غربت وتنگ دستی اس راہ میں حائل ہوسکی اور نہ ہی شہنشاہیت اور مال ودولت  کی فراوانی اللہ کی  اس راہ میں  ان کے سامنے سد سکندری بن سکی۔ وہ ہرطرح کے حالات میں اللہ رب العزت کے شکرگزار بندے رہے۔ ان میں سے  بعض تو ایسے بھی ہوئے  کہ انہوں نے دونوں طرح کے حالات دیکھے، بے کسی وبےبسی اور غربت ولاچاری بھی دیکھی اور سہی اور شاہانہ کرّوفر اور امیرانہ ٹھاٹ باٹ بھی سے رہے ،مگر ان کی ذہنی افتاد ہر دو حالتوں میں یکساں ہی رہی، بلکہ اللہ کے فضل واحسان  کے احساس نے انہیں مزید سرنگوں اور سرافگندہ کردیا۔ غربت ولاچاری نے  اور آزمائشوں نے  انہیں کمزور وبے بس نہیں کیا بلکہ اس سے ان  کے ایمان میں اور عزم واستقلال میں مزید اضافہ ہی ہوا، وہ سخت ترین حالات  اور آزمائشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے ۔

حالانکہ انسان کی عمومی فطرت اس کے برخلاف واقع ہوئی ہے، انسان  کی فطرت یہ ہے کہ جب  وہ تنگ دستی سے گزرتا ہے تو وہ  اللہ سے  اور تقدیر سے بیزار اور شکوہ سنج  نظر آتا ہے۔ قرآن میں اس  افتاد طبع کا بیان اس طرح آیا ہے: : وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي  أَهَانَنِ ۔‏ اور اس کے برخلاف جب  اسے آسائش وفراوانی میسر آتی ہے تو وہ سرکشی اور ظلم وزیادتی پر اتر آتا ہے۔انسان کی اس نفسیات کا بیان  قرآن ہی میں اس طرح ملتا  ہے: كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ ، أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ۔‏ یہ انسان کی عمومی نفسیات ہیں،ایک حالت انسان کو مغرور بنادیتی ہے او ردوسری حالت اسے اللہ سے بیزار کردیتی ہے۔ مگر انبیاء کرام اس قبیل کی نفسیات سے ہزار درجے بلند ہوتے ہیں، اور وہ ہر طرح کے حالات میں اللہ کے برگزیدہ اور فرماں بردار بندے بن کر رہتے ہیں۔ذکروفکر اور حمد وشکر ہی ان کی زندگی بھر کا مشغلہ ہوتا ہے۔

حالانکہ مال ودولت اور جاہ ومنصب فی نفسہ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ البتہ قرآن میں  ان کا ذکر  ایک بڑی حقیقت کوواشگاف کرنے کے لیے ہے ۔ قرآن میں ہے : وماالحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور،  اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔تو اس سے دراصل دنیا کی زندگی کی نفی مقصود نہیں ہے بلکہ یہ مقصود ہے کہ دنیا کے گورکھ دھندوں سے اوپر اٹھ کر بھی سوچو، انسان کے لیے صرف یہی ایک دنیا نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بھی ایک دنیا ہے ،جو ابدی ہے اور لازوال ہے اور اس کی وسعتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ انسان موت کے دروازے سے گزر اس ابدی دنیا میں داخل ہوگا  اور اس عارضی دنیا میں کیے گے اپنے اعمال کی جزا یاسزا پائے گا۔یہ جو ابدی دنیا ہے یہ انسان کے لیے ہنوز پردہ غیب میں ہے ، اس لیے انسان کو اس کی طرف متوجہ کرانے کے لیے قرآن کا بیانیہ اس درجے کا انتہائی بیانیہ ہوگیا ہے کہ  اس میں اس موجودہ دنیا کی تقریبا نفی ہوجاتی ہے ۔ اور یہ نفی اس لیے بھی ہے کہ یہ عارضی  دنیا اس ابدی دنیا کے مقابلے بے وقعت ہے بلکہ لاشئی کی طرح ہے ۔ اس عارضی دنیا میں جس طرح  ایک انسان کی زندگی اور پانی کے ببولے کی زندگی میں (جو بعض دفعہ ایک سکنڈ کی بھی  نہیں ہوتی) کوئی تقابل نہیں ہے اسی طرح اس عارضی دنیا اورموت کے بعد والی ابدی دنیا کے درمیان بھی کوئی تقابل نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن وحدیث کا بیانیہ اس عارضی دنیا کی نفی پر مبنی ہے اور ایک تیسری وجہ یہ ہے کہ انسان  اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ کر غرورمیں مبتلا نہ ہوجائے اور ظلم  وزیادتی پر نہ اتر آئے۔کیونکہ زیادہ تر انسان دنیا اور اس کے اسباب کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور مغرور صفت بن جاتے ہیں۔بس اسی سے خبردار کرنے کے لیے مال واولاد اور دنیا کے  تمام ظاہری اسباب کا ذکر منفی پہلو کے ساتھ آیا ہے۔ قرآن میں ہے: الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (الکہف: ۴۶) ۔ اس  کلام میں  فی نفسہ مال اور اولاد کی نفی کرنا مقصود نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کی نفی کرنا مقصود ہے بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان یہ جان لے کہ دنیا کی زندگی کا ہر سہارا عارضی سہارا ہے۔اس سہارے کی ایک میعاد ہے، اس سے آگے یہ سہارے کام نہیں آئیں گے، نہ مال کا سہارا کام آئے گا ، نہ اولاد کا اور نہ ہی عہدوں اور مناصب کا، ابو لہب کے بارے میں آیا ہے : مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ، ابولہب کے مال واسباب اورمقام ومرتبہ بھی آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔تو جو ذات بابرکات دائمی سہارا ہے یعنی اللہ  اور جس نے دنیا کی تمام چیزوں کو عارضی سہارا بننے کی قوت دی ہے، اسی اللہ کو سہارا بنائیں۔لہذاجب یہی مال واولاد نیک مقاصد کے لیے حاصل کیے جائیں اور انہی مقاصد کے لیے انہیں پالا پوسا اور جمع کیا جائے تو یہ سراسر خیروبرکت  کی چیز اور ہر طرح مقصود ومطلوب بن جاتی ہیں۔

