ملی مسائل

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی

اگر انسانیت مری ہوئی ہو اور حکمراں انسانیت نواز نہ ہوں اور قوانین بھی وحشیانہ اور ظالمانہ ہوں تو ایسے ماحول میں انسان جرم و گناہ کی طرف مائل ہوتا رہتا ہے پھر ایسا عادی مجرم بن جاتا ہے کہ انسانیت کی طرف اس کی واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ کی عنایت اور رحمت کی بارش کسی وقت کسی بھی برے سے برے انسان پر ہوسکتی ہے اور اس کی سوئی ہوئی انسانیت جاگ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کیجئے!

 انسان کا یہ فطری رویہ ہے کہ جب وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو مختلف قسم کی سعی و جہد میں ناکامی کے بعدتھک ہار کر خدا کے طرف پلٹتا ہے۔اس سے مدد و نصرت کا خواہاں ہوتا ہے ۔لیکن عموماً وہ یہ بھول جاتا ہے کہ خدا کی مدد اور نصرت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ کہ پریشانی میں مبتلا انسان خدا کے جانب سے فراہم کردہ احکامات پر عمل درآمد کرے۔

مزید پڑھیں >>

بھیڑ کی غنڈہ گردی: ہم کیا کریں؟

یہ بات اپنے ذہنوں میں اچھی طرح بٹھالیں کہ بزدلی کی موت مرنا دانش مندی نہیں ہے اور اللہ اور اس کے رسول کو یہ پسند نہیں ہے _ اگر خدا نخواستہ ہم کبھی ایسے حالات میں گھر جائیں تو غنڈوں سے ہمیں رحم کی بھیک نہیں مانگنی ہے ، بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے _ اگر مقابلہ کرتے ہوئے ہماری جان چلی جائے تو ہم شہادت کے درجے پر فائز ہوں گے _

مزید پڑھیں >>

کیا ہم زندہ قوم ہیں؟

دشمن صف بستہ ہے، ہتھیار سدھائے جاچکے ہیں ، منصوبہ بندی ہوچکی ہے اور تاریخ ظلم و بربریت اور تشدد وہلاکت کی دل دہلا دینے والے حقائق تحریر کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر آج ہم نے اس ظالمانہ رویہ کے خلاف اٹھی بازگشت کو اپنی قلمی و تقریری صلاحیتوں ، دلیری و شجاعت کے میناروں ، جرأت و بیباکی کی داستانوں اور جانی و مالی قربانیوں کے ذریعے سینچ لیا اور بنیانٌ مرصوص کی عملی صفات اپنے اندر پروان چڑھالی تو بعید نہیں کہ اس امّت کا ذرّہ ذرّہ ماہتاب بن جائے

مزید پڑھیں >>

شریعت پر عمل ہمارا آئینی حق ہے!

مسلمانو! یہ دراصل حکومت کی ایک سازشی پالیسی اور حکمت عملی ہےتا کہ مسلمانوں کو ان کے دینی ومذہبی مسائل میں الجھا کر اپنی ناکامیوں وکوتاہیوں کی پر دہ پوشی کی جائے نیزان کے ترقیاتی منصوبوں کو ناکام بنادیاجائے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ان کی اتحادی طاقت کو چورہ چورہ کرکے ووٹ بینک کی راہ ہموار کرلی جائے اور انہیں حاشیہ پر رکھ کر اس ملک میں حکومت کی جائے۔ 

مزید پڑھیں >>

میڈیا کا تشویش نا ک رویہ

میڈیا یعنی جس کے ذمہ جمہوریت کے چو تھے ستون کو سنبھالنا اور مضبوط کرنا ہے ؛ ارتقاء جمہوریت ،احترام انسانیت اور بقاء حرمت میں اہم کردار ادا کرناہے۔ جس کا تعمیری اور مثبت کردار خدمت خلق کہلاتا ہے اور کیوں نہ کہلائے کہ اس سے ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے،عوام میں سیاسی ،سماجی بیداری پیدا ہوتی ہے، مختلف مذاہب و ادیان کی درمیان ہمدردی،یکجہتی اور اخوت ومحبت پیدا ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

دورہ ٔ اسرائیل اور قادیانی نمائندہ سے ملاقات: لمحہ ٔ فکریہ!

ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے اسرائیل کا تین روزہ دور ہ مکمل کیا،اسرائیل کے اس سفر پر ماہرین وتجزیہ نگاروں نے مختلف زوایوں سے لکھا ہے ،اور بہت سے پہلو ؤں کو اجاگر کیا ہے ،اس سفر میں وزیر اعظم غیر معمولی پرجوش دکھائی دئیے اور خود اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو بھی اپنے ہم منصب وہم فکر وہم مزاج دوست کا خیر مقد م کرنے بے چین نظر آیا۔

مزید پڑھیں >>

تین طلاق پر غیروں میں بحث  جاری ہے

آج (8جولائی 2017ء) کے انگریزی اخبار ’’دی ٹیلیگراف‘‘ کے ادارتی صفحہ پر مشہور تاریخ داں اور صحافی رام چندر گوہا کا ایک مضمون بعنوان ’’صاحب جدید کی جدوجہد… فرسودہ قوانین‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے، بغل میں اداریہ ہے جس کا عنوان ہے ’’زعفرانی رنگ کا زور‘‘۔ رام چندر گوہا نے مضمون کے پہلے پیرا گراف میں لکھا ہے کہ تین طلاق اور ذبیحہ گائے اگر چہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر عصر حاضر میں جدید ہندستان میں دونوں زیر بحث ہیں اور عہد ماضی کے ذہن کی پیداوار ہیں۔

مزید پڑھیں >>

متاع امت اجڑ گئی

مگر افسوس کہ آج معاملہ بہت الگ ہو چکا۔ آج سب کچھ الٹ ہوگیا ۔آج جاگنے بلکہ جگانے والے سو گئے ،بہادر بزدل اور بزدل بہادر بن گئے، آج بلیاں شیروں کا شکار کرتی دیکھائی دیتی ہیں۔ باہمت و بلند حوصلہ آج پستی و ناداری میں جا گرے۔دنیا کے مظلوموں کو ظالموں کے پنجوں آزاد کرانے والے آج خود ظالموں کے دنگل میں پھنس گئے، دنیا کے ستم زدوں کو تحفظ و پناہ دینے والے آج خود غیروں سے تحفظ اور پناہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے!

ہم کیا کرسکتے ہیں ؟ زیادہ سے زیادہ نعرہ بازی کرسکتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ حکومت کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں ، سڑکوں پر نکل آسکتے ہیں ، قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ، اس کے علاوہ؟ سوئی ہوئی قوم کو بیدار تو کیا جاسکتا لیکن بے غیرت قوم کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟

مزید پڑھیں >>