گوپی چند نارنگ: اردو زبان ایک دیدہ ور ناقد سے محروم ہوگئی

پروفیسر حسن رضا

گوپی چند نارنگ کے انتقال سے اردو زبان و ادب اپنے  سچے عاشق اور ایک دیدہ ور ناقد سے محروم ہوگئی۔ حالیؔ اردو تنقید کے بنیادی پتھر ہیں۔ ان کے بعد کلیم الدین احمد نے مغرب سے حاصل کردہ تنقیدی شعور اور تیور سے اردو ادب میں نئی بصیرت کا اضافہ کیا۔  اسی طرح ترقی پسند نقادوں میں احتشام حسین اور ان کے ساتھیوں نے مارکسی نظریات کی روشنی میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اردو تنقید کو نئی بلندی تک پہنچایا۔ اسی کے ساتھ اسلامی یا تعمیری ادبی تحریک  نے ادب کی روحانی و اخلاقی قدروں کی اہمیت پر زور دیا اور ادب میں اخلاقی قدروں کی جہت کی اہمیت پر اصرار کیا۔ اس سلسلے میں حسن عسکری، سلیم احمد، نعیم صدیقی اور ڈاکٹر عبدالمغنی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بہرحال ترقی پسند تنقید کے فوراً بعد جدیدیت کے علم بردار ناقد شمس الرحمان فاروقی کا نام آتا ہے، جنھوں نےفلسفۂ جدیدیت کے تحت اردو تنقید میں بعض بنیادی بحثوں کو از سرنو چھیڑ کر تنقید کو ایک نئی گہرائی اور گیرائی عطا کی۔ انھوں نے اپنی تنقیدی بحث کو مدلل کیا اور منطقی اسلوب اختیار کیا بلکہ آہستہ آہستہ وہ اپنی ذات میں تنقید کے ایک دبستان اور دو دہائی تک  تنقید کی دنیا پر چھائے رہے۔ چناں چہ اپنی ادبی کاوش سے جدیدیت کی ایک پوری ٹیم تیار کر دی۔ اسی کے ساتھ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انھی دنوں بعض ناقدین نے اسلامی ادب کے ناقدین کی طرح ترقی پسندی اور جدیدیت  کےدو انتہاؤں کے بیچ ایک اعتدال و توازن کو اپنا شعار بنایا۔ اس سلسلےمیں آل احمد سرور کا نام نمایاں ہے۔ جنھوں نے تنقید کی زبان کو تخلیقی اسلوب کے آداب سکھائے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو تنقید کا قافلہ 1980 کے بعد سست گام ہو چلا تھا اور  ایک گونہ جمود کا شکار ہو جاتا یا ترقی پسندی اور جدیدیت کی پرانی بحثوں کو اسلوب بدل بدل کر دوہراتا رہتا۔ اگر گوپی چند نارنگ کی قد آور شخصیت تنقید کے اس پورے عمل کو عصری تقاضے سے ہم آہنگ کر کے نئی جہت کے ساتھ لسانیات اور مابعد جدیدیت کی بحثوں سے اردو تنقید کو پوری طرح آشنا نہ کرتی۔ نارنگ کی خصوصیت یہی ہے کہ انھوں نے اردو تنقید میں تازہ کاری کو جاری رکھا۔ حالی نے ابتدا کی اور گوپی چند نارنگ نے اردو تنقید کو لذتِ تجدید سے آشنا کیا اور یہ معمولی کام نہیں  ہے۔ اس حیثیت سے اردو ادب میں ان کے تجدیدی کام  کا جائزہ اب لینا چاہیے۔