قرآن کا جو بیانیہ ہے وہ انسان کے عام  تجربات ،مشاہدات اور ادراکات ومحسوسات کے مطابق ہے، نہ کہ اللہ کے اپنے علم اور شان کے مطابق، کیونکہ قرآن  انسانوں کی تعلیم کے لیے نازل کیا گیاہے تو اسے لازما انسانوں کی ذہنی صلاحیتوں اور ان کے عام مشاہدات  کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ قرآن میں  سورج کے طلوع وغروب کی بات کہی گئی ہے حالانکہ حقیقت میں سورج نہ طلوع ہوتا ہے  اور نہ غروب ہوتا ہے، یہ تو انسانوں کا اپنا مشاہدہ ہے کہ انہیں  سورج طلوع اور غروب ہوتے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور وہ بھی محض اُن کی اِس پوزیشن کی وجہ سے کہ وہ زمینی کُرّے کے کس مقام پر کھڑےہوئے ہیں۔قرآن نے اسی عام مشاہدے کے حساب سے اپنا بیانیہ ترتیب دیا ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں میں اور ہر طرح کے لٹریچر میں یہی اسلوب اور بیانیہ ہمیں دکھائی دیتا ہے،جو عام مشاہدے کی چیز ہوتی ہے اسی کو بنیاد بنا کر بیان اور معاہدات ترتیب دئے جاتے ہیں اور لغوی واصطلاحی  معنیٰ متعین کیے جاتے ہیں۔

دل کے بارے میں سائنس کہتی ہے کہ دل انسانی جسم میں محض خون سپلائی کرنے کا کام کرتا ہے، جذبات و  احساسات  کا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے، مگر دنیا  کی تمام زبانوں میں اور دنیا کے سارے ادبی ومذہبی لٹریچر میں اور عام بول چال  میں دل کو مرکزِ محسوسات کے طورپر بیان کیا جاتا ہے۔ عام زبان میں کہا جاتا ہے:  میرا دل نہیں مانتا، میرا دل نہیں لگ رہا ہے، دل باغ باغ ہوگیا۔ہماری شاعری میں عشق کا محور ومحرک اور درد ووحشت اور خوشی ومسرت کا محل ومقام  دل  کو ہی سمجھا جاتا ہے۔غالب نے کہا ہے:

 دل ہی تو نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

اور خمار نے کہا:

عقل ودل اپنی اپنی کہیں جب خماؔر

عقل کی سنئے، دل کا کہا کیجیے

پھر میرؔ کی  کیا پوچھو ہو:

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

عام انسانوں سے لے کر  شاعروادیب تک  سب  لوگ بھلے ہی اس بات کو جانتے ہوں کہ دل مرکز محسوسات نہیں ہے، احساسات وجذبات کا تمامتر تعلق دماغ سے ہے، اس کے باوجود انہیں  اپنے کلام میں  اور روز مرہ کی  بات چیت میں احساسات وجذبات کو دل کی طرف منسوب کرتے ہوئے بالکل بھی تکلف نہیں ہوتا، انہیں ایک بار بھی نہیں لگتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔جب سائنس کے حساب سے دل محض ایک پمپنگ آلہ ہے تو اس کی طرف درد وتکلیف ، خوشی ومسرت  اور عشق ومحبت کو منسوب  کرنے کاسوال ہی  کہاں پیدا ہوتاہے؟

