ہندوستان

تیرے آزار کا چارہ نہیں  نشتر کے سوا!

مسلمان تو بس بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی طرح بہار بنگال اور گجرات میں ناچتا پھرے گا کیونکہ  اسکی  رسی  کانگریس نے تھام رکھی ہے جس نے اسکو نہ تین میں نہ تیرہ  میں رہنے دیا ۔سیکیولر ازم کا ڈھول الگ سے گلے میں ڈال دیا ...... مبارک  باد  اندرا جی  آپ  نےجے پی اور مرارجی کو جس پالیسی سے ایک ساتھ سادھ لیا تھا،وہ آج بھی کام کر رہی  ہے۔

مزید پڑھیں >>

گائے کے نام پر تشددو پر راجیہ سبھا میں زور دار مباحثہ

  پورے ملک میں گائے کے تشدد پسند محافظوں کی قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے خلاف راجیہ سبھا میں کئی ممبروں نے نہایت زور شور سے سوال اٹھایا اور تقریباً سب نے جن کا اپوزیشن پارٹیوں سے تعلق ہے سنگھ پریوار والوں کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ جان بوجھ کر مسلمانوں اور دلتوں پر جبر و ظلم کر رہے ہیں اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے مسلمانوں کو خاص طور پر ان کے دین و ایمان کی وجہ سے بے رحمی اور بے دردی سے قتل کر رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (قسط چہارم)

کشمیر میں ہمارے فوجی لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں جدید ترین اسلحے اور دیگر آلات ہیں ۔ لیکن، آج وہ سہمے ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف، کشمیر کے پتھر باز ہیں جو جانتے ہیں کہ ان کے اوپر کبھی بھی گولی چلائی جا سکتی ہے، پھر بھی ڈرتے نہیں ۔ پولس والا یا کوئی فوجی جب کسی ایک کشمیری پر ڈنڈے یا گولی چلاتا ہے، تو ہزاروں نوجوان اپنا سینہ کھول کر سامنے آجاتے ہیں کہ آؤ، مارو گولی۔

مزید پڑھیں >>

جان لیوا کیوں ہورہی ہے بھیڑ؟

دیش بدل رہا ہے، ہم اسے دیکھ بھی رہے ہیں ، ایک ایسا بدلائو جس میں مجرم بے خوب گھوم رہے ہیں اور بھیڑ خود فیصلہ کرنے لگی ہے۔ اس کیلئے سب کے پاس اپنی دلیلیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ والی سرکارکی آمد کے بعد مذہبی تنگ نظری کھل کر سامنے آگئی، جس نے ملک کی رواداری اور تنوع کو پارہ پارہ کردیا۔ خاص ذہنیت والوں کی جرأت اتنی بڑھ گئی کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے یا اس کی خلاف ورزی کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔

مزید پڑھیں >>

مایاوتی کرو یا مرو کے دروازہ پر

مس مایاوتی کو اپنے دروازے کھول دینا چاہئیں جو آنا چاہے آواز دے کر آجائے اور جو مسئلہ لے کر آیا ہے اسے سن کر اس کی مدد کرنا چاہئے۔ بھیم سینا یا چندر شیکھر یہ سب مودی کے کھلونے ہیں یہی کام ہمیشہ اندرا گاندھی نے کیا وہ بھی نہ جانے کتنے دلت لیڈر بناکر لائیں اور بابو جگ جیون رام کے مقابلہ پر کھڑا کیا مسلمانوں کے مقابلہ میں مسلمان اور سکھ کے مقابلہ میں سکھ لیڈر کا کھیل ان کا محبوب مشغلہ تھا مگر بابوجی ایک ہی رہے۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر 2017: غموں کی گھٹائیں مصائب کی آندھی

حقیقت حال یہ ہے کہ جو کام پچھلے تیس سال کی خون آشامیوں سے نہیں ہو سکا، وہ اب دو ماہی قتل وانہدام سے کہاں پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا؟ اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دونوں بھارت اور پاکستان کو کشمیر حل کو پہلی ترجیح دینا ہوگی اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے خلوص، سیاسی عزم واستقامت، امن پسندی، نیک ہمسائیگی کے جذبے سے آگے آنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

امرناتھ یاترا پر حملہ: چند سوال

پچھلے 24سالوں سے مسلسل حادثات ہونا چہ معنی دارد ؟ پورا کشمیر تکلیف کا اظہار کررہا ہے،پھر قاتل کون تھے ؟کہاں سے آئے تھے اور کہاں گئے ؟سندیپ شرما کی گرفتاری بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔اے ٹی ایس نے اس سے کیا دریافت کیا ؟میڈیا اس کے جرائم کو چھوڑ کر مذہبی معاملات پر بحث کرچکا ہے، اس کے مسلمان ہونے کے دعوے کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں >>

GST اور جموں و کشمیر کے صنعت کار

جموں وکشمیر میں اشیا و خدمات ٹیکس(GST)کے اطلاق کے لئے احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور ہڑ تا ل کرنے والے جموں کے صنعت کار وں پر اب یہ حقیقت آشکارا ہو ئی ہے کہ ریاست میں صنعتوں کو مراعات ختم ہو نے والی ہیں جس کے بعد ان کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں!

مجھے توایسا نہیں لگتا،مجھے تویہ لگتاہے کہ ایسا سماج بنانے میں انتہاپسندسیاسی ومذہبی فکرکے علمبرداروں کی ایک لمبی، دوررس، گہری اور نتیجہ خیزمنصوبہ بندی کارول ہے،یہ وہ لوگ ہیں ،جومختلف مذاہب کے ماننے والوں میں ،مختلف ملکوں میں اور مختلف زمان و مکان میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں ۔سترسال قبل ہزارسال سے ایک ساتھ رہنے والے ہندوستانی عوام کے ایک جتھے کودوسرے جتھے سے بھڑاکرہندوستان کے سینے پرآری ترچھی لکیریں کھینچی گئیں اور تب سے ان میں اضافوں کا عمل مسلسل جاری ہے،دیکھئے کہاں جاکرتھمے!

مزید پڑھیں >>

 آئی بی کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا جائے

پیش نظریہ تھا کہ دہشت گردی کے مقابلے کے نام پر جوکچھ ہورہا ہے ا س کی حقیقی تصویرعوام کے سامنے لائی جائے۔ میں یہ نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ ٹاڈا اور پوٹا قوانین کے تحت جتنے کیس درج ہوئے ان میں سے صرف دو فیصد  سے کم میں میں ہی ملزمان کو سزائیں ہوئی ہیں ،باقی سب باعزت بری ہوئے۔ یہی صورت اب یو اے پی اے  قانون کے تحت درج معاملات کی بھی ہے۔ اکثرملزم دس دس، بارہ بارہ سال اوریہاں تک کہ بائیس سال جیلوں میں قید رہ کر باعزت بری ہوئے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>