خصوصی

دل کو روؤں یا جگر کو میں!

دنیا کا کون مسلمان ہے جو فلسطین اور کشمیر سے محبت نہ کرتا ہو؟ اور یہ دیکھ کر اس کا دل خون نہ ہوتا ہو کہ مسلمان نوجوان پتھر باز بن گئے ہیں اور یہودی اور ہندو فوجی پتھر کا جواب گولی سے دے رہے ہیں اور مفتیانِ کرام حیران ہیں کہ ان کو شہید کہیں یا کچھ اور؟ کشمیر کے بیٹے بیٹیاں جس پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں اس سے بڑا مسلمانوں کا دشمن کوئی نہیں ہے۔ کیا کشمیر کے مسلمانوں کو نظر نہیں آتا کہ ہندوستان کے جن مسلمانوں نے پاکستان بنوایا تھا وہی پاکستان میں بھیک کی کٹوری لئے گھوم رہے ہیں اور آج بھی مہاجر ہیں ۔ سب کچھ ختم ہوگیا مگر ان کی ہجرت ختم نہیں ہوئی اور اگر وہ پاکستان جائیں گے تو کیا وہ دوسرے کشمیر سے زیادہ اچھے ہوں گے جہاں روز لاٹھی ڈنڈے اور گولی چلتی ہے؟

مزید پڑھیں >>

رمضان المبارک: اکتسابِ ہدایت کا مہینہ!

رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی جہاں ہم مختلف عبادتوں کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں ، وہیں ہمیں قرآن کریم کا فہم حاصل کرنے کی بھی شعوری کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنا پروگرام اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک پارہ تلاوت کرنے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی پڑھ لیں ۔ موقع ملے تو کسی تفسیر کو بھی شاملِ مطالعہ کرلیں ، ایسے دینی اجتماعات میں شرکت کریں جن میں قرآن کا درس دیا جاتا ہو یا اجتماعی مطالعہ کیاجاتا ہو، ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں جن میں قرآنی تعلیمات پیش کی گئی ہوں ۔ یہ تدابیر ان شاء اللہ قرآن کریم سے ہمارے تعلق میں اضافہ کا باعث بنیں گی۔

مزید پڑھیں >>

یوپی کے کچھ حصے کیوں جل رہے ہیں؟

سابوتا گاؤں کے قریب جمنا ایکسپریس وے پر مسلح چھ گنڈوں نے ایک کار روک لی. واقعہ رات ڈیڑھ سے ڈھائی کے درمیان کا ہے. اس کار میں آٹھ لوگ تھے جو زیور سے بلند شہر جا رہے تھے. خاندان کے سربراہ شکیل قریشی نے لوٹ مار کی مخالفت کی تو انہیں غندوں نے گولی مار دی. پہلے گنڈے شکیل کے بچوں کو گولی مار رہے تھے لیکن جب شکیل نے منت کی تو بچوں کو چھوڑ دیا اور شکیل کو گولی مار دی. خواتین کے ڈپٹوں سے مردوں کو باندھ کر انہیں الٹا لٹکا دیا. پھر چاروں خواتین کو اتار کر کھیت میں لے گئے اور گینگ ریپ کیا. شکیل اور ان کا خاندان اتنی رات کو سفر اس لیے کر رہا تھا کہ ان کے کسی رشتہ دار کی ڈلیوری ہونی تھی. زچہ اور بچہ دونوں خطرے میں تھے. لہذا پورا خاندان بھاگ کر ان کی مدد کے لئے جا رہا تھا. پولیس واقعہ کے ایک گھنٹے بعد پہنچی. ایک گھنٹے کے اندر مجرموں نے کسی دوسرے خاندان کی زندگی بچانے نکلے خاندان کو تباہ و برباد کر دیا.

مزید پڑھیں >>

ٹیکہ کاری:ماں کی ذمہ داری!

