عالم اسلام

قصۂ درد سناتی ہوں کہ مجبور ہوں میں!

 طاغوتی قوتیں شب و روز اسے نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے اسرائیل کو اپنا آلۂ کار بنا کر اسلام کی مقدس ترین مسجد" مسجد اقصی" کو نذر آتش کیا؛جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ بتدریج اس مقدس سرزمین سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹادیا جائے ۔

مزید پڑھیں >>

مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوزوساز

اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں بدنام کیا جارہا ہے۔ ہمارے اتحاد کو سرے سے ٹکنے نہیں دیا جاتا ہے، ہم کسی پلیٹ فارم پر جمع بھی ہوجائیں تو اس اتحاد کو چلنے نہیں دیا جا تاہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ملت کے مسائیل کا حل ہم از خود نکالیں اور مزید تباہی سے اس ملت کو بچانے کی کوشش کریں ۔ اس ملت کی شیرازہ بندی ایک مشترک ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونا ہی وقت کا سب سے بڑا کام ہے اورجس کو انجام دینا لازمی ہے۔

مزید پڑھیں >>

آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے!

 آج اکیسویں صدی کی اس دوسری دہائی کے آخری برسوں میں مسلمانوں کے جملہ مسائل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکمراں، اُمرا، اَعیان ِمعاشرہ، علمائے سو، نام نہاد اور بر خود غلط دانشور حصول نعمت و اقتدار کے بعد اللہ کے شاکر بندے بننے کے بجائے’ کافرِ نعمت‘ ہو چکے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو آج غزہ، یمن، عراق، سیریا، میانمار، بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے حالات مختلف ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

اے خدا! انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ

ایران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس جنگ میں ہلاک نہ ہوا ہو۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تہران میں واقع، 400 ہیکٹررقبے پر پھیلا ہوا "بہشت زہرا" نامی وہ قبرستان ہے جہا ں اس جنگ میں ہلاک ہونے والے بے شمار ایرانیوں کی قبریں موجود ہیں۔1988 کی جنگ بندی کے  بعدبھی  دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں بد اعتمادی اور رنجشیں موجود رہیں۔ جس طرح ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد عراق نے معزول ایرانی بادشاہ رضاپہلوی کو کچھ عرصے کے لئے اپنے ہاں پناہ دی تھی، اسی طرح  ایران نے بھی بغداد حکومت کے مخالفین، اور خاص کر شیعہ اور کرد شخصیات کو اپنے ہاں پناہ دی ۔

مزید پڑھیں >>

معاصر دنیا اور دعوت اسلامی

 کار دعوت سے متعلق ہر کارکن جانتا ہے کہ یہ کام بڑا وسیع ہے۔ اس کام کا بنیادی ذریعہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ ہماری مجلسوں میں اس کی بار بار یاد دہانی بھی ہمیں کرائی جاتی رہی ہے یعنی انسانوں سے انفرادی ربط اور گفتگو ہے۔ ہندوستان کروڑوں کی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں ہر سطح کے لوگ آباد ہیں ۔ ذہنی صلاحیت، فکری پس منظر اور رجحانات کے اعتبار سے بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔یہ ساری آبادی جدید نظریات و فلسفوں سے واقفیت یا ان سے متأثر نہیں ہے۔ البتہ تعلیم یافتہ طبقے پر ان نظریات کا اثر پڑا ہے۔ ملک کے کار فرما عناصر، جن کا تعلق حکومت اور پالیسی سازی سے ہے اور جو ذرائع ابلاغ کی دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، وقت کے غالب فکری رجحانات سے متأثر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ترکی: اسلام دشمنی کے خلاف کامیابی پر شادمانی کا یہ منظر

حال ہی میں ہیکروں کےایک گروپ "گلوبل لیکس" نےامریکہ میں متعین متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف القتیبہ کے ای میل اکاؤنٹ کو ہیک کرکے ان کے ای میلس کو انٹر سپٹ، ہفنگٹن پوسٹ اور ڈیلی بیسٹ کو ارسال کردیا تھا۔ ان  میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ترکی میں ہونے والی ناکام  بغاوت میں تعاون کرنے پر جان ہنَّا(اسرائیل نواز Foundation for Defense of Democracies (FDD) نام کے ایک تھنک ٹینک کے کاؤنسلر) نے اپنے ایک میل میں یوسف القتیبہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

اس وقت حق اور باطل کے درمیان جنگ اپنے شباب پر ہے اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھ رہا ہے اور دنیا بھی کہ کون حق کے ساتھ کھڑا ہے اور کون باطل کی حمایت میں سرگردان ہے۔ پس جو حق و باطل میں امتیاز ختم کر دے گا یا حق کی حمایت کو چھوڑ دے گا یا حق کی حمایت کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دے گا وہ خود اپنی تباہی کا سامان کرے گا، خواہ خادم الحرمین ہو یا ہندستان کی سر زمین پر بسنے والا کوئی انسان۔ امت کیلئے بھی اور خود عرب حکمرانوں خصوصاً سعودی عرب کیلئے زیادہ مناسب اور شایانِ شان یہ بات تھی کہ وہ امت اور امت کے معمولی حصے کا بھی بوقت ضرورت دفاع کرتے اور اگر ایسا نہ کرپاتے تو کم از کم دشمنوں کی صفوں میں تو نہ کھڑے ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

آہ وہ اُمت نہ رہی

ان حالات میں اگر مسلمان اپنے رشتے کی مضبوطی کی فکر نہ کریں تو وہ دن دور نہیں جب اس نسلِ مسلمان کو نیست ونابود کر کے اس کی جگہ دوسری نسل کو کھڑا نہ کیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ خدائے ذوالجلال کی سنت ہے کہ تبدیلی اس سے پہلے نہیں آتی جب تک نہ وہ قوم خود کھڑی ہو جائے۔

مزید پڑھیں >>

لارنس ابھی زندہ ہے!

آج فلسطین جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں سعودی حکمرنوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے (شاہ فیصل مرحوم کے استثناء کے ساتھ)ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ سو سال پرانے اپنے پاپوں کا پرائشچت کرتے مگر ہو یہ رہا ہے وہ یہودی قبضے کوزیادہ سے زیادہ مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ جتنی جلدی فلسطین صفحہء ہستی سے مٹ جائے گااتنی جلدی کم سے کم دنیاوی اعتبار سے یہ اپنی ذمے داریوں سے سبکدو ش ہو جائیں گے۔دوسری طرف الجزیرہ ،جو کہ دنیا کہ واحد مسلم بین الاقوامی چینل ہے،اور ترکی ان کے آقا کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں ۔الجزیرہ دنیا میں ہر جگہ امریکی دادا گری کے آڑے آتا ہے اور رجب طیب اردگان ہمیشہ امریکی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتے ہیں ۔ان کی یہ بات امریکیوں کے لئے ناقابل برداشت نہیں ہے. ناقابل برداشت یہ ہے کہ اب ترکی کم و بیش ایک دہائی سے رجب طیب اردگان کے زیر سایہ اسرائیل کی سرپرستی سے باہر نکل چکا ہے.

مزید پڑھیں >>