آس پاس

​سچائی کہاں ملتی ہے؟

آج ملک میں سچ اور جھوٹ کا ایک بہت بڑا معرکہ چل رہا ہے۔ حاکم وقت کو عدل نے کٹہرے میں لا تو کھڑا کیا ہے مگر حاکم وقت اپنی حاکمیت کے زعم میں عدل کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ حاکم وقت یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ایک حاکمیت اعلی بھی ہے جہاں صرف سچ ہی چلتا ہے۔ شائد ہم پاکستانیوں کی تنزلی اور روز بروز گرتی ہوئی حالت کی ذمہ داری بھی اسی سچ سے دوری ہے اور ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز :  ایک عظیم قومی اثاثے کا عروج وزوال

اب اگرموجودہ حکومتی کردار کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں قطبیت نمایاں ہے۔ حکومت یا تو بالکل ہی نجکاری کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے یا پھر نجکاری کے خلاف پی آئی اے کے عملے کی بھرپور مزاحمت کی صورت میں عربوں روپے بیل آوٹ پیکج کی صورت میں بار بار فراہم کرتی نظر آتی ہے، جبکہ اصلاحات کا عنصر نہایت کم اور غیر موزوں نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

​بے غیرتی اور بہادری میں فرق ہوتا ہے؟

پاکستان کرہ ارض پر وہ نایاب زمین کا ٹکڑا ہے جہاں ملزمان اور مجرموں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں جہاں بدعنوانوں کے پروٹوکول کیلئے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں اور تو اور ایسے لوگوں کو جن کا ٹھکانا جیل ہوتا ہے مگر جیل سے اسمبلی (جو کسی بھی جمہوری ملک کی ایک مقدس جگہ سمجھی جاتی ہے )کے اجلاس میں شرکت کیلئے لایا جاتا ہے اور تقریر کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جہاں سابق صدر ہوں یا پھر افواج پاکستان کے سابقہ چیف سب سیاست کے تالاب میں ایک ساتھ تیر سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

​خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا!

ہم پاکستانی اپنی اپنی سوچ اور نام نہاد نظریات کے قیدی ہیں۔ پاکستان ہماری ترجیحات کی فہرست میں معلوم نہیں کہاں آتا ہے۔ ہم سب کچھ بدل سکتے ہیں مگرہماری سوچ کو بدلنا یا پھر کسی اور زاوئیے پرسوچ کو موڑنا ناممکنات میں سے سمجھ لیجئے۔ پاکستانیوں کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آسکی کہ پاکستان میں سیاست دان بھی سول ڈکٹیٹرز کی صورت میں پرورش پاتے ہیں شائد ہی کسی پارٹی کا سربراہ عوامی سوچ اور عوامی طرز کی زندگی بسر کرنے کا خواہشمند ہو۔ 

مزید پڑھیں >>

جمہوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت

 یوں تو پاکستانی سیاست دان ہمیشہ ملٹری ڈکٹیٹر شپس پر برانگیختہ نظرآتے ہیں لیکن اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت کے بارے خاموش ہی رہتے ہیں ۔  سیاسی جماعتوں کے سربراہ ڈکٹیٹرز کی طرح احکامات دیتے اور اپنے بعد اپنے بیٹے، بیٹی،بیوی یا شوہر کوبادشاہانہ طریقے سے قیادت منتقل کرتے نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

گلالئی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

ممکنہ طور پر عائشہ گلالئی نے بھی فصلی بٹیروں کی طرح جب بھانپ لیا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا سیل کی انچارج شیریں مزاری نے انکی میڈیاٹاکس پر بھی پابندی لگا دی ہے ،عمران خان نے انکا نام کور کمیٹی سے نکال دیا ہے اور پبلک جلسوں میں خطابات کا موقع بھی ختم ہو گیا ہے تو سستی شہرت کیلئے سیاسی شعبدہ بازی کا گر آزماے کا فیصلہ کیا ہو؟

مزید پڑھیں >>

 پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی 

پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی ۔ اس معاملہ پر گفتگو شروع کرنے سے قبل ہی اگر پاکستانی عوام کو اس بات کیلئے مبارکباد پیش کی جائے تو کوئی برائی نہیں کہ وہ ایک ایسے خطے میں ہیں جہاں عدلیہ کافی حوصلہ مندی کے ساتھ ملک کے سب باوقار اور طاقتور عہدہ پر بیٹھے شخص کے خلاف فیصلہ سناتی ہے کہ وہ بدعنوان ہے اور اس عہدہ کے قابل نہیں ہے یعنی وہ نا اہل ہے ۔

مزید پڑھیں >>

پانامافیصلہ: ایک اچھا آغاز!

سیاسی اشرافیہ کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہییں کہ رب کی پکڑسے کسی بڑی سے بڑی قوت کی پشت پناہی بھی نہیں بچا سکتی،اورانکل سام ہو یا کوئی دوسری عالمی استعماری طاقت،اس کو کسی سے ذاتی ہم دردی ہوتی بھی نہیں ،اس کے سامنے اصل اہمیت اس کے اپنے مفادات کی ہوتی ہے،اورمسلم ممالک کے سیاست دانوں کو،خواہ ان کا تعلق اپوزیشن سے ہو یا اصحابِ اقتدار سے،وہ مہروں سے زیادہ اہمیت دینے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

​ابھی انصاف ہونا باقی ہے!

اب کرپشن زدہ افراد کی فہرست مرتب کرکے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک پہنچانی چاہئے اور ان افراد کو ایک موقع دینا چاہئے کہ وہ ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس کریں ورنہ قانونی چارہ جوئی کیلئے تیار ہوجائیں ۔ انصاف کے حصول کی اس جدوجہد کا سہرا پاکستان تحریک انصاف نا دینا اخلاقی زیادتی ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

نشے سے انکار زندگی سے پیار

منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>