خصوصی

یونان: عظیم ثقافتی ورثے کا امین

ملک یونان قدیم اور جدید تہذیبوں کی حسین آماجگاہ ہے۔یونان کا محل وقوع بلکان کا انتہائی جنوب ہے،یہ سمندروں اور پہاڑوں کی سرزمین ہے۔یہ سمندر اور پہاڑیونان کی معیشیت سمیت اس ملک کی تاریخ و تہذیب میں بھی اہم کردار اداکرتے رہے ہیں ۔یونان کم و بیش اکیاون ہزار مربع میل کے رقبے پر پھیلاہواہے اور رقبے کے اعتبار سے یہ ملک برطانیہ کے تقریباََ برابر ہے۔یونان ایک جزیرہ نما کی مانند ہے یعنی اسکے کے تین اطراف میں سمندر ہے اور ایک طرف جہاں خشکی ہے وہاں اس ملک کی سرحدیں یوگوسلاویاجسے اب میکڈونیا کہا جاتاہے اور بلغاریہ اور ترکی سے ملتی ہیں ۔سمندر کے کم و بیش دو ہزارچھوٹے بڑے جزائر یونان کے تحت ہیں اور بعض جزائر تو یونان سے دور اور ترکی کے قریب ہیں لیکن ان پر یونان کا ہی قبضہ ہے۔اس ملک کا دارالحکومت ’’ایتھنز‘‘ہے جو تاریخ یورپ میں اپنی الگ ایک تاریخی و تہذیبی شناخت رکھتاہے۔یہ شہراپنے ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے علاوہ مملکت کی ایک تہائی آبادی کواپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔25مارچ یہاں یوم آزادی کے طور پر منایاجاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

درخت اور جنگلات:زمین کاحسن و جمال

اسلام دین فطرت ہے اور درخت و باغات اور جنگلات فطرت کامظہر ہیں ۔سال بھرمیں ایک دفعہ درختوں اور جنگلات کادن منانے والی سیکولرتہذیب کے برعکس ایک مسلمان روزانہ تلاوت قرآن کرتے ہوئے یا نماز وغیرہ میں سنتے ہوئے کہیں نہ کہیں باغات عدن کا ذکر تازہ کرلیتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ کرہ ارض پر بڑھتی ہوئی آلودگی جس سے باغات اوردرختوں کی حیات کو شدید ترین خطرات لاحق ہو چکے ہیں اسی سیکولر تہذیب کی کارستانیاں ہیں ۔دنیابھرمیں آبادی کو کم کرنا اور کارخانوں کو خوب بڑھاناایک ایسا رویہ ہے جس سے جنگلاتی حیات کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے۔انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات انسان کو فطرت کے قریب تر لاتی ہیں جب کہ سیکولرتہذیب کے خیالات فطرت سے متصادم ہیں اور انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کامیڈی چھوڑ صرف وزارت سنبھالیں سدھو!

کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو وزیر بن جانے کے بعد کامیڈی شو میں کام کر سکتے ہیں یا نہیں، اس بارے میں پنجاب کے وزیر اعلی امرندر سنگھ نے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل سے قانونی رائے مانگی ہے. عہدے پر تنازعہ ہونے کی وجہ سے دہلی میں عام آدمی پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی کی رکنیت خطرے میں ہے. رہنما اور ممبران اسمبلی کے لئے 'کام نہیں تو تنخواہ نہیں' کا اصول لاگو ہونے کی بات بھی ہو رہی ہے، تو پھر سدھو کے کامیڈی شو کے بہانے ملک بھر کے رہنماؤں کو جوابدہ بنانے کا قانون کیوں نہ بنے؟

مزید پڑھیں >>

حیاتِ صدیق اکبرؓ کے چند روشن پہلو

22جمادی الاخری افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر ؓ کا یوم ِ وفات ہے۔اس مناسبت سے کچھ تذکرہ اس عظیم المرتبت شخصیت کا کرتے ہیں اور ان کی حیاتِ مبارکہ کے چند پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں ،اگرچہ کہ ان کی پوری زندگی ایمان وعمل کی ایک روشن اور تابناک زندگی ہے ،اور ہر لمحہ ٔ حیات قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے پیغام وسبق ہے۔

