مذہبی مضامین

نمازی کے آگے سے گزرنے سے بچنا کیوں ضروری ہے؟

تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک سترہ حائل نہ ہو نمازی کے سامنے سے گزرنے سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔البتہ اگر کسی کے ساتھ کوئی اضطراری حالت ہو مثلاً پیشاب یا پاخانہ کا زور ہو یا گاڑی چھوٹنے کا امکان ہو وغیرہ تو فقہاء اور مفتیان کی دی گئی رخصتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس سیہ کار کو بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے اور مسلمانوں کو بھی اس گناہ سے بچنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! 

مزید پڑھیں >>

قرآن اور جدید سائنس

 قرآن اور جدید سائنس یا اسلام اور سائنس، دراصل اسلام اور جدید سائنس کی آپس میں وابستگی، ربط اور موافقیت کو کہا جاتا ہے۔ اور مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اسلام اور جدید سائنس میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اور قرآن مجید میں ایک ہزار سے زیادہ آیات سائنس کے متعلق گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود آیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انسان قران کے آئینہ میں (قسط چہارم)

لوگ محنت و مشقت کے معاملے میں بھی مختلف سوچ رکھتے ہیں ۔ بعض لوگ علم کی جستجو میں محنت کرتے ہیں اور بعض دنیا سمیٹنے میں محنت کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی ساری کوشش دوسروں کو اللہ کے راستہ سے روکنے کے لئے صرف ہوتی ہے اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔ بعض ایسے ہیں جوجنت کی طلب اور ربّ کی رضا کے لئے محنت کرتے ہیں ۔ بعض ایسے ہیں جو نفسانی خواہشات کی تکمیل اور نوع بہ نوع معاصی کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ لہٰذا اے انسان! تو راہِ جنت کواختیار کر نہ کہ دوزخ کو۔ باقی محنت و مشقت، رنج و غم تو اللہ تعالیٰ نے دنیا پرستوں کے لئے، دنیا و آخرت دونوں میں لکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا قرآن کا واقعہ ہامان بائبل سے لیا گیا ہے؟

مغربی مستشرقین و ملحدین کہتے ہیں کہ ہامان کا نام قدیم مصری تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ بات مکمل غلط اور جھوٹ پہ مبنی ہے۔ ہم پچھلے مضمون میں ثابت کر چکے ہیں کہ قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان تاریخ کی فرضی شخصیت نہیں بلکہ حقیقی شخصیت ہے۔ لیکن اپنی ضد پہ قائم رہتے ہوئے اور ہامان کی تاریخی حقیقت اور اس حوالے سے سب تاریخی دلائل نظر انداز کرتے ہوئے ملحدین کہتے ہیں کہ قرآن کا واقعہ ہامان نعوذ بااللہ بائبل کی کتاب ایستھر( Book Of Esther) سے لیا گیا ہے جو کہ فرعون موسی رعمسس دوم کے ایک ہزار سال بعد لکھی گئی ہے۔ مستشرقین و ملحدین کے نزدیک ہامان ایک مصری نام نہیں بلکہ بابلی نام ہے۔ یہ بات بھی جھوٹ اور بالکل غلط ہے۔

مزید پڑھیں >>

دین خیر خواہی کا نام ہے! 

اسلاف اگر کسی کی خیر خواہی کا ارادہ کرتے تھے تو اسے خاموشی سے نصیحت کرتے تھے۔ فضیلؒ بن عیاض کہتے ہیں کہ مومن پردہ پوشی اور خیر خواہی کرتا ہے اور بدکار پردہ دری کرتا ہے اور شرم دلاتا ہے۔ عبدالعزیزؒ بن ابی رواد کہتے ہیں کہ پہلے لوگ اگر کسی بھائی میں کوئی عیب دیکھتے تھے تو اسے خاموشی اور نرمی سے سمجھاتے تھے تو اس کا انھیں ثواب ملتا تھا۔ آج کے لوگ تو اپنے بھائی کے عیب کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟(چوتھی قسط)

 یہ کہنا کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم مل کر ایک پوشیدہ مقام پر سب سے الگ جو لطف اٹھاتے ہیں اس کا کوئی اثر اجتماعی زندگی پر نہیں پڑتا، محض بچوں کی سی بات ہے۔ در اصل اس کا اثر صرف اس سوسائٹی پر ہی نہیں پڑتا جس سے وہ براہ راست متعلق ہیں بلکہ پوری انسانیت پر پڑتا ہے اور اس کے اثرات صرف حال کے لوگوں ہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، جس اجتماعی و عمرانی رابطہ میں پوری انسانیت بندھی ہوئی ہے، اس سے کوئی فرد کسی حال میں کسی محفوظ مقام پر بھی الگ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

امہات المومنین کی معاشرتی زندگی: ایک مطالعہ

مادیت کے اس دور میں جب کہ مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں تیزی سے سرایت کررہا ہے اور اس سے متاثر ہ مسلمان خواتین راہِ راست سے بھٹکی ہوئی خواتین کواپنے لیے قابلِ تقلیدسمجھ رہی ہیں تویہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان کے سامنے برگزید ہ اور ممتاز خواتین کی صحیح تصویر پیش کی جائے۔ ایک مسلمان خاتون کے لیے امہات المومنین کی زندگی کے تمام پہلوخواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، قابلِ تقلید نمونہ موجود ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اسلام میں سچ اور جھوٹ کا تصور

سچائی ایک ایسی صفت ہے جو خیر کا ذخیرہ رکھتی ہے، اسی کی طرف رہ نمائی کرتی ہے اور انجام خیر سے فیض یاب کرتی ہے۔اس کے برعکس جھوٹ ایک ایسا امر ہے جو انسان کو فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور بالآخر انجام بد سے دوچار کرتا ہے۔کتاب و سنت میں  اس کے لیے صدق اور کذب کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ صداقت انبیاء کرام اوراہلِ ایمان کی بھی صفت رہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟ (دوسری قسط)

 یہ تو معلوم ہے کہ تمام انواع حیوانی کی طرح انسان کی بھی زوجین یعنی دو صنفوں کی صورت میں پیدا کرنے اور ان کے درمیان صنفی کشش کی تخلیق کرنے سے فطرت کا اولین مقصد بقائے نوع ہے، لیکن انسان سے فطرت کا مطالبہ صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر کچھ دوسرے مطالبات بھی کرتی ہے اور ادنیٰ ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ مطالبات کیا ہیں اور کس نوعیت کے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

علم و حکمت کے موتی اور دامن اسلام

دورِ حاضر سائنس و ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے ہمیں روایتی تدریس سے ہٹ کر جدید ذرائع سے اپنی تعلیم کو موثر کرنا ہوگا تاکہ طلبا کو روز ہونے والی تبدیلیوں اور انقلابات سے واقف کراتے ہوئے ان میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے، صرف اسی صورت میں مسلمان پوری دنیا پر غالب آ سکتے ہیں اور دنیامیں اپنا کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں جب وہ زیورِتعلیم کو قرآن و سنت کے بالکل آئین مطابق آراستہ کریں وگرنہ ترقی یافتہ اقوام کی غلامی اور صہیونی و سامراجی قوتوں سے نجات پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

مزید پڑھیں >>