خصوصی

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انقلاب کا اسلامی تصور! (دوسری قسط)

جب ہم کسی تہذیب کو نقد صحیح کے معیار پر جانچنا چاہیں تو ہمارے لیے اُس کے نصب العین کی جستجو ناگزیر ہے۔اس موقع پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تہذیب کے نصب العین سے ہماری مراد کیا ہے؟یہ ظاہر ہے کہ جب ہم 'تہذیب'کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے ہماری مراد افراد کی شخصی تہذیب نہیں ہوتی بلکہ ان کی اجتماعی تہذیب مراد ہوتی ہے۔اس لیے ہر فرد کا شخصی نصب العین ،تہذہب کا نصب العین نہیں ہوسکتا۔

مزید پڑھیں >>

گنگناتا جارہا تھا ایک فقیر، دھوپ رہتی ہے نہ سایہ دی رتک!

معاشی کوتاہیوں کے سبب گھٹتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اب تو  آرایس ایس نے بھی اپنی  خفیہ رپورٹ میں  مودی جی آگاہ کردیا ہے  کہ آئندہ سال انتخاب میں کامیابی مشکل ہے۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق سنگھ نے اپنی مختلف ذیلی تنظیموں کے جائزوں کی روشنی میں کہا ہے کہ مندی، بیروزگاری، نوٹ بندی، کسانوں کی بدحالی کی وجہ سے عام لوگوں میں مودی سرکار کے تئیں مایوسی جنم لے رہی ہے۔ سنگھ کے مطابق مودی جی کی ذاتی  مقبولیت انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنظیمیں مودی سرکار کی  معاشی پالیسی سے خفا ہیں اوراپنے آپ کو فریب خوردہ محسوس کررہی ہیں۔  آرایس ایس کے مزدور سنگھ کو 2015 میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا لیکن اس سال 17 نومبر کو اس نے اپنا احتجاج طے کردیا ہے۔ یہ رپورٹ متھرا میں ہونے والی سنگھ کے رابطہ اجلاس  میں پیش کی گئی جس میں امیت شاہ اور یوگی بھی موجود تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ اسی طرح کی خوش گمانی کا شکار اٹل سرکار 2004 میں انتخاب ہار گئی تھی۔

مزید پڑھیں >>

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

عہدے امانت ہیں ان میں خیانت نہ کریں!

آخرت میں صرف وہ لوگ سرخرو ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اپنے منصب اور عہدوں کو امانت سمجھ کر اس کی ذمہ داریوں کوعدل و احسان کے ساتھ انجام دیا ہوگا جو کہ آسان کام نہیں ہے اور جس نے اپنی ذمہ داریوں میں خیانت کی ہوگی وہ وہاں رسوا اور ذلیل کیا جائے گا اور جہنم اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اس لئے اول درجہ میں تو ہمیں جاہ طلبی کے مرض سے ہی چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے کہ اکثر اوقات یہ دنیا میں بھی آزمائش اور رسوائی کا سبب ہوجاتا ہے جیسا کہ آج کل عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے اور آخرت کا معاملہ تو فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی صورت میں اور بھی سنگین ہے۔

مزید پڑھیں >>

مھدی عاکف: قائد اور قیادت ساز

کہا جاتا ہے کہ مہدی عاکف کے اندر پچھلے تمام ہی مرشدین کی نمایاں صفات موجودہیں، ان کے اندر امام حسن البنا کا شباب اور ان کی جرأت ہے، تو حسن ہضیبی کی حکمت۔ عمر تلمسانی کی جیسی رواداری اور کھلاپن ہے، توحامد ابو النصر کے جیسا زہد اور دلکشی۔ مصطفی مشہور کی خودداری اور بڑائی، تو مامون ہضیبی کاجوش اور ولولہ۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ ایک بے مثال شخصیت کے حامل ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اخوان کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔

مزید پڑھیں >>

سوچھ بھارت مشن کے تین سال 

ستمبر کی 15 تاریخ سے شروع ہونےوالے سوچھ بھارت ابھیان کی افتتاحی تقریب میں موجود یونیسیف اور سرکاری اعلی افسران نے کہا کہ مودی سرکار کی طرف سے چلائی  جارہی صفائی مہم سے غیر معمولی نتایج  سامنے آئے ہیں۔ افسران کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہریوں میں صاف صفائی کے تیں زبردست بیداری آئ ہے۔ اس موقع پر پریس کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے  یونیسیف واش کے سرپرست نیکولاس اوسبرٹ نے گندگی کے باعث ہونے والی اموات کا ذکر کرتے ہوئے بتایاکہ بھارت میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2015 میں 1لاکھ 17 ہزار بچوں کی موت ڈائریا کی وجہ سے ہوئی یعنی ایک گھنٹے میں 13 بچے۔ یہ دنیا میں ڈائریا سے ہونے والی پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات در کا 22فیصد ہے۔ انھوں نےبتایا کہ بھارت کے 39 فیصد بچے عدم غزاعت (کوپوشن) کے شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 11 فیصد مائیں بچے کی ولادت کے وقت اور15 فیصد نومولود صفائی کی کمی کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔ آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے بھارت کو ہر سال بڑا اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

کم سنی کی شادی اور اسلام : ایک تجزیا تی مطالعہ

انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے لڑکیاں نہ صرف تعلیم کے مواقع حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں، بلکہ کم عمری میں حمل اور زچگی سے ان کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔سیو دا چلڈرن انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹیو ہیلے تھورننگ شمٹ کا رپورٹ کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’کم عمری میں شادی سے ناموافق صورتحال کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جس سے لڑکیوں کے سیکھنے، نشوونما پانے اور بچے رہنے جیسے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھیں >>

ہجری کیلنڈر: ایک اہم درس

آج پھر سے ایک بار اپنے آپ کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی ہمیں اس بات کی فکر دامن گیر ہونی چاہیے کہ سالِ ماضی میں ہم نے ایسے کیا کام کئے ہیں جن کی وجہ سے مجموعی طور امت کی بقاء کا سامان پیدا ہوا اور کن لاحاصل کاموں میں پڑ کر ہم امت کو نقصان پہنچانے کی وجہ بن گئے۔ امت بکھری ہوئی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ روز بروز اس امت کا ایک ایک انگ کاٹے جا رہا ہے اور امت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ، ان وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے جس کونے میں بھی اس ملت سے وابستہ کوئی ایک فرد اگر رہتا ہے تو وہ انفرادی اور اجتماعی طور کس چیز کا علمبردار بنتا جا رہا ہے، اگر امت کے ساتھ اپنی والہانہ محبت رکھ کر اسی امت کی بقاء وقیام کا متمنی ہو کر اسی راہ میں جدوجہد میں مصروف عمل ہے تو صد مبارک اور اگر اپنی ہی ٹانگوں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف کام کر رہا ہے تو احتساب کی اشد ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہجری کیلنڈر: جسے مسلمانوں نے فراموش کردیا

سچ یہ ہے کہ جب کوئی قوم ضعف کا شکار ہوتی ہے تو وہ اسی طرح اپنے شعائر کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔مشرق سے مغرب تک ، شمال سے جنوب تک مسلمان غیروں کی اتباع میں حد سے گذر گئے ہیں اور یوں اللہ کے رسول کی پیشین گوئی سچ ثابت ہورہی ہے کہ’’ تم اپنے پہلے لوگوں کی ضرور بالضرورشانہ بشانہ اتباع کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں بھی داخل ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہوجاؤ گے

مزید پڑھیں >>