براؤزنگ زمرہ

صحافت

ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں، اخبار پڑھنا چھوڑ دیں !

بالکل اسی طرح، پرنٹ میڈیا میں بھی ایسے کئی اخبارات ہیں جو محض نام کے لئے جاری ہوتے ہیں، ان اخبارات کا کوئی مخصوص موقف نہیں ہوتااور نہ ہی انہیں قومی و ملی مسائل سے کوئی لینا دینا ہوتا ہے، ایسے میں آپ ایسے اخبارات خریدتے ہیں تو اس سے وہ…

اردو اخبارات کے مدیران سے کچھ باتیں

کسی بھی فرد یا ادارہ کے ہر جائز و ناجائز اقدامات کی جانے انجانے طریقے سے تعریف اور حوصلہ افزائی کا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے خامیاں یا لغزشیں سامنے نہیں آ پاتیں اور نتیجتاً متعلقہ فرد یا ادارہ اور قاری کسی غلط کام کو بھی درست سمجھ بیٹھتا ہے۔

فارغین مدارس اور اردو صحافت

ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص ہر موضوع کا ماہر ہو۔ اور جب ایسا ہے تو پهر لیرہ اور ڈالر ، ریال اور درهم کے بارے میں رائے زنی نہ کریں۔ کسی بهی ملک کی کرنسی کی قیمت کس طرح گهٹتی یا بڑهتی ہے ۔IMF انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ کا کیا کام ہے اس میں کرنسی باسکٹ…

زندگی سے محروم ہوتی صحافت

صحافت کا شعبہ انتہائی اہم شعبہ ہے، اس کو اظہار رائے کی حقیقی آزادی عطا کرنا دنیا کے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے، اور ان کی عزت و توقیر کرنا ان کے کام کی قدر کرنا، دنیا کی ترقی کا ذریعہ ہے، اسی میں جمہوریت کی بقا اور اس کی ترقی کا راز پوشیدہ…

مدارس میں میڈیا کی تعلیم: وقت کی اہم ضرورت

 ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میڈیا دو دھاری دار تلوار ہے اس سے جہاں معاشرے کے سدھار میں زبردست کام لیا جا سکتا ہے وہیں یہ معاشرے کے بگاڑ کا باعث بھی بن سکتا ہے یہ ظلم و بربریت کو روکنے کے لئے ایک مؤثر ہتھیار ہے اور ظلم کے لئے دلائل…

قلم فروش بر وزن جسم فروش

ان دنوں اس کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے اور اسے الیکشن کیمپین اور  انتخاب جیتنے کی اسٹریٹجی اور حکومت کرنے کا ہائی ٹیک فارمولہ کہا جاتا ہے۔کہ حکومت کے اشارے پر کس خبر کو چلانا ہے اور کسے نظر انداز کرنا ہے یہ وہ مینجمنٹ صحافی طے کرکے اینکر کو…

کیامسلم میڈیا کا امکان ہے؟

ہماری دینی جماعتوں  کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا وہ اپنے اداروں میں ایسی کوئی کوشش نہیں کرسکتے ؟ کیاوہ کروڑوں کے بجٹ میں سے کچھ بجٹ ایسے کسی کام کے آغاز کے لیےنہیں لگاسکتے ؟ کیا ان کےپاس ایسےافراد کی کمی ہےجو اس کام کو انجام دے سکیں ؟

کیرالا میں اُردو صحافت

جنوبی ہند میں کیرالا ایک ایسی ریاست ہے جہاں سب باشندوں کی بولی، سمجھی، لکھی اور پڑھی جانے والی زبان ’ملیالم‘ ہے۔ کیرالا میں ہندو، مسلم، عیسائی، بُدھ اور جین مذاہب کے لوگ یکساں طور پر ملیالم زبان استعمال کرتے ہیں۔ ایسی ریاست میں اُردو زبان…

