تاریخ ہند

 خواتین، قر با نی اور جنگ آزادی

بی اماں (اصل نام آبادی بانو) کی قربانی تاریخ ہندمیں سنہرے حرفوں سے لکھی جاتی ہے۔ بی اماں تحریک آزادی میں ناقابل فراموش، لائق تعظیم کام انجام دیا ہے۔ ان کا ہر طرز عمل ہندوستانی خواتین کے لیے سبق آموز ہے جس پر چل کر ہی ہندوستان کا فروغ ممکن ہے انہوں نے صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ عزم مستحکم کر لیا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جتنی بھی مصیبتیں کیوں نہ اٹھانی پڑیں اس سر زمین کو انگریزوں سے آزاد کراکر ہی دم لیں گی۔اس کے لیے انہوں نے بچپن سے لے کر ضعیفی تک بے بہا اور گراں قدر کارکردگی انجام دی چاہے وہ جوشیلی تقریریں ہوں یا گھر گھر جا کر آزادی کے لیے چندہ یکجا کر نا ہوان سب کا مقصد ہندوستان کو آزاد کرانا۔

مزید پڑھیں >>

بانی حیدرآباد کا ایک تعارف

کچھ نہ گفتہ بہ حالت کی بنا پررعایا گولکنڈہ (پایہ تخت )کی آب وہوا سے متنفر ہوگئے،تو اس نے گولکنڈہ سے چار کوس کے فاصلہ پر ایک نیا شہر آباد کیا، جو ہر چہار سمت سے ہندوستان میں بے نظیر تھا، اسے اپنا پایہ تخت بناکراس شہر کو بھاگیہ ؍بھاگ نگر کے نام سے موسوم کیا، لیکن آخر میں حیدرآباد نام رکھا،

مزید پڑھیں >>

باجی راؤ اور مستانی: معاشقہ اور تاریخی حقائق !

اس کے رعب اور دبدبے سے مراٹھا افواج ہی نہیں برہمن بھی کانپتے تھے۔ وہ کبھی کسی کے آگے نہیں جھکا۔ لیکن یہی اولوالعزم اور بہادر باجی راؤ ایک رقاصہ کو دل دے بیٹھا اور اس کے عشق میں ایسا مدہوش ہوا کہ اپنی زندگی تباہ کرڈالی۔ باجی راؤ کی اس محبوبہ کا نام تھا، مستانی! اٹھارویں صدی کی تاریخ کا یہ واقعہ اپنے زمانے میں بھی مقبول تھااور آج بھی یہ قصہ ریاست مہاراشٹر میں اتنا ہی مقبول و مشہور ہے۔ مراٹھی زبان میں اس رومانی قصے پر مبنی کئی افسانے، ناول اور ڈرامے لکھے جاچکے ہیں ۔ دوردرشن پر مراٹھی میں ایک سیریل بھی پیش کیا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہند میں اسلامی دور حکومت کا منصفانہ کردار

 اسی ہندوستان کی سر زمین پر سیکڑوں برس مسلمانوں کی حکمرانی رہی۔ اُن کے دور حکومت امن و سلامتی اور مسلم و غیر مسلم کے درمیان رواداری و انصاف کا آئینہ تھے۔ ان ہی حکمرانوں میں سلطان قطب الدین ایبک بھی ایسے ہی ایک نیک اور انصاف پسند حاکم تھے۔ انھوں نے اپنے محل کے باہر زنجیرِ انصاف لٹکا رکھی تھی کہ اگر کسی کی حق تلفی ہوتی ہے یا اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو مظلوم بلا جھجک اوربے خوف و خطر سلطان تک انصاف کی گہار لگاسکے۔ یہی وہ انصاف پسند مسلم فرمانروا تھا جس نے جرم کی پاداش میں اپنے ہی بیٹے کو قصور وار پائے جانے پر اسلامی احکامِ انصاف پر عمل کرتے ہوئے سر عام کوڑے لگائے اور سزا دے کر اسلامی انصاف کی مثال پیش کی۔

مزید پڑھیں >>

حضرت شیخ الہندؒ کا تصورِ فلاحِ امت

 بعض شخصیتیں اتنی قدآوراوراپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اِس قدر وسیع الجہات ہوتی ہیں کہ زمانے کی نگاہیں ہزار کوششوں اور دعووں کے باوجودان کے اصل مقام و مرتبے کاصحیح اندازہ نہیں لگاپاتیں، یہ الگ بات ہے کہ احوال، اوقات اورمقامات کے حسبِ حال ان کی کوئی ایک صلاحیت زیادہ نکھر کر سامنے آجاتی اور اسی کی حیثیت سے معاصرین میں اُن کی شناخت کی جاتی ہے، اسلامی تاریخ میں کئی ایسی شخصیتیں ہیں، جنھیں بعض خاص علمی یاعملی شعبوں میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے اُن ہی شعبوں کے ساتھ خاص کردیا گیا ؛حالاں کہ ان کے علوم و افکار کی بے کرانی اس سے کہیں زیادہ کی متقاضی تھی۔

