گوشہ اطفال

بچوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا مشفقانہ سلو ک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر، جو کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان، تھے کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا، چنانچہ یہ سب دوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آکر گرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے

مزید پڑھیں >>

چائلڈ میرج کے خلاف جھارکھنڈکی بچیوں کا مثالی کردار

مونیکا نے بتایاکہ جب سویتا سے اس کی شادی کی بات معلوم ہوئی تو اسے کم عمر میں شادی کے نقصانات کے بارے میں بتایا۔ پھر اپنے اسکول کے ٹیچر جگدیش منڈل سے اس بارے میں بات کی۔ ان کے مشورے سے مونیکا اپنے بال پترکار ساتھیوں کو لے کر سویتا کے گھر گئی اور اس کے والد سے بات کی۔ اس نے انہیں پاس کے گائوں کی لڑکی کی موت کی بات یاددلائی،جس کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی۔ اس نے کہاکہ سویتا ابھی بہت چھوٹی ہے، شادی کے بعد اس کی پڑھائی چھوٹ جائے گی۔

مزید پڑھیں >>

ادب اطفال اور’گیت گاگر‘ کے خالق محمد افضل خاں

   شاعر نے اس مجموعے میں بچوں کی عمر کے لحاظ سے نظموں کا انتخاب کیا ہے ان کی دلچسپی کا بھی خیال رکھا ہے۔ نئے نئے عنوانات اور موضوعات کے تحت اچھی اچھی، معیاری اورپیاری نظمیں پیش کی ہیں ۔ زیادہ تر نظمیں مختصر ہیں یعنی نظموں میں اشعار کم ہیں یہ ایک طرح سے اچھی پیش کش ہے۔ عام طور سے بچے طویل چیزوں کی طرف کم مائل ہوتے ہیں ۔ مجموعے میں جہاں بڑی بحر کی نظمیں شامل کی گئی ہیں وہیں چھوٹی بحروں کی بھی نظمیں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں >>

بچے: جنت کے پھول

بچوں کے حقوق اداکرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے ان حقوق کی ادائگی کوجس (ماں ) کے فرائض میں شامل کیاہے اسے دنیاکی تمام ذمہ داریوں سے فراغت عطاکی جائے تاکہ وہ ’’بچوں کے حقوق‘‘کوبحسن وخوبی اداکرسکے۔ جب ماں واقعی ماں تھی اور اسوۃ رسول ﷺ کی پیروکار تھی تو اس کی گود سے حسنین کریمین جیسے بچے عالم انسانیت کو میسر آئے، اﷲ کرے کہ ہماری آنے والی نسلوں کوبھی ایسی مائیں مرحمت ہوں کہ وہ بچے اپنے حقوق کے لیے کسی عالمی دن کے محتاج نہ رہیں، آمین۔

مزید پڑھیں >>

بچوں کے حقوق: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

بچے مستقبل کے معمار ہیں اگر اُنھیں مناسب تعلیم اور صحیح تربیت دی جائے تو اس کے نتیجے میں ایک اچھا اورمضبوط معاشرہ تشکیل پاتا ہے، بچوں کی اچھی نشو نما اور عمدہ پرداخت ایک مثالی ماحول اور صالح مستقبل کا سبب بنتی ہے ؛اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا کے دور میں بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کو جس قدر ہوسکے دور رکھیں ۔ کبھی بھی  موبائل خریدکر اسے مستقل طورپر نہ دیں بطور خاص نٹ والا حتی کہ گیم کھیلنے کے لئے بھی نہیں ۔ بچپن میں کھیل کود کی ضرورت ہے اس کے لئے گھر اور اچھے دوستوں میں کھیل کود کروائیں اسکول ے کھیل پروگرام میں مشارکت کروائیں  یا قلم وکاغذ سے ایسی چیزوں کی مشق کرائیں جس سے اس کے ذہن کو بھی سکون ملے اور کچھ فائدہ بھی ہوجائے۔ اس پہ انعام مقرر کرلیں پھر دیکھیں سارا کھیل بھول کر آپ کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔

مزید پڑھیں >>

بچوں کی نگہداشت اور ویکسین  

 بچوں کو برابر وقت وقت پر ویکسین اور ٹیکے لگائے جانے چاہئیں تاکہ پانچ سال کے اندر کے بچوں کی اموات کی شرح کم ہو سکے۔ یہ ٹیکے سرکاری ہسپتالوں میں مفت دیئے جاتے ہیں ۔ جو لوگ ویکسین اور ٹیکوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ انہیں  چاہئے کہ اپنے آس پاس گلی محلے میں معلومات دیں ۔ ٹیکہ یا ویکسین کے عنوان پر نہ صرف معلومات میں کمی ہے بلکہ ان کے ذریعے اس پر کام کرنے کی بھی بہت ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

​بچوں میں بڑھتی ہوئی ہیجانی کیفیت!

تعلیمی ادارے اور اساتذہ اپنی خصوصی خدمات کی بدولت آنے والی نسلوں کو ہیجان سے دور رکھنے کیلئے عملی کردار اداکرسکتے ہیں ۔ ہم اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے کچھ ایسی تدبیریں کرنی ہونگی جن کی بدولت معاشرہ ہیجان جیسی موذی اور مہلک مرض سے نجات پاسکے۔​

مزید پڑھیں >>

اسکو لوں کا انتخاب، ایمان و عقیدہ کی فکر کے ساتھ کریں!

مئی کا مہینہ عصری اسکولوں کی سالانہ چھٹیوں کا ہوتا ہے اور تقریبا دیڑھ ماہ کی تعطیلات کے بعد جون میں اسکولوں کا آغاز ہوتا ہے اور تعلیمی سال کی شروعات ہوتی ہے ،لیکن جون کے آنے سے قبل ہی ماں باپ اپنی اولاد کی بہتر تعلیم کے لئے اچھے سے اچھے اسکول کے انتخاب کی فکر میں رہتے ہیں ، بچے تو اپنی چھٹیوں کو گزارنے میں مصروف رہتے ہیں مگر والدین بہت ہی فکر مند ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کو کن اسکولوں میں داخل کروائیں اور آگے تعلیمی مرحلے کو بڑھانے کے لئے کس طرح کے اداروں کا انتخاب کریں ؟

مزید پڑھیں >>

اچھا اسکول، اچھا استاد اور تانباک مستقبل!

نپولین نے کہا تھا : تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں بہترین قوم دوں گا ۔ ماں کی یہ اہمیت اس لئے ہے کہ انسانوں کا بچپن ماں کی گود میں بسر ہوتا ہے اور انسان کا بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ اس کی باقی زندگی بھی ویسے ہی ہوتی ہے ۔ لیکن بچپن صرف ایک ’’اجمال‘‘ ہے صرف ایک ’’امکان‘‘ ہے۔

مزید پڑھیں >>