اردو صحافت: ابتداء اور آج 

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج صحافت کے اکثر ایڈیٹر ایسے ہیں جو خود پڑھتے ہی نہیں، اور اداریہ کس نام سے، کس عنوان سے، اور کس موضوع پر چھپاہے جانتے ہی نہیں، گویا روزِاول سے صحافت کے جو کلیدی مقاصد اور اس کی تحریکات وعوامل تھے سب ناپید ہوچکے…

میڈیا کی گہار: پھر ایک بار، مودی سرکار

فی زمانہ بجا طور پر ساری دنیا میں سعودی عرب کے صحافی جمال خشوگی کے قتل پر ہنگامہ برپا ہے لیکن  افسوس کہ ہندوستان کے اندر صحافت کی رگوں میں سرائیت کرنے والے میٹھے زہر کی بات کوئی نہیں کرتا ۔ موت تو موت ہے چاہے اس کے لیے گولی کا استعمال کیا…

اردو صحافت اور ہماری ذمہ داری

 اخلاقی سطح پر جس زوال کاشکار عام صحافت ہوئی ہے اردو صحافت پر بلا شبہ اس کے اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوئے ہیں، لیکن اردو زبان کے سا تھ جو سوتیلا سلوک سرکاری سطح پر روا رکھا گیا اس کے سبب بھی اردو صحافت بڑی حد تک زوال پذیر ہوئی ہے۔

آشفتہ سر کا نوحہ

عالم نقوی  کے لفظوں میں ’’فی لحال ہم اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کی مختصر فہرست میں اپنا نام درج کرالیں اور کل کی جواب دہی سے بچ جائیں، ورنہ ترقی کا یہ عذاب  تو سب کچھ، بلا مبالغہ، سب کچھ مٹادینے کے درپے ہے ‘‘۔

نیّرِ تاب دار تھا نہ رہا

حالیہ دِنوں کئی ایسی عظیم شخصیتیں ہم سے رخصت ہوئیں جنہوں نے اپنی ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے قارئین کا ایک وسیع حلقہ بنا لیا تھا۔ اُنہی محترم شخصیات میں سے ایک کلدیپ نیر بھی ہیں۔ کلدیپ نیر طویل مدت سے بیمار چل رہے تھے اور ۹۵/سال کی…

رخصت ہوا صحافت کا وقار

وہ پوری زندگی لفظوں کی شکل اختیار کرکے کاغذ کے سینے پر رقم ہوتی رہی، جب تک کلدیپ نیر کی سانسیں چلتی رہیں، محبت کی شمع جلاتے رہے، وہ ہندوستان اور پاکستان میں امن چاہتے تھے، دوبارہ لاشوں کا وہ جنگل نہیں دیکھنا چاہتے تھے، جو انہوں نے تقسیم…

آہ! کلدیپ نیئر

آج نہیں تو کل مورخ موصوف کی خدمات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ سچ تو یہ بھی ہے کہ کلدیپ نیئر کی تحریریں اردو صحافت کو اعتباربخشنے کے حوالہ سے قابل قدرکہلانے کی مستحق ہیں۔

سنسنی خیز بریکنگ نیوز اور پریشان عوام

 آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ایسے میں تو یہی لگتا ہے کہ مسکرانا منع  ہے جس طرف دیکھو بری خبریں ہی سنائی دیتی ہیں ایسے میں بندہ کی گبھڑاہٹ ہی نہیں جاتی اس  زمر میں میڈیا خاص اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے ہر  وقت سنسنی پھیلا ئے رکھنے کا عہد…

کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد!

موجودہ تیرہ وتارہندوستانی سیاسی منظرنامے پرالیکٹرانک میڈیامیں چندہی ایسے چہرے ہیں، جنھوں نے اب تک برسرِ اقتدارقوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکارکیاہے، یہ حکومت نہ انھیں کیسۂ زرکے دام میں پھنساسکی ہے اورنہ سطوتِ شمشیرہی ان کی بے باکی…

متعصب چینلوں کی وجہ سے ملک میں نفرت کا ماحول

اکابرین و قائدین ملت کی ذمہ داری ہے کہ ٹی۔ وی مباحث کے لیے چنندہ لوگوں کا انتخاب کرے جو میڈیا کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کا مسکت جواب دے سکے اور ان لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کریں جو نیشنل ٹی۔ وی پر آنے کے شوق میں دانستہ یا نادانستہ…