مزید پڑھیں >>

بات چیت کی ناکام کوشش کے باوجود تنازعہ سلجھا نے کی امید؟

رام مندر بابری مسجد کا مسئلہ ایک بار پھر عوام میں آ گیا ہے. انہی لوگوں کے درمیان آ گیا ہے جو 67 سال میں بات چیت کر، آپس میں لڑبھڑكر بھی نتیجہ نہیں نکال سکے. آہستہ آہستہ یہ مسئلہ سیاست سے نکل کر عدالت کی دہلیز میں سما گیا اور عام طور پر وسیع امن قائم ہو گئی. میڈیا نے یوپی کے ہر انتخابات میں بی جے پی سے پوچھ کر اس کو پبلک میں لانے کے تمام کوشش کی کہ مندر کب بنے گا؟ مگر بی جے پی بھی عدالت کے فیصلے کی بات کر اپنی دوسری حکمت عملی کو انجام دینے میں مصروف ہو گئی. بار بار تمام فریقوں نے اعادہ کیا کہ عدالت کا فیصلہ حتمی طور پر تصور کیا جائے گا. ایودھیا تنازعہ کے تناظر میں یہ ایک نقطہ پر وسیع اتفاق قائم ہو گیا۔ لیکن منگل کو سپریم کورٹ کے ایک تبصرہ نے اس کے تمام فریقین کو دوبارہ ٹی وی پر لا دیا ہے. وہی سوال، وہی جواب لے کر ٹی وی کی شام سج گئی ہے. اب روز کوئی نہ کوئی کچھ نہ کچھ بولے گا اور ضروری کام چھوڑ کر اسی پر ٹی وی کی ساری توانائی خرچ ہوگی.

مزید پڑھیں >>

افضل البشر بعدالانبیاء :حضرت ابوبکر صدیق

حضرت ابوبکر صدیق ؓکے زمام اقتدار سنبھالتے ہی متعدد نئے مسائل نے سراٹھانا شروع کردیا۔محسن انسانیت ﷺ نے انیس سالہ نوجوان ’’اسامہ بن زید‘‘کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا تھاتاکہ رومیوں سے سفیررسولﷺ کے قتل کا قصاص لیاجاسکے،یہ لشکر روانگی کے لیے پابہ رکاب تھا کہ وصال نبوی کا سانحہ بجلی بن کر مسلمانوں پر آن گرا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اقتدارکی باگ دوڑ سنبھالتے ہی اس لشکر کی روانگی کے احکامات صادر کر دیے،بہت سے لوگوں نے اختلاف کیااور حالات کی نزاکت کے باعث اس لشکرسپاہ کو دارالخلافہ میں رہنے کی رائے پیش کی۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فیصلہ نبویﷺ سے ایک بال برابر بھی روگردانی سے انکارکر دیااور ایک منزل تک پاپیادہ اس لشکر کے ہمراہ دوڑتے ہوئے گئے۔

مزید پڑھیں >>

اپنے وجود کو باعث خیر ثابت کیجئے!

ہندوستان میں مسلمان کی آمد بے مقصد نہیں تھی۔جس وقت مسلمان ہندوستان میں داخل ہوئے آپ جانتے ہیں کہ یہاں کے باشندے معاشی،معاشرتی،تعلیمی،ثقافتی اور تمدنی ہر سطح پر بے شمار مسائل سے دوچار تھے۔مسلمانوں کی آمد کو ملک کی اکثریت نے خیر سمجھا۔ساتھ ہی مسلمانوں نے بھی ہندوستان کو اپنا وطن سمجھا۔پھر چونکہ مسلمان عقائد اور اخلاق ہر دو لحاظ سے بالاتر تھے،یہی وجہ ہے کہ جب اسلامی تعلیمات کو قول و عمل سے عام کیا گیا تو ملک کے ایک بڑے طبقہ نے مروجہ رسم و رواج اور عقائد کو چھوڑ کر اسلام کے سائے میں داخل ہونے کو غنیمت جانا۔

مزید پڑھیں >>

اپنی پرانی تصویر سے باہر نکلنا یوگی کے سامنے بڑا چیلنج!

