آج کا کالم

شیرخوار بچوں کی چتا پر جنم اشٹمی

اس اندوہناک سانحہ کے بعد یوگی نے پہلے ردعمل کا اظہار کرنے سے گریز کیا اور  دباو بڑھ جانے کے بعد  پریس کانفرنس میں آکر آئیں بائیں شائیں بکنے لگے۔ پردھان منتری نے یہ وعدہ کیا ہے۔ وزیرصحت نےنڈا ّ نے اپنا نمائندہ بھیجا ہے۔ ہمارے افسر دورہ کررہے ہیں۔ رپورٹ جلد ہی جمع ہوجائیگی۔ کسی کو بخشا نہیں جائیگا وغیرہ وغیرہ۔  ساکشی مہاراج تک اس کو قتل عام قرار دے دیا مگر یوگی جی اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے مودی   جی کابھجن سناتےرہے۔ ذرائع ابلاغ میں پھیلی  بدنامی جب ناقابلِ برداشت  ہوگئی تو دوبارہ اسپتال کا دورہ کیاجو مریضوں اور ان کے رشتے داروں کے لیے نئی  مصیبت بن گیا۔  وزیراعلیٰ کے حفاظتی دستے نے کسی کو اس کے بچے کی لاش کے ساتھ بھگا دیا تو کوئی اپنے مریض کو ہاتھوں سے اٹھا کر بھاگنے پر مجبور کردیا گیا۔ اسپتال کے اندر مریضوں یا ان کے رشتے داروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے بجائے   ڈاکٹرکفیل خان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ۔ یہ  احمقانہ کارروائی  اس لیے کی گئی  کہ   اس فرشتہ صفت انسان  کی بے لوث  اور انتھک  خدمت نے  ان پاکھنڈی شیطانوں کی قلعی کھول کررکھ  دی تھی۔

مزید پڑھیں >>

کب سدھریں گے  صحتی شعبوں کے حالات؟

ایک دن میں تیس بچوں کی موت، پانچ دن میں ساٹھ بچوں کی موت، تمام وزراء کے دورے بتاتے ہیں کہ ہماری حکومت ذمہ دار ہے. موت کے بعد وزراء کا دورہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اب بھی سب ختم نہیں ہوا ہے. 2012 سے یہاں 3000 بچوں کی موت ہوئی ہے، اگر اس رات آکسیجن کی سپلائی کا معاملہ نہیں ہوتا تو یہ بات قبول کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے کہ گورکھپور مقامی سماج بھی اور باقی معاشرے بھی ان اموات کو لے کر عام ہو چکا ہے. وزیر اعلی آدتیہ ناتھ نے خود اس معاملے کو لوک سبھا میں کئی بار اٹھایا ہے اور واقعہ سے دو دن پہلے وہ ہسپتال کے دورے پر ہی تھے. تب بھی یہ واقعہ ہوا. اس واقعہ کے بعد جو بڑے حادثے واقع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ اصل سوالوں سے توجہ ہٹانے کے لئے طرح طرح کی بحثیں پیدا کر دی گئیں. کچھ میڈیا کی جلد بازی سے اور کچھ منظم طریقے سے ٹرولنگ کے ذریعے. لہذا ضروری ہے کہ گورکھپور کے واقعہ کو لے کر اصل سوال پر ہی ہم ٹکے رہیں.

مزید پڑھیں >>

وندے ماترم: مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

سنگھ کے پاکھنڈ کا پول اس وقت کھل کر سامنے آگیا جب یوگی سرکارمیں  اقلیتی فلاح بہبود  کے وزیربلدیو سنگھ اولکھ کو ٹی وی پر وندے ماترم کی چار سطر سنانے کی درخواست کی گئی اور وزیر موصوف کےپسینے چھوٹ گئے  ۔ وہ بیچارے ایک سطر بھی نہیں سناسکے۔بلدیو سنگھ اولکھ کا کہنا تھا کہ ہمیں دیش بھکتی ثابت کرنے کے لیے مسلمانوں کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔ اسی منطق سے مسلمانوں کو بھی  اپنی حب الوطنی سنگھ  کے ثبوت میں سنگھ پریوار کاسرٹیفکیٹ نہیں چاہیے اس لیے ان کے کہنے پر مسلمان  یہ شرکیہ نظم کیوں  پڑھیں ؟  بلدیو سنگھ اولکھ کو  مسلمانوں کی دشمنی میں یوگی جی نےوزیر اقلیتی امور کا وزیر بناکر خود سنگھ پریوار کے پریوار کے  نظریہ  پر کلہاڑی چلادی ہے۔ سنگھ برسوں سے سکھوں کو ورغلا رہا ہے کہ وہ بھی ہندو ہونے کے سبب اکثریتی طبقے کا حصہ ہیں  بلکہ ہندووں کی تلوار ہیں ۔ اب یوگی جی نے ان کو بتایا کہ تم اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہو اس لیے ہم نے تمہیں اس عہدے سے نوازہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

