عالم اسلام

محمد بن سلمان کا معتدل اسلام؟

معتدل اسلام کے نام پر جدیدیت اور مغربیت کو بڑھاوا دینے کے نتیجے میں سعودی عرب میں امن و سکون کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور حکومت اور عوام کے درمیان بے چینی سے عالمِ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان نئے نئے مسائل جنم لیں گے، اس لئے محمد بن سلمان کو یہودیوں اور عیسائیوں کے ناپاک عزائم، ان کی سازشوں اور اپنے ملک کے اندرونی اور خاندانی مسائل کو سمجھ کر بہتر حل نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں ؛ اپنی جسمانی،  علمی و مالی تمامتر صلاحیتوں کو اس عظیم مقصد کی حصولیابی کے لئے استعمال کریں۔ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اس کی رضا حاصل کرنا اور دعوت دین اور  اس راہ کی جد وجہد کے ذریعہ اسلام کو زندہ اور غالب کرنے کی مستقل فکر کرنا، یہی وہ مقاصد ہیں جن کے لئے ایک مسلمان کو جینا و مرنا چاہیے اور باقی تمام مقاصدکو ان عظیم مقاصد کے تابع رکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

ولی عہدوں کی داستان

محمد بن سلمان جنھیں مغرب میں MBS کے نام سے جانا جاتا ہے، نے وزیر دفاع بنتے ہی سعودی عرب کو یمن کی جنگ مین دھکیل دیا جس نے سعودی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا۔34 یا 42 ملکوں کا فوجی اتحاد بھی محمد بن سلمان کا Brain Child  ہے۔ جس کے مقاصد آج تک واضح  نہیں ہیں ۔چند مہینوں پہلے قطر پر الزامات کی بوچھار بھی انہی شہزادے صاحب کا کمال ہے۔ اب یہ جناب سعودی عرب میں ماڈریٹ اسلام کی فصل اگانا چاہ رہے ہیں جس کے لئے وہ 500 ارب ڈالر کے اخراجات سے سعودی عرب میں ایک شہر بسا کر دنیا کو دکھائیں گے کہ  ماڈریٹ اسلام کی ’’برکتیں ‘‘ کیا ہوتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عالم عربی کا تشویشناک منظرنامہ

محمد بن سلمان اور شاہ سلمان کے تازہ ترین اقدامات سے عالمی سطح پر بڑے بڑے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑنا طے ہے، نیز بن سلمان کی مجروح شبیہ سے سرمایہ کاروں کا بدکنا بھی ممکن ہے، اس کے ساتھ ہی سعودی معیشت کی آن دی ریکارڈ امریکہ و اسرائیل منتقلی بھی جلد ہوجائے گی، عالم اسلام کے زبوں حالات میں لوگ سعودیہ کو سہارا تصور کرتےتھے لیکن خطۂ نبوی ﷺ کا جس طرح مغربی ماڈرنائزیشن ہورہاہے اور جس طرح امریکہ و اسرائیل کی سعودیہ سے پینگیں بڑھتی جارہی ہیں اور سعودی قیادت میں جس طرح ہمارے یہاں دجالی کہے جانے والے فتنے کے سامان فراہم ہورہےہیں

مزید پڑھیں >>

سعودی عرب میں باپ بیٹے کی بادشاہت

 آج جو کچھ پورے عرب ممالک میں ہورہا ہے اس سے مسلمانوں کا دل رو رہا ہے اور اب خاص طور سے سعودی عرب میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مزید رونے کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف اندرون ملک اپنی لڑائی لڑ رہا ہے اور دوسری طرف یمن اور قطر میں برادر کشی کو جائز کر رکھا ہے۔ ایران سے بھی برسوں سے اس کی چپقلش ہے۔

مزید پڑھیں >>

لارنس آف عریبیہ  (lawrence of arabia)

لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس (16 اگست 1888ء – 19 مئی 1935ء)، جنہیں پیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنس (T. E. Lawrence) کے طور پر جانا جاتا تھا، برطانوی افواج کے ایک معروف افسر تھے جنہیں پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم اول کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔

مزید پڑھیں >>

سعودی عرب میں غیر معمولی فیصلوں کے پیچھے چُھپی اصل کہانی

سعودی شاہی خاندان کی کشمکش کے دوران اگر کوئی شہزادہ یا شہزادوں کا گروہ بغاوت پر اتر آیا تو محمد بن سلمان کے معاشی پروگرام کے تحت ملک میں بڑھتی بیروزگاری، سادگی کے نام پر مراعات کی واپسی کے اقدامات عوام میں بغاوت کی پذیرائی کا باعث بن سکتے ہیں، جن پر قابو پانا ہرگز آسان کام نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

 اسلام کے سائے میں

دنیا میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ صرف زیادہ بچے پیدا کرنے کا نتیجہ نہیں بلکہ قرآن سے غیر مسلم لوگوں کے تیزی سے متاثر ہونے، مسلمانوں کے عیاشی اور زنا کی بجائے طاقتور خاندانی نظام جس میں اپنی نسل برقرار رکھنے کے لیے اولاد کی پیدائش،اسلام کی شاندار تعلیمات، مسلمانوں کا حسن سلوک اور خواتین کے بارے میں اعلی تعلیمات شامل ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا خصوصا یورپ اور امریکہ میں بےشمار تعداد میں لوگ الحاد اور دیگر مذاہب چھوڑ کر تیزی سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عمل کا سراب!

اسلام نافذ ہونے کے لیے آیا ہے۔ لیکن اس کے لیے قوت کی ضرورت ہے۔ اقبال کی بلندی ضروری ہے۔ مگر ہماری تو ہوا اُکھڑی ہوئی ہے، اقبال کہیں گم ہو چکا ہے، قوت ناپید ہے، غضب خدا کا جنہیں اپنے کفر و شرک کی بدولت دنیا میں چھوٹا بن کے رہنا تھا، وہ، ہمیں چھوٹے بن کے رہنے پر مجبور کر رہے ہیں ! اور ہم ہیں کہ’’ ٹک ٹک دیدیم و دم نہ کشیدیم ‘‘میں مبتلا ہیں !

مزید پڑھیں >>

قوموں کا عروج و زوال

تم کرہ ارض کی کوئی قوم لے لو اور زمین کا کوئی ایک قطعہ سامنے رکھ لو،جس وقت سےاس کی تاریخ روشنی میں آئی ہے اس کے حالات کا کھوج لگاؤ تو تم دیکھو گے کہ اس کی پوری تاریخ کی حقیقت اس کے سواکچھ ہے کہ وارث و میراث کی ایک مسلسل داستان ہے یعنی ایک قوم قابض ہوئی پھر مٹ گئی  اور  دوسری وارث ہو گئی۔پھراس کے لیے بھی مٹنا ہوا اور تیسرے وارث کے لیے جگہ خالی ہو گئی۔وھلم جرا۔۔۔۔۔ قرآن کہتا ہے یہاں وارث و میراث کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>