بھارت میں ٹیکے نہ لگوانے کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات سامنے آئیں ۔ شروع میں مذہبی حضرات نے ٹیکہ کاری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے عام لوگوں کے اس مہم سے جڑنے کی مخالفت کی۔ کئی ایسی باتیں بھی کہی گئیں جن کا ٹیکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے پولیو کی دوا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے پلائی جانے والی دوا ہے۔ یا بچوں کو اس دوا سے بانجھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ۔ دھیرے دھیرے یہ غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ ٹیکہ کاری کی اہمیت سے واقفیت ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ٹیکوں کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کچھ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ کچھ نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ کب کونسا ٹیکہ لگتا ہے۔ کچھ نے کہا کہ ٹیکے لگانے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ کئی کا کہنا تھا کہ ٹیکے لگوانے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ کچھ نے ٹیکہ لگنے سے بچے کے بیمار ہونے کا ڈر ظاہر کیا تو کسی نے غلط صلاح کا سہارا لیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم ٹیکوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ٹیکے مفت میں فراہم کئے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اسلام کا تصور نکاح اور موجودہ شادیوں کی محفلیں!

شادی کا مقصد شرعی طور پر دو افراد کے درمیان ایک پاکیزہ رشتہ قائم کرنا ہے۔ محفلِ نکاح میں ’خطبۂـــ نکاح‘ نکاح کی شرعی حیثیت کو سمجھانے، اسکے تقاضوں کو ذہن نشین کروانے اور اسکے تعلق سے عائد ہونے والی عظیم ذمّہ داریوں کی یاد دہانی ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں یہ محفلیں بجائے سادگی اور پاکیزگی کے، ایک دکھاوا بن کر رہ گئیں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

اختلافات کی صورت میں غیر شرعی اقدام سے گریز کرنے کا مشورہ!

اس وقت خاص طور پر طلاق کےنام پرجو ہنگامہ آرائی جاری ہے، اس کے نشانہ پر نہ تو طلاق ہے اور نہ خواتین کی مبینہ کسمپرسی بلکہ اصل نشانہ شریعت اسلامی ہے۔ اس کی چغلی وزیر اعلیٰ کا خود یہ جملہ کر رہا ہے کہ "شریعت قانون کے تحت ایسے چلن کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے"۔ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی ہنگامہ آرائی اور اس کے پس پردہ عزائم کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ مسلم معاشرہ کے علاوہ ملک کا غیر جانبدار طبقہ اس حقیقت کو سمجھ بھی رہا ہے اور اس تعلق سے اپنی آراء کا اظہار بھی کررہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جھوٹ پر لاٹھا لاٹھي اور میڈیا کا طرز عمل!

بھاجپا ایم پی پریش راول نے ٹویٹ کیا کہ اروندھتی رائے کو جیپ کے آگے بٹھا کر پتھربازوں کے سامنے لے جانا چاہئے. ٹوئٹر پر بحث شروع ہویی اور جلد ہی یہ بحث ٹی وی اسٹوڈیو میں پہنچ گئی. چند گھنٹے میں پریش راول کا غصہ قومیت کے رنگ میں تبدیل ہو گیا. اینکرز لوگ غضبناک انگریزی بگھارنے لگے. بھارت میں ایسے اینگر ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایننگر دوسری عالمی جنگ کے وقت کیوں نہیں تھے؟ ایسے موقعوں پر اینکروں میں غضب کی قومیت کی جاگ اٹھتی ہے، لگتا ہے کہ یہ نہ رہیں گے تو ہمارے سناتن ملک کو نہ جانے کون اٹھا کر لے جائے. میں نے تو اب ان کی وندنا کرنے لگا ہوں . دودھ، گھی، چندن اور پھول چڑھانا باقی ہے. آپ بھی ان اینكروں کی مسلسل عبادت کیجیے ورنہ آپ کے گھر میں مکڑی روز جالا بنانے لگے گی.

