محمد اسعد فلاحی

محمد اسعد فلاحی
معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں قائم سیرت کمیٹی نے گزشتہ کئی برسوں سے محبان رسول کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس کے ذریعہ ہرسال ’’ سیرت رسولؐ‘‘ کے عنوان کے تحت تحریری وتقریری مقالمے منعقد کیے جاتے ہیں۔ مقابلہ میں ممتاز کار کردگی کرنے والوں کوانعامات سے نوازا جاتا ہے ملکی سطح سیرت کے عنوان سے ایک خصوصی سیمینار کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں اہلِ علم حضرات اپنے قیمتی مقالے پیش کرتے ہیں۔ بعد میں انہیں یکجا کرکے افادۂ عام کے لیے کتابی شکل میں شائع کردیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

خطوط زنداں

بیسوی صدی عیسوی میں شہادت حق کا فریضہ انجام دینے کے لیے اسلامی تحریکیں وجود میں آئیں۔ عالم عرب میں اخوان المسلمون اوربرصغیر ہند میں جماعت اسلامی۔ دونوں تحریکوں نے اقامت دین کواپنا نصب العین قرار دیا اوراسی پر جم گئے   اور پھر آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ آج بھی جاری ہے۔

مزید پڑھیں >>

یہ 60 اموات سوال ہیں، پر کہاں پوچھیں یہ سوال؟

گورکھپور کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 5 دن میں ہوئی 60 بچوں کی موت کا واقعہ پر ملک كھول اٹھا ہے. ہر کوئی حکومت سے سوال پوچھنا چاہتا ہے. اس لچر نظام میں مکمل تبدیلی چاہتا ہے. سوالات، الزام، غصے اور جذبات کے درمیان اصلیت یہ ہے کہ ان بچوں کی موت میں میرا، آپ کا، ہم سب کا ہاتھ ہے. ہم نے اپنے آپ سے، ایک دوسرے سے سوال پوچھنے کے سب سے اہم حق کو چھین لیا ہے.

مزید پڑھیں >>

محبت کے پیکر: مولانا طارق جمیل

مولانا طارق جمیل صاحب دیگر تنگ نظر علماء کی طرح اپنے مسلک اور اپنی جماعت کو برحق اور دیگر جماعتوں کو باطل نہیں گردانتے، بلکہ سب کا احترام کرتے ہیں اور دیگر جماعتوں اور تنظیموں میں شرکت کر کے اس کا عملی ثبوت بھی پیش کرتے ہیں

مزید پڑھیں >>

مجھے مت مارو…میں بھی انسان ہوں!

ایک ٹرین چلتی ہے، سیٹ پر تنازعہ ہوتا ہے. جس سے تنازعہ ہے وہ ایک مذہب کا ہے، تو سب سے آسان کام افواہ ہے وہ پھیلا دی گئی اور پھر پٹایی شروع ہو گئی. بچانے والا کوئی نہیں تھا لیکن پیٹنے والے بھی کم نہیں تھے. ایک نے دم توڑ دیا اور باقی تین اسپتال میں ہیں . یہ جرم کا نیا طریقہ ہے.

مزید پڑھیں >>

مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند!

ملک کے مختلف علماء نے واضح طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ شریعت اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے۔ اس لیے اس میں کسی بھی حکومت ،عدلیہ یا مقننہ کو اس میں کسی بھی طر کی چھیڑ چھاڑ یا بدلاؤ کا کوئی حق نہیں ہے۔جب حضرت محمدﷺ کو یہ حق حاصل نہیں تھا تو کس طرح سے مسلمان یہ حق کسی حکومت یا عدلیہ کو دے سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارعلماء نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ پندرہ روزہ مسلم پرسنل لا بیداری مہم (23؍اپریل 7مئی 2017)کے اختتامی پروگرام میں کیا۔

