خصوصی

عشق تمام مصطفیﷺ

 اللہ کا شکر و احسان ہے کہ ہم محمدﷺ کے امتی ہیں۔ ہمارے دلوں میں ان کی محبت بھی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کی اس جذبے کو مزید بڑھایا جائے۔یہاں تک کہ محبت رسولﷺ تمام محبتوں پر غالب آ جائے۔اگر ہمارے دلوں میں اللہ کے رسولﷺ سے سچی محبت پیدا ہو گئی تو پھر اللہ کی نظر عنایت و التفات بھی ہم پر ہوگی اور محبت رسولﷺ کے طفیل ہماری کوتاہیاں بھی در گزر کر دی جائیں گی(انشاء اللہ) اور ہمارا شمار بھی اللہ کے مقرب بندوں میں ہوگا 

مزید پڑھیں >>

سی بی آئی جج کی موت کو لے کر اٹھے سوال

رپورٹ بہت طویل ہے اور ڈراونی ہے. اگر ایک جج کی موت سے منسلک سوالات ادھورے رہ سکتے ہیں تو ہم کس نظام میں رہ رہے ہیں. كیرواں نے ایک اور رپورٹ شائع کی ہے، اس رپورٹ کے بعد. جس میں بتایا ہے کہ ایک جج کو اس کیس کو آباد کے لئے سو کروڑ کی رشوت کی مبینہ طور پر پیشکش ہوئی تھی. اس کا ذکر یہاں نہیں کیونکہ جج کی موت سے منسلک سوالات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں. آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کیوں دہلی پر برف کے سلی پڑی ہے. کیا ایک جج کی موت کی تحقیقات سے لے کر پوسٹرمارٹم رپورٹ تک میں اتنے فرق ہو سکتے ہیں، سنندا پشکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تو روز ٹی وی پر کھولتا ہے، کھلنی بھی چاہیے مگر جسٹس لويا کے خاندان والوں کو کیا جواب ملے گا. ناگپور کے سيتاودي پولیس اسٹیشن اور سرکاری میڈیکل کالج کے دو ذرائع نے نرنجن ٹاكلے کو بتایا کہ انہوں نے آدھی رات کو ہی لاش دیکھ لی تھی، اس کا پوسٹ مارٹم بھی اسی وقت کر لیا گیا تھا. مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی اطلاع کا وقت سوا چھ بجے ہے. پوسٹ مارٹم شروع ہوتا ہے 10 بجکر 55 منٹ پر اور ختم ہوتا ہے 11 بجکر 55 منٹ پر. موت کا وقت اور پوسٹ مارٹم کے وقت کو لے کر دو طرح کی رائے ہیں.

مزید پڑھیں >>

کیا ہمارے لئے نبی کریم ﷺ کی سنّتیں کافی نہیں؟

افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ امت مرحومہ نے ان سب ہدایات کو بالائے طاق رکھ دیا اور افراط و تفریط کا شکار ہوگئی، الا ماشاء اللہ۔ ایک طرف تو ہم نے یہ ظلم کیا کہ کتاب و سنت سے اپنا ناطہ توڑ لیا، ارکان دین اور اللہ کے قائم کردہ حدود کی بھی پرواہ نہ کی تو دوسری طرف اس کو راضی کرنے کے لئے از خود ایسے اعمال گھڑلئے جن کی کوئی اصل شریعت محمدیہ ﷺ میں موجود نہیں۔

مزید پڑھیں >>

موجودہ عالمی مسائل کا حل اور سیرت رسولﷺ

اس خالق کائنات نے جہاں حضرت انسان کو پیدا فرمایا وہیں اس کے مسائل کے حل کے لیے حضرات انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ا  کو بھیج کر قیامت تک پیدا ہونے والے نت نئے مسائل کے حل کا سامان فراہم فرمایا، اس وقت انسانیت جتنے مسائل سے دو چار ہے اس کا حل صر ف اور صرف سیرت رسول ا  اور تعلیمات اسلام میں ہے۔

