تاریخ ہند

بہت سے لوگ تاریخ کشمیر سے ناواقف ہیں

ہندستان جیسے ملک میں سیکولرزم کا ایجنڈا ایسا رہا جس کی وجہ سے کشمیر پر اس کا دعوی مستحکم ہوتا رہا۔ 24 اکتوبر کو مودی حکومت نے محکمہ خفیہ (IB) کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو یہ ذمہ داری سونپی کہ ایسے تمام کشمیریوں سے بات چیت کریں جو کشمیر کے اسٹیک ہولڈرس (اہل مفاد) ہیں لیکن مودی اور ان کی پارٹی پانچ ہی دن کے بعد آرٹیکل 370 کے خلاف بات کرنے لگی۔ ایسی تنگ نظر اور جارحانہ قومیت کے حامیوں سے کشمیر کا مسئلہ نہ کبھی حل ہوا ہے اور نہ حل ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

حیات ِ ٹیپو سلطان شہیدؒ کے تابندہ نقوش

    ٹیپو بچپن سے بڑے ذہین اور تیز دماغ والے تھے ،آپ کے والد حیدر علی نے اپنی خصوصی نگرانی میں ماہر اساتذہ کے ذریعہ آپ کو تعلیم دلوائی اور تربیت کا خاص انتظام فرما۔تقریبا 5سال کی عمرسے19تک ٹیپو نے مختلف علوم وفنون سیکھے۔زمانہ کے لحاظ سے شہسواری ،تیر اندازی ،سپہ گری کی تربیت بھی دی گئی۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابوالکلام آزاد کی نظر میں سر سید اور علی گڑھ کی معنویت

 مولانا آزاد اور سرسید کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ہمدردانِ قوم میں تعلیمِ نسواں کے مسئلے پر اختلاف رہا ہے۔سر سید کی اس معاملے میں یہ رائے تھی اگر گھر کے مرد حضرات پڑھ لکھ جائیں گے تو گھر کی عورتیں خود بہ خود تعلیم یافتہ ہو جائیں گی۔لیکن مولانا آزاد کا موقف اس کے بر عکس تھا۔ وہ تعلیمِ نسواں کے زبردست حمایتی تھے۔ان کے نزدیک لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم  میں امتیاز رکھنا ایک گناہِ عظیم تھا۔یہی وجہ ہے ملک کے پہلے وزیر تعلیم بننے کے بعد انھوں نے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی بناتے وقت اس موقف کو مد نظر رکھا اور تعلیم سب کے لیے پر خاص توجہ دی۔

مزید پڑھیں >>

شہید اعظم ٹیپو سلطان سے انگریز خائف رہتے تھے!

’ٹیپو جس قدر بہادر تھا اسی قدر خدا ترس اور بے تعصب بھی۔ اس کی نگاہ میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی برابر تھے اور کسی کے مذہب سے وہ کوئی تعرض نہیں کرتا۔ وطن اور قوم کے شہیدوں میں اس حد تک بلند مرتبہ اور کوئی دکھائی نہیں دیتا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

مسلم حکمران: ظالم یا مظلوم؟

یوگی حکومت کے وزراءکو پہلے یہ جان  لینا چاہئے کہ یوگی آدتیہ ناتھ جس گورکھ ناتھ مٹھ سے آتے ہیں اُس مٹھ کی زمین نواب سراج الدولہ نے عطیہ میں دی تھی۔ 1994ء میں آدتیہ ناتھ کے پیش رو، مہنت اویدناتھ نے آصف الدولہ کی نسل سے تعلق رکھنےوالے انجم قدر کی عزت افزائی بھی کی تھی۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا تھا کہ گورکھ ناتھ مٹھ کی زمین مسلم حکمراں سراج الدولہ نے دی تھی۔ کم از کم یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کے کابینی رفقاء کو تو مسلم حکمرانوں کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ 

مزید پڑھیں >>

ہندستان کی براہمنیت

یوں توبراہمنوں کے مطابق انکے دیوتائوں کی تعداد چالیس کروڑ ہے یعنی دیوتائوں کی تعداد پجاریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور گائے ان دیوتائوں کی سردار ہے  ہندو مت کے پیروکار اگر جانور وں مثلا ناگ، ہنومان اور بندروں کی پرستش کرتے ہیں تو وہ درختوں ، پتھروں ، دریائوں کے سنگم، منبع، سورج، چاند، اور انگنت دوسری چیزوں کی پوجا بھی کرتے ہیں مزید یہ کہ وہ علم، موت، دولت وغرہ کو بتوں کی شکل دیتے ہیں اور انہیں دیوتا مان کر انکی پوجا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عدم تشدّد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود تشدّد کے شکار

عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود ہی ان دنوں متعصبانہ، فرقہ وارانہ اور جارحانہ ذہنیت کے لوگوں کے نشانے پر ہیں، ایسے میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات او رنظریات پرعمل تو دور ان کی شناخت تک مٹانے کے لئے یہ لوگ درپئے ہیں ۔ ان کے قاتل کو نہ صرف بے گناہ بلکہ مسیحا تک قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے قاتل کی جگہ جگہ مجسمہ لگانے اور ان کی عقیدت میں مندر تک تعمیر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

شیر کی ایک دن کی زندگی!

میسور کے نام سے تقریباً قارئین واقف ہی ہونگے یہ ہندوستان کی ایک ریاست کا نام تھا مگر آجکل ایک جدید شہر کا نام ہے ۔دنیا اس شہر کے نام سے بہت اچھی طرح واقف ہے جسکی ایک اہم ترین وجہ وہاں کہ سلطان حیدر علی کے صاحبزادے فتح علی ہیں جنہیں دنیا ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار: ٹیپو سلطانؒ

آج ہمارے برادران وطن کو ٹیپو کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں وہ انگریزوں کے ٹیپو اور اس کی جراء ت وہمت اور اس کی مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد سے بعض وعناد اور اس کی وجہ سے اپنی حکومت سازی میں جو رکاوٹیں در پیش ہورہی تھیں ان کا سب کا نتیجہ تھا، جس کی رو میں بہہ کر اس عظیم مسلمان حکمراں اور سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ملک کے سپوت کے تعلق زبان درازی کی کوشش یا تو یہ تاریخی حقائق سے عدم واقفیت یاتعصب ذہنی کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں >>

88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں ملی!

صوبہ جموں میں مسلم آبادی قریب40فیصد ہے ۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں 3400کے قریب وکلاء میں کم وپیش700مسلم وکلا ہیں لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے 10اضلاع میں سے 5اضلاع میں 50فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں ۔

مزید پڑھیں >>