تعلیم و تربیت

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

تعلیم کے مقاصدمیں طلبا کی ترقی شامل ہے۔ مذہبی، سماجی، اخلاقی، معاشی وغیرہ ترقی کے لئے تعلیم ہی ذمے دار اور اہم کردار ادا کرتی ہے۔ علم انسان کو انسانیت کا سبق سکھاتا ہے۔ تہذیب،تمیز اور شرافت، حق و باطل میں میں تمیز، صراط المستقیم پر چلنا، سلیقہ اور شعور وغیرہ تمام اخلاقی اقدار بہترین تعلیم کی شکر گزار ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مستقبل کی دنیا اور بچوں کی تربیت

بچوں کی تربیت مشکل ترین اور صبر آزما کاموں میں سے ایک کام ہے۔ ہمارے ہاں جیسا کہ ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے وہی معاشرتی اقدار بھی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ چند سال پہلے تک ہر کام بغیر تربیت محض ڈگری کی بنیاد پر کیا جاتا تھا لیکن اب اس حوالے سے تبدیلی آرہی ہے اور ہر شعبے میں تربیت اور ٹریننگ کو ضروری سمجھا جارہا ہے۔ خاص طور پر اساتذہ کی تربیت کرنا نہایت ہی ضروری ہے امر ہے۔

مزید پڑھیں >>

کتابوں سے محبت کرنے والے!

علم ایک ایسا زیور ہے اور ایسا زیور کہ جسے کوئی چرا نہیں سکتا اور اس زیور کی آرائش سب سے سوا ہوا کرتی ہے۔ ساری دنیا علم کی محبت میں گرفتا ر ہے مگر یہ محبت روح سے بندھ نہیں پا رہی، پڑھنے والے کتابوں پر کتابیں پڑھ رہے ہیں مگر اپنی اقدار کی کسی کو کوئی پروا نہیں ہے۔ اپنے بزرگوں کا کوئی احترام نہیں ہے۔ جیسے کسی قسم کی حفاظتی شیٹ لگی ہوئی ہے اور تمام کی تمام تہذیب اس سے ٹکرا کر واپس آرہی ہے۔ 

مزید پڑھیں >>

بھارت میں پیشہ ورانہ تعلیم

سرکار نے دیسی طبی تعلیم (یونانی و آیوروید) جاری رکھی جائے یانہیں ؟اس کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی بنائی، جس کے صدر ڈاکٹر جوہن گرانٹ تھے۔ 20؍اکتوبر1834 کو کمیٹی نے اپنی رپورٹ داخل کردی۔ اس کے نتیجہ میں 28 جنوری1835کو کلکتہ میں پہلا میڈیکل کالج بنایا گیا۔ اسی کے ساتھ بھارت میں میڈیکل ایجوکیشن کی شروعات ہوئی۔ لیکن سرکارنے کلکتہ، مدراس اور سنسکرت کالج میں یونانی، آیوروید کی جو تعلیم ہورہی تھی، اسے بندکردیا۔ اس کی پورے ملک میں مخالفت ہوئی، سرکارنے یونانی وآیوروید کے مقابلے ایلوپیتھی کو بڑھاوا دیا۔

مزید پڑھیں >>

علم و حکمت کے موتی اور دامن اسلام

دورِ حاضر سائنس و ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے ہمیں روایتی تدریس سے ہٹ کر جدید ذرائع سے اپنی تعلیم کو موثر کرنا ہوگا تاکہ طلبا کو روز ہونے والی تبدیلیوں اور انقلابات سے واقف کراتے ہوئے ان میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے، صرف اسی صورت میں مسلمان پوری دنیا پر غالب آ سکتے ہیں اور دنیامیں اپنا کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں جب وہ زیورِتعلیم کو قرآن و سنت کے بالکل آئین مطابق آراستہ کریں وگرنہ ترقی یافتہ اقوام کی غلامی اور صہیونی و سامراجی قوتوں سے نجات پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا نظریۂ تعلیم