اس کے قتل پہ میں جو چپ تھا میرا نمبر اب آیا

اکھل بھارتیہ کرشی گئو سیوا سنگھ بھی گئو سیوا کے کالے دھندے میں ملوث  ایک تنظیم  ہے۔ اس کے کارکنان کو ایک ٹیمپو پر شک ہوگیا جس کے ذریعہ  2 گائے اور 12 بیلوں  کو بازار میں فروخت کے لیے  لے جایا جارہا تھا ۔ یہ لوگ پونہ سے ٹیمپو کے تعاقب میں لگ گئے ۔  بالآخر شری گونڈا پولس تھانے کے احاطے میں اسے روک دیا گیا ۔ نام نہادگئورکشک شکایت درج  کرانے کے لیے پولس اسٹیشن میں چلے گئے۔پولس انسپکٹر باجی راو پوار کے مطابق   شام میں جب وہ کھانے کے لیے ہوٹل میں  گئے تو 20 تا 25 لوگوں نے ان پر حملہ کردیا ۔ گئو سیوکوں کے سردار شیوشنکر راجندر سوامی نے الزام لگایا کہ  اس حملے میں کئی لوگ زخمی ہوگئے اور حملہ آور سونے کی چین بھی چھین کر لے گئے تاہم پولیس  نےبھیڑ کو منتشر کردیا۔احمد نگر کے ڈی ایس پی سدرشن منڈے نے کہا کہ سوامی کی شکایت  پر 30 افراد کے خلاف دفعہ 307 کے تحت کیس درج کرلیا گیااورملزمان کو گرفتار کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے جن میں ٹیمپو کے مالک واحد شیخ اور ڈرائیور راجو فطرو بھائی شیخ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں >>

کیرالہ: سرخ اور بھگوا پرچم باہم  دست و گریباں

نئی سرکار کی تریمورتی میں درمیانی شیر نریندر مودی ہے اور دائیں بائیں جیٹلی اور شاہ ہیں۔ مودی بہت زیادہ  بولتے ہیں، جیٹلی بہت کم  بولتے  ہیں مگر شاہ کیا بولتے ہیں وہ خود بھی نہیں جانتے۔ شاہ جی پورا ہندوستان گھومتے ہیں مودی ساری دنیا کی سیر فرماتے ہیں لیکن جیٹلی دہلی سے باہر نہیں جاتے۔ نوٹ بندی کے سبب جب لوگ قطار میں دم توڑ رہے تھے تب بھی ملک کا یہ وزیر خزانہ گھوڑے بیچ کر سورہا تھا۔ دہلی یونیورسٹی کے اس سابق  اے بی وی پی رہنما کو کبھی جے این یو میں جاکر یہ دیکھنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ نجیب احمد اچانک کہاں غائب ہوگیا؟ سپریم کورٹ کے اس بے حس وکیل نے کبھی یہ پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی کنھیا کمار پر عدالت کے اندر کس نے حملہ کیا؟ اس سال فروری میں جب اے بی وی پی کے غنڈوں نے دہلی یونیورسٹی کے شمالی کیمپس پر حملہ کیا تب بھی جیٹلی کا کہیں اتہ پتہ نہیں تھا  لیکن اچانک کیرالہ کے اندر آرایس ایس  کارکنراجیش ایڈاواکوڈ کے قتل نے اسے خوابِ خرگوش سے بیدار کردیا اور وہ ہزاروں میل دور مقتول کے پسماندگان تعزیت کرنے کے لیے پہنچ  گیا۔

مزید پڑھیں >>

صفایٔی كرميوں کے حالات خراب ہیں!

