حالیہ مضامین

مسلم نوجوانوں  کے ناکردہ گناہوں کی سزا کب تک ملتی رہے گی؟

گزشتہ کئی سال سے پولس جب جہاں چاہتی ہے مسلم نوجوانوں کو فرضی قسم کے الزامات کی بنیاد پر گرفتار کرلیتی ہے۔ برسوں مقدمہ چلتا رہتا ہے۔ جب بیس پچیس سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر جاتا ہے تو جج صاحبان گرفتار شدہ نوجوانوں کو بری کر دیتے ہیں اور پھر اخباروں میں خبریں آتی ہیں کہ ’’ہندستان میں انصاف زندہ ہے‘‘ اگر اسی کا نام انصاف ہے تو آخر نا انصافی یا ظلم و زیادتی کس چیز کا نام ہے؟

مزید پڑھیں >>

لقمان حکیم (تیسری قسط)

تم ہرگز غیر سنجیدہ ،بد اخلاق اور پست حوصلہ مت بنو ۔اس لئے کہ بری عادتیں اختیار کرنے کے بعد تمہارا کوئی دوست باقی نہیں رہے گا۔اپنے نفس کوآمادہ رکھو کہ وہ ہر معاملہ میں صابراورباحوصلہ رہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستان کی عدلیہ کے نام کھلا خط

ٹھیک 11 سال پہلے 29 اکتوبر 2005 کو دہلی میں بم دھماکے ہوتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح سے مسلم نوجوانوں کو موسٹ وانٹیڈ دہشت گرد بنا کر اٹھا لیا جاتا ہے،پھر میڈیا کی سرخی بتاتی ہے کہ اسامہ کا رائٹ ہینڈ پکڑا گیا، اسپیشل ایجنسیاں کہتی ہیں کہ گرفتار لڑکے بدنام زمانہ دہشت گرد تھے

مزید پڑھیں >>

لقمان حکیم (قسط دوم)

جو حکمت جناب لقمان کو عنایت ہوئی تھی وہ ان کے حسب و نسب ،مال وجمال اور جسم کی بناء پر نہ تھی۔بلکہ وہ ایک ایسے مرد تھے جو حکم خدا کی انجا م دہی میں قوی اور طاقت ور تھے ۔

مزید پڑھیں >>