مزید پڑھیں >>

کیا ملک میں جی ایم سرسوں کی پیداوار ہونی چاہئے؟

ہزاروں سال سے قدرتی سرسوں ہماری قابل اعتماد ساتھی رہی ہے. قدرتی سرسوں اس لیے کہا کیونکہ اب ایک نیا سرسوں آسکتا ہے جسے سائنسی زبان میں جینی ٹكلي موڈی فایڈ مسٹرڈ کہتے ہیں . ہندی میں جی ایم سرسوں کہہ سکتے ہیں. پوری دنیا میں جی ایم فوڈ یعنی جینی ٹكلي موڈی فایڈ مسٹرڈ اناجوں کے کھانے اور اثر کو لے کر بحث چل رہی ہے. بھارت میں اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2010 میں بی ٹی برنجل، بی ٹی بینگن پر روک لگا دی گئی. میڈیا رپورٹ کے مطابق جینٹک انجینئرنگ اپروول کمیٹی جي ايےسي نے ماحولیات کی وزارت کو سونپی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جی ایم مسٹرڈ کی کاروباری کھیتی کی اجازت دی جا سکتی ہے. ماحولیات کے وزارت کی ویب سائٹ میں جی ایم فوڈ کو لے کر سوال جواب ڈالے گئے ہیں. اس میں کہا گیا ہے کہ سارے جی ایم فوڈ کے لیے ہم ایک ترازو پر نہیں بانٹ سکتے.

مزید پڑھیں >>

نیتاؤں میں مان ہانی کی ہوڑ کیوں مچی ہے؟

مان ہانی کس کی ہوتی ہے، کس طرح ہوتی ہے اور کتنے کی ہوتی ہے، یہ سب کس ترازو پر تولا جاتا ہے، اب جان لینے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے. وزیر خزانہ جیٹلی کی بدنامی دس کروڑ کی ہوئی ہے یا بیس کروڑ کی، اس کا فیصلہ ترازو پر تول کر ہوگا یا حیثیت کا بھی کوئی بیروميٹر ہوتا ہے، اس سے ہوگا. عام شہری کی مان ہانی کی رقم پر کس طرح فیصلہ کیا جائے گا. جیسے گلزار وانی کی کتنی بدنامی ہوئی ہوگی، جسے 16 سال دہشت گردی کے الزام میں جیل میں رہنا پڑا. گلزار تمام الزامات سے بری ہو گئے ہیں . 28 سال کی عمر رہی ہوگی جب گلزار کو گرفتار کیا گیا ہوگا، اب 44-45 سال کے ہو چکے ہوں گے. عدالتوں کو ایسے معاملات میں مان ہانی کا بھی حساب کرنا چاہئے. 16 سال تک ایک نوجوان کے جیل میں بند ہونے سے خاندان کی اقتصادی حالت پر کیا اثر پڑا، اس کا حساب ہونا چاہئے. گرفتاری کے وقت گلزار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے، اس لحاظ سے امکان تھا کہ ایک استاد بنتے. کبھی عدالتوں کو ایسا فیصلہ بھی سنا دینا چاہئے کہ گلزار جیسے نوجوانوں کو دہشت گردی کے فرضی الزامات میں پھنسایا گیا، ان کی زندگی برباد ہویی لہذا 16 سال تک ایک اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفیسر کی جو سیلری ہوتی ہے، اس کے برابر کی رقم ہرجانے کے طور پر دی جائے . گلزار ہی نہیں ، نہ جانے کتنے رمیش، سریش، وملا، سرلا ہوں گی جو اس طرح عدالتوں میں جیل میں سڑ جاتی ہوں گی.

مزید پڑھیں >>

ملک میں فروغ پذیر متشدد قوتیں اور رمضان المبارک کا پیغام !

آج بھی مسلمان ملک کی دیگر اقوام کے مقابلے معاشی ،تعلیمی اور معاشرتی بنیادوں پر کمزورہیں ۔لیکن اگر مثبت انداز میں تجزیہ کیا جائے تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مسلمان وہ قوم ہے جو اندھیروں کو چیر کر روشنی تلاش کرتی ہے۔سخت ترین حالات میں پروان چڑھتی ہے۔اوراس کو اپنی بقا و تشخص کا احساس اسی وقت جاگزیں ہوتا ہے جبکہ وہ مٹائی جا رہی ہو۔بصورت دیگر پر سکون حالات عموماً یہ لوگ کمزور ہوئے ہیں ،اپنے دین اور اپنے عقیدے میں کمزور پڑتے نظر آئے ہیں ،اور اُن اقوام کی سازشوں کا زیادہ شکار ہوئے ہیں جو ان پر تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہیں ۔ٹھیک اسی طرح کی صورتحال مسلمانوں کی اُن ممالک میں دیکھی جا سکتی ہے

مزید پڑھیں >>