حسنِ اخلاق سے اور جذبۂ ایثار کے ساتھ

انورجمال

(مئو)

حسنِ اخلاق سے اور جذبۂ ایثار کے ساتھ

ہم محبت سے ملا کرتے ہیں اغیار کے ساتھ

…

شہر میں جو بھی منافق ہیں یہی کرتے ہیں

"چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ”

…

 بے گناہی پہ عدالت سے بری ہوتے ہیں

روز ہوتے ہیں گرفتار جو ہتھیار کے ساتھ

…

ہم تو ماں باپ سے بھی آج الگ رہتے ہیں

وہ مہاجر تھے، رہا کرتے تھے انصار کے ساتھ

…

اب یہاں کس پہ کرے کوئی بھروسہ آخر

جب سیاست کی ہوں سرگوشیاں اخبار کے ساتھ

…

چند لمحوں کے لئے ایک نہیں ہوتے ہم

پھول کو دیکھو سدا رہتا ہے وہ خار کے ساتھ

…

ہم کو اسلام نے یہ درس دیا ہے انور

دشمنِ جاں ہو کوئی تب بھی ملو پیار کے ساتھ

تبصرے بند ہیں۔