مزید پڑھیں >>

نیتاؤں کے بگڑے بول، آخر حدود کیوں پھلانگے جا رہے ہیں؟

'سشیل مودی نے گنڈاوں سے فون کروایا کہ سابق وزیر صحت سے بات کرنی ہے تو میں نے کہا کہ بولئے بول رہے ہیں. پھر بولا کہ میرے لڑکا ہے کے اتکرش مودی اس کی شادی ہے. بياه میں بلا رہا ہے، بے عزت کر رہا ہے. بياه میں جائیں گے تو وہیں پول کھول دیں گے عوام کے درمیان. پوری عوام کے درمیان. جنگ چل رہا ہے. ہم نہیں مانیں گے. ہم وہاں بھی سیاست کریں گے کیونکہ اس طرح چھلنے کا کام کیا ہے غریب گربا کو، اس کے گھر میں گھس کر ماریں گے. گھر میں گھس کر. ہم لوگ رکنے والے نہیں ہیں. اگر شادی میں بلائے گا تو وہیں سبھا کر دیں گے.' یہ اشيروچن تیج پرتاپ یادو کے ہیں جو راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر ہیں. سخت قابل مذمت. کسی نے بلایا تو مت جائیں مگر یہ کیا کہ گھر میں گھس کر ماریں گے. میرے حساب سے تو جائیں بھی اور سشیل مودی کے سامنے بیس رس گلے کھا جائیں. ایک دوسرے کی خوب مخالفت بھی کیجیے مگر عزت کے ساتھ بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے. ایسی زبان تبھی نکلتی ہے جب توازن کھوجایے یا مایوسی بڑھ جاتی ہے.

مزید پڑھیں >>

پدماوتی: دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

فلم کی تشہیر کے لیے فلمساز مختلف النوع طریقہ استعمال کرتے ہیں مثلاً سلمان خان کی نریندر مودی کے ساتھ پتنگ بازی۔ فلم  پدماوتی پرراجستھان کی کرنی سینا نے تاریخی حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اور پدماوتی کی مخالفت کے علاوہ کیا کرتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ؟  اس کے باوجود ہر روز ان کی مہربانی سے پدماوتی کا نام  سارے اخبارات کے صفحۂ اول کی زینت بن جاتا ہے۔ یہ حضرات ٹیلیویژن پر بھی پدماوتی کی خدمت انجام  دیتے ہیں ۔ ٹائمز ناو کے ایک شو میں سینا کا ایک ذمہ دار تلوار لے کر پہنچ گیا۔ جب سوال کیا گیا کہ علاوالدین خلجی نے  کس سن میں چتوڑ پر حملہ کیا تو اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا بلکہ وہ چیخ چیخ کر یہی کہتے رہے کہ پدماوتی نے 16 ہزار عورتوں کے ساتھ جوہر کی رسم ادا کی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ تلوار سے کسے ڈرا رہے ہیں ؟ جواب دیا پدماوتی ہمارے لیے  دیوی کا درجہ رکھتی ہے۔ کیا دیپکا اس کے برابر ہوسکتی ہے؟ وہ کیوں کہتی ہے کہ یہ فلم ریلیز ہوکر رہے گی۔ یہ  ڈرامہ دیکھتے ہوے  ایسا نہیں لگ رہاتھا کہ قومی ٹیلیویژن چینل پر کوئی سیاسی مباحثہ  ہورہاہے بلکہ یہی محسوس ہوتا تھا کہ پدماوتی کی تشہیر کا سستا ناٹک  کھیلا جارہاہے۔ عصر حاضر میں طوائف کے لقب سے نوازے جانے والے ذرائع ابلاغ سے یہ توقع بیجا بھی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

رخِ مصطفی ہے وہ آئینہ

ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے ؛جو برکتوں کے نزول،سعادتوں کے حصول اور رحمتوں کےہجوم کا خاص مہینہ کہلاتا ہے۔ اس مہینہ میں نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی،اسی ماہ  آپ صلی الله علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفرازکیاگیا اور پھر اسی ماہ63/سال کی عمر میں آ پ صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہوا۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اور ہم جنس پرستی

