ہندوستان

بھوک کی شدت تم کیا جانوں میاں!

اس صورت حال میں شیوراج ہی نہیں پوری بی جے پی کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ،اگر ان مسائل کے ازالہ کی مضبوط تدبیر نہیں کی گئی ،تو حالات اس جانب مشیر ہیں کہ کسانوں کی یہ تحریک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے اور بی جے پی کے مضبوط قلعہ کو متزلزل کرسکتی ہے ،چونکہ مرکزی حکومت تین سال مکمل کرچکی ہے اور اگر اب کسانوں کی تحریک چلتی ہے ،تو آنے والے انتخاب میں بی جے پی کے لئے فتح سے ہمکنار ہونا عظیم چیلنج ہوگا اور کسانوں کی توجہ حاصل کرنا بڑا سوال ہوگا

مزید پڑھیں >>

کسانوں کے مسائل کی فکر اوراندازِ خبرگیری دیدنی ہے!

کسانوں کے مسائل،ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے خودکشی کے واقعات، مدھیہ پردیش میں اپنے حقوق کے لئے مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو اپنی آواز کو بلند کرنے سے باز رکھنے کی کوشش اور پھر بھی باز نہ آنے پر ان کے خلاف طاقت کے استعمال نے اس پورے مسئلہ ہی کیا ملک وعوام کو درپیش تمام مسائل میں حکمراں طبقہ کی طرز سیاست کو بیان کردیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ملک کی موجودہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے!

ملک میں جہاں حکمراں جماعت اور اس کی مادر جماعت کے شرپسند عناصر سے دن بہ دن ملک میں بگاڑ اور فساد کا معاملہ بڑھ رہا ہے۔ وہیں وطن عزیز کے اچھے شہریوں کی تشویش بھی بڑھ رہی ہے اور اس کا کسی نہ کسی فورم سے اظہار بھی شدت کے ساتھ ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

گاندھی کو کیوں مٹا دینا چاہتے ہیں مودی اورشاہ؟

مودی اور امت شاہ اس ہندو شدت پسند تنظیم کے پیروکار ہیں ، جس نے موہن داس کرم چند گاندھی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اب، جب اقتدار ان کے ہاتھ میں آگیا ہے، تو وہ گاندھی اور اس کے نظریات کو پوری طرح دفن کر دینا چاہتے ہیں ۔ مودی گجرات کے ساحل پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مورتی بنوانے پر کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں ، حالانکہ انھیں اگر مورتی بنوانی ہی تھی، تو سب سے پہلے گاندھی جی کی بنواتے، کیوں کہ پٹیل کا مرتبہ گاندھی جی سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ گاندھی اگر نہیں ہوتے، تو نہ پٹیل ہوتے اور نہ ہی جواہر لعل نہرو۔ گاندھی کی جدوجہد اور دوراندیشی نے پٹیل کو پٹیل اور نہرو کو نہرو بنایا۔ لیکن، مودی اور امت شاہ کو لگتا ہے کہ جب تک ہندوستان کی تاریخ سے گاندھی کا نام نہیں مٹایا جائے گا، تب تک ان دونوں کا نام تاریخ کے صفحات میں درج نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے وہ اس نچلی سطح تک اتر آئے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مرو کسان، مر وجوان!

جب ہم بچپن میں اسکول میں پڑھا کرتے تھے تو اس وقت ایک نعرہ تھا ’جے جوان جے کسان‘لیکن اب سرحدوں پر فوجیوں کے ساتھ ہورہا ناروا سلوک اشیائے خوردنی کی قلت اور اس پر حکومت کاتوجہ نہ کرنا ، کسانوں کی خودکشی اور پولس اہلکاروں کی گولیوں سے چھلنی ہوتے ان کے جسم دیکھ کر لگتا ہے اس نعرہ کو تبدیل کردینا چاہئے اور یوں کہناچاہئے ’مرو کسان، مرو جوان‘۔

مزید پڑھیں >>

 مودی سرکارکے تین سال اور مسلمان!

مجموعی طور پر حکومت کے یہ تین سال انتہائی مایوس کن رہے، ان تین سالوں میں مسلمانوں کا عرصہء حیات تنگ کر نے کی پوری کوشش کی گئی ۔’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ نعرہ کا وکاس تومسلمانوں تک پہنچا ہی نہیں ،کم از کم عوام کی مسلم مخالف ذہنیت ختم کر کے انہیں مسلمانوں کے اور مسلمانوں کو ان کے’ ساتھ‘ کر نے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ الٹ انہیں ساتھ سے بھی الگ کر نے کی بھر پور کوشش کی گئی۔

مزید پڑھیں >>

ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی بساط!

ریاست جموں و کشمیر میں میں نام نہاد لیڈرکثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ یہ شاید واحد شعبہ ہے جس میں ریاست جموں و کشمیرخود کفیل ہے۔ اس کے لیے کسی غیر ریاست کی امداد کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔بہت بار ایسا ہوا کہ عوام نے دل میں خدمت ِ خلق کا جزبہ رکھنے والے رہنما کی ضرورت محسوس کی اورحالیہ دور میں اِ س ضرورت نے شدت اختیار کر رکھی ہے لیکن ریاست میں آج تک عوامی امیدوں کے مطابق کسی لیڈر نے جنم ہی نہیں لیا جو حقیقی معنوں میں اپنے اندر عوامی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔

مزید پڑھیں >>

یہ چراغ جل رہے ہیں!

کوئی تجزیہ کار مسلمانوں کی زبوں حالی اور پسماندگی کو موضوع بناکر اگر آنسوبہاتا ہے تو موجودہ صورتحال کے تناظر میں اسے کفران نعمت ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ تازہ ترین سروے رپورٹیں بتاتی ہیں کہ گذشتہ دس سالوں کے اندر مسلمانوں میں مختلف شعبہ ہائے حیات میں آگے بڑھنے کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

صحرا صحراغم کے بگولے، بستی بستی دردکی آگ!

ایسے میں جو خود سپردگی کردے گا،وہ محفوظ رہے گااور جو زبان کھولنے کی جرأت کرے گا،اسے سیاسی جبر کاشکاربننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ابھی ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت بھی خفقانی کیفیت میں مبتلاہے،سواسے حقائق نظرہی نہیں آرہے،البتہ یہ کیفیت بہت دن تک برقرار نہیں رہے گی،لوگ جلد ہی بیدار ہوں گے اور تب شاید حالات اس تبدیلی کارخ کریں ،جسے خوشگوارتبدیلی کہاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>

اب یاد آئے مسلمان راہل گاندھی کو!

کانگریس کو اب مسلمانوں کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ راہل گاندھی نے ملک بھر سے بچے کھچے مسلمان کانگریسیوں کو دہلی بلایا اور پرانی باتیں دہراکر 2019 ء کے پروگرام پر مشورہ کیا۔ راہل گاندھی، گاندھی، نہرو، آزاد کی مالا جپتے رہے جبکہ انہوں نے ان کی پرچھائیں بھی نہیں دیکھی۔ کانگریس کے دو رُخ ہیں ، سیاست اور حکومت۔ سیاست میں تو گاندھی جی اور مولانا آزاد بہت کچھ تھے اور بہت کچھ رہے۔ لیکن حکومت میں پنڈت نہرو کے علاوہ ان دونوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>