معاشرہ اور ثقافت

عورتوں کا بگاڑ امت مسلمہ کے لئے سم قاتل

اگر کوئی معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ اس کے عورتوں کا بگڑ جانا ہے، ایک عورت جب آبرو باختہ ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس تک محدود نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کے اثرات کافی دور تک محسوس کئے جاتے ہیں، شیطان برائیوں کو مزین کرکے پیش کرتا ہے، عورتیں چونکہ ناقص العقل ہوتیں ہیں، اسی وجہ سے وہ دام فریب میں جلد آتیں ہیں.

مزید پڑھیں >>

سماجی میڈیا اور سماج

سماجی میڈیا ہر مذہب ، ہر نسل ، ہر زبان بولنے والوں ا ور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کیلئے یکساں رہتا ہے، ہاں کبھی کبھار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کے مالکان نے کچھ قدغن بھی لگائیں اور کچھ ایسی چیزیں بھی شائع کردیں جن سے کسی حد تک اشتعال پہلا مگرکثیر اکثریت سماجی میڈیا پر موجود رہی اور ہے، اس ہی کی بدولت دنیا ایک گلوبل گاؤ ں بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں >>

زوالِ معاشرہ میں علماء و مشائخ کا کردار

اللہ کریم نے قرآن مجید میں انسان کو بے را ہ راوی اور اخلاقی پستی میں گرنے سے باز رکھنے کے انتہائی سخت لب ولہجہ اختیار کیا اور شدید اُخروی عذاب کی وعید یں دیں تا کہ انسان سخت اُخروی عذاب کے خوف سے ڈر کر کسی طرح بھی بے راہ روی میں نہ بہک سکے۔دین اسلام کی اس امتیازی خصوصیات سے کسی غیر مسلم کو بھی مجال انکارنہیں کہ اسلام نے دنیا سے انسداد فواحش کا جس طرح اہتمام کیا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی ۔

مزید پڑھیں >>

انصاف کی حکمرانی ضروری! 

اب انصاف کی حکمرانی قائم ہوئے بغیر دنیا کو درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں۔ بات وہی درست ہے جو جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے چند ماہ قبل اپنے  دو ٹی وی انٹر ویوز میں کہی تھی کہ’ انقلاب کے بغیر اب کچھ نہیں بدلنے والا۔ رائج نظام سڑ چکا ہے اس کی جگہ ایک نئے اور صحت مند انقلابی نظام کے آئے بغیر اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونے والا۔

مزید پڑھیں >>

سماج پر سوشل میڈیا کے اثرات 

 افراد کے ملنے سے سماج اور معاشرہ بنتاہے سماج اور معاشرے میں مختلف قسم کے افراد بود وباش اختیار کرتے ہیں ،سب کے رجحانات ،احساسات وخیالات ایک دوسرے سےمختلف ہوتے ہیں ،سب کے رہنے اور جینے کا طریقہ الگ ہوتاہے، ان میں سے کچھ لوگ اچھائیوں کے خوگر ہوتے ہیں توکچھ ا س کے برعکس،البتہ  اچھائیوں بھلائیوں اور امربالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے قابل ستائش اور لائق مبارکباد ہوتے ہیں ،اور ایسے ہی لوگ دنیا وآخرت میں ترقی وکامرانی سے ہم کنار ہوتے اور کامیابی قدم بوس ہوتی ہے۔  

مزید پڑھیں >>

دولت کا نشہ

حقیقت تو یہ ہے دولت مند وہی خوش نصیب ہے جو اپنی ضروریات سے زائد دولت مخلوق خدا اور خدا کی راہ میں خر چ کر دے ایسے شخص کے لیے دولت زحمت کی بجا ئے رحمت اور سعادت بن جا تی ہے قارون اور حضرت عثمان ؓ میں یہی فرق تھا قارون گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ذلت کی بد بو دار وادی میں دفن ہوا اور حضرت عثمان ؓ قیا مت تک لے لیے شہرت کے آسمان پر چاند بن کر چمکے ۔

مزید پڑھیں >>

زوال معاشرہ میں میڈیا کا کردار

آج ملت کا ہر شخص اسلام نہیں بلکہ صرف اپنے اپنے عقیدہ و مسلک کا جھنڈا لے کر دنیا پر پانپنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ہمارا ملت اسلامیہ کا حکمران طبقہ بھی دین و ملت کو چھوڑ کر وطن پرستی کو بنیاد بنا کروطن کو خدا بنا کے بیٹھا ہے کہ جو کرنا ہے وطن کیلئے کرنا ہے ملت کیلئے نہیں ، ملت ڈوبتی ہے تو ڈوبے، دین جاتا ہے تو جائے کوئی پرواہ نہیں مگر ملک میں ان کی حکمرانی قائم و دائم رہنی چاہیے اس پر کوئی آنچ نہ آئے۔

مزید پڑھیں >>

دین نام ہے خدا کی بندگی اور اطاعت کا

آج دنیا میں غریبوں اور کمزوروں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ ایسے لوگوں کی خاص طور سے غریب ملکوں میں لوگ دانہ دانہ کے محتاج ہیں ۔ وہ زندگی کی ضروری چیزوں سے محروم ہیں ۔ دوا، علاج کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ بچوں اور بچیوں کو پڑھانے یا تعلیم دلانے کیلئے پیسے نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

زکوٰۃ سے دور ہوسکتی ہے غریبی

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اسلامی نظام معیشت کا ستون ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیاگیا ہے۔ نماز فحش ومنکرات سے روکتی ہے توزکوٰۃاقتصادی نابرابری کو کم کرتی ہے۔ نماز جسم کی اور زکوٰۃمال کی عبادت ہے۔ رب کائنات نے دولت مندوں کے مال میں غریبوں ، مسکینوں ، کمزوروں اور بے سہارائوں کا حصہ رکھا ہے۔ یہ حصہ صرف دولت میں نہیں بلکہ کھیتی، موسم میں آنے والے پھلوں ، تجارت کے جانوروں اور سامان میں بھی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسیحا بنے قاتل!

آج ایک طبیب فن طب حاصل کرنے کے لئے ایک کروڑ سے زائد روپیے خرچ کرتا ہے ،محنت جد وجہد لگن کے بعد وہ ڈاکٹر ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے ،اب اس کے ذہن ودماغ پر خدمت خلق کا جذبہ سوار نہیں ہوتا ،بلکہ ایک تاجر کے خیالات سے کیفیت قلب مملو ہوتی ہے ،اور خرچ کی ہویی رقم کا حصول بھی حاشیئہ خیال میں موجود ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>