عالم اسلام

دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت

ہم نے بزرگوں سے ایک محا ورہ سنا تھا ’ دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا ‘ یہ محاورہ موجو دہ وقت میں پوری طرح سمجھ میں آرہا ہے۔ یہی کام اسرائیل اور امریکا کر رہا ہے۔ ان لو گوں کی فنڈنگ کرتا ہے جومسلمانوں کے مسالک، مکا تب فکریہ، فرقہ پر ستی کے نام پر خون بہا تی ہیں۔ جولو گ اسرائیل اور امریکا کی تاریخ سے واقف ہیں ان کو بتانے کی ضرور ت نہیں کہ اسرائیل اور امریکا کا قیام دہشت گردی کے ہی سہا رے ہوا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مستشرقین اور اسلامی تحریکات

بیسویں صدی عیسوی میں پچاس کی دہائی کے بعد اسلامی تحریکیں ابھرنا شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں نے امت مسلمہ میں اسلام کے آفاقی پیغام کو پوری جدت کے ساتھ آگے بڑھانا شروع کیا اور اسلام کو مکمل نظام اور ضابطہ حیات کے طور پر پیش کرکے امت مسلمہ میں ایک نئی روح پھونکی اور امت کو احیائے اسلام کے لیے ہمہ جہت  بیدار کیا۔

مزید پڑھیں >>

ہمہ جہت ترقی کا اسلامی تصور

اس  دورپر فتن میں یہ ارشادِ قرآنی ہمارے لیے امید کی کرن ہے کہ ’’تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا۔ جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اوران کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اوران کی حالت خوف کو امن میں تبدیل کردے گا۔ پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے‘‘۔ معاشی اور روحانی پہلو کے علاوہ سیاسی ترقی یہ ہے کہ  حکمراں اپنے آپ کو اللہ کا  خلیفہ سمجھے  اور رضائے الٰہی کی خاطر عدل و قسط کا نظام  قائم کرے۔ امن وامان کی  یہی ضمانت حالتِ خوف کا خاتمہ کرکےدنیا و آخرت کی فلاح کا راستہ ہموار کردیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

فلسطینی نو عمروں کی داستانِ شجاعت

   فلسطین نے جاں نثاروں کی ایک نئی صف تیار کر لی ہے۔ ان کے پاس گولی اور بم نہیں ہے کیمر ہ اور سوشل نیٹ ورکنگ ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کے پاس وہ عزم ہے جو فلسطینیوں کا امتیاز رہا ہے۔یہی عزم ابراہیم ابو ثریا کو دونوں پیر اسرائیلی بمباری میں گنوا دینے کے بعد بھی مظاہرین کا ساتھ دینے سے نہیں روک سکا۔ حتی کہ اس نے شہادت حاصل کر لی۔یہی عزم ایک بچی جنت جہاد کو جزبہ جہاد سے سرشار رکھتا ہے اور یہی عزم عہد تمیمی کو وراثت میں ملا ہے۔ جہاد کا یہ عہد اور عہد کا یہ جہاد شاید جلد ہی فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی کا شاخسانہ ثابت ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

مکہ مکرمہ کی زیارتیں

مکہ مکرمہ کے ان تاریخی مقامات کی زیارت کرتے ہوئے دل پر عجیب کیفیت طاری رہی _ ان راستوں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قدم پڑے ہیں ، ان مقامات سے آپ گزرے ہیں ، ان میں قیام کیا ہے، آپ کی صبحیں اور شامیں ، آپ کے دن اور رات یہاں گزرے ہیں ، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کے جسمِ اطہر کی خوش بو اب بھی یہاں کی فضاؤں میں موجود ہے _