مزید پڑھیں >>

کیا سلطان محمود غزنوی لٹیرا حکمران تھا؟

اگر غزنوی اور دیگر مسلم۔ حکمرانوں نے مندر ہی توڑے ہوتے تو 700 سالوں میں انڈیا میں ایک بھی ہندو نہ ہوتا۔ چھوٹا سا برما ہے اس میں بھی قلیل مسلمان موجود ہیں انہیں نہیں چھوڑا جا رہا۔ 700 سالوں میں تو ہندووں کا وجود ختم ہو جاتا۔ لیکن تاریخ کے حقائق آج بھی وہاں ہندو اکثریت میں موجود ہیں اور کئی قدیم مندر بھی موجود ہیں ۔ غزنوی پہ اعتراض کرنے والوں کی  بابری مسجد کی شہادت پہ   رائے نہیں آتی۔منافقت اور دوغلا پن اسے کہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کیا برطانوی دور ہندوستان کا سنہری دور تھا؟

عام ہندوستانی کو ٹرین کے اعلی طبقات میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دے جاتی تھی، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں سوار انگریز صاحب یا مدام کی نازک اداؤں کو ہندوستانی کی کسی حرکت سے نفرت ہو.  ,ایک ہندوستانی کے مطابق ہندوستانیوں کے لیے مخصوص ریل کے طبقات گندگی سے بھرپور ہوتے تھے جن پہ کئ انچ موٹی مٹی کی تہہ جمی تھی اور نہیں لگتا تھا کہ ریل کے اس طبقے نے کبھی صابن یا پانی دیکھا ہے. 

مزید پڑھیں >>

بہت سے لوگ تاریخ کشمیر سے ناواقف ہیں

ہندستان جیسے ملک میں سیکولرزم کا ایجنڈا ایسا رہا جس کی وجہ سے کشمیر پر اس کا دعوی مستحکم ہوتا رہا۔ 24 اکتوبر کو مودی حکومت نے محکمہ خفیہ (IB) کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو یہ ذمہ داری سونپی کہ ایسے تمام کشمیریوں سے بات چیت کریں جو کشمیر کے اسٹیک ہولڈرس (اہل مفاد) ہیں لیکن مودی اور ان کی پارٹی پانچ ہی دن کے بعد آرٹیکل 370 کے خلاف بات کرنے لگی۔ ایسی تنگ نظر اور جارحانہ قومیت کے حامیوں سے کشمیر کا مسئلہ نہ کبھی حل ہوا ہے اور نہ حل ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

حیات ِ ٹیپو سلطان شہیدؒ کے تابندہ نقوش

    ٹیپو بچپن سے بڑے ذہین اور تیز دماغ والے تھے ،آپ کے والد حیدر علی نے اپنی خصوصی نگرانی میں ماہر اساتذہ کے ذریعہ آپ کو تعلیم دلوائی اور تربیت کا خاص انتظام فرما۔تقریبا 5سال کی عمرسے19تک ٹیپو نے مختلف علوم وفنون سیکھے۔زمانہ کے لحاظ سے شہسواری ،تیر اندازی ،سپہ گری کی تربیت بھی دی گئی۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابوالکلام آزاد کی نظر میں سر سید اور علی گڑھ کی معنویت

 مولانا آزاد اور سرسید کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ہمدردانِ قوم میں تعلیمِ نسواں کے مسئلے پر اختلاف رہا ہے۔سر سید کی اس معاملے میں یہ رائے تھی اگر گھر کے مرد حضرات پڑھ لکھ جائیں گے تو گھر کی عورتیں خود بہ خود تعلیم یافتہ ہو جائیں گی۔لیکن مولانا آزاد کا موقف اس کے بر عکس تھا۔ وہ تعلیمِ نسواں کے زبردست حمایتی تھے۔ان کے نزدیک لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم  میں امتیاز رکھنا ایک گناہِ عظیم تھا۔یہی وجہ ہے ملک کے پہلے وزیر تعلیم بننے کے بعد انھوں نے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی بناتے وقت اس موقف کو مد نظر رکھا اور تعلیم سب کے لیے پر خاص توجہ دی۔

مزید پڑھیں >>