ہندوستان

آر ایس ایس اور ہند-اسرائیل تعلقات: چند سربستہ حقائق!

 دیورس ہندوستان میں ممبئی، کیرلا اور ملک کے دوسرے حصوں میں موجود یہودیوں سے رابطے میں رہتے اور انھیں آر ایس ایس-اسرائیل تعلقات کو صحت مند رخ دینے کے لیے پل کے طورپر استعمال کرتے رہے۔ انہی کی تحریک پر1991ء کے اخیر میں کئی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ لال کرشن آڈوانی نے وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے ملاقات کی اور زور دیا کہ ہندوستان کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہیے؛بلکہ یہ حقیقت ہے کہ مودی اور سابق صدر پرنب مکھرجی سے پہلے آڈوانی ہی ہندوستان کی پہلی اعلیٰ سیاسی شخصیت تھے، جس نے بحیثیت نائب وزیر اعظم2000ء میں اسرائیل کا دورہ کیاتھا۔

مزید پڑھیں >>

قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم

عصر حاضر کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں  ہندو بہنوں کو خود اپنے سماج سے خطرہ لاحق ہے اس لیے وہ باہر پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ شمبھو کی نام نہاد بہن کو مثال سامنے ہے۔ شمبھو تو اس کو بنک منیجر کے پاس چھوڑ آیا لیکن اس نے بنک منیجر کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کردیا۔ وہ گھر کی چابی دینے کا بہانہ بناکر بھاگ بھاگ کھڑی ہوئی۔ چارج شیٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اس حرکت پر شمبھو آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے برا بھلا کہا یا مارا پیٹا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر اس عورت کو قرض درکار ہوتا یا قرض کو وہ  اپنی عصمت سے قیمتی سمجھتی تو وہاں سے فرار نہ ہوتی۔

مزید پڑھیں >>

سیاسی حاشیہ پر کیوں ہیں مسلمان؟

کیا آپ ایک سیٹ پر کسی ایک کوجتانے کافیصلہ نہیں کرسکتے۔ سیاسی جماعتیں اسی کواہمیت دیتی ہیں جو ان کیلئے ضروری ہوتا ہے یا پھر جس سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اگر سیاسی فیصلوں کیلئے وقت درکار ہے توکسی ایک ریاست میں یہ تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ووٹ دینے کا فیصل کریں کسی سیٹ پر امیدوارنہ بنیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر پارٹی آپ سے رابطہ قائم کرے گی اور شاید دشمنی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آپ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی طے کرسکتے ہیں ۔ حاشیہ کی سیاست سے اوپر اٹھنے کا کوئی طریقہ تو اختیار کرنا ہی ہوگا۔ آئیے اس پر مل کر سوچیں ۔

مزید پڑھیں >>

بے خوف ہوکر بولیے، کرسی جانے کا ڈر دل سے نکالیے!

سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز ججوں نے ہنگامی پریس کانفرس میں عدالت عظمیٰ کی انتظامی خامیوں سے قوم کو واقف کیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کے طرز عمل اور طریقہ پر انگلی اٹھائی ہے۔ جسٹس لویا کی موت کا معاملہ بھی پریس کانفرنس میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے ہمیں لگا کہ ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اور ہم چیف جسٹس کو منانے کی کوشش بھی کرتے رہے لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔ اور اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ لہذا ہم نہیں چاہتے کہ بیس سال بعد کوئی یہ کہے کہ ہم نے اپنی 'آتما'بیچ دی تھی۔

مزید پڑھیں >>

نہ ہو گی تم سے تنظیم گلستاں!

