آس پاس

​خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا!

ہم پاکستانی اپنی اپنی سوچ اور نام نہاد نظریات کے قیدی ہیں۔ پاکستان ہماری ترجیحات کی فہرست میں معلوم نہیں کہاں آتا ہے۔ ہم سب کچھ بدل سکتے ہیں مگرہماری سوچ کو بدلنا یا پھر کسی اور زاوئیے پرسوچ کو موڑنا ناممکنات میں سے سمجھ لیجئے۔ پاکستانیوں کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آسکی کہ پاکستان میں سیاست دان بھی سول ڈکٹیٹرز کی صورت میں پرورش پاتے ہیں شائد ہی کسی پارٹی کا سربراہ عوامی سوچ اور عوامی طرز کی زندگی بسر کرنے کا خواہشمند ہو۔ 

مزید پڑھیں >>

جمہوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت

 یوں تو پاکستانی سیاست دان ہمیشہ ملٹری ڈکٹیٹر شپس پر برانگیختہ نظرآتے ہیں لیکن اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت کے بارے خاموش ہی رہتے ہیں ۔  سیاسی جماعتوں کے سربراہ ڈکٹیٹرز کی طرح احکامات دیتے اور اپنے بعد اپنے بیٹے، بیٹی،بیوی یا شوہر کوبادشاہانہ طریقے سے قیادت منتقل کرتے نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

گلالئی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

ممکنہ طور پر عائشہ گلالئی نے بھی فصلی بٹیروں کی طرح جب بھانپ لیا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا سیل کی انچارج شیریں مزاری نے انکی میڈیاٹاکس پر بھی پابندی لگا دی ہے ،عمران خان نے انکا نام کور کمیٹی سے نکال دیا ہے اور پبلک جلسوں میں خطابات کا موقع بھی ختم ہو گیا ہے تو سستی شہرت کیلئے سیاسی شعبدہ بازی کا گر آزماے کا فیصلہ کیا ہو؟

مزید پڑھیں >>

 پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی 

پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی ۔ اس معاملہ پر گفتگو شروع کرنے سے قبل ہی اگر پاکستانی عوام کو اس بات کیلئے مبارکباد پیش کی جائے تو کوئی برائی نہیں کہ وہ ایک ایسے خطے میں ہیں جہاں عدلیہ کافی حوصلہ مندی کے ساتھ ملک کے سب باوقار اور طاقتور عہدہ پر بیٹھے شخص کے خلاف فیصلہ سناتی ہے کہ وہ بدعنوان ہے اور اس عہدہ کے قابل نہیں ہے یعنی وہ نا اہل ہے ۔

مزید پڑھیں >>

پانامافیصلہ: ایک اچھا آغاز!

سیاسی اشرافیہ کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہییں کہ رب کی پکڑسے کسی بڑی سے بڑی قوت کی پشت پناہی بھی نہیں بچا سکتی،اورانکل سام ہو یا کوئی دوسری عالمی استعماری طاقت،اس کو کسی سے ذاتی ہم دردی ہوتی بھی نہیں ،اس کے سامنے اصل اہمیت اس کے اپنے مفادات کی ہوتی ہے،اورمسلم ممالک کے سیاست دانوں کو،خواہ ان کا تعلق اپوزیشن سے ہو یا اصحابِ اقتدار سے،وہ مہروں سے زیادہ اہمیت دینے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

​ابھی انصاف ہونا باقی ہے!

اب کرپشن زدہ افراد کی فہرست مرتب کرکے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک پہنچانی چاہئے اور ان افراد کو ایک موقع دینا چاہئے کہ وہ ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس کریں ورنہ قانونی چارہ جوئی کیلئے تیار ہوجائیں ۔ انصاف کے حصول کی اس جدوجہد کا سہرا پاکستان تحریک انصاف نا دینا اخلاقی زیادتی ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

نشے سے انکار زندگی سے پیار

منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

صحافی ہیں ‘سیاسی طبیب’

طبیب کسی بھی مرض کا ہو طرفداری سے کسی کو فائدہ پہنچے یا نا پہنچے مگر مروجہ نظام کو نقصان ضرور پہنچتا ہے اور جب نظام کو نقصان پہنچتا ہے تو نظام کے درھم برھم ہونے کے قوی امکانات روشن ہوجاتے ہیں ۔ یہ سب وقتی فائدے کیلئے کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی یہی ہے کہ یہاں لوگ وقتی فائدہ اٹھانے کیلئے دیرپاء نقصان کو دعوت دے دیتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مولانافضل الرحمن کی قیادت میں دینی اتحاد کی ضرورت!

زیرک سیاست دان اورقائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی ذاتی خواہش پرایم ایم اے میں شامل دو بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے درمیان اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی کوششیں شروع کی جاچکی ہیں ۔واضح رہے کہ صد سالہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دینی جماعتوں کے اتحاد کا اختیار مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا اور ان پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا تھا۔گویا یہ کوششیں یک طرفہ نہیں ،بل کہ دونوں جماعتوں کی قیادت کے ایماپر ہیں ،لہٰذا ان کی کام یابی کے امکانات روشن ہیں ۔اگر یہ کوششیں کام یاب ہوجاتی ہیں اور ایم ایم اے میں دوبارہ جان ڈال دی جاتی ہے ،توامید ہے کہ اس سے مذہبی ووٹ تقسیم در تقسیم سے بچ جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

​اقتدار اور اختیار کا نشہ!

پاکستانیوں کو اقتدار کا نشہ بہت بری طرح سے چڑھتا ہے یا پھر کسی بھوت پریت کی طرح چمٹتاہے۔ نشے میں مبتلا لوگوں کو انسان، انسان نہیں دیکھائی دیتے یہ لوگوں کو کیڑے مکوڑے یا کسی ریوڑ سے زیادہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ نشے کی حالت میں انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>