انتخابات سے پہلے کی تمام رپورٹنگ دیکھئے، یوگی آدتیہ ناتھ ہی وزیر اعلی کے دعویداری کر رہے تھے. انتخابات کے دوران کی تمام رپورٹنگ دیکھئے، یوگی آدتیہ ناتھ کے حامی ہی دعویداری کر رہے تھے. ہندو نوجوان ڈکٹ کے بغاوت کی خبر آتی ہے، پرسکون ہو جاتی ہے، گورکھپور میں امت شاہ کے روڈ شو کو نئے وزیر اعلی یادگار بنا دیتے ہیں، انتخابات کے بعد پھر لوگ کیوں بھول گئے کہ یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلی نہیں بنیں گے. انتخابات کے دوران ان کے حامی جو بی جے پی میں ہیں اور جو ان کے بھی ہیں، DJ بجا رہے تھے. یوگی کو سی ایم بنانا ہے، گا رہے تھے. پورے انتخابات میں تمام دعویداروں کے درمیان کسی نے اپنی دعویداری مضبوطی سے کی ہے تو وہ یوگی تھے. ضرور کیشو پرساد موریہ کی داد دی جانی چاہئے کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم اور کامیاب صدر امت شاہ کے واحد حکومت کے نیچے ہسپتال میں بھرتی ہوکر یا دیگر خفیہ طریقوں سے اپنی دعویداری کی. موریہ وزیر اعلی نہیں بن پائے، لیکن نئے ہونے کے بعد بھی انہوں نے کوشش یوگی جی سے کم نہیں کی.

مزید پڑھیں >>

کھودا پہاڑ نکلا یوگی!

اتر پردیش میں فی الحال مودی یگ کے بعد یوگی یگ کا نعرہ گونج رہا ہے۔ اس موقع پر یوگی ادتیناتھ کی تاجپوشی پر ان کے والد کا غیر سیاسی بیان بہت دلچسپ ہے۔ ایک چینل پر یوگی کے والد آنند سنگھ بشٹ نے خوشی اور فخر کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ ’’مہنت اویدیہ ناتھ کے لکشن(علامات) یوگی میں بھی آگئےہیں۔ میں نے بھی اسے سمجھایا کہ سرو سمبھاو( عام رواداری) رکھو۔ اب تم بڑے عہدے پر ہو۔ کسی سے برا سلوک نہ کرو۔ مسلمانوں سے بھید بھاو نہ کرو‘‘ یہ کوزہ اپنے اندر سمندر رکھتاہے۔سوال یہ ہے کہ آخر اس نصیحت کی ضرورت آنند سنگھ کو کیوں محسوس ہوئی؟ اس لئے کہ یوگی میں مذکورہ صفات کا فقدان ہے جس کا اعتراف ان کے والد نے بلاواسطہ کرلیا ۔ آنند سنگھ نے اس کیلئے مہنت اویدیہ ناتھ کو موردِ الزام ٹھہرایا ۔ اگر آنند سنگھ اپنے بیٹے کو اویدیہ ناتھ کے ساتھ نہ بھیجتے توانہیں سمجھانے بجھانے کی یہحاجت نہیں پیش آتی ۔

مزید پڑھیں >>

ملک کی موجودہ صورت حال اور امت مسلمہ

مولانا سید جلال الدین عمری، امیر جماعت اسلامی ہند نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں سنیچر 18 مارچ 2017 کو مرکز جماعت اسلامی ہند کے ہفتہ وار پروگرام میں جو بصیرت افروز خطاب فرمایا ہے، اس کا خلاصہ ذیل میں پیش خدمت ہے۔

مزید پڑھیں >>