سیرت صحابہ

حضرت ابو ذر غفاریؒ

  قبیلہ غفار کا بانکا، سجیلا، بہادر نوجوان رملہ بنت ربیعہ کا لعل اس کا اسم گرامی جندب ہے۔ کنیت ابوذر۔ قبیلہ غفار کا باشندہ، آسمان شہرت پر ابوذر ہی نقش ہے، جس کے رگ و پے میں شجاعت و بہادری دلیری و چستی پیوست ہے، چاق و چوبند ہے۔ قبیلے کی روایتوں کا پاس دار ہے بزرگوں کے طرز عمل کا پیرو ہے، قوم کی خوشی کا باعث ہے۔ قبیلہ کے ہر فرد بشر کی آنکھ کا تارا ہے۔ ہر شخص اس کی بہادری کی داد دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کی حیات طیبہ کے تابندہ نقوش

اسلامی حکومت مصر تک پہنچ چکی تھی، تاریخِ اسلام میں جس قدر ترقی ؛فاروقِ اعظم کے دورخلافتِ  میں ممکن تھی مکمل ہوچکی تھی، اسلام عرب سے نکل کر عجم کی جانب گامزن تھا، لشکرِ اسلام نئی نئی سر زمینوں اورمختلف عجمی ممالک کے در پر دستک دے رہا تھا، ایران اور روم اس وقت کی دو سب سے بڑی طاقتیں بھی اسلام کے ہاتھوں فتح ہو چکی تھیں، عدل و انصاف اپنی حدود کو پہنچ چکا تھا اور مساوات کا یہ حال تھا کہ وہ جہاں تھی اس سے زیادہ ممکن ہو نہیں سکتی تھی، امیر المومنین کی شان و شوکت اور فتوحات اسلامی سے باطل قوتیں پریشان تھیں۔

مزید پڑھیں >>

حضرت علی بن ابی طالب کرّم اللہ وجہہ

روایا ت میں آتا ہے کہ حضور پاک نے ہجرت کے قبل اسوقت مکہ میں موجود صحابہ کرام سے پوچھا کہ میرے بستر پر کون سوئے گا تو کسی نے جواب نہیں دیا ما سوا حضرت علی کے جنہوں نے تین بار کہا کہ میں ’’سوؤں گا‘‘۔ قریش حضور پاک کو قتل کرنے کاقطعی منصوبہ بناچکے تھے۔ایسے حالات میں حضرت علی کا یہ فیصلہ ان کی حضور پاک ؐ سے انتہائی محبت اور ان کے لئے جان دینے کے لئے تیار رہنے کی دلیل تھا۔

مزید پڑھیں >>

شیر خدا

سیدنا علی کی ولادت رجب عام الفیل بعثت نبوی ﷺ سے دس سال پہلے جمعہ المبارک کے دن مکہ مکرمہ خانہ کعبہ کے اندر ہو ئی یہ سعادت صرف اور صرف آپ کے حصے میں آئی ۔ حضرت ابو طالب کی تنگدستی دیکھ کر حضور ﷺ نے ان کا بوجھ ہلکا کر نے کی تجویز سوچی کہ جب حضرت علی تھوڑے بڑے ہو ئے تو ان کو اپنی کفالت میں لے لیا گویا وہ 5سال سے محبوب خدا ﷺ کے دامن اقدس سے وابستہ ہو گئے اور آغوش ِ نبوت میں پر ورش اور تربیت پائی ۔

مزید پڑھیں >>

حضرت علیؓ: خدمات وکمالات!

