مذہب

مشکل نذر کا کفارہ

اسلام نے ہمیں نذر ماننے سے روکا ہے کیونکہ آدمی نذر پر بھروسہ کرلیتا ہے جبکہ ہرچیز کا اختیار اللہ کے پاس ہے ، وہی جو چاہتا ہے ہوتاہے ،اس لئے مسلمان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور مشکل سے مشکل وقت میں اس کی طرف رجوع کرکے صدقہ، دعا، استغفاراور نیکی کے ذریعہ آسانی کا سوال کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالی بندوں پر نہایت ہی مہربان اور بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

تین مہینے کا مردہ بچہ بذریعہ آپریشن اسقاط

جامعہ ہمدرد سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی کا پوچھنا ہے کہ اگر تین مہینے کابچہ خراب ہو جائے اورابارشن(abortion) کروا دیا جائے تو کیا وہ جنت میں باقی نا بالغ بچوں کی طرح رہیگا اور اپنے والدین کے لئے شفارش کا باعث بنے گا ؟ مندرجہ ذیل سطور میں اسی بات کا جواب دیا گیا ہے نیز اس سے ملحق مزید چند مسائل واضح کئے گئے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عمرہ کرکے بال نہ کٹانا اور  احرام کھول دینا

چونکہ آج کل بہت سارے لوگوں میں یہ غلطیاں عام ہیں اس وجہ سے اس مسئلہ کو یہاں واضح کیا جاتا ہے تاکہ اس غلطی کا ارتکاب کرنے سے معتمرین بچے ۔ عمرہ میں آخری کام بال منڈانا یا کٹانا دونوں میں سے کوئی کرناہے ، یہ اعمال عمرہ میں وجوب کا حکم رکھتا ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے عمرہ کیا اور بال نہیں کٹایا تو اس کا شرعا کیا حکم ہے ؟ اس سوال کے جواب کی دو صورتیں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک (آخری قسط)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ آپؐ اپنے تیس ساتھیوں کو لے کر آئیں اور ہمارے مذہبی علماء سے اسلام کی حقانیت پر بات کریں ۔ اگر وہ آپ کی باتوں سے مطمئن ہوں گے تو ہم لوگ ایمان لے آئیں گے۔ چوں کہ ماضی میں بنو نضیر نے رسول اللہ کے ساتھ بدعہدی کی تھی، اعتماد کو مجروح کیا تھا، اس لئے آپؐ نے انھیں پیغام دیا کہ تحریری معاہدہ کے بغیر ہم نہیں آسکتے ہیں ۔ بنو نضیر کسی طور بھی معاہدہ کیلئے تیار نہیں تھے۔ کچھ دن گزرنے کے بعد انھوں نے دوبارہ پیغام دیا کہ ہمارے تین علماء ہوں گے۔ آپ بھی اپنے ساتھ تین لوگوں کو لے کر آئیں ۔ اس بار انھوں نے اطمینان دلایا کہ اگر وہ آپ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ جب ان کا اصرار بہت بڑھا تو آپؐ ان کے علماء سے تبادلہ خیال کیلئے تیار ہوگئے۔

مزید پڑھیں >>

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک (پانچوی قسط)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ یہود کے ساتھ حد درجہ نرمی اور حسن سلوک کا تھا۔ آپؐ بہت سے مذہبی امور میں ان سے اتفاق رکھتے تھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ جن امور کے بارے میں شریعت کا کوئی خاص حکم نہیں ہوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی موافقت کرتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

رمضان کی آمد کی خوشخبری دینا

نبی ﷺ کی طرف منسوب کوئی خبریااسلام اور قرآن وحدیث سے متعلق کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے آگے شیئر نہ کریں اور نہ ہی آپ کوئی ایسی بات اپنی طرف سے لکھ کر پھیلائیں جس کے متعلق آپ کو صحیح سے معلوم نہیں ،وہی بات لکھیں جو متحقق طور پر آپ کو معلوم ہے اور ساتھ میں مکمل حوالہ درج کریں تاکہ دوسروں کے لئے اس بات کی تحقیق کرنا آسان رہے ۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مذہب نہیں تو بحث کیسی؟

ہندو یا ہندوتو کا استعمال،بحث صرف ملک کے کم سمجھ بے پڑھے لکھے عوام کے جذبات کو بھڑکا کریاگمراہ کرکے سیاسی مفاد کے لئے کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف ماحول بنانے کیلئے کیا جاتا رہا ہے۔ جنہیں ہندو کہہ کر ہندوتو کی دہائی دی جاتی ہے ان میں سے بہت سے لوگ قوم واد کے نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے۔ دین دیال اپادھیائے ہندوتو کو راشٹر واد کی بنیاد مانتے تھے، ملک نے ہمیشہ اس سوچ کو خارج کیا ورنہ ملک کی تصویر کچھ اور ہوتی۔ موہن بھاگوت نے مسلم دانشوروں کے بیچ اس بات کو مانا تھا کہ ہندو کوئی مذہب نہیں بلکہ ہماری تہذیبی پہنچان ہے۔اگر اسے کسی مذہب یا کسی خاص طبقہ سے نہ جوڑا گیا ہوتا تو شاید اپنے آپ کو ہندو کہنے میں کسی کوا عتراض نہ ہوتا۔ آئین نے بھارتیہ کہا ہے تو’ہندو‘کہنے پر اصرار کیوں ؟آزاد ملک میں اتنا حق تو ہونا ہی چاہئے کہ انسان یہ طے کرسکے کہ اسے کس نام سے جانا جائے۔ ہندی ہیں ہم وطن ہیں کیا قومی اتحاد کیلئے اتنا کافی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>