تعلیم و تربیت

علمی سرقہ

کسی کی تحریر، مضمون یا تحقیق سے اسکا نام ہٹا کر نشر کرنا یا اسے اپنے نام سے پھیلانا یا اسی طرح کسی کی تحریر میں بغیر اسکی اجازت کے کچھ بھی تبدیلی کرنا صحیح نہیں ہے. بلکہ یہ لوگوں کے حقوق کی پامالی، حقوق العباد کی حق تلفی، چوری، خیانت، جھوٹ اور دھوکہ ہے.

مزید پڑھیں >>

​تعلیم کو بوجھ بننے سے روکیں !

تعلیم دور حاضر میں جہاں طالب علموں پر بوجھ بنتی جا رہی ہے وہیں والدین کیلئے بھی تعلیم کو مالی طور پر برداشت کرنا کسی بوجھ سے کم نہیں رہا ہے۔ خدارا تعلیم کو بوجھ بننے سے روکا جائے ورنہ بوجھ ایک وقت تک برداشت کیا جاتا ہے پھر اسے اتار کے اتنی دور پھینکا جاتا ہے کہ وہ قریب بھی نا آنے پائے۔​

مزید پڑھیں >>

تعلیم: مسائل اور امکانات

ہندوستان کو  ’اعلیٰ تعلیم‘  جیسے پہاڑی چوٹی پر پہنچنے کے لئے مختلف گنجلک وادیوں اور پہاڑوں جیسے مسائل سے گزرنا ہوگا جسے بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں ایک قومیت کی حیثیت سے اعلیٰ تعلیم میں مثبت فروغ کی کوشش میں تمام مسائل کا سامنا بحسن و خوبی اور پر عزم طریقے سے کرنا ہوگا تبھی جاکر چھوٹے موٹے اور شاذ و نادرمسائل کا بآسانی حل ہوسکے گا

مزید پڑھیں >>

ٹیچرز ڈے اور مثالی استاد کی صفات

ٹیچرز ڈے کے موقع پر وہ تمام خواتین وحضرات جو استاد کی نازک ذمے داریوں پر فائز ہیں ، اس بات کا عہد کریں کہ مندرجہ بالا صفات اور خوبیوں کو اپنے اندر بھی پیدا کریں گے اور اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کریں گے۔ اس مادیت کے دور میں اساتذہ پر عاید ہونے والی ذمے داریاں ماضی کے مقابلے میں دوچند اور سہ چند ہوچکی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا استاد بھی، تعمیرکردار وسیرت کے بجائے محض حرف خوانی کو اپنی ذمے داری سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ لوگ توہر طرف نظر آتے ہیں ، لیکن ان کے اندر وہ صفات ڈھونڈے سے نہیں ملتیں ، جو ماضی میں تعلیم وتربیت کا لازمہ سمجھی جاتی تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

علم ہی تو عمل پر اکساتا ہے!

آج علم بے عمل ہوچکا ہے ہر چیز کی فقط مادی حیثیت ہے مگر روحانیت کا تصور آہستہ آہستہ کرہ عرض سے غائب ہونا شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے علم کسی جسم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اچھے کپڑے ، بڑے بڑے محل نما گھر اور بڑی بڑی گاڑیاں علم والوں کی نشانیاں بن گئیں ہیں۔ جبکہ علم والے تو خاک نشینی کو ترجیح دیا کرتے تھے وہ فرش سے زیادہ عرش پر دھیان دیا کرتے تھے۔ 

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کا تعلیمی نظام: ایک تاریخی جائزہ

 موجودہ دور میں مسلمانوں کے درمیان تعلیم کے دو دھارے (Stream) جاری ہیں۔ ایک کو قدیم یا دینی کہا جاتا ہے اور دوسرے کو جدید یا عصری۔یہ دونوں دھار ے متوازی چلتے ہیں اور جس طرح دریا کے دونوں کنارے طویل ترین فاصلہ طے کرنے کے با وجود کہیں نہیں ملتے، اسی طرح ان دونوں دھاروں کے درمیان بھی کہیں یکجائی نہیں ہوتی۔ والدین کو ابتدا ہی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو کسی دینی مکتب یا مدرسے کے حوالے کریں یا کسی اسکول میں اس کا داخلہ کرائیں ۔ جدید تعلیم حاصل کرنے والا بچہ ڈاکٹر، انجینیر، آرکیٹکٹ یا کسی پروفیشن کا ماہر تو بن جاتا ہے، لیکن اس کی دینی تعلیم واجبی سے بھی کم ہوپاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تحفظ نفس کے بغیر تعلیم ممکن نہیں!

طلبہ و طالبات جو قوم کے مستقبل ہیں جب انکے محافظ ہی ظالم اور بھیڑیئے نکل جائیں تو انکا وجود دوسروں سے کیسے محفوظ رہیگا,اور جب تعلیمی اداروں کا یہ حال ہوگا تو بھلا قوم میں کہاں سے ایسے لوگ پیدا ہونگے جو ملک کا نام روشن کریں , پوری دنیا اسبات کو مانتی ہیکہ ہر قوم اور ملک کی امیدیں طلبہ و طالبات سے ہی وابسطہ ہوتی ہیں اگر اس آگ کو یہیں ٹھنڈھانہیں کیا گیا تو اسکی لپیٹ سے پورے ملک کے طلبہ و طالبات متاثر ہونگے اور اس سے حکومت کا وقار بھی خطرے میں آجائیگا

مزید پڑھیں >>

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

موت زندگی کی اصل حقیقت

مطلب کچھ نہیں سوائے اس کے کہ انسان اپنے آپ پر غور کرے، اپنی اصل حقیقت کو سمجھے، سمجھنے کے بعد وہ کارنامے انجام دے جن پر عمل پیرا ہو کر ’’اگر اس دنیا میں کچھ بھی نہ ملے تاہم آخرت میں رسوائی کا سامنا نہ ہو، وہاں انجامِ بد سے سابقہ پیش نہ پڑے۔ انسان ایسی زندگی گزارے کہ آخرت کے دربار میں سرخ رو ہو کر پیش ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اپنی اصل حقیقت سمجھنے اور پھر کامیابیٔ دارین عطا فرمائے۔

مزید پڑھیں >>

یکساں تعلیم سے ہوگی سب کی ترقی

بلاشبہ بھارت نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے انتہائی کوشش اور محنت کی ہے۔ تبھی ملک کی تین چوتھائی آبادی لکھنے پڑھنے کے لائق ہوئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے برکس کانفرنس میں اس عہد کو دوہرایا کہ بھارت 2016کے اقوام متحدہ کے سسٹینبل ڈیولپمنٹ ایجنڈا 2030کا پابند ہے۔

مزید پڑھیں >>