معاشرہ اور ثقافت

قوت برداشت ہی کامیابی کی شاہ کلید

ہرسال 16/نومبر کو دنیا بھر میں برداشت کا عالمی دن منایاجاتاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں برداشت ورواداری کی ضرورت، صبر و تحمل کی اہمیت، دوسروں کے فرائض و حقوق کا احترام اور عدم برداشت کے معاشرے پر رونما ہونیوالے منفی اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ برداشت کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیمیں خصوصا اقلیتوں کے ساتھ غیر مساوی اور امتیازی سلوک کی روک تھام کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>

کف ِافسوس

  ایک دن اسے بخارلاحق ہوا، علاج ومعالجہ ہوا؛ لیکن جب مسبب الاسباب ہی نہ چاہے توسبب سے کیافائدہ ہوسکتاہے؟ کسی نے ڈاکٹربدلنے کامشورہ دیااور کسی نے چھاڑپھونک کرانے کا، ڈاکٹربھی بدلاگیااورچھاڑپھونک بھی کرایاگیا؛ حتی کہ سفلی عامل سے بھی رابطہ کیاگیا؛ لیکن ہوتاوہی ہے، جوپیداکرنے والاچاہے۔

مزید پڑھیں >>

دیا سکہ پایا خزانہ

فقیر کی دعا کا اثر اس قدر ہوا ہے کہ آج تک اس کی شکل میرے سامنے محسوس ہوتی ہے۔ ان فقراء ومساکین کی مدد کر کے کس طرح اپنی پریشانیوں سے نجات اور عاقبت درست ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اچھی طرح ہو چکا ہے۔ ایک دعا کے بدلے میں میرے رب نے میری لاڈلی بیٹی کی بیماری کافور کر دی۔ گویا پچاس روپے کے بدلے میں مجھے ایسا خزانہ عطا کیا گیا کہ آج تک اس خزانے کو دیکھ دیکھ کر ہی خوشیوں کے پھول میرے آنچل میں نذر آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پتھر کا دور

 انسان کے قریبی رشتے دار مزید ''دور ''کے رشتے دار بنتے گئے,اور پڑوسی ازلی دشمن کا روپ دھار گئے۔ ایک ہی بستر پر دراز دو لوگ ہاتھوں میں فون تھامے اجنبیوں کی ماننداپنی اپنی دنیا میں کھوگئے۔انسانیت,محبت,خیر خواہی اور غمگساری جیسے الفاظ اب اس ڈیجیٹل دنیا سے عنقاء ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اعترافِ حق

  شب کے تقریباً تین بجے وہاں سے گزرتی ہوئی گشتی پولیس سیماکے کراہنے کی آوازسن کراُس کی طرف متوجہ ہوئی اور نیم بے ہوشی کی حالت میں اُسے ہاسپٹل میں داخل کیا۔ دودن تک سیما پر غنودگی کی کیفیت طاری رہی، پھرشدہ شدہ اُسے سب کچھ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یادآنے لگا۔سیما کی طبیعت جب کچھ بحال ہوگئی توانویسٹی گیشن افسرنے تفصیل پوچھی اوراپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرجلدہی مجرمین کی گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔پہلے توخود ہی اُن کی خوب خبرلی، پھرعدالت کے روبروپیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

مغربی تہذیب کی تنقید یا خود احتسابی

ہمیں تنقید کے بجائے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا کی بھلائی کے لئے کیاکام کر رہے ہیں ، اگر نہیں کر رہے ہیں اور نہیں کرنا چاہتے تو اپنی بے وقعتی کا شکوہ کرنا بے جا ہے کیونکہ ہمیں اپنا کھویا ہو اوقار اسی وقت ملے گا جب ہم انسانی سماج کی خاطرخود کاوش کریں گے۔ یقینا ہمیں بطور امت، بطور قوم ایک نئی پرواز کی ضرورت ہے ایک نئی اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

سادگی کا نکاح!

آج ہم اپنے نکاحوں پرایک نظرڈالیں، کتنے ایسے لوازمات ہیں، جن کے پوراکرنے میں بیٹی کے والدین تومقروض ہوتے ہی ہیں، اب بیٹے کے والدین بھی قرض لینے پرمجبورہورہے ہیں۔ گھوڑے جوڑے کی رقم،دلہا اوردلہن کے پورے خاندان والوں کے لئے کپڑے، نکاح کے کھانے میں ایک بڑی تعدادکی ضیافت، پھراس ضیافت میں کئی طرح کی ڈشز کا اہتمام، ہال کرایہ پرلے کرہال میں نکاح خوانی کی رسم، دلہن کولانے کے لئے باراتی لے جانے کارواج، جہیز کے نام پرلاکھوں روپے کے اسباب اورپھرولیمہ میں عدمِ استطاعت کے باوجودپورے محلہ کی دعوت یہ سارے وہ رسوم اورلوازمات ہیں، جن کے بوجھ تلے بیٹے اوربیٹی کے والدین اس طرح دب جاتے ہیں کہ تاعمراپنی کمرپھرسیدھی کرنے کی طاقت نہیں رہ جاتی۔

مزید پڑھیں >>

ٹشو پیپر کا مقدر

وہ اپنے منافقانہ و خود غرضانہ ’طرز زندگی ‘ کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مغرب کے عشرت کدوں میں پلنے والی مکروہ تہذیب و ثقافت کے پروردہ لوگ جنہوں نے نام نہاد روشن خیالی آزادی اور جمہوردوستی کے ظاہراً خوش نما نقابوں اور لبادوں میں خود کو چھپا رکھا ہے،آج پہلی بار خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں !فرعون نے بھی جب موسیٰؑ کی پاکیزہ دعوت کو چیلنج کیا تھا تو اسی طرح چلا اٹھا تھا کہ ’وہ  مصریوں کی مثالی تہذیب و طرز زندگی کے دشمن ہیں ‘! آج کے فرعون بھی اسی لیے پاگل ہو رہے ہیں کہ وہ’ وقت کے موسیٰ ‘کی آمد کو قریب دیکھنے لگے ہیں !

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور! (تیسری قسط)

 آج بین الاقوامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ہر سال ایک خاص دن انسداد منشیات کا منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال منعقدہ اسی طرح کی ایک تقریب سے سابق صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکھرجی نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ منشیات کے شکار لوگوں کی شناخت،رہنمائی، کائونسلنگ اور نشے کی لت چھڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال اور باز آباد کاری کے لیے بھی مکمل خدمات فراہم کی جانی چاہیں ۔ وہیں یہ بات بھی آپ پر واضح ہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی لعنت دراصل ذہنی،طبی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ جامع علاج اورپروگرام کا مقصد صرف متاثرہ لوگوں کی شراب نوشی اور منشیات چھڑانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ منشیات کے شکار لوگوں کو منشیات سے آزاداورجرائم سے آزاد ی فراہم کرنے کے بعد روزگار سے وابستہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے کار آمد ممبر بن سکیں۔

مزید پڑھیں >>

میاں بیوی کے اچھے اور برے تعلقات کے اثرات و نتائج (تیسری قسط)

حاصل کلام یہ کہ مرد کا ناگزیر حالات میں طلاق کا اختیار دیا گیا ہے لیکن شریعت کا حقیقی منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی نا گفتہ بہ حالت میں بھی جہاں نصیحت، ہجر فی المضاجع اور ضرب و تعزیر بھی ناکام ہو جائیں اور نظر بظاہر طلاق کے سوا کوئی صورت نظر نہ آتی ہو وہاں بھی وہ اصلاح احوال کیلئے ایک اجتماعی کوشش کا حکم دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>