غزل

نئی زمین نیا آسمان مانگتے ہیں

عتیق انظر نئی زمین نیا آسمان مانگتے ہیںسخن فقیر غزل کی زبان مانگتے ہیں سماعتیں ہیں گریزاں صدائے ماضی سےہم اپنے عہد کا طرز بیان مانگتے ہیں نڈھال جسم ہیں پودے زمین تشنہ لب دعائے رونق گیتی کسان مانگتے ہیں …

مزید پڑھیں >>