مذہب

جاگیرداری نظام بمقابلہ شورائیت

جاگیرداری کا توڑ صرف یہ نہیں کہ اب جاگیرداروں سے ان کی جاگیریں چھین لی جائیں ،بلکہ اسلام ایک آفاقی و ابدی دین ہے جو انسانیت کی فلاح دارین کا ضامن ہے۔اس دین کی تعلیمات بتاتی ہیں ہیں کسی بھی اجتماعی نظام کو چلانے کے لیے مشاورت وہ واحدراستہ ہے جوجاگیرداری کے لیے سدراہ ہے۔کسی بھی میدان کار میں جاگیروں کا ہونا شاید اتنا برا نہیں جتنا ان جاگیروں کے مالکان کا خدا بن جانا ہے۔جب مشاورت سے اور تقوی و خوف خداسے نظام ہستی چلایاجائے گا توکسی بھی نظام سے اس کے برے اثرات ختم کیے جا سکتے ہیں ۔مشورے کانظام سب سے پہلے توجاگیردارسے اس کی رعونت چھینے گا،پھر لوگوں سے مشورے کے نتیجے میں اس میں اپنی رائے کے خلاف بات سننے کا حوصلہ جنم لے گا،اختلاف رائے کے نتیجے میں جب جمہورکی رائے پر فیصلہ ہو گا تو جاگیرداری نظام کی ماں ہی مر جائے گی۔

مزید پڑھیں >>

مرد کا اجنبی عورت کی عیادت کرنا!

اجنبی عورت کی عیادت کے لئے ضروری ہے کہ مرد اکیلے نہ آئے تاکہ خلوت سے بچاجائے ،کسی اور کو بھی ساتھ لے لے ۔ خلوت دو کے درمیان ہے تیسرے کے ساتھ خلوت ختم ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح پردے کا اہتمام ہو نیز فتنے سے بھی امن ہو ۔عمردراز مرد وعورت کی عیادت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

مزید پڑھیں >>

اصلاحی جلسوں کی اصلاح کی ضرورت

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی جلسوں کی بڑی شاندار تاریخ رہی ہے۔ ان جلسوں کا معاشرے اور عوام دونوں کی اصلاح میں بڑا نمایاں کردار رہا ہے۔ جادہ حق سے منحرف لوگوں کو شاہراہ حق پر واپس لانے، ضلالت و گمراہی، فسق و فجور اور بد عملی کی زندگی گزار رہے افراد کو صراط مستقیم پر لا کھڑا کرنے کا ان جلسوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ ہمارے علماء و اسلاف جو علم و عمل دونوں کا پیکر ہوا کرتے تھے انہوں نے اس باب میں ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن سے ہماری دعوتی تاریخ کے صفحات روشن ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری، حضرۃالعلام مولانا ابو القاسم سیف بنارسی، مولانا محمد حسین میرٹھی، مولانا محمدجونا گڈھی، مولانا عبدالرؤف رحمانی و غیرھم رحمہم اللہ کے جلسوں اور تقریروں کی خوش گوار یادیں آج بھی سن رسیدہ حضرات و خواتین کے قلوب و اذہان کو سرور پہنچاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مومنانہ کردار

مومن کے مقابلے میں فاجر کا لفظ آیا ہے _ اس کی بھی دو بری خصلتیں بیان کی گئی ہیں : ایک یہ کہ وہ فسادی اور جھگڑالو ہوتا ہے اور دوسری یہ کہ وہ کمینہ ہوتا ہے ، اس کی ذات سے کسی کو فیض نہیں پہنچتا، بلکہ اس کی بدخلقی سے سب پریشان رہتے ہیں _

مزید پڑھیں >>

عورت ومرد کو ایک دوسرے کا جوٹھا کھانا

عورت کو مرد کا بچا ہوا، یا مرد کو عورت کا بچا ہوا یا جوٹھا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ ایک دوسرے کے محرم ہوں یا غیر محرم کیونکہ اسلام نے ہمیں اس سے نہیں روکا ہے ۔کھانے پینے کی چیزوں میں اصل اباحت ہے اس وجہ ہے ایک دوسرے کا جوٹھا کھانا جائز ہے ۔ جو لوگ سعودی عرب رہتے ہیں انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ یہاں دعوتوں میں ایک ہی برتن میں پہلے مرد حضرات کھاتے ہیں جب وہ کھاکر چلے جاتے ہیں تو ان کا بچا ہوا کھانا عورتیں آکر کھاتی ہیں ،بہرکیف! شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ۔

مزید پڑھیں >>

زنا کی شہادت میں ڈی این اے ٹسٹ کی شرعی حیثیت!

آج کل جو ڈی این اے ٹسٹ سے زانی کا پتہ لگایا جاتا ہے وہ یقینا ترقی یافتہ زمانے کی سہولیات میں سے ایک سہولت ہے جس سے بہت سارے کاموں میں مدد لی جاسکتی ہے لیکن زنا کے ثبوت میں شرعا ڈی این اے ٹسٹ کابالکلیہ اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔

مزید پڑھیں >>

اسلام میں جھاڑ پھونک کی حیثیت!

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس قرآن مجید کی آخری دو سورتیں ہیں ، مُصحف میں الگ ناموں سے لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترکہ نام مُعَوِّذَتَیْن (پناہ مانگنے والی سورتیں ) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہوئی ہیں ، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی ناممُعَوِّذَتَیْن ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا فرشتوں کو موت آئے گی؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن وحدیث کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ سب کو موت آئے گی ، فرشتے بھی موت سے نہیں بچیں گے کیونکہ اللہ نے ساری مخلوق کے لئے موت مقرر کردی ہے۔ اس بات پہ مناوی ؒ نے فیض القدیرمیں نے اجماع کا ذکر کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جس گھر میں کھجور نہیں ،وہ گھر والے بھوکے ہیں!

احادیث کے اندر کھجور کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کیونکہ اس میں صحت کا راز اور مختلف بیماریوں کا علاج موجود ہے ۔ ان فضیلتوں والی احادیث میں ایک حدیث وہ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس گھر میں کھجور ہو وہ گھروالے کبھی بھوکے نہیں رہتے ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھروالے بھوکے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ندائے فطرت!

عالم ہستی میں دو ہی نظر یہ پائے جاتے ہیں ایک توحیداور دوسرے شرک ۔یہ دونوں نظریات اس جہان میں ہمیشہ سے ایک دوسر ے کے مد مقابل رہےہیں ۔مگراس وسیع و عریض دنیا میں چاند،سورج ،ستارے اور سیارے وغیرہ کا بے مثال نظم وضبط کےساتھ اپنے مقررہ وقت پر اپنی حرکا ت و سکنات کو انجام دینا اس بات کی گواہی دیتاہے کہ اس پورے عالمین کا ایک ہی مالک و حاکم ہے اور وہ وہی خدا ہے جس نے سارے جہاں کو خلق کیا ۔لہٰذا! بے جان بتوں کی پرستش سے باز آجائیں اور خدا وحدہ لاشریک کی عبادت کو اپنی فطرت بنالیں ۔

مزید پڑھیں >>