ملی مسائل

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ایک اور کلین چٹ

آخر کب یہ طے کیا جائے گا کہ ہماری اس حالت کے ذمے دار کون ہیں ؟ہم کب مل بیٹھ کر اپنی آئندہ حکمت عملی طے کریں گے؟ ہم بھی متعدد بار لکھ چکے ہیں اور دیگر لکھاری بھی کہ آج کا دور میڈیا کادور ہے۔ اب جنگیں میدان جنگ میں کم اور میڈیا میں زیادہ  لڑی جاتی ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں ہمارے اخبارات اور ٹی وی چینل کیوں نہیں ہیں ؟

مزید پڑھیں >>

کیا روہنگیا میں انسا ن نہیں!

ایسے وقت میں حکومت ہندی کی نا قص سوچ یہ بتا تی ہے کہ حکومتی سطح پر انسا نیت با قی نہیں رہی ہے ۔ کم از کم انسا نی بنیا دوں پر دیکھا جا ئے کہ روہنگیا سے آنے والی مخلوق انسا ن ہے جا نور نہیں ہے انہیں سہا رے کی ،پنا ہ کی ضرو رت ہے اگر یہ پنا ہ ہم نہیں دے پا ئے تو دنیا ہنسے گی اور کہیگی کہ انسا نیت مر چکی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

 ملّتِ اسلامیہ ہند کی اصلاحِ حال اور ہمارا کردار (تیسری قسط)

آج کے ہندستان میں دینی مدارس اور جامعات کی ایک بڑی تعداد اصولاً عصری تقاضوں کا لحاظ کرنے کیلئے آمادہ ہے، لیکن وہ قلت وسائل کی وجہ سے اہل اور ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ دینی مدارس کے اساتذہ بالعموم نہایت قلیل مشاہروں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان پر اتنا تدریسی بوجھ ہوتا ہے کہ جس کا تصور بھی عصری کالجوں کے اساتذہ کیلئے محال ہے۔

مزید پڑھیں >>

ملّتِ اسلامیہ ہند کی اصلاحِ حال اور ہمارا کردار (دوسری قسط)

امت مسلمہ کی حقیقی طاقت اور اس کی صحت کی ضامن، اس کی دینی بصیرت اور اس کی اخلاقی اقدار ہیں ۔ اس طاقت کی تجدید، روایات اور فرسودہ طریق کار پر اصرار سے ممکن نہیں ؛ بلکہ اس کیلئے وہی مجتہدانہ بصیرت درکار ہے جس نے امت کو ماضی میں قیادت اور امامت پر فائز کیا تھا۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانان ِ برما کے نام مفکر اسلام علی میاں ندویؒ  کا پیغام

آج مسلمان موم ہورہا ہے، موم کی ناک کی طرح ہر مڑنے اور جھکنے کے لئے تیار ہے، اس کو تو بنادو فولاد، اورغیر مسلم جس کا دل لوہے اور پتھر کی طرح ہورہا ہے اس کو کردونرم بس اگر یہ دوکام کرلو کہ مسلمان ہوجائے فولاد اور غیر مسلم ہوجائے موم، اورجب وہ اسلام قبول کرے اس کو بھی فولاد بنادو،اب فولاد ہی فولاد، اور جہاں فولاد ہی فولاد ہو کس کی مجال ہے کہ اس کی طرف نظر اٹھاکر دیکھ سکے۔ مسلمانوں کو ایمان پر پختہ کرنا اور غیر مسلم کو اسلام کی طرف مائل کرنادوہی کام ہیں۔ یہ کام اگر تم نے کرلیا تو اپنے اوپر احسان کروگے کسی دوسرے پر یا اسلام پر احسان نہیں۔

مزید پڑھیں >>

حضور ﷺ کی گستاخی و ادبی کا سبب خود ہم مسلمان ہیں!

آقاء کریم ﷺ کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ گستاخ، بے ادبی اور رسوائی کے سبب تو ہم خود زندہ، چلتے پھرتے خاکے ہیں، ہمارے اعمال، ہمارے اخلاق و اطوار، ہماری بد کرداری ہے جو پوری دنیا میں نہ صرف ہمارے دین بلکہ ہمارے پیارے رسول ﷺ کے لیے سب سے زیادہ گستاخی و رسوائی کا سبب اور شرمندگی کا باعث ہے۔

مزید پڑھیں >>

مدارس: امید کی آخری کرن!

اسلامی مدارس اور دینی درس گاہوں کا اصل موضوع کتاب الٰہی وسنت رسول ہے۔ انھیں کی تعلیم و تدریس، افہام وتفہیم، تعمیل واتباع اور تبلیغ واشاعت مدارس عربیہ دینیہ کا مقصود اصلی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ تعلیمی وتربیتی ادارے علوم شریعت کے نقیب،اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت تلاوت قرآن، تعلیم کتاب اور تفہیم حکمت وسنت کے وارث وامین ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسلم پرسنل لا بورڈ کا دوراندیشی پر مبنی فیصلہ

بورڈ کی طرف سے یہ اہم فیصلہ دور اندیشی پرمبنی ہے ، امید ہے کہ دیگر جماعتیں اور تنظیمیں بھی اسی طرح اپنا ترجمان مقرر کرکے موقع و مفاد پرستوں کی چال بازیوں کا خاتمہ اور لائق و مستحق افراد کو اپنا ترجمان بنا کر پیش کریں گی۔ جس کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ ہر ایرا غیرا نٹ شنٹ بگھارنے سے باز رہے گا اور اگر وہ باز نہ بھی رہا تو اس کی بات بے وزن سمجھی جائے گی۔ مسلمانوں کے اہم ترین مسائل میں گہرے مطالعے و تجربے کے بغیر اس نازک دور میں کچھ بھی کہنا اور بولنا وغیرہ انتہائی نامناسب ہے ، جس پر ہر طرح ختم کیا جانا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا : حل ہمیں ہی ڈھونڈنا ہوگا

ضروری ہے کہ اس ضمن میں ہم بے وقوفی کی بجائے انتہائی وقوف سے کام لیں ۔جو کچھ کریں بہت سوچ سمجھ کر ،جذبات اور جوش کی بجائے پوری طرح ہوش کے ساتھ اور پختہ منصوبہ بندی کے ساتھ کریں ، اس طرح کریں کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔

مزید پڑھیں >>