تعلیم و تربیت

متشدد کیوں ہورہے ہیں بچے؟

بچوں کی مسکان والدین کی خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں سب کو بسا اوقات بھلی لگتی ہیں۔ انہیں شرارتوں سے ماہر تعلیم کو بچے کی تخلیقی صلاحیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے اسکول یا کلاس کے ساتھیوں کو اپنے رشتہ داروں پر فوقیت دیتے ہیں۔ اس کی وجہ دوران تعلیم بننے والی دوستی ہوتی ہے۔ کئی بار یہ دوستی لمبی عمر تک باقی رہتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

میرا بچپن

ابو جان میرے کھانے پینے کا بہت زیادہ دھیان رکھتے تھے۔ جب بھی مجھے گھر سے درس گاہ چھوڑنے کے لیے جاتے، میں لدا پھندا ہوا وہاں پہنچتا تھا۔ گھی، شہد، کئی طرح کے حلوے، چھوہارے، بسکٹ، نمکین اور نہ جانے کیا کیا وہ میرے ساتھ کر دیتے تھے۔ بورڈنگ ہاؤس میں کھانا اجتماعی ہوتا تھا۔ میں ایک چھوٹی سی پیالی میں ایک چمچہ گھی لے جاتا تھا، جسے دال میں ڈال کر کھایا کرتا تھا۔ 

مزید پڑھیں >>

ماں باپ کی خواہش

اس خواہش میں میری ساری زندگی خراب کر دی۔ میں تو اس واستے رو رہا ہوں اب میں نے جہاں جانا ہے اس قبر کے لئے کچھ تیاری نہیں کی ہے وہاں میرا کیا حشر ہو گا۔ مجھے کن مراحل سے گزرنا پڑھے گا خدا کو کیا جواب دوں گامیں دنیا میں کیا کرکے آیا ہوں ۔ تم نے ڈاکٹر تو بنایا لیکن کبھی یہ نہیں کہا بیٹے تم قرآن پڑھو نمازپڑھو آخر مرنا ہے اس کے لئے کیا تیاری کروائی اب میں کیا کروں ۔ خدا کو کیا جواب دوں گایہ کہتے کہتے روح پرواز کر گئی اور ماں زار زار روتی رہی۔

مزید پڑھیں >>

اولاد اور والدین: کچھ باتیں بے رحمی کے ساتھ

 ہم بچے پیدا کرتے ہیں تو عین حیاتیاتی طریقےپر، جیسے تمام کے تمام جاندارکرتےہیں۔ انسانوں کے لیے کوئی خاص، اخلاقی ضابطہ فطرت نے وضع کیا اور نہ ہی کسی مذہب نے کہ اِس طریقے سے بچے پیدا کرو! مردعورت کا جوڑا بنتاہے، یاہماری زبان میں کہیں تو شادی ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد آنے والے شب و روز میں اُن دونوں کے درمیان جسمانی و ذہنی قربت کے مختلف مواقع آتے رہتے ہیں۔ ان مواقع میں وہ عین حیاتیاتی طریقے پر، وقت کے کسی لمحے میں اچانک، والدین بن جاتے ہیں۔ بالکل عام جانداروں کی طرح۔ کچھ بھی مختلف نہیں ہوتا۔ کچھ بھی الوہیاتی واقعہ پیش نہیں آتا۔

مزید پڑھیں >>

اولاد کی صالح تر بیت دینی و سماجی ضرورت

اولاد جیسی نعمت کی قدر یہ ہے کہ حتیٰ الامکان اس کی قدرو قیمت کو سمجھا جائے اس پر توجہ دی جائے۔ مذہب اسلام میں پیدائش سے پہلے ہی ہدایت کا اہتمام کیا گیا ہے لوگ بچوں کے سلسلے میں ہمیشہ تغافل (غفلت) سے کام لیتے ہیں ان کی تربیت سے چشم پوشی نہ صرف یہ کہ ایک معاشرتی اور اخلاقی جرم ہے بلکہ خود ان کے اور ان سے متعلق قوم و ملک کے مستقبل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے بچوں کی تربیت کو عبادت اور ان کو ایک کلمہ خیر سکھادینے کو صدقہ دینے سے زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔ 

