ملی مسائل

حج سبسڈی

جب ہوائی سفر شروع ہوا تو مرکزی حج کمیٹی اور صوبائی حج کمیٹیاں بنائی گئیں صوبوں نے حج ہائوس بنائے اور ہر درخواست کے ساتھ تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں جو کئی مہینے پہلے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عازمین حج سے پورا روپیہ مہینوں پہلے وصول کرلیا جاتا ہے جس کا سود ہی 30  کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی عازمین حج اور عام مسلمان جنہوں نے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہ اس لئے تھا کہ حکومت کا روپیہ سود کی وجہ سے پاک نہیں رہتا۔ اور حج کمیٹیاں عازمین حج کے پاک روپئے کو بینک میں رکھ کر اور اس سے سود لے کر اسے ناپاک کردیتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی: کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

حج چونکہ مسلمانوں کا ایک عظیم الشان دینی فریضہ اور مذہبی معاملہ ہے  اس لئے وہ اس معاملے کو مسلمانوں ہی کی صواب دید پر چھوڑ دے اور اس میں کسی بھی طرح کی کوئی مداخلت ہی نہ کریں ۔ وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے اس سبسڈی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ جو اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ حکومت بچے ہوئے سالانہ سات سو پچاس کروڑ روپئے اقلیتوں کی فلاح وبہبود اور بالخصوص مسلمان لڑکیوں کی تعلیم پر صرف کریگی۔وہ اپنے اس وعدے پر عمل در آمدکو یقینی بنائے۔

مزید پڑھیں >>

مسلمان مدرسوں کے بجائے اپنی فکر کریں

حقیقی مدرسوں کی بات یہ ہے کہ وہاں کروڑوں کا بجٹ ہونے کے باوجود کسی حکومت سے مدد نہیں لی جاتی اور جو طبقہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجتا ہے ان میں 90  فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کے گھر والے صرف آنے جانے کا خرچ برداشت کر پاتے ہیں اس کے بعد مدرسہ میں رہنے کا کمرہ پڑھنے کی کتابیں دونوں وقت کھانا لائٹ اور چارپائی وغیرہ سب کا انتظام مدرسہ کی طرف سے ہوتا ہے ان لڑکوں کو اپنے خرچ سے صرف ناشتہ کرنا ہوتا ہے جو اپنی حیثیت کے حساب سے وہ کرتے ہیں یا رات کی بچی روٹی سے ناشتہ کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی کے خاتمہ کا سرکاری اعلان

 حج سبسیڈی کے خاتمہ کا معاملہ ہو یا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا کوئی اور معاملہ ہو اس میں زعفرانی حکومت کی مداخلت ہندوتو ایجنڈا کا ایک حصہ ہے جسے مودی سرکار ایک ایک کرکے 2019ء تک پورا کرے گی تاکہ ہندو پرستوں اور فرقہ پرستوں کو خوش کرسکے۔ بھگوا پارٹی یا اس کی حکومت میں جو لوگ مسلمانوں جیسا نام رکھتے ہیں جیسے نقوی، اکبر یا شاہنواز ان کو پارٹی نے حکم دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے یہ بتاتے رہیں کہ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ مسلمانوں کے حق میں کیا جارہا ہے۔ خاص طور سے مسلم خواتین کی فلاح و ترقی حکومت کے پیش نظر ہے۔ یہ بالکل لغو اور دھوکہ دینے والی بات ہے۔

مزید پڑھیں >>

اُترپردیش کی مسجدوں سے بلند ہونے والی اذانیں نشانہ پر

ہماری اطلاع کے مطابق اور اخبار کی خبروں کی حد تک کسی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے جو زون بنائے ہیں ان میں صنعتی، بازاری اور آبادی کے زون ہیں اور یہ بتایا ہے کہ ان میں کس کس سطح کی آواز رکھی جاسکتی ہے۔ بہرائچ میں نہ جانے کیا بات ہے کہ وہاں حلف نامے لئے جارہے ہیں۔ ابھی تک کوئی نہیں سمجھ سکا کہ کس بات کا حلف نامہ لیا جائے گا؟ لیکن ایک بات کا لحاظ زیادہ رکھنا چاہئے کہ انتظامیہ سے کسی طرح کا ٹکرائو نہ ہو۔

