ہندوستان

نیشنل کانفرنس: بچہ بچہ جانتا ہے کہ درد کیا ہے کشمیر کا

آج نیشنل کانفرنس لوگوں کو اپنی باتوں سے پھسلانے کی ایک بار پھر کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ برسراقتدار ہو سکے لیکن لوگ آج ان کی ڈرامہ بازی اور مسخرے پن سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو کم قلیل اب بھی ان کے گیت گاتے ہیں انہیں بھی اس چیز کا خیال کرنا چاہیے کہ آج تک اس پارٹی نے اصل معنوں میں کشمیر اور کشمیریوں کو کیا دیا۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر مذاکرات: وقت گزاری کا بہترین مشغلہ!

2016 ء میں برپا ہونے والی عوامی احتجاجی مہم کے بعد عوامی جذبات اور حریت پسندی کے جذبے کو طاقت کے ذریعے سے دبانے کی بھارتی پالیسی میں اب بظاہر تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ حال ہی میں بھارت کی مرکزی سرکار کی طرف سے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو ریاست جموں و کشمیر کے لئے مذاکرات کار نامزد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق مختلف حلقوں میں مختلف النّوع تجزیے اور اندازے لگائے جارہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مرے قبیلہ کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!

کیا مرنے والے ہندوستانی نہیں تھے کیا انھوں نے ہندوستانی قانون سے بغاوت کی تھی کیا وہ بھارت ماتا کے بیٹے نہیں تھے ؟!آخر ان سے جینے کا حق کیوں چھین لیا گیا۔ آج ہندوستانی مسلمان حیران و پریشان چوراہے پر کھڑا ہے اور یہ چوراہا بھی اس کے لئے محفوظ نہیں کون جانے کب گئو دہشت گردوں کی جنونی بھیڑ آ کر گھیر لے اور گائے کے نام پر قتل ہونے والوں میں ایک مسلمان کا اور اضافہ ہو جائے۔ !

مزید پڑھیں >>

یہاں تو معرکہ ہوگا! مقابلہ کیسا؟

بات چیت سے اب کچھ حل ہونے والا نہیں۔ جس طرح انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کیا تھا ٹھیک اسی طرح بنابھی سکتے ہیں۔ بقول سادھوی رتمبھرا مرکز میں مودی ہیں یوپی میں یوگی ہیں اوراس کے باجود اگر رام مندر تعمیر نہیں کرسکے تو پھر کب کریں گے۔ بذریعہ جوروجبر اگر آپ رام مندر تعمیر کرسکتے ہیں تو شوق سے کرلیں لیکن اس کے لئے آگ کا دریا تیر کرکے جانا ہوگااور نہیں تو پھر اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں۔

مزید پڑھیں >>

مبارک ہو ! مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے

یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا لیکن یہ واضح ہے کہ اس بار مسئلہ کشمیر حل ہو ہی جائے گا۔ حل ایسا جس سے یا تو سارے کشمیری ذہنی طور ہندو بن جائیں گے یا ان کے لیے مزید مصائب ومشکلات اور ماردھاڑ کی نئی حکمت عملی ترتیب دی جائے گا۔بقول دنیشور شرما کے کہ ’’وادی کے پہلا دورہ ۶؍نومبر کو کر یں گے جس دوران وہ چار دن وادی اور دو دن جموں میں گزاریں گے اور وادی کی مذہبی، سیاسی، تجارتی ودیگر سماجی وغیرہ تنظیموں سے بات چیت کریں گے اور اس کے ساتھ ہی طلبہ تنظیموں سے سے بھی رابطہ کریں گے۔ گویا یہ صاف اعلان ہے کہ وادی میں چند ماہ کے بعد کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے…!

مزید پڑھیں >>

راہل پہلے ماضی کو پڑھیں پھر فیصلہ کریں

اس وقت کانگریس کی پوزیشن وہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی سے مقابلہ کررہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے ایک لیڈر تھے انہوں نے بھی ایک مہینہ پہلے راجیہ سبھا الیکشن کے موقع پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب وہاں کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے کہ اگر پارٹی جیت جائے تو اس کے گلے میں مالا ڈال کر اسے مکھ منتری بنایا جائے پارٹی سے استعفیٰ نہ دیا ہوتا تو شنکر سنگھ واگھیلا ایسے ضرور تھے۔

مزید پڑھیں >>

اندھوں کا مقبرہ، شاہی بیان اور سچ کو دفن کرنے کی تیاری 

سچ کو دفن کرنے کی خبر چھتیس گڑھ سے آی ہے .سینئر صحافی ونود ورما کو انکے گھر غازی آباد سے اس لئے گرفتار کیا گیا کہ انکے پاس چھتیس گڑھ حکومت کے وزیر راجیش مونت کی سیکس سی ڈی تھی .یہاں بھی اندھی نگری چوپٹ راجا کی مثال دی جا سکتی ہے، جس نے جرم کیا، اسے مسیحا بنایا جا رہا ہے .

مزید پڑھیں >>

آدھار سے اموات تک

ان اموات نے آدھار کی بِلا ضرورت اہمیت اور غیر ضروری افادیت کے نتیجے میں جہاں حکومت کے ہوش اُڑادئیے وہیں آدھار کو ہر معاملے میں لازمی قرار دینے پر سوالات کے انبار اکھٹے کر دئیے ہیں ۔ کیا اناج مہنگا اور ہماری جانیں اس قدر سستی ہوچکی ہیں یا دل بے حس اور ظالم ہوچکے ہیں ؟کیا موت اس قدرآسان ہوچکی ہیں یا غربت ایک گناہ اور غریبی ایک طعنہ بن چکی ہیں ؟کیا ایک کارڈ کی اہمیت بڑھ گئیہیں یا انسانیت نے دَم توڑ دیا ہے؟سوالات بہت ہیں لیکن۔ ۔ ۔

مزید پڑھیں >>

میں کیا کروں مرے زخمِ یقیں نہیں جاتے!

خیر ایک ناکام مذاکرات کار سے کسی قابل تنفیذ تجاویز کی امید نہیں کی جاسکتی بالخصوص ایک ایسے آدمی سے جو آئی بی کا سربراہ رہا ہو کیوں کہ وہ انسانی بنیادوں پر معاملات کو دیکھنے کی بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں اس لئےمیں صرف اتنی امید رکھوں گا کہ دنیشور شرما بیج بہاڑا کے اس باغ میں حاضری ضرور دیں گے جو اس وقت کرکٹ کھیلنے والے معصوم بچوں کی قبرگاہ ہےاور جن کے ورثا کو 24 سال بعد بھی کوئی انصاف نہیں ملا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بڑھتی ہوئی شہرکاری کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

شہروں میں بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ناقابل برداشت بوجھ اور ہرسو قائم کل کارخانوں کے مسموم دھوئیں، سڑکوں پر فضاء کا سینہ چاک کرکے دندناتی گاڑیوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی انڈسٹریزکے نتیجے میں ماحولیاتی اورصوتی آلو دگی نے انسانی زندگی کے لیے کئی سنگین مسئلے کھڑے کر دیے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ آلودگی ہوا اور پانی میں ہی پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے آئے دن شہری معاشرے میں متعدی اور وبائی بیماریاں حملہ آور ہوجاتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>