Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
سر میں جتنی تھی سمائی سر گرانی ہو چکی - مضامین ڈاٹ کام

سر میں جتنی تھی سمائی سر گرانی ہو چکی

 عرفان وحید

سر میں جتنی تھی سمائی سر گرانی ہو چکی
ختم میری داستاں اے یارِ جانی ہو چکی

.

آج پھر طوفاں مچلتے ہیں سرِ مژگاں بہت
آج پھر اُس مہرباں کی مہربانی ہو چکی

.

سننے والوں میں نہیں باقی رہے دو چار بھی
جائیے بھی آپ کی جادو بیانی ہو چکی

.

جب در و دیوارِ ہستی ہی شکستہ ہوں تمام
ہوچکی پھر ایسے گھر کی پاسبانی ہو چکی

.

بن گیا اندوہِ معنی تھا جو اک حرفِ نشاط
قصۂ کوتاہ، پوری یہ کہانی ہو چکی

.

ایک ندّی ہے بدن صحرا میں سرگشتہ ہنوز
ریگ زارِ روح میں اک پیاس پانی ہو چکی

.

رقص باقی ہے اجل کا، ہو چکا جشنِ حیات
اک کہانی ہو رہے گی، اک کہانی ہو چکی

.

اب کہاں رہتا ہے کوئی مجھ میں اک مدت ہوئی
سنتے ہیں عـــــرؔفان کی نقلِ مکانی ہو چکی

تبصرے بند ہیں۔