مذہب

محرم الحرام میں شادی کرنے کا شرعی حکم

کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جس کو موت نہیں آئے گی ۔ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک یہ کائنات زندگی اور موت کا نظارہ دیکھ رہی ہے۔ سال کا کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جن دن کسی کی موت نہیں آئی ہو۔ اگرکسی کی وفات پہ ماتم کرنا جائز ہوتا تو سال بھر ماتم کا ماحول ہوتا۔ انسان کبھی خوشی کا منہ نہیں دیکھ پاتا۔

مزید پڑھیں >>

ہمارا روحانی نظام بگڑ گیا

یہ حقیقت ہے کہ ہمارا روحانی نظام بگڑ جانے سے ہمارا سب کچھ بگڑ گیا۔ مساجد تربیت کے مرکز ہوا کرتی تھیں، ان کی بنیاد محض نماز کی گنتی پوری کرنے کیلئے تو نہیں رکھی گئی تھی، یہ تو معاشرہ کے تمام مسائل کے حل کا واحد مرکز ہوا کرتی تھیں، تعلیم و تربیت، علم و ہنر، ملک و ملت کی سلامتی و بقاء کے تمام فیصلے مساجد میں طے پایا کرتے تھے آ ج ہم نے ان کی اس حیثیت کو ہر مسلمان سے دور کر دیا ہے، ہم نے اللہ عزوجل کے گھروں سے یہ عظیم مقام چھین کر فرسودہ عدالتوں کو دے دیا۔

مزید پڑھیں >>

بدھ ازم کا زوال!

آج برما لبرل ریاست ہے اور اس کو دین و مذہب سے کوئی سروکار نہیں لیکن اگر یہ ملک بدھ ازم کی ریاست بن گیا تو تم اس ملک میں غیر محفوظ ہوجائو گے تمہارا کاروبار اور مان و دولت اور عزت و عصمت سب کچھ چھن جائے گا اور اس وقت آپ کی مدد کرنے کو کوئی تیار نہ ہوگا

مزید پڑھیں >>

ایک لداخی لڑکی کا قبولِ اسلام

میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ آج نہیں کیا بلکہ پانچ سال پہلے کیا ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ میں اس مذہب کو ناپسند کرتی ہوں جس میں میری پیدائش ہوئی ہے۔ اصل میں یہ میری ذاتی تلاش روحانیت تھی اور میں مختلف مذاہب کے مختلف فلسفہ سے دلچسپی رکھتی تھی۔ میری اس جستجو نے مجھے اسلام تک پہنچا دیا۔ اور اس طرح میں نے اسلام مذہب کو اپنایا۔ یہ مرتضیٰ کی ملاقات سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس میں مرتضیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

اقامت کے وقت قیام کا مسئلہ

 نیکی کے کاموں کی طرف تیزی سے بڑھنا اور لپکنا، کتاب وسنت کی روشنی میں  مطلوب اور پسندیدہ ہے، اس لئے اقامت کے شروع ہی میں  قیام بہتر ہے، نیز اس کی وجہ سے صفوں  کی درستگی میں  مدد ملے گی، اور اقامت کے بعد تکبیر میں  تاخیر نہیں  ہوگی، ’’حی علی الفلاح‘‘ پر قیام کرنے میں  اندیشہ ہے کہ اس کے بعد صف سیدھی کرنے کی وجہ سے تکبیر میں  تاخیر ہوگی جو کہ ناپسندیدہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

جناب جاوید احمد غامدی اور انکارِحدیث!

غامدی صاحب کابنیادی دعویٰ ہے کہ حدیث کا دین سے کوئی تعلق نہیں، یہ دین کا حصہ نہیں ؛بل کہ دین سے الگ کوئی غیر اہم شئی ہے، دین کا کوئی عقیدہ اور عمل اس سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر احادیث کی کچھ اہمیت ہوتی اور یہ بھی دین کا حصہ ہوتیں تو ان کی حفاظت اور تلیغ و اشاعت کے لئے خود رسو ل اللہ ﷺ نے ایسا کوئی اہتمام کیوں نہیں فرمایا؟

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا پہ کئے گئے پندرہ اہم سوالات اور ان کے جوابات

قرآن میں ہربیماری کی شفا ہے ، کسی بھی مرض میں قرآن پڑھ کر دم کرنا جائز ہے لیکن ڈینگی وائرس کے لئے سورہ الانعام کی آیت نمبر سولہ اور سترہ کو خاص کرنا خلاف شریعت ہے ۔ جو چیز خاص نہیں دین میں اسے خاص کرنے کو کسی کا حق نہیں ہے لہذا ڈینگی وائرس یا دیگرکسی بھی مصیبت میں بلا تخصیص سورہ انعام کی بھی آیات پڑھ سکتے ہیں ،کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی طرف سےکوئی سورت یا آیت خاص کرنا درست نہیں ہے ۔

مزید پڑھیں >>

تفہیم القرآن کی عصری معنویت

تفہیم القرآن میں سید مودودیؒ نے عیسائیت، یہودیت اور دیگر اقوام وملل کی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور قرآن کی تعلیمات کے ساتھ تقابلی مطالبہ پیش کیا ہے۔ مولانا نے تورات، زبور اور انجیل کی تحریفات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا نیز عیسائی پادریوں کے ذاتی مفادات اور ان کی کارستانیوں کو بھی عیاں کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

پچاس سال پہلے کا قرض کس طرح چکائیں؟

قرض میں بے ایمانی اور ٹال مٹول کی وجہ سے آج بہت سے  لوگ ایک دوسرے کو قرض دینے سے انکار کرتے ہیں مگر ایماندار وں کی بھی کسی زمانے میں کمی نہیں رہی ہے وہ بے ایمانی اور ٹال مٹول کی پرواہ کئے بغیر ضرورتمندوں کو قرض دیتے رہے ہیں۔ یہ مومن کی ایک اچھی صفت ہے۔

مزید پڑھیں >>

دعوتِ دین کے اصول و آداب

اللہ تعالی کوایک ماننا، ایک حقیقت ہے۔ اس کا تعلق انسان کی ذاتی زندگی سے بھی ہے اور سیادت، قیادت، اخلاقی و معاملاتی زندگی اور راست بازی سے بھی ہے۔ جواس کو نہیں مانے گا،وہ بالکل ایسے ہی نقصان میں رہے گا جیسے بجلی کے کھلے تار پڑے ہوں، بارش کا موسم ہواور کوئی شخص بتاتا ہوکہ آگے بڑھوگے تو کرنٹ لگ جائے گا۔ اب جو مانے گا وہ بچ جائے گا اور جو نہیں مانے گا وہ تباہ ہوجائے گا، چاہے وہ امیر ہویا غریب، اونچی ذات کا ہو یا نچلی ذات کا۔ اس لیے کہ کسی واقعہ کے بعداس کے ممکنہ نتائج سے نہیں بچاسکتا۔ اس لیے جس شخص سے بھی آپ بات کریں، اسے بتائیں کہ اس دین کو اختیار کرنے ہی میں تمہاری دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔ دنیا کی فلاح کا مطلب یہ ہے کہ اسے اختیار کرنے سے آدمی صاف ستھری زندگی گزار ے گا، جھوٹ کی جگہ سچ بولے گا، امانت و دیانت داری اختیار کرے گا اوراس کی وجہ سے اسے جو بھی نقصان ہوگااس کااجر اسے آخرت میں ملے گا۔

مزید پڑھیں >>