مزید پڑھیں >>

اونٹ

تاہم دولت مشترکہ کے زیر اہتمام چلنے والی اس ’ایکسپریس پسنجر ٹرین‘ کو عوامی سطح پر ’ دی افغان ایکسپریس‘ کہا جانے لگا۔ بعد ازاں حکومت نے اس ٹرین کو اُن افغان ساربانوں سے منسوب کر دیا جو انیسویں صدی میں اپنے اونٹوں کے ہمراہ آسٹریلیا پہنچے اور اس کے گمنام گوشوں کی تلاش میں بھیجی جانے والی مہم میں شرکت کے علاوہ بعد کے ادوار میں آسٹریلیا کی تعمیر و ترقی میں اپنے اونٹوں کے ہمراہ اہم کردار اداکیا۔ یوں اس کا باقاعدہ نام ’’دی غان ایکسپریس‘‘ قرار پایا۔

مزید پڑھیں >>

امن، ترقی اور نجات کا باہمی تعلق

انسان جسم، روح اور نفس کا حسین ترین امتزاج ہے۔ قرآن حکیم میں تخلیق انسانی کے مراحل اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ’’اس نے جو چیز بنائی بہترین بنائی اور انسان کی خلقت کی ابتداء گیلی مٹی سے کی پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی (نطفہ) کے نچوڑ سے قرار دیا۔ آدم کو جسمِ خاکی سے نوازنے کے بعد خالق کائنات نے ’’  پھر اس کو درست کیا (اس کی نوک پلک سنواری) اور پھر اس میں اپنی روح پھونک دی‘‘ اس طرح گویا انسان کو حیات جاوداں  بخش دی گئی۔

مزید پڑھیں >>

رجب طیب اردگان اور ہمارے رہنما

کبھی کبھی دل میں ایک خیال سا آتا ہے کہ 2016 میں ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے کیوں عوام ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو گئی اور ہمارے ہردلعزیز رہنماوں کے رخصت ہونے پر عوام سکھ کا سانس کیوں لیتی ہے بلکہ کہیں کہیں تو مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ اب تو بہت سارے ہمارے سیاسی رہنما بھی ہماری عوام کو کبھی کھل کر، کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ترک قوم سے کچھ سیکھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں حالانکہ سیکھنے کی ضرورت تو ہمارے رہنماوں کو ہے کہ وہ ترک رہنما رجب طیب اردگان سے کچھ تو سیکھیں، پھر دیکھیں عوام ان کا کتنا ساتھ دیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

پوری ملت کی ذہن سازی

آج پوری ملت اسلامیہ جس زبوں حالی کا شکار ہے،وہ محتاج بیان نہیں ہے۔  ہر مسلمان، چاہے وہ امیرہو یاغریب، خواندہ ہو یا ناخواندہ، نہایت بے بسی کے ساتھ اس زبوں حالی کے دردناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اور بڑی بے بسی اورذلت ورسوائی کے ساتھ اس کے نہایت کڑوے اورزہریلے پھل چکھ رہاہے۔

مزید پڑھیں >>

حقیقی مرد میدان رجب طیب اردوگان!

رجب طیب اردوگان نے پچھلے دس برسوں میں ایک سو پچیس نئی یونیورسٹیاں، ایک سو نواسی اسکول اور کالج، پانچ سو دس نئے بڑے اسپتال اور تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ اُنہتر ہزار نئے درجات پر مشتمل عمارتیں بنوائی ہیں تا کہ طلبا کی تعداد فی کلاس ۲۱ سے زائد نہ ہو اور ٹیچر ان پر بھر پور توجہ دے سکیں۔ ۲۰۰۸ سے جاری قرض اور  مالی بحران  کے دوران جب امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیس میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن  رجب طیب اردوگان نے اس کے بر خلاف حکم دیتے ہوئے ملک کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں  بلا کسی فیس کے مفت تعلیم  دینے کے احکامات جاری کر دئیے  اور عام اعلان کر دیا کہ اعلیٰ تعلیم کا سارا خرچ اُن کی حکومت برداشت کرے گی۔

مزید پڑھیں >>