بکتے رہتے ہیں جانے کیا کیا کچھ:  ہندوستان کے ’ہوا ہوائی‘ مشاہیر

اے رحمان  آج سے تقریباً پینتیس چھتیس سال قبل انگریزی میگزین ’انڈیا ٹوڈے‘ نے ایک نہایت دلچسپ فیچر شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا  The Windbags of India۔ انگریزی میں لفظ windbag  (لغوی معنی :ہوا سے بھرا یعنی خالی تھیلا) ایسے شخص کے لئے…

انسان نما بھیڑیے: کسی تنہا کو پوری بھیڑ نے مارا تو کیا مارا

اگر ارباب ِ حلّ و عقد نے عقل کے ناخن لیتے ہوئے اس کے تدارک کی فوراً کاروائی نہ کی اور لنچنگ کے خلاف سخت قانون نہیں بنایا گیا تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اعلیٰ پیمانے پر فسادات بھڑک سکتے ہیں اور اس کے بعد ملک کو خانہ جنگی کی طرف جانے سے…

جرم اور سیاسی تحفظ: تو قتل عام کر بارعدالت میری گردن پر

اس پورے تماشے کا ایک پہلو اور بھی ہے جس کا ذکر ملن ویشنو کی کتاب میں نہیں ہے۔ وہ ہے خود اربابِ سیاست کی (اقتدار میں آنے کے بعد) بدعنوانی اور ناجائز اکتساب زر جس کی اب کوئی حد ہے نہ حساب۔ سیاسی اقتدار دولت کے حصول کا آسان ترین ذریعہ ہے اور…

چیف جسٹس معاملہ: ہزاروں سازشیں ایسی کہ ہر سازش سے دم نکلے

امید افزا بات یہ ہے کہ انکوائری کی چھان پھٹک میں نہ صرف سو پ کے سوراخ سامنے آ جائیں گے بلکہ چھلنی بھی کچھ آلائش نکال دے گی۔ ہر چھوٹا بڑا حادثہ مستقبل کے لیے بہتر حفاظتی تدابیر اور اقدامات کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ عدلیہ اور زیادہ شفاف اور پر…

گر صاحبِ انصاف کٹہرے میں کھڑا ہو؟

فکسرز کی سازش والا زاویہ کیونکہ نہ صرف سنگین ہے بلکہ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اس لیے عدالتی بنچ نے دلی پولیس، سی۔ بی۔ آئی اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہان کو عدالت میں طلب کر لیا تھا اور گذشتہ کل…

رحیمن پھاٹے دودھ کو متھے نا ماکھن ہوئے

 کانگریس نے بھی اپنے منشور میں ’سماجی انصاف‘ کہہ کر پلّہ جھاڑ لیا ہے اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اسے ’ نرم ہندوتو رجحان‘ پر محمول کیا ہے۔مختصر یہ کہ پھٹے ہوئے سیاسی دودھ سے مکھّن برآمد ہونے کی توقّع کرنا تو حماقت ہے اور بی۔جے۔پی کی بگڑتی ہوئی…

انتخاب 2019: پیش کر غافل عمل جو بھی ترے دفتر میں ہے

اب تو بہترین حکمت ِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ جو جماعتیں سیکولر ازم کے نام پر بی۔ جے۔ پی کے خلاف پر خلوص طریقے  سے متحد ہیں وہ جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی جیسے ایشو لے کر عوام کے پاس جائیں نہ کہ ’’ مودی ہٹاؤ ‘‘  نعرہ لے کر جو مودی کو مظلومیت…

ایودھیا: ثالثی صبر طلب اور سیاست بے تاب

کہا گیا ہے کہ سنگین ترین مسٔلے کو بھی وقت دو۔ ۔ دیتے رہو تو وہ خود کو حل کر لیتا ہے۔ جیسا کہ مذکور ہوا ایک اچھی ابتدا ہو چکی۔ اب سیاست کو پست کر کے اس عمل کو وقت دیا جائے، صبر کیا جائے اور شجر ِ ثالثی سے پیوست رہا جائے تو بہار ہی بہار ہے۔…

الیکشن 2019: سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے

رام مندر اور بابری مسجد کے قضیے کو ہمارے سپریم کورٹ نے آنے والے عام انتخابات کا مدّعا نہیں بننے دیا۔ اب حال ہی میں پیش آئے پلوامہ سانحے کی وجوہات اور اس سے وابستہ بنیادی مسائل کو بڑی بے شرمی سے نظر انداز کر کے بے ضمیر الیکٹرونک میڈیا نے…

جنگ کی سیاست، عوامی نفسیات اور سیاست کی جنگ

کرناٹک کے سابق وزیر ِ اعلیٰ نے تو بڑی بے شرمی سے اعلان تک کر دیا کہ فوجی کاروائی سے حکمراں جماعت نے بھرپور سیاسی اور انتخابی فوائد حاصل کر لئے ہیں۔  اس طور پورے سیاسی کھیل کا شاطرانہ منصوبہ (gambit ) اظہر من الشمس ہو گیا، وہ یہ کہ عوام کے…

کوئی بتائے یہ اندازِ جنگ جُو کیا ہے؟

ہندوستان ایک بہت بڑی آبادی والا ملک ہے جہاں نہ صرف چوتھائی سے زیادہ آبادی  خط ِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے بلکہ جہاں عام حالات میں بھی سینکڑوں معاشرتی مسائل پھن کاڑھے کھڑے رہتے ہیں۔ جنگ ہوجانے کی صورت میں یہ سب مسائل کتنی سنگینی…

 صارفیت، کاروباریت، منقلب اخلاقی اقدار اور بے سمت انسانی معاشرہ

اخلاقیات سے عاری شخص ایک ایسے وحشی جانور کی مانند ہے جسے ہشکار کر متمدّن دنیا پہ چھوڑ دیا گیا ہو‘‘۔ کتنے وحشی جانور چاروں طرف کھلے پھر رہے ہیں اندازہ کرنا مشکل ہے، یہ اندازہ کرنا اور بھی مشکل ہے کہ اخلاقی اقدار (روایتی  یا جدید) سے عاری…

پلوامہ سانحہ کیسے ہوا؟

 جہاں ایک جانب اسے دہشت گردوں کی کامیابی کہا جائے گا وہیں دوسری جانب یہ ہماری انٹیلیجنس کی شرمناک ناکامی ہے اور وکرم سود نے اس کا بھی اعتراف کیا ہے۔ ایک اہم اور پریشان کن نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب عام انتخابات سر پر ہیں…

غالب : وہ ہر اک بات پر کہنا جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا

غالب کی فلسفیانہ فکر اور طبیعت ان کے کلام سے اظہر من الشمس ہے۔ مسٔلہ یہ  ہے کہ لوگوں نے’ فلسفی‘ یعنی محض فلسفی اور فلسفی شاعر کا فرق نہیں سمجھا۔ کل وقتی فلسفی شاعر جیسا تخیّل نہیں رکھتا، اسی لئے اس کی تحریر و تقریر ادق اور خشک ہوتی ہے۔ لیکن…

اردو سیمنار: میں تجھے مہماں کروں اور تو مجھے مہمان کر

بین الاقوامی سیمنار سب سے زیادہ مرغوب معاملہ ہے۔ آپ جس غیر ملک سے مقالہ نگار مدعو کریں اسی ملک میں آپ کو جواباً مدعو کر لیا جائے گا۔ اکثر یہ سانٹھ گانٹھ سیمنار سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ اب تو چند حاضر سروس پروفیسر حضرات نے کھلّم کھلّااپنی…