سیرت نبویﷺ

سیرت رسول ﷺ میں انسانی مسائل کا حل

دنیائے انسانیت کو آج ایک بار پھر اس عظیم اور مقدس ذات کی طرف رجوع کرنے کی اشد ضرورت ہے جنہوں نے آج سے 1400 سال پہلے سسکتی بلکتی انسانیت کو ضلالت وجہالت، کفر وشرک اور بت پرستی، فحاشی وعریانیت اور اسی قبیل کی بے شمار برائیوں سے نجات دلایا۔ جب تک دنیائے انسانیت یا امت مسلمہ نبی پاکﷺ کی سیرت اور آپؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا تھی۔

مزید پڑھیں >>

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف

سفر طائف سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ کے لیے انتہائی کٹھن اور مشکل حالات بھی آئیں تو ثابت قدمی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنے چاہییں ، تبلیغ کی محنت کا نتیجہ اگر وقتی طور نظر نہ بھی آئے تو بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے محنت کا ثمرہ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

سیرتِ رسول کی کرنیں (دوسری قسط)

آپؐ نے لوگوں کے ساتھ نبوت سے قبل لین دین اور معاملات بھی کئے، تجارت اور شراکت بھی کی۔ عرب کے اس معاشرے میں جہاں لین دین کے معاملات میں ڈنڈی مارنا، غلط بیانی کرنا اور اپنے مال تجارت کے نقائص کو محاسن بناکر پیش کرنا کاروباری ذہانت و تاجرانہ مہارت شمار ہوتا تھا، آپ آپؐ کا کردار ان عیوب سے بالکل پاک صراف اور مبرا تھا۔ آپؐ جوانی ہی میں الامین کے نام سے سارے جزیرہ نمائے عرب ہیں مشہور ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں >>

سیرتِ رسول  کی کرنیں

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جو ہدایات دیں ، ان میں راست بازی سب سے نمایاں ہے۔ خود آپؐ چونکہ اس کی بہترین مثال تھے، اس لئے اللہ رب العالمین نے آپ کو ایسا رعب عطا فرمایا تھا کہ بدترین دشمن بھی آپؐ کے سامنے آنکھیں جھکانے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ سیرت کا مشہور واقعہ ہے کہ ابو جہل نے کسی سے اونٹ خدیدے تھے اور طے شدہ سودے کے مطابق وہ ان کی قیمت ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا تھا۔ لوگوں نے ازراہِ مذاق اس شخص نے کہا کہ اپنی داد رسی کیلئے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ ۔

مزید پڑھیں >>

پاک ہے وہ ذات، جو مسجد ِ کعبہ سے اک شب لے گیا

قرآن ِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا: سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا، اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔(الاسراء:1)پاک ہ ہے وہ ذات،جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی،جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں ،تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں ۔بے شک وہ ہر بات سننے والی ،ہر چیز جاننے والی ذات ہے۔

مزید پڑھیں >>

موجودہ حالات میں واقعہ ٔ معراج کا پیغام

نبی کریم ﷺ کی مبارک سیرت اور آپ کی حیاتِ بابرکت میں پیش آنے والے حیرت انگیز واقعات میں اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے عبرت اور نصیحت کے بے شمار پہلو رکھے ہیں ،سیرت ِ رسول ﷺ کا کوئی چھوٹا بڑا واقعہ ایسا نہیں ہے جس میں رہتی دنیا تک کے لئے انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں کو پیغام و سبق نہ ملتا ہو ،اللہ تعالی نے آپ ؐ کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کی ذات کو انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا ،جس نمونے کو دیکھ کر اور جس صاف و شفاف آئینہ میں صبح قیامت تک آنے والے لوگ اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں اور اپنے شب وروز کو سدھار سکتے ہیں ،الجھنوں اور پریشانیوں میں را ہِ عافیت تلاش کرسکتے ہیں ،آلام و مصائب کے دشوار گزار حالات میں قرینہ ٔ حیات پاسکتے ہیں ،

مزید پڑھیں >>

معراج النبی ﷺ کی فضیلت

سردار الانبیا آمنہ کے لال ﷺ مہمان عرش کو تن تنہا اِن رنگ و نور کے جلووں میں داخل کر دیا گیا تھا اور اللہ تعالی کے اسما کے پردے ایک ایک کر کے گزرتے رہے ۔ حضور ﷺعالم بیداری میں لہذا بوجہ بشریت معمولی سی وحشت ہوئی تو رب ذولجلال کی آواز آئی ۔ پیارے محمد ﷺ رک جا بے شک تمھارا رب (استقبال کے لیے ) قرب آرہا ہے ۔سفر معراج کے اِس نازک مرحلہ پر محبوب خدا ﷺ مقام قاب قوسین پر پہنچ گئے ارشاد باری تعالی ہے ۔ترجمہ النجم ۔ پھر (اس محبوب حقیقی سے ) آپ ﷺ قریب ہوئے اور آگے بڑھے پھر (یہاں تک بڑھے کہ) صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

مزید پڑھیں >>

معراج مصطفی ﷺ

محسن انسانیت ﷺکایہ درس معراج ہے کہ آپﷺنے کل انسانی اخلاقیات و معاملات کوان کی معراج تک پہنچایا۔صدیاں گزرجانے کے بعد بھی اوربے شمارتجربے کرچکنے کے بعد بھی انسانوں نے اس معراج مصطفی میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔علوم معارف نے کتنی ترقی کرلی،سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان انسان خوابوں سے بھی آگے نکل گیا،رابطوں کی ترقی نے کرۃ ارض سمیٹ دیالیکن اس سب کے باوجود جس جس معراج کا تعین رحمۃ اللعالمین نے کیااس میں کسی طرح کااضافہ ممکن نہیں ہوسکااورنہ قیامت تک ہو سکے گاکیونکہ آپﷺ معراج کی جن بلندیوں تک پہنچ گئے اس سے آگے کوئی مقام ہی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

رسول اللہ ﷺ امن و آشتی کے پیغامبر

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے خلاف جارحیت نہیں کی۔ مکہ معظمہ میں ہجرت سے قبل تو دعوت و تبلیغ اور تربیت و تزکیہ ہی کا دور تھا۔ حکم ربانی تھا: کُفُّوْا اَیْدِیَّکُمْ ؛ یعنی ’اپنے ہاتھ روکے رکھو‘۔ اہل اسلام مظالم برداشت کر رہے تھے مگر صبر و تحمل کے ساتھ! ظلم کی چکی میں پس رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع خاموش تھے!! حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تلوار نکالی تھی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیام میں ڈالنے کا حکم دیا تو سر تسلیم خم کرلیا اور پھر اس وقت تک اسے نیام سے نہ نکالا جب تک اللہ تعالیٰ نے قتال کی اجازت نہ دی۔

مزید پڑھیں >>