عالم اسلام

اے نفس مطمئنہ! لوٹ جا اپنے رب کی طرف

12 فروری 1949 کو اخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا _ وقت کے حکم رانوں نے سخت پہرا بٹھا دیا _ کسی کو تکفین و تدفین میں شرکت کی اجازت نہ تھی _ پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ شہید کا جنازہ چار خواتین کے کندھوں پر اٹھا اور بوڑھے باپ نے تدفین کا عمل انجام دیا _

مزید پڑھیں >>

نوّے سال کے عظیم جوان محمد مہدی عاکف

زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا بھر میں تحریکی نوجوانوں کی ہمہ جہت تربیت کرتے ہوئے گزارا، اور ایک بڑا حصہ مصر کے ظالم حکمرانوں کی جیلوں میں خود اپنی تربیت کرتے ہوئے گزارا۔ ملک میں رہے تو ملک کے نوجوانوں کی تربیت کرتے رہے، اور جلا وطن ہوئے تو بہت سے ملکوں میں اپنے تربیتی کیمپوں کے نقش قائم کردئے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا: صرف امداد ہی حل نہیں!

اگر میانمار روہنگیا پر ہونے والے ظلم و ستم سے باز نہیں آتا تو اس کے خلاف اسے ایک موثر متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ انسانی بحران ہے اور اس سے نمٹنا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے اور بحران سے نمٹنے سے زیادہ ضروری ہے کہ بحران روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔ لیکن اقوام متحدہ مسلمانوں کے تئیں متعصب عالمی طاقتوں کے سامنے بے بس ہے غالب گمان ہے کہ وہ یہاں اس طرح کا کوئی نہیں حل لائے گی تو کم از مسلم ممالک نے اپنے طور پر متحد ہو کرسفارتی اور معاشی بائیکاٹ کے ذریعہ اس کی شروعات کر نی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

اخوانو فوبیا اور متحدہ عرب امارات

یہ محض ایک بیان نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے ، نہایت تلخ حقیقت کہ اسلامی کاز کے لیے وقت کی سب سے بڑی اور منظم تحریک کو سب سے زیادہ دشمنی کا سامنا کسی مغربی یا غیر اسلامی ملک سے نہیں کرنا پڑ رہا ہے بلکہ صرف اور صرف ان کی طرف سے کرنا پڑ رہا ہے جو اپنے آپ کو مسلمان اور اپنی حکومتوں کو مسلم یا اسلامی حکومت کہتے ہیں ۔ عرب امارات کا ولی عہد محمد بن زاید اور سعودیہ کا ولی عہد محمد بن سلمان اس سلسلے میں ساری حدوں کو پار کر تے جارہے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ ڈکٹیٹر شپ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ڈکٹیٹرس کا مذہب صر ف اور صرف ظلم و فساد ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اُمت کے بکھرے ہوئے دانے

بکھری ہوئی اس امت کا علاج صرف اور صرف اسی نظام زندگی میں ہے جسے ہم کہیں چھوڑ چکے ہیں ۔ بکھری ہوئی اس سیسہ پلائی ہوئی امت کا دانہ دانہ اگر ایک مالا داغے میں پھر سے جمع ہو جائے تو یہ مالا نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پوری دنیا کی گردن کی زینت بن سکتی ہے، یہ نہ صرف مسلمانوں کی عزت ووقار کو بحال کر سکتی ہے بلکہ ایک مرتبہ پھر عوام الناس کو خیر وعافیت ، عدل وانصاف کا ماحول فراہم کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیائی مسلمان: دنیا کی سب سے زیادہ ستم رسیدہ اقلیت

  میانمار میں اس وقت  نسل کشی ہورہی ہے جو بدنام زمانہ ہٹلر کو بھی شرمندہ کردے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ عالمی طاقتیں خواب غفلت سے جاگے اور انسانیت کے ناتے اس نسل کشی کو روکے تاکہ بعد میں اس سیکوئی نیا بحران نہ جنم لے۔

مزید پڑھیں >>

جسم جسم لہو لہان، بستی بستی آگ کا شعلہ

ان ناگفتہ بہ حالات میں  ترکی اور اردوگان حکومت نے جو پیش رفت کی ہیں ان کا کارنامہ یقیناً قابل ستائش ہے؛لیکن صرف روٹی کپڑا اور مکان ہی ان مظلوم اور ستم زدہ بھائیوں کا غم بھلانے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے آگے جن لاکھوں جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں ان کا کیا ہوگا؟ تین سال قبل بھی جب بودھسٹ ان پر برق بے اماں بن کر گرے تھے، تب بھی ترکی حکومت نے خوب مدد کی تھی اورہزاروں کو اپنے گھر میں پناہ دیا تھا، مگر کیا ان کا وہ مسئلہ حل ہوگیا؟

مزید پڑھیں >>

لہو لہان روہنگیا: مسئلہ پوری امت کا  ہے!

 بہرحال مسلم مملکتوں کے ذریعہ عسکری کوششیں اس مسئلہ میں سلجھاؤ کی بجائے الجھاؤ پیدا کر سکتی ہیں ،لیکن ہمت طاقت اور اللہ کی امداد ہو تو نوک شمشیر ہمیشہ ظلم پر غالب ہو کر رہتی ہے مگر صاحب ہمارے پاس نہ ہمت ہے نہ جرت ہے اور نہ ہی ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہمیں اللہ کی مدد آئے۔

مزید پڑھیں >>

مظلوم روہنگیامسلمان: پاکستان کردارادا کرے!

برما کے روہنگیا مسلمانوں پرایک بار پھر قیامت ٹوٹ پڑی ہے،ان پر ڈھائے جانے والے مظالم نے انسانیت کو منہ چھپانے پر مجبور کردیا ہے، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری قتل عام کو انسانیت کی تذلیل کہا جائے،شیطنیت یا چنگیزیت،ان مظالم کے سامنے تمام الفاظ وتعبیرات ناکافی نظر آتی ہیں ،تو دوسری طرف ترکی اور مالدیپ کو چھوڑکرمسلم ممالک اور عالمی برداری کی جانب سے ان مظلوموں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر بھی بے حسی اور سنگ دلی کی نمایندگی کرنے والا ہر لفظ ہیچ نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حیوانیت زندہ ہے!

کہیں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوتا ہے ، لوگوں کے سر پر شیطان سوار ہوجاتا ہے ، وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں ، جان و مال ، عزت و آبرو کو پامال کرتے ہیں _ ایسے میں کوئی فرد کسی انسان کو پناہ فراہم کرتا ہے ، اسے بھیڑیوں کے چنگل سے بچا لیتا ہے _ اس فرد کی قدر شناسی کی جاتی ہے ، اس پر تحسین و آفریں کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے : 'ابھی انسانیت زندہ ہے' _

مزید پڑھیں >>