آس پاس

​ابھی انصاف ہونا باقی ہے!

اب کرپشن زدہ افراد کی فہرست مرتب کرکے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک پہنچانی چاہئے اور ان افراد کو ایک موقع دینا چاہئے کہ وہ ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس کریں ورنہ قانونی چارہ جوئی کیلئے تیار ہوجائیں ۔ انصاف کے حصول کی اس جدوجہد کا سہرا پاکستان تحریک انصاف نا دینا اخلاقی زیادتی ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

نشے سے انکار زندگی سے پیار

منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

صحافی ہیں ‘سیاسی طبیب’

طبیب کسی بھی مرض کا ہو طرفداری سے کسی کو فائدہ پہنچے یا نا پہنچے مگر مروجہ نظام کو نقصان ضرور پہنچتا ہے اور جب نظام کو نقصان پہنچتا ہے تو نظام کے درھم برھم ہونے کے قوی امکانات روشن ہوجاتے ہیں ۔ یہ سب وقتی فائدے کیلئے کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی یہی ہے کہ یہاں لوگ وقتی فائدہ اٹھانے کیلئے دیرپاء نقصان کو دعوت دے دیتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مولانافضل الرحمن کی قیادت میں دینی اتحاد کی ضرورت!

زیرک سیاست دان اورقائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی ذاتی خواہش پرایم ایم اے میں شامل دو بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے درمیان اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی کوششیں شروع کی جاچکی ہیں ۔واضح رہے کہ صد سالہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دینی جماعتوں کے اتحاد کا اختیار مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا اور ان پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا تھا۔گویا یہ کوششیں یک طرفہ نہیں ،بل کہ دونوں جماعتوں کی قیادت کے ایماپر ہیں ،لہٰذا ان کی کام یابی کے امکانات روشن ہیں ۔اگر یہ کوششیں کام یاب ہوجاتی ہیں اور ایم ایم اے میں دوبارہ جان ڈال دی جاتی ہے ،توامید ہے کہ اس سے مذہبی ووٹ تقسیم در تقسیم سے بچ جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

​اقتدار اور اختیار کا نشہ!

پاکستانیوں کو اقتدار کا نشہ بہت بری طرح سے چڑھتا ہے یا پھر کسی بھوت پریت کی طرح چمٹتاہے۔ نشے میں مبتلا لوگوں کو انسان، انسان نہیں دیکھائی دیتے یہ لوگوں کو کیڑے مکوڑے یا کسی ریوڑ سے زیادہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ نشے کی حالت میں انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

کے الیکٹرک: چوری اورسینہ زوری!

اس دنگل میں کے الیکٹرک سب سے آگے نظرآتی ہے جس نے مال بنانے کے جدیدسے جدیدطریقے ایجادکررکھے ہیں ۔بجلی کوجنس نایاب بنانے والے اس ادارے کی طرف سے جاری کردہ بلوں کودیکھ کریوں لگتاہے کہ اب بجلی فراہمی کے نہیں لوڈشیڈنگ کے بل لیے جارہے ہیں ۔محکمہ موسمیات کی طرف سے جیسے ہی گرمی کی شدت میں اضافے کی خبرآن ایئرہوتی ہے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔قدرتی ہواکے ساتھ ہی پنکھوں اوراے سی کی ہواسے بھی گرمی کے مارے جاں بلب عوام کومحروم کردیاجاتاہے۔پرسکون نیندسے محروم عوام ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں اوپرسے اووربلنگ اورڈبل بلنگ کے چاپک رسیدکرکرکے ان کومزیدبے کل کردیاگیاہے۔

مزید پڑھیں >>

مشعل کا فتنہ

اسلام بیزار اور اسلام پسندوں کے اس گروپ کو ایک ڈیڑھ سال پہلے اردو کےایک معروف صحافی نے تشکیل دیا تھا بعد میں وہ خود تو لیفٹ ہو کر باہر ہو گئےلیکن گروپ پر کچھ سوشل میڈیا ایران اور مغرب نواز لبرل جرنلسٹ مسلسل فتنہ پھیلاتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر مشعل کی طرز کے سوشل جرنلسٹ اپنے اسلام مخالف نظریات سے دوسرے اسلام پسند صحافیوں کو مشتعل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے-

مزید پڑھیں >>

کسی کو تو قربان ہونا پڑیگا

کوئی بھی اس بات یا الزام سے اختلاف نہیں کررہا کہ ہمارے ملک میں اعلی عہدہ پر فائز افراد میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو کسی نا کسی طرح سے کرپشن میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں ۔ کرپشن کرپشن ہے بے ایمانی کو بے ایمانی ہی کہا جائے گا اور اگر یہ کرپشن یا بے ایمانی ملک کے رہبر و رہنما کریں تو ملک کا عام آدمی کیا کریگا اور پھر ایسے افراد کی پکڑ بھی سخت ہونی چاہئے۔ کرکٹ کہ کھیل میں شک کا فائدہ بلے باز کو دے دیا جاتا تھا مگر جب سے تکنیکی سہولیات کو بروئے کار لایا گیا ہے تو تمام شکوک و شبہات کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے اور امپائر اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہیں

مزید پڑھیں >>

جانتے ہو؟

کسی نے پوچھاجانتے ہو؟میں نے کہانہیں کچھ نہیں جانتا،اس نے کہا کاش تم جان پاتے کہ حرام کھانے والے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھررہے ہیں، اس نے پھرکہاجانتے ہو؟میں نے ایک بارپھروہی جواب دیانہیں میں کچھ نہیں جانتا،اُس نے کہاکاش تم جان پاتے کہ یہ جوحکمران ہیں یہ بھی ہم میں سے ہیں، اُس کایہ کہناتھاکہ میں شروع ہوگیا،حکمرانوں کے بلندوبالادعوئوں کے باوجود عوام جانتے تھے کہ سخت گرمی کے مہینوں میں لوڈ شیڈنگ کاسانپ ہمیں ضرورڈسے گا۔

مزید پڑھیں >>

پانامہ پارٹ ٹوکا آغاز

اگرچہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں اس لئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا مگر یہ حکم بہت پہلے بھی دیا جاسکتا تھا،اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم اداروں کو پریشرائز کر کے خود کو کلین چٹ دلوائیں گے ،مثال کے طور پر قطری خط کو اگر جے آئی ٹی نے حقیقت پر مبنی قرار دے دیا تو وزیراعظم بچ جائینگے۔میرے مطابق سپریم کورٹ کو تمام سوالات کے جوابات مل جائینگے اور وزیراعظم صاحب پھر سے طاقتور وزیراعظم کے طور پر سامنے آئینگے اور الیکشن کمپین میں مخالفین کو رگڑا لگائیں گے۔

مزید پڑھیں >>