مذہب

ہندومت ایک مطالعہ (قسط اول)

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور دنیا کے جن خطوں میں پہلے پہل انسانی تہذیب و تمدن نے آنکھیں کھولی ہیں ان میں ہندوستان کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ آ ثار قدیمہ اور علم الانسان اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اب تک انسانوں کی ایسی کوئی بھی جماعت نہیں رہی ہے جو مذہب سے بالکل عاری رہی ہو ۔خود ہندوستان بھی چار بڑے مذاہب کا منبع اور سرچشمہ اور مختلف تہذیب وتمدن کی آماجگاہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حالات وظروف کا تنوع اور دعوت اسلامی

یہ واقعہ ہے کہ جب حالات و ظروف بدلتے ہیں  تو نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں ۔ کسی ایک زمانے میں  بھی خطہ ارضی پر رہنے والے مختلف انسانی گروہوں  کے حالات یکساں  نہیں  ہوتے چنانچہ ان سے دعوتی مخاطبت میں  اس تنوع کا لحاظ ضروری ہے۔ اسی طرح زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ٹکنالوجی، وسائل کے استعمال کے طریقوں  اور ابلاغ کے ذرائع میں  تبدیلی آتی ہے۔ انسانوں  سے خطاب کرنے کے اسلوب پر اس تبدیلی کا اثر پڑنا لازمی ہے۔ خارج کی ان تبدیلیوں  کے علاوہ انسانی گروہوں  کے مزاج اور نفسیات میں  پائے جانے والے تنوع اور اُن کے داخل کی دنیا میں  واقع ہونے والے تغیرات کو بھی نظر انداز نہیں  کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

معاصر دنیا اور دعوت اسلامی

 کار دعوت سے متعلق ہر کارکن جانتا ہے کہ یہ کام بڑا وسیع ہے۔ اس کام کا بنیادی ذریعہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ ہماری مجلسوں میں اس کی بار بار یاد دہانی بھی ہمیں کرائی جاتی رہی ہے یعنی انسانوں سے انفرادی ربط اور گفتگو ہے۔ ہندوستان کروڑوں کی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں ہر سطح کے لوگ آباد ہیں ۔ ذہنی صلاحیت، فکری پس منظر اور رجحانات کے اعتبار سے بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔یہ ساری آبادی جدید نظریات و فلسفوں سے واقفیت یا ان سے متأثر نہیں ہے۔ البتہ تعلیم یافتہ طبقے پر ان نظریات کا اثر پڑا ہے۔ ملک کے کار فرما عناصر، جن کا تعلق حکومت اور پالیسی سازی سے ہے اور جو ذرائع ابلاغ کی دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، وقت کے غالب فکری رجحانات سے متأثر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اقامت دین ہندوستان میں: معنویت اور تقاضے!

رجحانات کی کش مکش کے اس ماحول میں امت مسلمہ کو دین کی اقامت کا فریضہ انجام دینا ہے۔ اس کے لیے مسلم مزاج کی تربیت ضروری ہے۔مسلمان اس وقت ہندتو کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ یہ تشویش بجا ہے۔ ہندتو کے مقابلے میں کمیونسٹ اور امبیدکر وادی حلقوں کے بارے میں مسلمان خوش گمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے تشخص کی حفاظت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ان سیاسی طاقتوں سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ چناں چہ مسلمانوں کے درمیان بحث اور گفتگو اس موضوع پر ہوتی ہے کہ ان رجحانات میں کس کا ساتھ دیا جائے؟ مسلمان عوام اور ان کی سیاسی قیادت نے اب تک اس انداز سے سوچنا شروع نہیں کیا ہے کہ ان مختلف قوتوں پر انحصار (Dependence) اور ان سے سودا چکانے (Bargaining) کے بجائے کوئی اور راستہ بھی ہوسکتا ہے، جو مسلمانوں کے شایانِ شان ہو اور جس پر چل کر وہ نہ صرف اپنے تشخص کی حفاطت کرسکیں ، نیز اپنے مسائل حل کرسکیں ، بلکہ اپنے فرضِ منصبی کو بھی انجام دے سکیں ۔

مزید پڑھیں >>

داعیانہ کردار کی اہمیت عصرِ حاضر کے تناظر میں

معاشر ہ کی اصلاح کے لئے داعیانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی سخت ضرورت ہے، اس سے ایک طرف معاشرہ اچھے اوصاف پر استوار ہوتاہے، معاشرہ سے جرائم بے حیائی اور بری باتوں کا خاتمہ ہوتا ہے، اور پورے معاشرہ میں امن وسکو ن اورمحبت ومودت کی خوشگوار فضاقائم ہوتی ہے،تودوسری طرف برادرانِ وطن کے سامنے اسلامی تعلیمات کے محاسن اور اس کی خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں،

مزید پڑھیں >>

شوال کے چھ روزے

ان روزوں کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایک مہینہ مسلسل روزہ رکھنے کی وجہ سے معدہ بھوک سہنے کا عادی ہوگیاہے، اچانک کھانے پینے کے نتیجہ میں اسے نقصان ہوسکتاہے؛ اس لئے ان چھ روزوں کے ذریعہ معدہ کے بھوک سہنے کی عادت کوختم کیاجاتاہے؛ تاکہ نقصان سے بچاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>

شش عیدی روزی اور اس کے مسائل

چھ روزے اگر شوال میں نہ رکھ سکے تو اس کی قضا دوسرے مہینوں میں نہیں ہے کیونکہ یہ روزہ شوال سے ہی متعلق ہے البتہ کسی نے بعض روزے رکھے مثلا پانچ اور ایک روزہ کسی عذر شرعی کی وجہ سے چھوٹ کیا تو بعد والے مہینے میں ایک مکمل کرلے اور اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھے ۔

مزید پڑھیں >>

شوال کے چھ روزے: فضائل ومسائل

اللہ عزوجل یہ چاہتے ہیں کہ بندہ ہر دم میری طرف متوجہ رہے ، میری احکام پر ہر دم عمل پیرا ہو ، ابھی رمضان کا سماں قائم تھا، رحمتوں ، برکتوں اور مغفرتوں سے مسلمانوں نے اپنے دامن مراد کو بھر لیا تھا، مختلف عبادتوں روزہ ، ترایح، قیام لیل، اعتکاف ، افطار ، سحر ، شب قدر کی تلاش وجستجو کے ذریعے مسلمانوں کو ایک مہینہ روحانیت کے دور سے گذارا گیا.

مزید پڑھیں >>

زکوٰۃ سے دور ہوسکتی ہے غریبی

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اسلامی نظام معیشت کا ستون ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیاگیا ہے۔ نماز فحش ومنکرات سے روکتی ہے توزکوٰۃاقتصادی نابرابری کو کم کرتی ہے۔ نماز جسم کی اور زکوٰۃمال کی عبادت ہے۔ رب کائنات نے دولت مندوں کے مال میں غریبوں ، مسکینوں ، کمزوروں اور بے سہارائوں کا حصہ رکھا ہے۔ یہ حصہ صرف دولت میں نہیں بلکہ کھیتی، موسم میں آنے والے پھلوں ، تجارت کے جانوروں اور سامان میں بھی ہے۔

مزید پڑھیں >>