کسی بھی زبان کا شعری وافسانوی ادب اٹھاکر دیکھ لیں، اس میں سب سے زیادہ تذکرہ اگر کسی چیز کا  ملے گا تووہ دل کا ہی ملے گا، کیونکہ ادب جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتا ہے ۔اور دل کو  جذبات واحساسات کا مرکز یا محور تصور کیا جاتا ہے۔اس رویے کو بھلے ہی علم وتحقیق کی تائید حاصل نہ ہو مگریہی رویہ ساری انسانیت میں مقبول ومعروف چلا  آرہا  ہے۔  بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ادب میں عقل ودل کی کشمکش بھی ملتی ہے،جس میں دل کوعقل  سے مقدم رکھا جاتا ہے،بلکہ کچھ اس طرح سے کہ دل  ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور عقل  ہمیشہ  ہار جاتی ہے۔ پھر خاص اس معاملے میں ادبی بیانیہ مذہبی بیانیے سے بہت آگے ہے۔ اسی لے خمارؔ کا یہ مشورہ ہے:

عقل ودل اپنی اپنی کہیں جب خماؔر

عقل کی سنئے، دل کا کہا کیجیے

اقبال نے بھی عقل ودل کا موازنہ کیا اور بتایا کہ عقلیت  پسندی اچھی چیز ہے مگر کبھی کبھی صرف دل کی ہی سنی جائے تو بہتر ہے۔

اچھّا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہابھی چھوڑدے

اقبال نے تو ’علم ‘ کو جو عقل سے حاصل ہوتا ہے سراپا’ حجاب‘ بتایا ہے۔اور ’عشق‘ کو جس  کے بنیادی تانے بانے میں جذبات  کی کارفرمائی عقل کی بنسبت زیادہ ہوتی ہے ، اقبال نے اسے سراپا ’حضور‘ بتایا ہے۔ع: ’’عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب ‘‘مگر یہ اس پس منظر میں ہے کہ اللہ کی ذات عقل کے ادراکات سے ماوراہے لہذا عقائد کے معاملات میں عقل کی کارکردگی زیادہ کارآمد نہیں ہے۔   عقل ودل کی کارکردگیاں  یک گونہ مختلف  ہوتی ہیں؟ عقل اندیشوں میں گھری رہتی ہے جبکہ دل اندیشوں اور اگر مگر کی پرواہ نہیں کرتا۔یہی کہنا چاہتے ہیں اقبال:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل تھی محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

عقل ودل کی ساری بحث میں اقبال کو مجر دعقل ودل سے مطلب نہیں ہے۔انہیں تو انسان کے قول وقرار، اقدامات، عمل اور ردعمل کے پس پردہ جو حقیقی محرکات  اور عوامل ہیں ان سے مطلب ہے۔اور اس بات سے مطلب ہے کہ  یہ قول وقرار اور اقدامات آدمی کی شخصیت کے کس کس پہلو کے آئینہ دار ہیں۔ آدمی بعض فیصلے بہت سوچ سمجھ کرکرتا ہے اور بعض دوسرے فیصلے محض جذبات کی سطح  پر کرتا ہے، ان میں غوروفکر کو زیادہ دخل نہیں ہوتا۔اول الذکر فیصلے اور اقدامات  میں انسان کی مادی سوچ اور منفعت کو دخل ہوتا ہے اور انہیں عقل وذہانت سے منسوب کیا جاتا ہے  جبکہ مؤخرالذکر اقدامات اور فیصلے انسان سود وزیاں کومدنظر رکھ  کرنہیں کرتااور مادی منفعت اس کے پیش نظر نہیں  ہوتی اور ان کو  جذبات Emotions سے منسوب کیا جاتا ہے۔

محبتوں میں ایسا بارہا ہوتا ہے کہ عقل  کچھ  اور کہتی ہے مگر محبت کرنے والے جذبات سے مغلوب ہوجاتے ہیں اور جانتے بوجھتے ایسے فیصلے کرتے ہیں جوبعض اوقات ان کی موت کا سبب  بھی بن جاتے ہیں۔آدمی کی عقل اس کو بتاتی ہے کہ خودکشی مسائل کا حل نہیں ہے ، خودکشی سے تو اس کے گھر والوں کے لیے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے ، مگر وہ پھر بھی خود کشی کرتا ہے۔تویہاں سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ جب آدمی نے عقل کی نہیں مانی تو دوسری اس کے اندر کیا چیز ہے جس کی تحریک پر اس نے ایسے فیصلے لیے جو اس کے خلاف جاتے ہیں بلکہ اسے موت تک بھی لے جاتے ہیں۔