ڈاکٹر گوپی چند ادب کو قدیم و جدید، ترقی پسند و غیر ترقی پسند کے دائروں میں قید کر کے نہیں دیکھتے۔ ادب میں نظریے کے وہ قائل ضرور ہیں، لیکن گروہ بندی سے ادیب کو بلند رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ادبی لیبل کو پسند نہیں کرتے۔ وہ جدیدیت سے کفر نہیں کرتے لیکن شمس الرحمان فاروقی کی طرح اس کے مومن حنیف نہیں ہیں بلکہ اس میں بھی ایک بت ہزار شیوہ کے متلاشی ہیں۔ ان کی جدیدیت میں صرف انسان کے باطن کی نہیں بلکہ خارجی تقاضوں کی  شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کی انھی اداؤں کے پیش نظر ڈاکٹر عبد المغنی نے مزاحیہ اور لطیف انداز سے ایک ادبی نشست میں چٹکی لیتے ہوئے کہا تھا کہ نا+رنگ صاحب میں آپ کی بے رنگی کو خوب سمجھتا ہوں۔ فاروقی صاحب اسی کو اپنے اسلوب میں اس طرح کہتے ہیں کہ گوپی چند نارنگ ادب کا مطالعہ غیر مشروط ذہن سے کرتے ہیں۔ وہ ادب سے یہ تقاضا نہیں کرتے کہ وہ آپ ہی کے معتقدات اور تصورات کی ترجمانی کرے۔ بہرحال یہ ایک علاحدہ موضوع ہے لیکن اتنی بات اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کی تنقیدی بصیرت میں تہذیبی شعور کی کارفرمائی کے ساتھ ادبی جمالیات، لسانیات اور مابعد جدیدیت کا حسین امتزاج اور اس کے تانے بانے کی عکاسی صاف  نظر آتی ہے۔ اور یہی چیز ان کو اردو کے دوسرے ناقدین سے ممتاز کرتی ہے۔ انھوں نے ادب میں مابعد جدید رجحانات کے ساتھ لسانیات اور اسلوبیات کی ہنرمندی کو خاص طور سے اپنی ادبی تنقید میں برت کر دِکھایا ہے۔ ان کے تنقیدی تصورات کے بنیادی حوالے میں زبان، اسلوب اور تہذیب و ثقافت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جدید لسانیات نے ادب کے مطالعے میں جو نئی وسعت پیدا کرکے اس میں کئی راہیں نکالی ہیں ساختیاتی تنقید اور اسلوبیاتی تنقید کا رشتہ بھی اسی سے قائم ہوتا ہے۔ چناں چہ اردو ادب میں ساختیاتی تنقید کو صحیح طور پر روشناس نارنگ جی نے ہی کرایا۔ سچی بات یہ ہے کہ اردو میں اسلوبیاتی تنقید کو اعتبار و وقار بھی انھی کی نگارشات سے حاصل ہوا۔ چوں کہ پروفیسر نارنگ نے لسانیات کی باضابطہ گہری اسٹڈی کی تھی، اس کے تمام شعبوں سے اچھی طرح واقف تھے چناں چہ انھوں نے خود بھی ذکر کیا ہے کہ

”میں اسلوبیات کو ادبی مطالعے کے لیے ایک مدت سے برتتا اور پرکھتا رہا ہوں ۔“

گوپی چند نارنگ کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ادب کے تقریباً تمام گوشوں پر لکھا۔ فکشن ہو یا شاعری، مشرقی ادب ہو یا مغربی، تحقیق ہو یا تنقید، زبان کا مسئلہ ہو یا تعلیم و تدریس ان تمام بحثوں میں انھوں نے حصہ لیا اور ان کے زور قلم کے معترف سب رہے۔ ان کی تحریر بھی بہت شگفتہ نکھری ہوئی تھی۔ اس میں خشکی نہیں تھی۔ زبان کی ادا شناسی اور اسلوبیات کی مہارت ان کی تحریر اور تقریر دونوں سے نمایاں تھی۔ گل افشانی گفتار میں تو ان کو خاص ملکہ تھا، وہ اپنی جادو بیانی سے محفل کو جیت لیتے تھے۔

انھوں نے بھری پُری اور بھر پور زندگی گزاری۔ تصنیف و تالیف اور تعلیم و تدریس کے علاوہ سیمینار، لیکچرس، مناصب، شہرت، شاگردوں، مریدوں، نیاز مندوں اور ایوارڈ کی تو بہار تھی،  جو ہر موسم میں ان کے در سے گزرتی تھی اور کبھی کبھی ٹھہر کر پوچھتی تھی کہ کدھر جائیں۔ اس سے بہت سارے لوگ فیض یاب ہوئے۔

اردو تنقید کے آسمان پر 1952 کے بعد آفتاب و ماہتاب کی مانند دو شخصیتیں نمایاں ہوئیں۔ ایک شمس الرحمان فاروقی اور دوسرے ڈاکٹر پروفیسر گوپی چند نارنگ۔ ایک پہلے اللہ کو پیارے ہوچکے اور اب ہم دوسرے یعنی گوپی چند نارنگ کی جدائی کا سوگ منارہے ہیں۔ گوپی چند کسی ایک حلقے کے آدمی نہیں تھے۔ ویسے ہر بڑی شخصیت کے اردگرد حلقہ بن جاتا ہے۔ ہم سب ان کے لیے سوگوار ہیں اور ان کے دوست احباب کے ساتھ اہل خانہ کے غم میں شریک ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی ادبی کاوشوں اور تنقیدی رویوں کو اردو کے مختلف شعبے آگے بڑھائیں گے اور مختلف اکیڈمیاں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے میں کوتاہی نہیں برتیں گی۔

تبصرے بند ہیں۔