تاریخ ہند

13جولائی 1931: دہقان و کشت و جوئے و خیاباں فروختند

13 جولائی 1931ء کے شہداء کی قبروں پر آج بھی یہ ظالم اپنے حقیر مفادات پر پردہ ڈالنے کے لئے حاضری دے کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔  شہداء کے حقیقی وارثین پابند سلاسل ہیں اور ان کے خون کے ساتھ سودے بازی کرنے والے خراج عقیدت کی پھول مالائیں لے کر اپنی سیاست کی دوکان کو چمکا رہے ہیں۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری قوم بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جبر وغصب کا مردانہ وار مقابلہ کرے۔

مزید پڑھیں >>

ہند ۔ اسرائیل تعلقات

اسرائیل نوازی میں اب عرب ممالک بھی آگے بڑھتے جارہے ہیں حالیہ دنوں میں قطر سے محض اس لیے سعودی عرب سمیت سات ملکوں نے سفارتی تعلق ختم کرلیا کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے اور سب سے بڑی بات وہ اخوان المسلمین اور حماس کی مدد کرتا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

آخری مغل تاج دار: تاریخ کاستم یا مکافات عمل؟

آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے,

مزید پڑھیں >>

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کا ارتقائی سفر (دوسری و آخری قسط)

پوری دنیا میں اولیاء وصوفیاء نے اسلام کی تبلیغ وترویج میں جو نمایا کردار اداکیا وہ اہل فہم پر روشن ہے،بالخصوص ہندوستان میں ،جہاں سلاطین نے اپنی فتوحات کے پرچم لہرائے ، وہی صوفیاء نے اپنی روحانی توجہات سے لوگوں کے دلوں کو تسخیر کیا ،لیکن جب ان سلاطین کو عروج حاصل ہونے لگا تو جاہ ومنصب سیم و زرکی ہوس میں آپسی رسہ کشی اور خانہ جنگیوں کا شکار ہوگئے،

مزید پڑھیں >>

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کا ارتقائی سفر (قسط اول)

یہ سلسلہ بارویں صدی عیسوی میں ایک نیا موڑ اختیار کیا،جس کے اوائل میں تہذیب وتمدن کے لیے مشہور عالمِ اسلام کے بڑے بڑے شہرتاتاریوں کے ہا تھ برباد ہو کر رہ گئے ،ہندوستان ایک ایساملک تھاجو اس سورش سے محفوظ تھا یہی وجہ تھی کہ سکون سے محروم شریف ترین خاندانوں نے ہندوستان کو مسکن بنایا،جو ہندوستان کے لیے خوش آ یئن بات تھی کہ ہند اسلامی فکراور روحانی قوت کا نیا مرکز بننے جارہاہے،اسی سیلِ رواں میں صوفیا بر صغیر میں تشریف لائے ،انمیں نمایاں اور شہرِآفاق نام ’’خواجہ معین الدین چشتی ‘‘ کا ہے تصوف کے مشہور سلاسل میں سے جس سلسلہ سے آپ منسلک تھے وہ’’چشتیہ‘‘ہے۔

مزید پڑھیں >>

قیامِ دارالعلوم دیوبند وعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی

1857ء کے بعد کے ہنگامہ خیز اورانتہائی پرآشوب دور میں جب مسلمانوں کی سلطنت بالکل ختم ہوچکی تھی،مسلمانوں کی عزت ووقار خاک میں مل چکے تھے،اورہندوستانی مطلع پر ان کے لئے سیاہی کے سواکچھ نہ تھا۔دہلی کے لال قلعہ پر اسلامی پرچم کے بجائے یونین جیک لہرارہاتھا اورکھلم کھلا عیسائیت کی تبلیغ کادوردورہ تھا۔مسلمان اقتصادی پریشانیوں کا شکارتھے،انکے اوقاف اورمدارس ختم ہوگئے تھے،دہلی کی آخری درسگاہ تک بندہوچکی تھی،انہیں حالات میں جنگ آزادی کے دس سال بعد ۱۸۶۷؁ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد پڑی۔1؎

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کے لیے گاندھی جی کی قربانی

بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ایک ہندو انتہا پسند، ناتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گوڈسے کا تعلق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے ہے یا نہیں، اس بات کو لے کر آج تک تنازع برقرار ہے۔ تاہم، غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جس شخص نے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلائی، اسے اس کے ہی ایک ہم وطن نے موت کی نیند کیوں سلا دی؟ دراصل، وہ ایک ہندو انتہا پسند تھا جسے نہ جانے کیوں یہ بات بار بار پریشان کر رہی تھی کہ مہا تما گاندھی مسلمانوں کے زیادہ حمایتی ہیں۔ یہی ان کے قتل کی سب سے بڑی وجہ بنی۔ اسی میں سے ایک وجہ گاندھی جی کے ذریعہ میوات کے پانچ لاکھ مسلمانوں کو پاکستان جانے سے روکنا بھی ہے۔

مزید پڑھیں >>

15؍اگست

      عبدالعزیز 15؍اگست کادن مشہورہے۔ اسی دن انگریزوں کی غلامی سے ہندوستان آزادہوا۔ آزادی کی لڑائی میں بیشمارلوگوں نے حصہ لیا۔ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کوملک کے باشندوں کونہیں بھولناچاہئے۔ آزادی کے لئے ان گنت لوگوں نے اپنی …

مزید پڑھیں >>

1947کی 15 اگست کی جھلکیاں

حفیظ نعمانی                 جب ماؤنٹ بیٹن نے 4؍ جون کو پیرس کانفرنس کے دوران انتقالِ اقتدار کے لیے 15؍ اگست کی تاریخ کا اعلان کیا تھا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہندو جوتشیوں کو …

مزید پڑھیں >>