پریکسس سنستھا نے 2014 میں گٹر میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا ہے. آپ جانتے ہیں کہ پورے ملک میں بھارت ماتا کے ان سچے سپوتو کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں رکھا جاتا ہے. گٹر بھی ملک کے اندر اندر کی وہ حد ہے جہاں ہماری صفائی کے لئے لڑتا ہوا بھارت کی ماں کا سپوت مارا جاتا ہے. اسے نہ تو شہید کا درجہ ملتا ہے نہ ہی معاوضہ. بھارت ماتا کا سپوت کہہ دینے سے سارا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا. گٹر میں اترنے والے نسل پرستی کا جو خمیازہ بھگتتے ہیں اس پر بات پھر کبھی ہوگی. کوئی 20 فٹ گہری گٹر میں اترا ہو، سانس لینے کی صاف ہوا تک نہ ہو، پتہ بھی نہ ہو کہ اندر صاف ہوا ہے یا زہریلی گیس. ان کے پاس کوئی سامان نہیں ہوتا جس سے معلوم کر سکے کہ نالے میں زہریلی گیس ہے. کئی بار ماچس کی تیلی جلا کر تحقیقات کر لیتے ہیں. بدن پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا ہے. کمر میں رسی بندھی ہوتی ہے تاکہ کیچڑ میں پھنس جائے تو کوئی کھینچ کر باہر نکال لے. پریكسس کی رپورٹ ڈاؤن دی ڈرین پڑھيے گا، انٹرنیٹ پر موجود ہے.

مزید پڑھیں >>

بات توسچ ہے مگر…!

چوں کہ حامد انصاری مسلمان تھے؛چ نانچہ کرن تھاپر نے کچھ سوالات خاص مسلمانوں کے تعلق سے بھی کیے اور کچھ عمومی انداز کے تھے، مگربین السطور میں مسلمانوں کاہی ذکر تھا، گویا پورے انٹرویوکا کم ازکم دوتہائی حصہ راست یابالواسطہ طورپرمسلمانوں سے متعلق تھا۔مثلاً انھوں نے انٹرویو میں ایک سوال ہندوستان میں بڑھتی ہوئی عدمِ برداشت کی فضاکے بارے میں کیا، اس تعلق سے انھوں نے پہلے متعدد مثالیں دیں کہ کس طرح بیف کھانے کے نام پر پرہجوم تشددلوگوں کی جان لے رہاہے، بھارت ماتاکی جے نہ بولنے والے کو دیس نکالادیے جانے کی بات کی جارہی ہے،  لوجہادکی فرضی داستان اور گھرواپسی کی مہم چلائی جارہی ہے، اس صورتِ حال کووہ ہندوستان کے نائب صدرکے طورپرکس نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اس کے جواب میں انصاری صاحب کہتے ہیں کہ’’ہندوستانی اقدارشکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور ایک ہندوستانی الاصل انسان سے اس کی قومیت کے بارے میں دریافت کیاجارہاہے، جو نہایت تکلیف دہ صورتِ حال ہے‘‘۔ان سے پوچھاگیاکہ ’’بہت سے لوگوں کاایسا مانناہے کہ ہندوستان ایک عدمِ برداشت والا دیش بنتاجارہاہے، اس کے بارے میں آپ کیاکہتے ہیں ؟‘‘جواب میں وہ کہتے ہیں کہ’’صحیح بات ہے، میری بھی مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے، ان کابھی یہی احساس ہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

