مجھ کو ٹھکرا کے جب وہ گزرنے لگا

 دانش حماد جاذب

مجھ کو ٹھکرا کے جب وہ گزرنے لگا

ٹوٹ کر دل مرا یہ بکھرنے لگا

…

جن کو تشبیہہ دیتا تھا میں چاند سے

حسن ان کا بھی اب ماند پڑنے لگا

…

مل گیا جب مجھے اس سے بہتر کوئی

تب سے میرے گلے روز پڑنے لگا

…

میں نہ آئینہ گر’ نہ کوئی آئینہ

دیکھ کر کیوں مجھے وہ سنورنے لگا

…

تیز دریا سا چڑھتا یہ اس کا غرور

دیکھ کر اک سمندر اترنے لگا

…

ان کی جاذب اداؤں کے میں روبرو

اپنے دانتوں سے ناخن کترنے لگا

تبصرے بند ہیں۔