مزید پڑھیں >>

مسلم پرسنل لا بیداری مہم

جماعت اسلامی ہند ، 23؍ اپریل تا 7؍ مئی 2017ء تک ایک کل ہند مہم [ مسلم پرسنل لا بیداری مہم] منانے جا رہی ہے۔ جس کا مقصد مسلم معاشرے کی اصلاح اور امت کو عائلی زندگی سے متعلق احکام اور قوانین سے واقف کرانا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں عائلی زندگی میں جو بگاڑ پیدا ہو رہے ہیں یا اسلامی احکام و قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ، ان کے ازالہ کی تدابیر اختیار کرنا اور مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنے عائلی تنازعات کو شریعت کے مطابق اور شرعی عدالتوں کے ذریعہ ہی فیصلہ کروائیں ۔

مزید پڑھیں >>

افلاس محبت یا اخلاقی بحران!

حقیقت میں ہماری ذات سے وابستہ ہر رشتہ اور ہر تعلق اس وقت تک مضبوط و مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک اس میں ’محبت کا امرت ‘ اچھی طرح رچ بس نہیں جاتا۔مگر افسوس کہ آج محبت کے فقدان نے خاندانوں ،رشتے داروں ،معاشرتی تعلقات حتی کہ ازدواجی تعلقات میں بھی دوریاں پیدا کر دی ہیں ۔اب ،جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے بجائے عداوت اور ہم دردی کے بہ جائے بدلہ لینے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ نتیجتاہمیں ہر رشتہ ،ناتا ،ربط و تعلق نا پائیدار،کمزور ومشکوک دکھائی دیتا ہے۔اب ہمارے رویوں ، باتوں اور چال چلن میں خلوص اور محبت باقی نہیں رہی اور اس کی کمی نے خونی رشتوں اور عزیزوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے حائل کر دیے ہیں اور ان کے درمیان چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں ،رنجشوں اور شکایتوں کو عام کر دیا ہے۔دل کی بد گمانی ،لہجے کا طنز ،حاسدانہ رویہ اور محبت کی عدم موجودگی نے خاندانوں کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کیوں اور کیسے؟

مسلمانوں کو ہندوستان میں رہتے ایک طویل مدت گذر چکی ہے ۔یہاں مسلموں اور غیر مسلموں کی مخلوط آبادیاں ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سے معاملات ہیں جن میں قدم قدم پر ان سے سابقہ پڑتا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو مسلمان اپنے برادران وطن کے معاملات ،رسم و رواج،عقائد ،تہوار،اور تاریخ کا علم رکھتے ہیں اورنہ ہی غیر مسلموں کو اسلام اور مسلمانوں کی بنیادی باتوں کا علم ہے ۔ اور یہی ناواقفیت انہیں ایک دوسرے کے متعلق شکوک شبہات میں مبتلا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

‘مسلم پرسنل لا’ کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں!  

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جو شریعت اسلامیہ اور مسلم پرسنل لا سے ناواقف ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے، مسلمانوں میں پرسنل لا کی تفہیم و تشریح اور اس تعلق سے ان کے اندر بیداری لانے کے لیے ایک بہت اچھا موقع ہے۔موجودہ حکومت، عدالتوں اور کچھ سیکولر لوگ مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے، مسلمانوں کو دستور ہند میں حاصل حقوق سے محروم کرنے اور یکساں سول کوڈ کے نافذ کرنے کی منصوبہ بند کوشش کر رہے ہیں ۔دیکھا جائے تو اس معاملے مسلمان بھی کسی حد تک قصور وار ہیں ۔ جب کبھی ان کے درمیان نزاعات پیش آتے ہیں ، تو وہ اپنے مذہبی اداروں ، دار الافتاء، دار القضاء وغیرہ کے ذریعہ انھیں حل کرانے کے بہ جائے سرکاری عدالتوں کا رخ کرتے ہیں ، اس طرح وہ خود عدلیہ کو اپنے پرسنل لا میں مداخلت کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔مسلم عوام کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اختلافات و نزاعات میں کورٹ، کچہری کے چکر لگانے کے بجائے شرعی پنچایتوں اور دار القضاء کا کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرانے کی کوشش کریں ۔

مزید پڑھیں >>