نیتن یاہو کے دورہ بھارت پر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ملک اور دنیا کوخالق انسان اور انسانیت کے دائمی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے  بہر حال و بہر صورت ایک نیا انقلاب درکار ہے وہ بھی با ایمان، صالح، خداترس اور انسان دوست قوتوں کا لایا ہوا انقلاب جو موجودہ ظالم، خود غرض  اور منافق  سیاسی طاقتوں کے بس کی بات نہیں۔ عالم انسانیت کے دشمن صہیونی دجالوں کے  ظالم اور قاتل دوستوں اور بہی خواہوں ٹرمپوں، یاہوؤں، مودیوں اور شاہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا ہے اِن سب کا اور اُن کےسبھی  حامیوں اور مددگاروں کا انجام ایک جیسا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

عدلیہ میں کہرام : اب اس کے بعد جو رستہ ہے وہ ڈھلان کا ہے

مودی سرکار نے اسلامی شریعت اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے عدلیہ کو ہتھیار بنایا لیکن مشیت نے عدالت کے اندر ایسا زلزلہ برپا کردیا کہ حکومت کی چولیں ہل گئیں ۔ مودی جی کو  یہ کہنے کا بڑاشوق ہے کہ( ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد)  پہلی بار یہ ہوا اور وہ ہوا لیکن اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کے چارمعمر ترین ججوں نے پہلی بار ایک پریس کانفرنس کرکے حکومت اور اس کے نامزد کردہ چیف جسٹس کا وستر ہرن کردیا۔ ایسی کھری کھری سنائی کہ جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس مشرا جی کی زبان پر تالہ پڑ گیا اور حکومت یہ کہہ کر میدان سے بھاگ کھڑی ہوئی کہ یہ عدلیہ کا داخلی معاملہ ہے اور وہ اس معاملے میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتی۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت اور عدلیہ کو سنگین خطرہ لاحق ہے

 حق گوئی کا اثر ہمیشہ پڑتا ہے کیونکہ جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہوتا ہے۔ اس کو ہر طرف سے خطرہ لگا رہتا ہے۔ وہ ایک اندھیرے کی طرح ہے جسے روشنی کی ہر کرن سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے اگر کوئی نہ آواز اٹھائے تو اکیلئے اور تنہا آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ حق و انصاف کی بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ مردہ دل ہوجاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عزت مآب ججوں کی پریس کانفرنس

بلا شبہ آزاد ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں آج ایک عجیب وغریب واقعہ رونما ہوا۔ لیکن اس واقعہ سے انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی جوعدلیہ کو ایک عرصہ سے قریب سے دیکھ رہے ہیں ۔ گو کہ میں قانون کا طالب علم نہیں ہوں لیکن میں عدالتی خبروں کو بڑی دلچسپی اور باریکی سے پڑھتا ہوں ۔ لہذا مجھے سپریم کورٹ کے چار بہترین سینئرججوں کے ذریعہ پریس کانفرنس کو خطاب کرنے کے واقعہ سے یقینی طورپر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ حیرت اس پر ہوئی کہ عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا نے اس پریس کانفرنس کے جواب میں اپنی پریس کانفرنس کا اعلان کیا لیکن اس کے بعدوہ اپنے اعلان پر قائم نہ رہ سکے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستانی عدلیہ کا سب سے بڑا بحران

سپریم کورٹ میں وہی لوگ جج بنائے جاتے ہیں ، جو پہلے ہائی کورٹ میں کام کر چکے ہیں ۔ اس لیے، چیف جسٹس کسی ہائی کورٹ کے امیدوار کا نام فائنل کرنے سے پہلے اسی ہائی کورٹ میں پہلے کام کر چکے سپریم کورٹ کے موجودہ سب سے سینئر جج سے صلاح و مشورہ کرے گا، لیکن اگر سپریم کورٹ کے اس جج کو اس امیدوار کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے، تو پھر ویسی صورت میں چیف جسٹس اسی ہائی کورٹ سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے موجودہ کسی دوسرے سب سے سینئر جج سے صلاح و مشورہ کرے گا اور اس کے بعد ہی اس امیدوار کا نام فائنل کرے گا۔لیکن یہ صلاح و مشورہ صرف سپریم کورٹ کے جج تک ہی محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس صلاح و مشورہ میں اس ہائی کورٹ کا کوئی دوسرا جج یا چیف جسٹس بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>