جو مختلف خصائل وفضائل کے حامل، متعدد محاسن واخلاق کا مجموعہ اور کئی ایک کمالات وصفات کا ایسا حسین پیکر تھے گویا ان کی ایک زندگی کئی زندگیوں کا خلاصہ ونچوڑ اورحیات کاہرشعبہ صفت ِکمال کا وہ نادر مرقع تھی ؛جس سے فضیلت وخصوصیت کے بے داغ خدوخال ابھر کر سامنے آتے تھے اور جس کے ہر کمال پر نظریں جم کر رہ جاتی تھیں

مزید پڑھیں >>

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اپنی ازدواجی زندگی اس خوبصورتی کے ساتھ گزاری کہ ایک مسلمان عورت کے لیے ان کی زندگی کے تمام پہلو ، شادی، رخصتی، شوہر کی خدمت و اطاعت، سوکن سے تعلقات، بیوگی، خانہ داری کے تمام پہلواس قدر روشن ہیں کہ ان کی تقلید کرکے ایک مسلمان عورت دونوں جہاں میں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ

نبی کریم ﷺ اپنے محبوب بیوی کو قبر مبارک میں اتارنے کے لیے خود قبر اترے اور اپنے ہا تھوں سے اپنی غم گسار اور محبوب بیوی کو سپر د خاک کیا نبی کریم ﷺ کو اپنی محبوب بیوی سے اس قدر محبت تھی کہ ساری عمر ان کے رشتہ داروں اور ان کی سہلیوں کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آتے تھے چنانچہ جب بھی قربانی کر تے تو سب سے پہلے سیدہ خدیجہ کی سہیلیوں کو گوشت بھجواتے اور بعد میں کسی اور کو دیتے ۔

مزید پڑھیں >>

حیاتِ صدیق اکبرؓ کے چند روشن پہلو

22جمادی الاخری افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر ؓ کا یوم ِ وفات ہے۔اس مناسبت سے کچھ تذکرہ اس عظیم المرتبت شخصیت کا کرتے ہیں اور ان کی حیاتِ مبارکہ کے چند پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں ،اگرچہ کہ ان کی پوری زندگی ایمان وعمل کی ایک روشن اور تابناک زندگی ہے ،اور ہر لمحہ ٔ حیات قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے پیغام وسبق ہے۔

مزید پڑھیں >>

افضل البشر بعدالانبیاء :حضرت ابوبکر صدیق

حضرت ابوبکر صدیق ؓکے زمام اقتدار سنبھالتے ہی متعدد نئے مسائل نے سراٹھانا شروع کردیا۔محسن انسانیت ﷺ نے انیس سالہ نوجوان ’’اسامہ بن زید‘‘کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا تھاتاکہ رومیوں سے سفیررسولﷺ کے قتل کا قصاص لیاجاسکے،یہ لشکر روانگی کے لیے پابہ رکاب تھا کہ وصال نبوی کا سانحہ بجلی بن کر مسلمانوں پر آن گرا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اقتدارکی باگ دوڑ سنبھالتے ہی اس لشکر کی روانگی کے احکامات صادر کر دیے،بہت سے لوگوں نے اختلاف کیااور حالات کی نزاکت کے باعث اس لشکرسپاہ کو دارالخلافہ میں رہنے کی رائے پیش کی۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فیصلہ نبویﷺ سے ایک بال برابر بھی روگردانی سے انکارکر دیااور ایک منزل تک پاپیادہ اس لشکر کے ہمراہ دوڑتے ہوئے گئے۔

مزید پڑھیں >>

 سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بے شمار کارنامے ایسے ہیں جن پر دنیا رہتی دنیا تک ناز کرے گی ۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مختلف ایسے فتنے رونما ہوئے جو اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی توانیاں صرف کر رہے تھے ۔ ان میں مدعیان نبوت کا فتنہ سر فہرست ہے ۔یمن میں اسود عنسی ، یمامہ میں مسیلمہ کذاب ، جزیرہ میں سجاح دختر حارث ، بنو اسد و بنو طی میں طُلیحہ اسدی نے نبوت کے دعویٰ داغ دیے ۔ختم نبوت کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا کہ جس کے لیے مصلحت اختیار کر لی جاتی ۔ بلکہ یہ تو اسلام کے اساسی و بنیادی عقائد میں شامل ہے ۔ اس لیے اس فتنے کے خلاف سیدنا صدیق اکبر نے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور لشکر اسلامی کو بھیج کر ان کا قلعہ قمع کیا۔

مزید پڑھیں >>