تاریخ ہند

88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں ملی!

صوبہ جموں میں مسلم آبادی قریب40فیصد ہے ۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں 3400کے قریب وکلاء میں کم وپیش700مسلم وکلا ہیں لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے 10اضلاع میں سے 5اضلاع میں 50فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

آزادیٔ ہند میں مسلمانوں کا کردار

 ہندوستان کو  آ زاد کرنے میں جتنی قربانیاں مسلم رہنمائوں نے دی اُسے زیادہ دیگر مذاہب کے رہنمائوں نے نہیں دی ہیں ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ رہنمائی کا سب سے بڑا چہرہ گاندھی کے طور پر سامنے آیا ہے جو کہ ایک ہندو تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ دیگرمذاہب کے لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

جنگ آزادی میں مسلمانوں اور مدارس کی قربانیوں کا صلہ!

مدارس اسلامیہ 15اگست یوم آزادی یا 26جنوری ’’یوم جمہوریہ‘‘ کی تقریب منعقد کرنے کیلئے مسٹر یوگی یا شیو راج سنگھ چوہان کے مذہبی منافرت کے زہر میں بجھی کسی ہدایت کے محتاج نہیں ہیں۔ بلکہ انہیں مدارس کے بوریہ نشینوں نے ایسے وقت میں انگریزوں کے پیروں تلے زمین ہلادی تھی اور کسی بھی موقع انگریزوں کی ملازمت کو قبول کرنے یا انگریزی فوج میں شامل ہونے کو حرام قراردیتے ہوئے بہت سارے گمراہ ہندوستانی جوانوں کو انگریزوں کا آلۂ کار بننے سے بچا لیا تھا، لہذ مسٹر یوگی یا چوہان جن کے پرکھوں کی انگریز نوازی کے تذکرے تاریخ کے سینے میں آج بھی محفوظ ان نفرت کے پجاریوں مدارس اسلامیہ کو حب الوطنی کا درس دینے کا کوئی اخلاقی حق بھی حاصل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

آزادی کی آزاد کہانی

موجودہ حکومت اپنے وعدوں  سےمنھ چرا  رہی ہے اور  نا ن ایشو کو ایشو بنا نے میں لگی ہوئی ہے۔ایسے میں مسلمانوں کو جوش سے کم ،ہوش سے زیادہ کام لینے کی ضرورت ہے۔مسلم دانشوران اورعلما ء  کو مل کر قیادت کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ ورنہ مسائل گھٹنے کے بجائے بڑھتے ہی رہیں گے۔‘اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا’سیاسی،سماجی ،معاشی اور تمام مسائل کا حل تعلیم ہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

آزادی کے 70 برسوں کی حقیقت

دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان کی آزادی کو 70 برس گزرگئے ۔ ان ستر برسوں کی سیاست کا تجزیہ کیجئے تو ایسے کئی مقام آئے جب آزادی، سیکولرزم اور جمہوریت جیسے الفاظ پر دھول کی پرتیں جمتی ہوئی محسوس ہوئیں — لیکن آندھی اور طوفان کے گزرنے کے بعد یہ غیرمعمولی الفاظ حرکت کرتے ہوئے ہمارے حوصلے اور اعتبار کو دوبارہ بحال کردیتے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا کردار

اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ دارالعلوم، دیوبند کے سپوتوں نے 1926 میں کولکاتا میں منعقدہ،  جمعیت علماء ہند کی ایک میٹنگ میں ، یہ اعلان کیا تھا کہ ہم اس جماعت کی حمایت کریں گے جو انگریزی حکومت سے "مکمل آزادی" کے حق میں ہوگی۔ پھرجمعیت کی اس میٹنگ کے تین سال کے بعد، "انڈین نیشنل کانگریس" نے اپنے لاہور کے اجلاس میں ، انگریز حکومت سے ہندوستان کی مکمل آزادی کو اپنے منشور میں داخل کیاتھا۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار

مسلمانوں نے آزادی کی خاطر انگریزوں کے خلاف تحریکیں چلائیں ، پھانسی کے پھندے پر لٹکے،جان ومال اور اہل وعیال کی قربانیاں پیش کیں اور کالاپانی کی خوفناک وہیبت ناک سزائیں برداشت کیں ۔غرضیکہ ہر طرح کےمصائب وآلام برداشت کرنےکےباوجود بھی ان کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی بلکہ وہ بخوشی اپنےمنزل کی طرف رواں دواں رہے۔ 

مزید پڑھیں >>

یوم آزادی: ہم جشن منائیں یا ماتم کریں!

  آزادی میں اتنی قربانیاں دینے کے باوجود آج ہم سے محب وطن کی شہادت مانگی جا رہی ہے، ہم گائے کے نام پر قتل کئے جا رہے ہیں، ہمیں سر راہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہمارے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں، ہمیں دوسرے درجے کا شہری گردانا جا رہا ہے، اس لئے ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم یوم آزادی کے موقع پرجشن منائیں یا ماتم کریں ! 

مزید پڑھیں >>

مولوی محمد باقر: شہید آزادی و مجاہد صحافت

شہید مولوی محمد باقر رحمتہ اللہ علیہ کا نام آتے ہی ایک مرد مجاہد ،جانباز ،اور بیباک صحافی کی تصویر ذہن کے کینوس پر ابھرتی ہے۔ جس عہد میں طباعت و اشاعت کی سہولیات نا کے برابر تھیں اس عہد میں بھی ،ادب ،سماج اور قوم و ملت کی خدمت کرنا اور سامراجی نظام وکمپنی کی بربریت کے خلاف ببانگ دہل لکھنا اور اپنی ملت کی آواز بننا آسان کام نہیں تھا۔

مزید پڑھیں >>

فراموش کی جا رہی ہیں جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں

 ہندوستان پر زبردستی قابض ہونے والے اور ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنانے والے انگریزوں کے خلاف جدو جہد اور دی گئی قربانیوں میں یہاں کے مسلمانوں کا جو تاریخی رول رہا اور ان مسلمانوں نے اپنے اُوپر ہو نے والے ظلم وبربریت اورقتل و غارتگری کے خلاف جس طرح  نبرد آزما رہتے ہوئے ملک کوانگریزوں کے ناپاک چنگل سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ سب واقعات ، سانحات اور حادثات ہمارے ملک کی تاریخ کا  اہم حصہ ہیں ، جو سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں اور باوجود منظم طور پر ان تاریخی حقائق کو مسخ  کرنے کی کوششوں کے بعد بھی تمام تر شواہد کے ساتھ ملک اور بیرون ممالک کی لائبریریوں میں موجود ہیں ۔

مزید پڑھیں >>