Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
ہم اپنے آپ سے پیچھا چُھڑانے لگتے ہیں - مضامین ڈاٹ کام

ہم اپنے آپ  سے  پیچھا  چُھڑانے لگتے ہیں

جمیل اخترشفیق

ہم اپنے آپ  سے  پیچھا  چُھڑانے لگتے ہیں

بہت سے فیصلے جب دل دُکھانے لگتے ہیں

…

غزل کا درد سمجھتے نہیں مگرسن کر

عجیب لوگ ہیں تالی  بجانے  لگتے ہیں

…

میں جن کے واسطے پلکیں بچھائے پھرتا ہوں

وہ لوگ مجھ سے ہی نظریں چرانے لگتے ہیں

…

ستم تو یہ ہے کہ اس عہد کے مفاد پرست

مرے  خلوص  پہ  انگلی  اٹھانے  لگتے ہیں

…

ضمیر بیچ   کے  شہرت  خریدنے والے

مجھے عروج کا نسخہ بتانے لگتے ہیں

…

جنہیں پتہ نہیں خود ان کے ساتھ کیا ہوگا

وہ  میرے  حال   پہ  آنسو  بہانے لگتے ہیں

…

میں رونے لگتا ہوں جس وقت آدھی راتوں میں

ہزاروں  خواب  مجھے   چپ   کرانے   لگتے ہیں

…

شفیق جب بھی نکلتا ہوں چھوڑ کر خود کو

عجیب    دکھ  ہے  قدم   لڑکھڑانے  لگتے ہیں

تبصرے بند ہیں۔