مزید پڑھیں >>

ٹیلی ویژن اور جدید نسل

ان گناہگار آنکھوں نے دیکھا ہے ماں بیٹی اکٹھی بیٹھی ہوئی ہیں اور وہا ں ٹی وی پر ننگے مرد وزن  ڈانس کر رہے ہیں باپ بھی سامنے بیٹھا ہوا ہے اور غور سے ان کی بے حیائی کو دیکھ رہا ہے۔اس کو اپنی جگہ ناز ہوتا ہو گا۔کہ میرے بچے ماڈرن modrenہیں۔ بھلا تمہاری اولاد ان فلموں سے کیا سیکھے گی وہ اندھا پیار جس کو دیکھ کر لڑکیا ں لڑکوں کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں اور کورٹ میریج کرتی ہیں اور بعد میں تمہیں انگھوٹھا دکھاتی ہیں۔ پھر تم ہائے ہائے کی صدائیں دنیا کے سامنے بلند کرتے ہو میری اولاد نافرمان ہے یہ مانتی نہیں ہے اس میں سب آپ کا ہی قصور ہوتا ہے۔ پہلے آپ نہیں مانتے تھے اب تو دکھایا ہم نے شادی کر کے۔

مزید پڑھیں >>

میرا پیارا بچپن

کتابیں پڑھنا میرا بہترین مشغلہ تھا، امی کے ساتھ کسی کے یہاں گھومنے جاتا تو میزبان کے گھر میں کھلونوں کے بجائے کتابیں تلاش کرتا، اور کوئی کتاب مل جاتی تو اس میں غرق ہو جاتا، اور پھر کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ امی مجھے اچھی کتابیں پڑھنے دیتی تھیں، اور نگاہ رکھتی تھیں کہ کوئی نامناسب کتاب میرے ہاتھ نہ لگ جائے۔

مزید پڑھیں >>

جنسی تعلیم: ایک جائزہ

جنسی تعلیم اس طرح شجر ممنوعہ نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے معاشرہ میں سمجھ لیاگیاہے اورجس کے نتیجہ میں بالخصوص ہمارے نوخیز جوان غلط کاری کے شکارہورہے ہیں، اگرانھیں دائرہ میں رہتے ہوئے جنسی تعلیم دی جائے توجنسی بیماریوں سے بھی بچایاجاسکتاہے،

مزید پڑھیں >>

ابن سینا اکاڈمی: علمی ثقافتی و تہذیبی ادارہ!

ابن سینا اکاڈمی کی دو اہم  خصوصیات اور  ہیں ۔ایک یہ  کہ سر سید اور مسلم یونیورسٹی پر جتنا اور  جس  مخصوص نوعیت کا مواد یہاں موجود ہے خود یونیورسٹی کی لائبریریوں اور میو زیموں  میں بھی نہیں ہے اسی طرح غالب پر جو سرمایہ ابن سینا اکاڈمی کے پاس ہے وہ غالب سے موسوم ہندستان و پاکستان وایران کے کسی  نجی یا سرکاری ادارے  کو بھی  میسرنہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اصلاح نفس سے غفلت کا انجام

 دنیائے آب گیتی میں زندگی بسر کرنے والوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ہر نفس ہر شخص خود سے زیادہ اوروں کی اصلاح وفلاح کی فکر میں سرگرداں رہتا ہے اور غیر شعوری طور پرخود کو نیک وپارسا، متقی وپرہیزگار، بااخلاق وباکردارتصورکرتے اور کراتے شیطانی حیلہ سازیوں اور دلفریبیوں کاشکار ہوکر اپنے زندگی کی اصلاح بھول جاتاہے،

مزید پڑھیں >>