ہندوستان

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

آر ایس ایس انگریزوں کا وارث!

بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سر فہرت ہے۔ 1927ء کا ناگپور فساد ان میں اہم اور اول ہے۔ 1948ء کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڑسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ 1969ء کو احمد آباد فساد ، 1971ء کو تلشیری فساد اور 1979ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو اس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دی۔

مزید پڑھیں >>

چمن میں اختلافِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے!

جو لوگ اس ملک میں اس مخصوص ذہنیت سے نبرد آزما ہیں وہ اول درجہ میں کمیونسٹ ، سیکولرسٹ اور ڈیمو کریٹس ہیں ۔ اس لڑائی میں یہ سب سے آگے ہیں اور یہ اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر لڑ رہے سر بکف اور شمشیر بکف ہیں ۔ اسی لئے اس مخصوص ذہنیت کے لوگ ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ سیاسی میدانوں ، تعلیمی اداروں اور سڑکوں پر جسے Hit Street کہتے ہیں ، سب میدانوں میں ان کے خلاف اترے ہوئے ہیں ۔ کانگریس ایک سیاسی جماعت ہے۔ اس مخصوص ذہنیت کی زندگی کانگریس کی موت ہے اور کانگریس کی زندگی اس مخصوص ذہنیت کی موت ہے۔

مزید پڑھیں >>

مدارس: امید کی آخری کرن!

اسلامی مدارس اور دینی درس گاہوں کا اصل موضوع کتاب الٰہی وسنت رسول ہے۔ انھیں کی تعلیم و تدریس، افہام وتفہیم، تعمیل واتباع اور تبلیغ واشاعت مدارس عربیہ دینیہ کا مقصود اصلی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ تعلیمی وتربیتی ادارے علوم شریعت کے نقیب،اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت تلاوت قرآن، تعلیم کتاب اور تفہیم حکمت وسنت کے وارث وامین ہیں۔

مزید پڑھیں >>

سنگھ پریوار کے عزئم یا مونگیری لال کے سپنے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگھ پریوار نے پچھلے سو برسوں میں قابل ذکر  کامیابی حاصل کی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپوں ،نریندر مودیوں ،نیتن یا ہوؤں  جیسے فرعونوں اور اڈانیوں  نیز امبانیوں جیسے ملکی و غیر ملکی قارونوں کی  ظاہری بالادستی  اور مظالم کی عالمگیریت کے باوجود دنیا ظلم ،تعصب اور نسل پرستی کی طرف نہیں  سماجی انصاف اور حقوق انسانی کی بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے !

مزید پڑھیں >>

مسلم پرسنل لا بورڈ کا دوراندیشی پر مبنی فیصلہ

بورڈ کی طرف سے یہ اہم فیصلہ دور اندیشی پرمبنی ہے ، امید ہے کہ دیگر جماعتیں اور تنظیمیں بھی اسی طرح اپنا ترجمان مقرر کرکے موقع و مفاد پرستوں کی چال بازیوں کا خاتمہ اور لائق و مستحق افراد کو اپنا ترجمان بنا کر پیش کریں گی۔ جس کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ ہر ایرا غیرا نٹ شنٹ بگھارنے سے باز رہے گا اور اگر وہ باز نہ بھی رہا تو اس کی بات بے وزن سمجھی جائے گی۔ مسلمانوں کے اہم ترین مسائل میں گہرے مطالعے و تجربے کے بغیر اس نازک دور میں کچھ بھی کہنا اور بولنا وغیرہ انتہائی نامناسب ہے ، جس پر ہر طرح ختم کیا جانا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

88سالہ تاریخ میں صوبہ جموں کے مسلم طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں ملی!

صوبہ جموں میں مسلم آبادی قریب40فیصد ہے ۔جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں 3400کے قریب وکلاء میں کم وپیش700مسلم وکلا ہیں لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے 10اضلاع میں سے 5اضلاع میں 50فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مابعد جدید دیش پریم!

مودی صاحب کانگریس سے ساٹھ سال کا حساب مانگتے نہیں تھکتے لیکن خود اپنے تاریک ترین تین سال تین مہینے کا حساب دینے کی اوقات نہیں رکھتے۔ بقول مودی، ’منموہن سنگھ کی  لٹیری سرکار‘ کے زمانے میں، گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت 414 روپئے تھی  جو اب مودی  کے امبانی اڈانی راج میں 777 روپئے فی سلنڈر ہو چکی ہے !

مزید پڑھیں >>

سیاست کی آگ، عدالت کی جھاگ

گئو بھکتی  آہستہ آہستہ اس حکومت کے گلے کی ہڈی بنتی جارہی ہے۔ عدالت  سےپریشان گئوبھکت سرکار کو خود اس کے نو منتخب  مرکزی وزیر نے جھٹکا  دیا۔ پہلے یہ معاملہ آسام کے وزیر اعلیٰ تک محدود تھا لیکن اب گوہای دلی آگیا ہے۔ سرکاری افسر سے سیاستداں بننے والے مرکزی وزیر سیاحت الفونس کننتھانم نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن بیف کے مسئلہ پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ کیرالا میں بیف بدستور کھایا جاتا رہے گا۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا پناہ گزیں: حکومتِ ہندکا موقف کیاہے؟

ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو نکالے جانے کے حکومت کے فیصلے کوچیلنج کرتے ہوئے دوروہنگیاپناہ گزینوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیٹیشن داخل کی گئی ہے، روہنگیاپناہ گزینوں کی جانب سے معروف وکیل و سیاست داں پرشانت بھوشن کورٹ میں پیش ہورہے ہیں،

مزید پڑھیں >>