شاہ جی کا لنگڑا گھوڑا

حرص و طمع کی صفت  انسان کی ذلیل و خوار کرتی ہے اس کی تازہ مثال امیت شاہ اور اس کے آقا نریندر مودی ہیں ۔  گجرات کے اندر ایوان بالا کا انتخاب بہت سہل تھا ۔ بی جے پی ارکان اسمبلی کی تعداد چونکہ کانگریس سے تقریباً دو گنا  ہیں اس لیے بی جے پی کے 2 اور ایک کانگریسی امیدوار منتخب ہوجاتا۔  اس طرح احمد پٹیل کے ساتھ نہایت خوشگوار سیاسی ماحول  سمرتی ایرانی اور امیت شاہ  راجیہ سبھا کے ارکان  بن جاتے لیکن اگر یہی سب ہوتا تو امیت شاہ کے حصے میں ذلت کیسے آتی؟ اس کے لیے شاہ جی نے کافی جدوجہد کی اور بالآخر رسوائی کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر بیٹھ گئے ۔ حیرت کی بات  یہ ہے کہ سارے ہندوستان میں اپنی چانکیہ نیتی کا ڈنکا بجانے والے امیت شاہ کو خوداپنے ہی صوبے میں منہ کی کھانی پڑی  اور وہ ان کے چہرے پر ایسا طمانچہ پڑا   کہ مودی جی کے گال بھی سرخ ہوگئے۔ اس طرح لیلیٰ مجنوں کی یاد تازہ ہوگئی۔

مزید پڑھیں >>

گنگا میلی کیوں ہوگئی؟

گنگا جمنا کا اصل مسئلہ ان  کےساتھ وابستہ غیر ضروری تقدس ہے۔ اس کا اعتراف معروف رام بھکتن  اور آبی وسائل کی وزیر سادھوی اوما بھارتی نے ازخودکیا۔  انہوں نے ایوان پارلیمان  کو بتایا کہ یہ کوئی ٹھیمس یا رائن جیسی ندیوں  کا معاملہ نہیں ہے کہ جن میں لوگ غوطہ نہیں لگاتے بلکہ گنگا میں ہر روز 20 لاکھ اور ہرسال 60 کروڈ لوگ ڈبکی لگاتے ہیں ۔ گنگا میں اتنے سارے لوگ اپنا پاپ دھونے کے لیے نہاتے ہیں اس لیے اس کے آلودہ میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے حالانکہ کسی ندی میں نہا لینے سے کیا کسی کا گناہ معاف ہوسکتا ہے؟   اس سوال پر غور کرنے کی توفیق کسی اندھے بھکت کو نہیں ہوتی ۔  سادھوی اوما بھارتی کا خیال ہے کہ گنگا صرف پاپیوں کے پاپ  دھوتے دھوتے   میلی ہوگئی لیکن یہ بات غلط ہے ۔ شاید وہ نہیں جانتیں کہ جن لوگوں کے پاس اپنے اعزہ و اقارب کی لاشوں کا انتم سنسکار کرنے کے لیے روپیہ کوڑی نہیں ہوتا۔ جو بیچارے سیکڑوں روپیوں کی لکڑی کا پربندھ نہیں کرپاتے وہ مجبوراً ان بے کس و لاچار لاشوں کو گنگا میں بہا دیتے ہیں ۔ اس طرح سال بھر میں نہ جانے کتنی لاشیں اس پوتر ندی کی نذر کردی  جاتی ہیں ۔یعنی زندہ اور مردہ دونوں اس  ندی کوآلودہ کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

 یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

 ترقی کے اس دور میں ہر چیز کمپیوٹرائز ہوچکی ہے، گھربیٹھے دور دراز کی چیزیں بھی آسانی کے ساتھ منگوالی جارہی ہے، جہاں کمپیوٹر کے ذریعہ بہت ساری سہولتیں پیدا ہوئی ہیں وہیں کتابوں کے مطبوعہ جلدیں ہاتھوں میں اٹھائے پڑھنے کے بجائے پی، ڈی، ایف کی شکل میں پڑھی جارہی ہیں، اس سے یقینا بڑی آسانی ہوگئی، اور نادر ونایاب کتابیں بھی دستیاب ہونے لگیں ہیں اور بغیر خرچ کے مفت میں کتابوں کو حاصل کرلیا جارہا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے مطالعہ کا جو حقیقی لطف اور مزہ تھا وہ نہیں رہا، اس کی افادیت سے انکار نہیں، لیکن علم اور کتابوں کی خوبصورت دنیا کی ویرانی کا گلہ شکوہ بھی بجا ہے۔ کتب خانے خالے ہوتے جارہے ہیں، طبع شدہ کتابیں صرف چند افراد کے علاوہ کوئی لینے کے لئے تیار نہیں، ہر کوئی مفت کی کتاب کو کمپیوٹر یا موبائل میں ڈال کر پڑھ لینے کی فکر میں ہے۔

مزید پڑھیں >>