مزید پڑھیں >>

مدرسوں کی روح اور اُن کا مقصد

اگر تاریخ اٹھاکر دیکھا جائے تو اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان شکست کے بعد عیسائی نہ ہوجائیں اور اس کے لئے اگر بزرگوں نے تعلیم کا ایسا نظام بنایا کہ عالم بننے کے بعد وہ اللہ کے کام کے علاوہ کسی کام کے نہ ہوں تو یہ اُن کی دانشمندی تھی۔ آج ان ہی مدارس میں کمپیوٹر بھی چل رہے ہیں انگریزی بھی پڑھائی جارہی ہے اور وہاں سے نکلنے والے لڑکے ہر میدان میں نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

وسیم رضوی: یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں! 

شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے درست تبصرہ کیا ہے کہ آخر جو شخص چاروں طرف سے کرپشن میں گھرا ہوا ہے، جس پر کرپشن کے بے شمار الزامات ہیں ، حکومت نے ایسے شخص کو بے لگام کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ کیوں اس کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی ہے؟ اب اگر اسے گرفتار نہیں کیا گیا تو ہم لکھنؤ کی سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔، مختار عباس نقوی اور ظفر سریش والا نے بھی وسیم رضوی کے بیان کی مذمت کی ہے، مرکزی اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی نے تو اسے پاگل قرار دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ میں بھی مدرسے کا پڑھا ہوا ہوں کیا میں دہشت گرد ہوں ۔؟

مزید پڑھیں >>

طلاق ثلاثہ: حکومت کا رویہ اور ہم

اتحاد اتحاد چیخنے کے بجائے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہم پاش پاش رہیں گے ہماری کوئی حکمت عملی کارگرنہیں ہوسکتی،لہٰذا ہمیں سرجوڑ کراس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے،اورمسلم معاشرے میں طلاق کی خباثت وشناعت کو واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر اپنی جانب سے قدغن لگایاجاسکے۔ اللہ ہمارے حالات کو بہتربنائے اور ملک کو امن امان کاگہوارہ بنائے۔

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ: گہوارۂ امن و محبت

مادر وطن ہندوستان کے حالات روز افزوں بگڑتے جارہے ہیں ،جمہوری اقدار و روایات مائل بہ تنزل نظر آرہے ہیں ، ہر صبح طلوع ہونے والا سورج کسی نئی آزمائش اور ہر شام ڈوبتا آفتاب،کسی تازہ مصیبت کی پیشین گوئی کررہا ہے۔ اسلامیان ہند کے ملی تشخص کو مسخ کرنے، دین و شریعت میں کھلم کھلا مداخلت کرنے اور ہر میدان میں اقلیتوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے بعد اب ان کا ہدف مدارس اسلامیہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

مت جوڑو آتنک واد کا نام مدرسوں سے!

   ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ان سے ہر باخبر شہری اور بالخصوص مسلمان واقف ہے، کس طرح منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کی جارہی ہے وہ ہر ایک پر عیاں ہے۔ شریعت میں مداخلت اور اسلامی تعلیمات پر نکتہ چینی وانگشت نمائی کے موقعے تلاش کئے جارہے ہیں، مسلم پرسنل لامیں دخل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، فتوی کو لے کرمنفی تبصرہ کے ذریعہ ایک ہنگامہ برپاکیا جارہا ہے، اوراسلامی احکام کو توڑمروڑکرپیش کیاجارہا ہے، طلاق ِ ثلاثہ کوبہانہ بناکر باضابطہ شرعی احکام وتعلیمات پر قد غن لگانے کی فکر کی جارہی ہے۔ کمزورطبقات کے ساتھ ظلم وزیادتی ہورہی ہے اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے اورملک ووطن کے امن وسکون کو ختم کرنے کے لئے شرپسندعناصراورفرقہ پرست طاقتیں پوری کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں >>