خصوصی

قرآنی وعیدوں کے ذریعہ سماجی برائیوں کی روک تھام

موجودہ دور میں جاہلیت پھر لوٹ آئی ہے۔ سماجی برائیاں عام ہیں اور فتنہ و فساد عروج پر ہے۔ ان کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی مذکورہ تعلیمات کو عام کیا جائے اور اس کی وعیدوں کو لوگوں کے دلوں میں بٹھایا جائے۔ تبھی ان پر قابو پایا جا سکتا ہے اور معاشرہ کو پاکیزگی اور امن و امان حاصل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نعروں سے قربانی کا حساب نہیں ہوتا!

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے کہا ہے کہ سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے. وقت آ گیا ہے کہ ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا جائے. کیا ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت 25 جوانوں کی موت اور 7 کے زخمی ہونے کے بعد ہی آیا ہے، اگر سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے تو اس کا وقت کیا 25 اپریل کو آیا ہے. اس طرح کی باتوں کا کیا یہ مطلب ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جنگ ہم بغیر حکمت عملی کے خلاف لڑ رہے ہیں .کہنا آسان ہے، جن کے گھر میں قربانی کی خبر پہنچتی ہے ان پر جو گزرتی ہے اسے ہم لچھے دار الفاظ سے کیا بیان کریں . ہم چاہتے ہیں کہ آپ آواز سنیں ، محسوس کریں کہ جنہیں ہم صرف شہادت کے فریم میں دیکھتے ہیں ، ان کے گھر میں شوہر، بھائی، والد، بھتیجا نہ جانے کس کس فریم میں دیکھا جاتا ہوگا.

مزید پڑھیں >>

امام شافعی رحمۃ ﷲ تعالی علیہ

ایک زمانہ میں امت مسلمہ کے اندر گیارہ یا اس سے بھی زیادہ مکاتب فکر کا رواج تھااور شرق و غرب میں اتنی ہی تعداد کے ائمہ کی پیروی کی جاتی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مکاتب فکر معدوم ہوتے گئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے،جیسے اندلس میں جب مسلمانوں نے قدم رکھا تو کم و بیش ایک یا ڈیڑھ صدی تک وہاں امام اوزاعی رحمۃ اﷲ علیہ کی فکر غالب رہی لیکن بعد میں فقہ مالکی نے اس کی جگہ لے لی۔یہی صورت حال پوری امت میں رہی کہ ایک جگہ پر کسی ایک فکر نے غلبہ پائے رکھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس فکر پر کوئی دیگر مدرسہ غالب آگیا۔اب صدیوں سے پوری امت کے اندر بالاجماع پانچ مکاتب فکر رائج ہیں جنہیں مذاہب خمسہ یا پانچ فقہی مسالک بھی کہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ہندستانی مسلمان کیا کریں؟ (دوسری قسط)

مادی اور اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جہاں اقتصادی طور پر کمزور ہونے کے بعد حکومتوں کے لئے اپنا توازن برقرار رکھنا نا ممکن ہو جاتا ہے وہیں افراد اور خاندانوں کے لئے اپنا وقار محفوظ رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سماجی نابرابری کو دور کرنے میں پیسوں کا اہم رول ہوتا ہے۔ وہ ہندوستانی سماج میں موجود مختلف قسم کی نابرابریوں کے خاتمہ کےلئے موثر حل پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

کیا دہلی کے دماغ میں کشمیر ہے؟

وهاٹس اپ نے کشمیر پر جتنے پروفیسر کشمیر کے اندر پیدا کر دیئے ہیں، اس سے زیادہ کشمیر کے باہر پیدا کر دیے ہیں. وهاٹس اپ کے ذریعہ کشمیر کے ذریعہ جس طرح کے حقائق کو گڑھا جا رہا ہے، اس سے حالات بگڑ ہی رہے ہیں . وہی حال باقی بھارت میں بھی ہے. وهاٹس اپ یونیورسٹی کی وجہ سے ہر دوسرا آدمی کشمیر پر رائے رکھتا ہے. میں کشمیر نہیں جانتا. مجھے یہ کیمسٹری سے بھی ٹف لگتا ہے. لیکن باقی ایسا نہیں کہتے کیونکہ سب نے ٹرکوں پر لکھا وہ پیغام پڑھ لیا ہے- دودھ ماگوگے تو کھیر دیں گے، کشمیر ماگوگے تو چیر دیں گے. کھیر دیں گے اور چیر دیں گے اصول سے مسئلہ کشمیر کا کتنا حل ہوا، یہ تو ٹی وی چینلز کے مستقل ایکسپرٹ ہی بتا سکتے ہیں . بیچ بیچ میں جب ٹرک فارمولا فیل ہوتا ہے تو لوگوں کو واجپئی فارمولا یاد آتا ہے.

مزید پڑھیں >>

 پرسنل لا اور کامن سول کوڈ:ایک آواز جو دہرائی جاتی رہی ہے!

پرسنل لاء پر عمل درآمدکا اختیار اورکامن سول کوڈ کی جانب پیش قدمی کی بات ہندوستان میں آزادی کے بعد ہی سے دہرائی جاتی رہی ہے۔اس کے باوجود تکثیری ملک جس میں بے شمار مذاہب،ثقافت اور قبائل موجود ہیں نیز انہیں اپنے سماجی تانے بانے کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کی بات کہی گئی ہو،ممکن نہیں ہے کہ ایک ایسا کامن سول کوڈ بنایا جاسکے جس پر سب کی رضا مندی ہوجائے۔بصورت دیگر ہندوستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح تاناشاہی اختیار کرتے ہوئے ایک کامن سول کوڈ بنایاجاسکتا ہے اور اس کے اختیارات کبھی بھی اور کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تواس پس منظر میں ملک عزیز کی وہ شناخت جس میں اسے دنیا کی سب بے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے ، ختم ہوجائے گی۔

مزید پڑھیں >>

معراج النبی ﷺ کی فضیلت

سردار الانبیا آمنہ کے لال ﷺ مہمان عرش کو تن تنہا اِن رنگ و نور کے جلووں میں داخل کر دیا گیا تھا اور اللہ تعالی کے اسما کے پردے ایک ایک کر کے گزرتے رہے ۔ حضور ﷺعالم بیداری میں لہذا بوجہ بشریت معمولی سی وحشت ہوئی تو رب ذولجلال کی آواز آئی ۔ پیارے محمد ﷺ رک جا بے شک تمھارا رب (استقبال کے لیے ) قرب آرہا ہے ۔سفر معراج کے اِس نازک مرحلہ پر محبوب خدا ﷺ مقام قاب قوسین پر پہنچ گئے ارشاد باری تعالی ہے ۔ترجمہ النجم ۔ پھر (اس محبوب حقیقی سے ) آپ ﷺ قریب ہوئے اور آگے بڑھے پھر (یہاں تک بڑھے کہ) صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

مزید پڑھیں >>

طلاق کا طریقہ اور طلاق کا سلیقہ

طلاق دی جائے تو اس طرح کہ دینی اخوت پر آنچ نہ آئے، نفرت کی آگ نہ بھڑکے، نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ کسی کی حق تلفی ہو، بلکہ سخاوت اور فیاضی ہو، حکمت اور سمجھ داری ہو، طلاق دیتے ہوئے بھی اعلی اخلاق وکردار کا اظہار ہو۔ یہ سلیقے والی طلاق ہے۔

مزید پڑھیں >>

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا!

وطن عزیز میں طلاق شدہ خواتین سے زیادہ سنگین مسئلہ بغیر طلاق کے بے یارومددگارمعلق چھوڑ دی جانے والی عورتوں کا ہے کہ وہ دوسری شادی کے حق محروم انہیں جسودھا بین کی ماننداپنے شوہر نامدار سے ملنے کیلئے 43 سالوں سے ایک فون کی منتظر رہنا پڑتا ہے ۔ مردم شماری کے مطابق ملک میں ایسی خواتین کی تعداد 23 لاکھ یعنی طلاق شدہ خواتین سے دوگنا ہے۔ ان میں سے 20 لاکھ کا تعلق ہندو سماج سے ہےجبکہ 8ء2 لاکھ مسلمان اور 90 ہزار عیسائی ہیں ۔ ہندو معاشرے میں چونکہ شادی کے وقت خواتین کو پرایا دھن سمجھ کررخصت کردیا جاتا ہے اس لیے وہ نہایت کسمپرسی کی زندگی گذارتی ہیں ۔ ان کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جسودھا بین نے جب پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تو اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ان کے پاس شادی کا حلف نامہ نہیں ہے۔ اس طرح اپنی اہلیہ کو پاسپورٹ سے محروم رکھنے کاجرم خود وزیراعظم سے سرزد ہوگیا۔دیکھنا یہ ہے کیا یوگی جی اپنے رہنما کے خلاف لب کشائی کی ہمت جٹائیں گے یا اپنے پروچن کو بھول کرگرودروناچاریہ کی پرمپرا نبھائیں گے؟

مزید پڑھیں >>

کتاب بینی اور انسان

حضرت انسان اور کتاب کا رشتہ بہت قدیم ہے، اولین معلمین انسانیت،انبیاء علیھم السلام ،نے آسمانی ہدایت کو کتب و صحائف کے ذریعے ہی انسانوں میں متعارف کرایااور جب ان مقدس ہستیوں نے اس دنیاسے پردہ فرمایاتواپنے ترکے میں مال و زر اورجاہ و جلال و جائداوسلطنت واقتدارکی بجائے علوم کتب کا ترکہ چھوڑ کر گئے۔ایک حدیث نبویﷺکے مطابق کم و بیش تین سو تیرہ کتب آسمان سے نازل کی گئیں جن میں چار کا ذکر بصراحت قرآن مجید میں موجود ہے جب کہ اس دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کے پاس حضرت نوح علیہ السلام سے منسوب ایک کتاب موجود ہے جن کا شمار انسانیت کے قدیم ترین اوراولین انبیاء علیھم السلام میں ہوتاہے۔

مزید پڑھیں >>