ہم جنس پرستی ایک مہلک متعدی مرض کی طرح ساری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، اس کے حامیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تقریباً نصف دنیا نے اس کو قانونی جواز دے دیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کناڈا، فرانس، ڈنمارک، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، برازیل، بیلجیم، ارجنٹینا، ناروے، پرتگال، اسپین کے بشمول امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک نے باضابطہ اس کو قانونی جواز فراہم کردیا ہے۔ مشرق وسطی اور ایشیائی ممالک کی اکثریت اس کے خلاف ہے، لیکن دنیا کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی ہم جنس پرستی کی تائید کر رہی ہے اور ہر سات میں سے ایک فرد اپنے مخالفانہ ذہن کو تائید و حمایت میں تبدیل کر رہا ہے۔ ستر فیصد بالغ افراد اس کی حمایت میں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عدل کا چشمہ سوکھ گیا، عدل کے پیاسے پیش ہوئے!

افراد کے امراض کا علاج اسپتال میں ہوتا مگر اجتماعی بیماریوں  سے نجات کے لیے عدالت سے رجوع کیا جاتاہے۔ ایسے میں اگر عدلیہ خود بیمار ہوجائے تو سماج کی دگرگوں  حالت زارکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں جاری حالیہ تنازع  گواہ  ہے کہ نظام حکومت کے اس اہم ترین ستون کو بھی بدعنوانی کی دیمک چاٹنے لگی ہے۔ اس کے اپنے بوجھ سے زمین دوز ہوجا نےپر عدل و انصاف کا چراغ بجھ جائیگا اور چہار جانب جبر و ظلم کی ظلمت چھا جائیگی۔ حکومت کی گاڑی کے چار پہیوں پر چلتی ہے۔ ان  میں سے ایک انتظامیہ، دوسرا مقننہ، تیسرا عدلیہ اور چوتھا  ذرائع ابلاغ ہے۔ آزادی کے بعد سب سے پہلے انتظامیہ کے اندر بدعنوانی کے مرض  نے اپنے قدم جمائے اس کا آغاز  پنڈت نہرو کے زمانے میں ہوگیا تھا۔ اندرا گاندھی کے دور اس نے مقننہ میں پیر پسارنے شروع کیے آگے چل  کے مسٹر کلین کے کہلانے والے راجیو گاندھی کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ ذرائع ابلاغ کو طوائف الملوکی کا شکار کرکے کوٹھے پر نیلام کرنے کا کارنامہ نریندر مودی کے زمانے میں  انجام دیا گیا۔ عدلیہ سے کھلواڑ  کا آغاز ویسے اندرا جی کے دور اقتدار میں ہوچکا تھا لیکن اب وہ خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماررہا ہے۔ حکمرانوں کو اس  سے بے چینی نہیں ہے  کیونکہ ہر بدعنوان چاہتا ہے ساری دنیا اس کی مانند کرپٹ ہوجائے نیز اس پر اعتراض کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔

مزید پڑھیں >>

ایسے بنے گا اکیسویں صدی کا ہندوستان؟

حکومتیں اعلان کر دیتی ہیں، تالی بج جاتی ہے. پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیكھتيں. اب دیکھئے، منتري جي نئے میڈیکل کالج کھولنے کی بات بتا گئے، کچھ نئے خواب دکھا گئے. لیکن انوراگ آپ کو گزشتہ فیصلوں کی حقیقت دکھانا چاہتے ہیں. مدھیہ پردیش کے تمام میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور آیرویدک کالجوں کو ریگولیٹ کرنے والی میڈیکل یونیورسٹی جبل پور کے درشن کرانا چاہتے ہیں. پوری ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کو ہینڈل کرنے والی میڈیکل یونیورسٹی، جبل پور میں کرایہ کے چار کمروں میں کام ہوتا ہے. محض چار کمروں سے. چار کمروں کی اس یونیورسٹی کی کمر ٹوٹی ہویٔی ہے. اس میڈیکل یونیورسٹی میں پچاسي فیصد سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں. اور تو اور یونیورسٹی میں کوئی امتحان کنٹرولر تک نہیں ہے جس سے کہ ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کا حال سمجھا جا سکتا ہے. وزیر جی نے پرانا تو ٹھیک نہیں کیا مگر نیے کا اعلان کر دیا.

مزید پڑھیں >>