مولانا مودودی ؒ کی شخصیت ایک متکلم اسلام کی حیثیت سے متعارف ہوئی ہے۔ مغرب کے فکری وسیاسی غلبہ و تسلّط کے نتیجے میں مسلمانوں اور بالخصوص ان کی نوجوان نسل کا ایمان اسلامی عقائد واقدار سے متزلزل ہو رہا تھا۔انھوں نے اپنی طاقت ور اور موثر تحریروں کے ذریعے کمیونزم، سرمایہ داری اور دیگر غیر اسلامی نظریات پر زبردست حملے کیے اور اسلامی اقدار و تعلیمات کی حقانیت اور معقولیت ثابت کی۔ انھوں نے ’جماعت اسلامی‘ کی تشکیل کی، جس نے دین کی اقامت کو اپنا نصب العین بنا یا اور جو سماج میں اس کے نفاذ کے لیے برابر کوشاں ہے۔

مزید پڑھیں >>

 اقلیتوں کیلئے حکومت کی تعلیمی اسکیموں کاجائزہ

خوش آئند بات افضل امان اللہ صاحب کی صدارت میں ایک اعلیٰ اختیار والی کمیٹی کی رپور ٹ ہے جس میں سینٹرل اسکولوں کی طرز پر 211نئے اسکول اقلیتی علاقوں میں قائم کرناہے جس میں ہر اسکول پر 20کروڑروپے کے خرچ کا تخمینہ ہے۔ اقلیتوں کے غلبہ والے اضلاع میں 25کمیونٹی کالج بھی کھولنے کی سفارش ہے جس میں ڈراپ آؤٹ طلباء کیلئے اسکل ڈیولپمنٹ اور اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہوگا۔ اس کے علاوہ ملک میں قومی سطح کے 5نئے Instituteکھولے جائیں گے جس میں سائنس، ٹیکنالوجی اورصحت سے متعلق اعلیٰ تعلیم دی جائے گی۔

مزید پڑھیں >>

تعلیم اور اس سے مسلمانوں کی بے حسی

 ایک بار پھر ہندستان آئیے اور دیکھیے کہ برادرانِ وطن کی تعلیمی حساسیت کس قدر شدید اور ہماری بے حسی کس قدر اندوھناک ہے!! یو جی سی کی آفیشیل سایٹ کے مطابق، ہمارے ملک میں 789 یونیورسٹیاں، 37204 کالجز اور 11443 بڑے نجی تعلیمی ادارے ہیں یعنی ہمارے 57 ملکوں کی یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں 185 یونیورسٹیاں اس ایک ملک میں زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں >>

محبت کے جھانسے سے کیسے بچا اور بچایا جائے

اگر ہمیں اپنی نسلوں کو اس فتنہ سے بچانا ہے تو اپنے گھروں میں ٹی وی کے استعمال کو محدود کرنا ہوگا اور اگر ممکن ہوسکے تو ٹی وی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ بعض لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا ھے کہ ہم ٹی وی صرف نیوز کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن یہ بھی ایک فریب سے کم نہیں ۔ نیوز کو جاننے کے لیے آج بھی سب سے بہترین اور معتمد ذریعہ اخبارات ھیں ۔ اخبارات کا ایک فائدہ یہ بھی ھے کہ بچوں میں مطالعہ کا شوق بڑھتا ھے۔

مزید پڑھیں >>

حاصل مطالعہ 

فن  مطالعہ کے ماہرین کا کہنا  ہے کہ   ماہرین  فن اساتذہ یا  مربیوں کے مشورے  کےبغیر   مطالعہ  کی  شروعات  نہ کریں ۔لہذا  اس سلسلے میں کسی فنکار اور  مخلص جانکار  کو اپنا مشیر یا  نگران مطالعہ  بنالیں  تا کہ   صحتمند  مطالعہ  تک رسائی  ممکن  ہو۔ لیکن نگران مطالعہ یا مشیر مطالعہ کے  مشوروں کی  مخالفت ہرگز نہ کریں ۔یہ طریقہ مبتدی قارئین کے لیے ہے رہے تجربہ کار اور ماہرین  تو  وہ اس  سے  مستثنی  ہیں ۔

مزید پڑھیں >>