ٹی وی مباحثوں کا بائیکاٹ کیوں؟

بھلا بتایئے کہ جس ڈیبٹ کے تین شرکاء آر ایس ایس سے قلبی وابستگی رکھنے والے ہوں اور اینکر بھی اسی ذہنیت کی ہو، اس کا نتیجہ اسلام دشمنی، مسلمانوں پر الزام تراشی اور شریعت اسلامی کی تضحیک کے سوا اور کیا نکل سکتا ہے۔

کشمیری صحافیوں کو لال سنگھ کی دھمکی

یہ ریاست کسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ کوئی مائی کالال کسی کومذہبی بنیادوں پر ڈرائے دھمکائے۔ جموں و کشمیرو طن کے تمام باشندوں کا گلدستہ ہے جو مذہب ، زبان، نسل، جغرافیہ اور دیگر تفرقات سے ماوراء ہوکر بھائی چارے کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔

ہم صحافی ہیں!

موجود ہ دور کے طاقتور ہتھیار صحافت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے حق کی لڑائی لڑیں۔ ایماندار و سچے صحافیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ایسا انقلاب برپا کریں کہ فاشزم کا خاتمہ ہوجائے۔

ہندوستان میں صحافیوں پر حملے: سدباب ضروری

درندگی کو ختم کرنے کے لیے انسانوں کے اندر کی انسانیت کو جگانا ضروری ہے اور اس کے لئے تقاریر سے کام چلنے والا نہیں ہے بلکہ انفرادی طور پر افراد سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی ذہن سازی ہونی چاہیے، جلسہ جلوس وقتی اثر رکھتے ہیں لیکن انفرادی ذہن سازی…

کالم نگار کیسے بنیں؟

میرے خیال میں اس وقت ضرورت بھی اسی امر کی ہے کہ صحافت کو کلاس روم کی بجائے عملی طور پر سکھایا جائے، صرف کلاس روم تک محدود ہونے سے سی جی پی اے تو مل جائے گا لیکن پھر آپ یہ خیال ذہن سے نکال دیں کہ آپ ایک اچھے صحافی، اینکر یا کالم نگار بن…

ہندوستانی صحافت نظریاتی طور آزاد نہیں

آج جس طرح ہندوستان میں ایک مخصوص ایجنڈا کو پھیلانے کیلئے میڈیا کا استعمال کیاجارہاہے، وہ نیک شگون نہیں ۔ یاد رہے کہ دسمبر1993میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے UNESCoجنرل کانفرنس کی سفارشات پر 3مئی کو عالمی یومِ آزادی صحافت قرار دیاتھا۔

ایسی نا مرد صحافت سے طوائف اچھی

ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں بھی اب میڈیا دباؤ کا شکار ہے اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرنے والے ذرایع ابلاغ کی عوام میں ساخت ماضی کے مقابلے میں خراب ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کے میڈیا کا اپنے قابل اعتماد ہونے سے محروم ہوتے جانا اس وقت آزادی…

عالمی یوم صحافت اور ہمارے ملک کی موجودہ صحافت

ہم اس امر سے ہم انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کے الفاظ معاصر منظر نامے میں بے معنی اور بے وقعت ہوتے جا رہے ہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قلم اور کیمرے کو جس طرح جبر و تشدّد کا نشانہ بنایا جا رہا…

این ڈی ٹی وی، رویش کمار اور پرنِو رائے

ابتدائی تعلیم دون اسکول دہرہ دون سے حاصل کی۔ اس کے بعد انھیں Haileybury اور Imperial Service کالج انگلینڈ مین اسکالرشپ ملی جہاں سے وہ برٹش چارٹرڈ ااکاؤنٹنٹ بن کر نکلے پھر انھوں نے دہلی اسکول آف اکانومکس سے PhD کیا۔ وہ  ایک کامیاب ٹی وی…