سائنس نے انسان کی ظاہری کیفیت کو جانا ہے ، سائنس نے ابھی تک انسان کی باطنی  یعنی غیر مرئی کیفیت کو نہیں جانا۔ سائنس جسم  کے بارے میں جانتی ہے، سائنس ایسی بہت سی چیزوں کے بارے میں بھی جانتی ہے جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ مگر وہ  روح کے بارے میں نہیں جانتی ،سائنس آلات اور ٹولز کی مدد سے دل کی دھڑکنوں کا پتہ لگالیتی ہے لیکن کیا یہی دل روح کا مسکن بھی ہے یہ سائنس نہیں جانتی،سائنس تو روح کے بارے میں بھی نہیں جانتی۔ ابھی تک تو ایسے آلات ایجاد نہیں ہوئے جو اس بات کو جان سکیں۔ البتہ قرآن کی پیشین گوئیسَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ کے سیاق میں قیاس یہی کہتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں انسان کا علم مزید بڑھ جائے گا اور ممکن ہے کہ روحانی قلم  رو بھی سائنسی علوم کی دسترس میں  آجائے۔

اللہ کا علم تو مطلق ہے،یعنی زمانوں کی قید سے آزاد ہے۔اللہ کے لیے نہ کوئی زمانہ ماضی ہے اور نہ کوئی مستقبل پھر بھی اللہ نےوحی کے ذریعے  انسان سے مخاطب ہوتے ہوئے ان زمانوں کی رعایت رکھی ہے اور اپنے بیان میں ماضی، حال  اور مستقبل کے صیغے استعمال کیے ہیں کیونکہ اللہ جن انسانوں سے مخاطب ہے وہ زمان ومکان کی حد بندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ زمانہ اپنی سائنسی تعبیر ات کے لحاظ سے جو بھی اور جیسا بھی ہو ، انسان اس  دنیا میں رہتے ہوئے اس  سے باہرنہیں ہے ۔اس لیے قرآن کے بیانیےمیں بھی اس زمانے کی اور اس کی اسی تقسیم  کی رعایت ہے  جو انسان نے اپنی سہولتوں اور پیمائشوں کے لحاظ سے صدیوں سے کررکھی ہے ۔اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کا بیانیہ  اللہ کی شان اور علم کے بجائے انسانوں کےعلم اور ان کے محسوسات وادراکات  کے زیادہ مطابق ہے۔پھر اللہ تو دلوں کے رازجانتا ہے اور اَن کہی باتیں بھی سنتا اور جانتا ہے ، اللہ کوسننے اور جاننے کے لیے اور سمجھنے اور سمجھانے کے لیے  زبان کے واسطے کی ضرورت ہی نہیں ہے، وہ غیر ناطق حیوانات کی صدائیں بھی سنتا ہے ، ان کے دردولذت اور خوف وخواہش سے بھی واقف ہے اور نباتات وجمادات  کی جو حسیات ہیں وہ انہیں بھی جانتا اور سمجھتا ہے۔  اللہ نے زبان کا واسطہ اختیار فرمایا تو انسانوں کی احتیاجات کے پیش نظر ہی  اختیار فرمایا۔قرآن میں ہے:

كَلَّا وَالْقَمَرِ ‎﴿٣٢﴾‏ وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ‎﴿٣٣﴾‏ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ‎﴿٣٤﴾(المدثر)

’’ہرگزر نہیں! اور قسم ہے چاند کی، اور قسم ہے رات کی جب وہ پلٹے اور صبح کی جب وہ روشن ہوجائے‘‘

اللہ کے علم کے مطابق نہ رات پلٹتی اور جاتی ہے اور نہ ہی دن روشن ہوتا اور بجھتا ہے، مگر انسان کے محسوسات اسی طرح کے ہیں،وہ راتوں کوآتا جاتا ہوا دیکھتاہے اور ایک روشن دن اس کے لیے دنیا کی تقریبا ہر ظاہری چیز سے زیادہ یقینی ہے، پھر وہ اپنے انہی ظاہری محسوسات اورعلم کی بنیاد پر اپنا بیانیہ ترتیب دیتا ہے، بات کرتا ہے اور اپنے ہم جنسوں سے معاہدے کرتا ہے،دنیا کے قوانین جو انسان کو ظاہر میں دکھتے ہیں انسان ان کے چکر ویو میں اس طرح پھنسا ہوا ہے کہ وہ کوئی بھی کام ان کے ذکر کے بغیر نہیں کرسکتا۔ سو اللہ نے بھی ان اصول وقوانین کی رعایت رکھتے ہوئے اپنا بیانیہ ترتیب دیاہے۔

تبصرے بند ہیں۔