Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
ہم عمرِ رائیگاں کی تھکن یوں اُتارتے - مضامین ڈاٹ کام

ہم عمرِ رائیگاں کی تھکن یوں اُتارتے

ادریس آزاد

 ہم عمر ِرائیگاں کی تھکن یوں اُتارتے
پیڑوں کے ساتھ رشتۂ غَم اُستوارتے

…

تم وہ حَسِین ہو کہ قسم سے تمہارا نام
ہم بت شکن نہ ہوتے تو ہم بھی پکارتے

…

چوری میں ہاتھ کٹ گئےورنہ غزل سرا
منظر نکالتے، کوئی پیکر سنوارتے

…

اے کاش ہم ہمالیہ ہوجا تے اور تُم
ہم میں سے اپنی جھیل کا دریا گزارتے

…

ہم سادگی میں کل سے نکل آئے آج میں
کب تک جمال یاس کے پیکر مزارتے

…

اب آگئی تھی بات تمہارے جمال پر
بازی نہ جیت سکتےتھےگر ہم نہ ہارتے

…

کتنے پھلوں کا بوجھ اُٹھاناہے اب کی بار
ہم بھی درخت ہوتے تو پتھر شمارتے

…

دربار ِ مشک بار کی خلعت اُتار دی
اُس پیکر ِ دروغ کو کب تک نکھارتے

تبصرے بند ہیں۔