متفرقات

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟(تیسری قسط)

صنفی میلان کو انارکی اوربے اعتدالی سے روک کر اس کے فطری مطالبات کی تشفی و تسکین کیلئے جو راستہ خود فطرت چاہتی ہے کہ کھولا جائے وہ صرف یہی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کی صورت میں مستقل وابستگی ہو اور اس وابستگی سے خاندانی نظام کی بنا پڑے۔ تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کیلئے جن پرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اسی چھوٹی کارگاہ میں تیار کئے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

سنگ میل بنو، سنگ راہ نہیں!

 دین اسلام نے ہمیشہ لوگوں کویکجہتی کی طرف دعوت دی ہے۔اس کا عملی ثبوت بھی آپ کی حیات طیبہ سے باالکل واضح نظر آرہاہےکہ آپ کے دسترخوان علم سے دیگر مذاہب اور مختلف ممالک کےحضرات بھی مستفید ہوتے۔ شب و روز یہی کوشش رہتی کہ سماج و معاشرہ میں رائج بے بنیاد اعمال و عقائد کی اصلاح کی جائے۔ اسی لئے یونان،روم، ہند اور ایران کےلادینی فلسفے جو کہ مسلمانوں کے دلوں پر راج کررہے تھے اس سےعلمی سطح پر مقابلہ کی آسان راہیں ہموار کیں ۔

مزید پڑھیں >>

یتیم خانہ اسلامیہ چیرکی: ایک چراغ رہگذر

  صد سالہ جشن کے موقع پر ہم مسلم یتیم خانہ، چیرکی کی طویل خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آئندہ دنوں میں اس کی تیز رفتار وسعت و ترقی کے لئے دعا گو ہیں اور بطور خراج عقیدت بانی یتیم خانہ کی کاوشوں کے اعتراف میں  بروقت  وار د شدہ ایک شعر پر اپنی بات ختم کرتے ہیں

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (قسط اول)

انسان! جیسا کہ علیم و خبیر نے بیان کیاہے، سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی مخلوقات پیدا کی ہیں اور وہ سب اس سے کم جھگڑالو ہیں اوریہ بڑی باعث ِشرم بات ہے۔اس لئے انسان کو اپنے غرور و تکبر سے باز آنا چاہئے... اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کیں، لیکن وہ سچائی کے ظاہر ہوجانے کے باوجود اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اگر انسان اس بدترین اَخلاقی بیماری کا علاج نہ کرے اور شفا بخش دوا سے اس کا اِزالہ نہ کرے تو یہ کتنی بری بیماری ہے!

مزید پڑھیں >>

مجھے ہے حکم اذاں !

ہندستان کی تاریخ کے بارے میں گمراہیاں پھیلانا اور۔ ۔نئی تاریخ گڑھنا ہی ان کا سیاسی ایجنڈا (ہے )۔۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب ہندستان کے زیادہ تر  پرائیوٹ اسکولوں میں ’’ہیو مینٹیز ‘‘کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع موجود ہی نہیں ہیں ۔ اس سے  بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دسویں درجے تک لازمی مضامین کی فہرست میں شامل زبان و ادب کی تدریس اس طرح نہیں کی جاتی  کہ بچوں میں زبان کی صحیح   فہم اور  ادب کا ستھرا ذوق پیدا ہو سکے۔

مزید پڑھیں >>

لہو مجھکو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

 کسی بھی قوم کی ترقی اور معاشرہ کے استحکام میں اس کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ایک روشن و تابناک مستقبل کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے مقصد حیات اور منزل مقصود تک پہنچانے والی صحیح سمت یا راہ سے بھٹک جائیں تو وہ معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اور ہم جنس پرستی

ہم جنس پرستی ایک مہلک متعدی مرض کی طرح ساری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، اس کے حامیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تقریباً نصف دنیا نے اس کو قانونی جواز دے دیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کناڈا، فرانس، ڈنمارک، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، برازیل، بیلجیم، ارجنٹینا، ناروے، پرتگال، اسپین کے بشمول امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک نے باضابطہ اس کو قانونی جواز فراہم کردیا ہے۔ مشرق وسطی اور ایشیائی ممالک کی اکثریت اس کے خلاف ہے، لیکن دنیا کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی ہم جنس پرستی کی تائید کر رہی ہے اور ہر سات میں سے ایک فرد اپنے مخالفانہ ذہن کو تائید و حمایت میں تبدیل کر رہا ہے۔ ستر فیصد بالغ افراد اس کی حمایت میں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کربناک چیخ

 دولت رام کے بعدراجیش کے یہاں یکے بعددیگرے تین بیٹیوں کی پیدائش ہوئی، تین تین بیٹیوں کی پیدائش پرراجیش کچھ بجھ ساگیا، دراصل وہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل بارے میں فکرمندتھا، وہ جانتاتھاکہ بیٹی اصلاً پرائے گھرکی ہوتی ہے؛ لیکن اُس کورخصت کرنے میں جس قدراخراجات ہوتے ہیں ، وہ ایک ڈیڑھ سوروپے ماہانہ کمانے والے کی طاقت سے بہت باہرکی چیز ہے، راجیش کبھی کبھی لال پری سے بھی محظوظ ہوجایا کرتاتھا؛ لیکن بیٹیوں کے جنم کے بعداُس نے اپنے اوپراِسے حرام کرلیا۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں دربار موؤد فاتر اور نانوائی

روٹی لے لو… روٹی لے لو… گرما گرم روٹی لے لو…لواسہ، کلچہ، گرما گرم‘…یہ آوازیں آپ کو صبح سویرے سنجواں، بٹھنڈی، سدھڑا، جانی پور اور سرمائی راجدھانی جموں کے دیگر علاقوں، جہاں خاص کر وادی کشمیر سے آئے دربار موؤ ملازمین یا سرماکے دوران وادی سے آئے دیگر لوگ رہائش پذیر ہیں، میں سننے کو ملیں گیں۔

مزید پڑھیں >>

ایک روزہ شہید انسانیت کانفرنس 2017

ایک ہی اسٹیج پر جب ہندو مسلم سکھ سنی شیعہ بریلوی اجمیری دیوبندی اہل حدیث خطیب جب علاقے میں امن آشتی محبّت پیار دوستی کی بات کر رہے تھے تو یوں لگ رہا تھا کہ سارا قصبہ اس اجتماعی گفتگوکا صدیوں سے منتظر تھا۔ خواتین مرد بچوں جوانوں کالجوں اور مدرسوں کے طلبہ کے اس مخلوط مجمع میں جہاں سکھ کھڑا تھا وہیں ہندو پانی پلا رہا تھا، سنی قیادت کر رہا تھا تو شیعہ نظامت کر رہا تھا۔ ایک غضب کا منظر تھا جس کو زمانوں تک یاد رکھا جائے گا ۔

مزید پڑھیں >>