معاشرہ اور ثقافت

کرسمس ڈے اور ہمارا معاشرہ

ہمارے اسلامی تصورات اور اصطلاحات کو مسخ کرنے کی جو سرتوڑ کوششیں اس وقت ہورہی ہیں، اہل اسلام پر ان سے خبردار رہنا واجب ہے۔ ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے عہد میں ہوا ہے۔ مگر ان کے دین اور دینی شعائر سے بیزاری بھی سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے ہاں پائی گئی ہے۔ یقیناًیہ حسن سلوک آج بھی ہم پر واجب ہے، مگر اس کے جو انداز اور طریقے، حدود و قیودسے بالاترہوکراس وقت رائج کرائے جا رہے ہیں وہ دراصل اسلام کو منہدم کرنیوالے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

نوکری کرنے کا بڑھتا رجحان اور تجارت سے غفلت لمحہ فکریہ!

پیٹ کی بھوک اورپیاس مٹانے اور انسانی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے نوکری وتجارت کر نا اور حلال طریقہ سے روزی حاصل کر نا اسلام کے ایک اہم پیغام میں سے ہے، یاد رکھیں یہ دنیا دار العمل ہے، یہاں ہم سب کو کام کرنا ہے، اور وہ کام کر نا ہے جو آخرت کی کھیتی بنائے، ا س لئے ہمارے لئے از حد ضروری ہے کہ اپنے اہل وعیال کے حصول رزق کے لئے محنت ومشقت کریں ، چونکہ کسب حلال کر نا اور اپنی فیملی کی کفالت کر نا اور بچوں کو محتاجی وبیکاری سے بچانا سب سے بڑی عبادت ہے۔

مزید پڑھیں >>

فیشن اور نسل نو کی تباہی

ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو فیشن کے دلدل سے نکالنے کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے۔ان کے سامنے فیشن پرستی کے نقصانات کا ذکر کیا جائے ، سنت نبویؐ پر عمل کرنے کا ثواب اور اس کے مثبت اثرات سے انھیں واقف کرایا جائے۔ فضول خرچی اور اسراف کے سلسلے میں ش اور اس کے رسولؐ کی بیان کردہ وعیدیں سنائی جائیں ۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو خود ہی غور کرنا چاہئے کہ اگر وہ اسی طرح گناہوں کے دلدل میں خوار ہوتے رہے اور گناہوں کا انبار لے کر اندھیری قبر میں اتر گئے تو یاد رکھئے شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟(چوتھی قسط)

 یہ کہنا کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم مل کر ایک پوشیدہ مقام پر سب سے الگ جو لطف اٹھاتے ہیں اس کا کوئی اثر اجتماعی زندگی پر نہیں پڑتا، محض بچوں کی سی بات ہے۔ در اصل اس کا اثر صرف اس سوسائٹی پر ہی نہیں پڑتا جس سے وہ براہ راست متعلق ہیں بلکہ پوری انسانیت پر پڑتا ہے اور اس کے اثرات صرف حال کے لوگوں ہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، جس اجتماعی و عمرانی رابطہ میں پوری انسانیت بندھی ہوئی ہے، اس سے کوئی فرد کسی حال میں کسی محفوظ مقام پر بھی الگ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟(تیسری قسط)

صنفی میلان کو انارکی اوربے اعتدالی سے روک کر اس کے فطری مطالبات کی تشفی و تسکین کیلئے جو راستہ خود فطرت چاہتی ہے کہ کھولا جائے وہ صرف یہی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کی صورت میں مستقل وابستگی ہو اور اس وابستگی سے خاندانی نظام کی بنا پڑے۔ تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کیلئے جن پرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اسی چھوٹی کارگاہ میں تیار کئے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

لہو مجھکو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

 کسی بھی قوم کی ترقی اور معاشرہ کے استحکام میں اس کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ایک روشن و تابناک مستقبل کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے مقصد حیات اور منزل مقصود تک پہنچانے والی صحیح سمت یا راہ سے بھٹک جائیں تو وہ معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اور ہم جنس پرستی

ہم جنس پرستی ایک مہلک متعدی مرض کی طرح ساری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، اس کے حامیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تقریباً نصف دنیا نے اس کو قانونی جواز دے دیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کناڈا، فرانس، ڈنمارک، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، برازیل، بیلجیم، ارجنٹینا، ناروے، پرتگال، اسپین کے بشمول امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک نے باضابطہ اس کو قانونی جواز فراہم کردیا ہے۔ مشرق وسطی اور ایشیائی ممالک کی اکثریت اس کے خلاف ہے، لیکن دنیا کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی ہم جنس پرستی کی تائید کر رہی ہے اور ہر سات میں سے ایک فرد اپنے مخالفانہ ذہن کو تائید و حمایت میں تبدیل کر رہا ہے۔ ستر فیصد بالغ افراد اس کی حمایت میں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کربناک چیخ

 دولت رام کے بعدراجیش کے یہاں یکے بعددیگرے تین بیٹیوں کی پیدائش ہوئی، تین تین بیٹیوں کی پیدائش پرراجیش کچھ بجھ ساگیا، دراصل وہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل بارے میں فکرمندتھا، وہ جانتاتھاکہ بیٹی اصلاً پرائے گھرکی ہوتی ہے؛ لیکن اُس کورخصت کرنے میں جس قدراخراجات ہوتے ہیں ، وہ ایک ڈیڑھ سوروپے ماہانہ کمانے والے کی طاقت سے بہت باہرکی چیز ہے، راجیش کبھی کبھی لال پری سے بھی محظوظ ہوجایا کرتاتھا؛ لیکن بیٹیوں کے جنم کے بعداُس نے اپنے اوپراِسے حرام کرلیا۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں دربار موؤد فاتر اور نانوائی

روٹی لے لو… روٹی لے لو… گرما گرم روٹی لے لو…لواسہ، کلچہ، گرما گرم‘…یہ آوازیں آپ کو صبح سویرے سنجواں، بٹھنڈی، سدھڑا، جانی پور اور سرمائی راجدھانی جموں کے دیگر علاقوں، جہاں خاص کر وادی کشمیر سے آئے دربار موؤ ملازمین یا سرماکے دوران وادی سے آئے دیگر لوگ رہائش پذیر ہیں، میں سننے کو ملیں گیں۔

مزید پڑھیں >>

قوت برداشت ہی کامیابی کی شاہ کلید

ہرسال 16/نومبر کو دنیا بھر میں برداشت کا عالمی دن منایاجاتاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں برداشت ورواداری کی ضرورت، صبر و تحمل کی اہمیت، دوسروں کے فرائض و حقوق کا احترام اور عدم برداشت کے معاشرے پر رونما ہونیوالے منفی اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ برداشت کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیمیں خصوصا اقلیتوں کے ساتھ غیر مساوی اور امتیازی سلوک کی روک تھام کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>