مذہب

کیا عورتوں کو جہاد کے اجر سے محروم کیا گیا ہے؟

عورت خواہشات نفس سے، زبان وقلم سے اور دعوت دین کے لئے  حتی المقدور جہاد کرے گی۔ ان تمام برائیوں کے خلاف جہاد کرے گی جو اس کی عزت وآبرو کے لئے پرخطر ہو  مثلا زنا سے، اختلاط سے، رقص وسرود سے، اباحیت وانارکی سے اورعریانیت وفحاشیت سے جہاد کرے گی۔ آج مردوں کے مقابلے میں  زیادہ صبر آزما مرحلہ عورت کے لئے ہی ہے اس لئے انہیں اللہ کی اطاعت میں  جہاد بالنفس کولازم پکڑ لینا چاہئے جو انہیں ہرفتنے اور ہر شر سے بچا سکے۔

مزید پڑھیں >>

نماز کا مقصد اور فوائد (تیسری قسط)

مختلف انسانی گروہ یا قومیں جو اس وقت کرۂ زمین پر زندگی کی دوڑ میں مصروف ہیں ، ان کی حالت پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ غلبہ و اقتدار اور عروج و اقبال حاصل کرنے میں وہی قوم سب سے زیادہ کامیاب ہوگی جو ایسے افراد سے مرکب ہو جن کو محنت و کوشش اور کام کرنے سے الفت اور سستی و کاہلی سے نفرت ہے؛ یعنی جس قوم کے افراد میں فرض شناسی کا وصف عام ہے اور وہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں کسی قسم کا تساہل نہیں برتتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

تعمیر وترقی کے قرآنی اصول

قرآن مجید سے تربیت لینے والا انسان ایمان ویقین کی قوت سے مالا مال ہوتا ہے، عمل کے میدان میں سب سے آگے ہوتا ہے، عقل وحکمت کے میدان کا بہترین شہسوار ہوتا ہے، اور اپنے مشن کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے۔ یہ چار اوصاف جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اسے عروج وترقی کے قلعے یکے بعد دیگر فتح کرنے اور دنیا کی امامت کا تاج زیب سر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ ایسے ہی لوگ بلا شبہ اہل القرآن ہوتے ہیں ، اور وہی بے شک اہل اللہ بھی ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نماز کے بعد آیت الکرسی و دیگر اذکار کا بالجہر پڑھنا

اگر کوئی صاحب ذکر بالجہر کو اختیار کرنا ہی چاہیں توان کے لئے راقم کا مشورہ یہ ہے کہ وہ سلام کے بعد ایک بار یا تین بار (جیسا کہ صاحب مظاہر حق نے لکھا ہے) صرف تکبیر متوسط آواز سے کہہ لیں اور باقی اذکار کو آہستہ پڑھیں ، اس طرح ان کے اعتبار سے ذکر بالجہر کی سنت بھی ادا ہوجائے گی، دیگر مصلیان کو نماز و ذکر کی ادائیگی میں خلل بھی واقع نہ ہوگا

مزید پڑھیں >>

نماز کا مقصد اور فوائد

  فریضۂ نماز کا اصل اور بنیادی مقصد تو اللہ کا ذکر ہے۔ وہ انسان کو اللہ کا شکر گزار اور فرماں بردار بندہ بناتی اور اس میں وہ خدا ترسی پیدا کرکے اسے فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لیکن اس کے ساتھ نماز کے قیام دے متعدد اہم اور دور رس فوائد آپ سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(آخری پارٹ)

اسی طرح ایک تھری ڈی کے آبجیکٹ پر ایک تھری ڈی کاآبجیکٹ ایسی تہہ نہیں بنا سکتا کہ اگلی ڈائمینشن کا اظہار ہو۔اگر کوئی ڈائمینشن اپنے اوپر آئے گی تو وہ، بعینہ وہی ڈائمینشن رہیگی نہ کہ کوئی اور ڈائمینشن بن جائے گی۔اس اصول کی روشنی میں ہرڈائمینشن پر دوسری کوئی اور ڈائمینشن تعمیر ہوتی ہے۔ اگر بہت ساری کائناتیں ہیں تو بہت ساری ڈائمینشنز بھی ہوں گی۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(پارٹ-3)

چنانچہ مذہب کے راستے سےکسی معاشرے میں داخل ہونے والی بُری رسموں کا مقابلہ صرف کوئی ایسا شخص ہی کرسکتاہے جو خود نئی نسل کا نمائندہ ہو۔ اس کے پاس اجتہاد کی طاقت ہو۔ وہ بری اور اچھی رسموں کا فرق پہنچانتاہو اور وہ پرانی نسل کی رسوم بالخصوص مذہبی رسوم (اور خداؤں) کا انکار کرسکے۔ایسا کوئی شخص اگر کامیاب ہوجائے تو ایک بار پوری سوسائٹی بدل جاتی ہے۔بہت سارے بُت ٹوٹ جاتے ہیں۔ فضول چیزوں میں سے سے تقدس کا عنصر ختم ہوجاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ:2)

چونکہ توھّمات انسانی جبلّت کا حصہ ہیں اور ان کے بغیر انسانی وجود کا تصور ممکن نہیں اس لیے انسانوں کو ہمیشہ مذہب کی ضرورت رہتی ہے۔ کیونکہ اعصاب کی کمزوری کے ساتھ ساتھ توھّمات میں اضافہ ہوتاہے ۔ بچے ، عورتیں اور بوڑھے لوگ زیادہ توھّم پرست ہوتےہیں ۔ وجہ یہی ہے کہ اُنکے اعصاب زیادہ کمزور ہوتے ہیں اور اُن کے لیے واقعہ میں زیادہ تکرار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت زیادہ کمزور اعصاب کا مالک شخص ایک بار کی ’’ہونی‘‘ کو بھی فطرت کی طرف سے پیغام سمجھ سکتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ-1)

اِس موضوع کو لے کر صدیوں پر محیط سوالات اور ان کے جوابات کے سلاسل سے کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن عموماً دیکھا گیاہے کہ خدا کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کتابوں اور عقلی دلائل سے نہیں ہے بلکہ جذبات سے ہے۔ ہم اگر ایک ’’کوانٹی ٹیٹِو‘‘ (Quantitative) ریسرچ کریں اور چھ ارب انسانوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے تصورِ خدا کا مطالعہ کرنے کی کوشش کریں تو ایک بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے آسکتی ہے کہ اِس تصور کا تعلق انسانی کی عقلی زندگی کے ساتھ نہیں بلکہ جذباتی زندگی کے ساتھ ہے۔

مزید پڑھیں >>

آپ کے شرعی مسائل اور ان کا حل

گیارہویں میں یوم وفات منانا، کسی کام کے لئے دن متعین کرنا، عبادت کے نام پرمخصوص محفل قائم کرنا، فضول چراغاں کرنا، عید کی طرح عمدہ لباس و پکوان اور عبادت کا اہتمام کرنا، عورت ومرد کا اختلاط ہونا، رقص وسرود کرنا، غیراللہ کے نام سے نذر ماننا، غیراللہ کی عبادت کرنا، بےایمان و بدعمل قوالوں کا شرکیہ کلام پڑھنا اور رات بھر من گھرنت قصے کہانیاں ، جھوٹی باتیں ، مصنوعی اور بے سروپا باتیں عبدالقادر کی طرف منسوب کرنا اور ان کا درجہ اللہ اور اس کے رسول سے بھی بڑھا دینا یہ سب باتیں دین وایمان کے منافی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>